دعا کی اہمیت قرآن مجید کی سطور اور بین السطور دونوں سے بالکل ظاہر ہے، اور احادیثِ رسولﷺ تو اس کی فضیلتوں سے بھری پڑی ہیں۔ سب کا خلاصہ: الدُّعاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ (سنن ترمذی: 3371) دعا تو ساری عبادتوں کا مغز ہے۔
اور کیا خوب فرمایا ایک نامور عارف نے کہ دُعا سے اہلِ حق کا اصل مقصد تو خود حضرتِ حق سے ہم کلام ہونا اور ہم کلامی کی لذت حاصل کرنا ہے۔ دُعا اگر قبول ہوگئی تو اس کا کیا کہنا، مراد حاصل ہوگئی۔ لیکن اگر نہیں قبول ہوئی تو بھی مقام رنج کا نہیں ، خوشی کا ہے، کہ ہم کلامی کی تقریب پھر بدستور باقی رہی !؎
| از دعا با نیست بس مقصود شاں جز سخن گفتن بہ آں شیریں دہاں گر قبول افتاد بس فهو المراد بادل و بادیده نقد آیند و شاد گر کند رد لذت آں بیش تر بہر تقریب سخن بارِ دِگر |
دعاؤں کا مقصود میٹھی زبان سے گفتگو کے علاوہ کچھ نہیں۔ اگر یہ قبول ہو جائیں تو مطلوب یہی ہے، اس سے دل و نگاہ دونوں کو خوشی نصیب ہوگی۔ اگر یہ رد کر دی جائیں تو اس کی لذت اور بھی زیادہ ہے، اس لیے کہ دوبارہ دُعا کریں گے۔
اور خیر قبولیت کا سوال تو بعد کا ہے۔ یوں بھی ذرا دعا کر کے تجربہ تو کیا جائے، مگر شرط یہ ہے کہ دعاذراجی لگا کر کی جائے ۔ دیکھیے دُعا کر کے قلب کو کتنا سکون کیسی فرحت حاصل ہوتی ہے۔ کچھ ایسی ہی جیسی گرمی میں روزہ دار کو افطار کے بعد ملتی ہے۔
حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانوی ؒدین کی خدمت بے شمار ٹھوس طریقوں سے کر گئے۔ انھیں کے افاداتِ عالی میں سے ایک چیز یہ ہے کہ حصن ِحصین وغیرہ سے انتخاب کر کے قرآنی اور اس سے کہیں زیادہ حدیثی دُعاؤں کا ایک نادر ذخیرہ انتخاب کر کے اُمت کے ہاتھ میں دے گئے۔۔۔ ذخیرہ ہر لحاظ سے نہایت بیش بہا و قابل قدر ۔۔۔ بالفرض تھانویؒ کی دوسری خدماتِ دین کا صفحہ بالکل سادہ ہوتا ، جب بھی تنہا یہی ایک خدمتِ دین ان کا نام ِنامی ، اہل اللہ کے حلقے میں، رہتی دنیا تک رکھنے کے لیے کافی تھی۔
اصل عربی نام ، قُرُبَاتٌ عِندَ اللهِ وَ صَلَوَاتُ الرَّسُولِ، عام فہم اردو نام ’مناجات ِمقبول ‘،اسم ِ
با مسمیٰ۔ اردو ترجمہ حضرت ؒہی کے ایک خلیفۂ خاص و مقبول حکیم محمد مصطفیٰ بجنوری ؒ کا کیا ہوا ہے۔
کتاب ما شاء اللہ مقبول بھی خوب ہوئی ۔ گھر گھر پھیل گئی، اور بار بار چھپی۔ میرے پیشِ نظر نسخہ مولانا محمد شفیع صاحب دیو بندی ؒکا شائع کیا ہوا ہے۔ لیکن ایک بڑی اور اہم ضرورت متن کی شرح کی تھی ۔ بغیر عام فہم اور سلیس شرح و تحشیہ کے، کتاب بیسویں صدی عیسوی کے ناظرین کے لیے بڑی حد تک بے کا رہی سی تھی۔ بری بھلی خدمت اس سلسلے میں اس نامہ سیاہ سے جو بن پڑی، وہ اگلے صفحات میں حاضر ہے۔ ان تشریحی حاشیوں میں جو عبارتیں قوسین کے اندر ہیں وہ گو یا نفس ترجمہ ہی کا تکملہ ہیں۔ انھیں ترجمہ سے ملحق ہی پڑھنا چاہیے۔
موجودہ نسخہ اپنے عربی متن کے لحاظ سے اُسی دیو بندی نسخے کی تقریباً نقل ہے۔ اردو ترجمہ اس خاکسار کا نظر ثانی کیا ہوا ہے۔ کہیں کہیں بالکل بدلا ہوا۔ ترجمہ منظوم وغیرہ جو اُس نسخے میں شامل تھے، اس میں حذف کر دیے گئے ہیں۔
ایک چھوٹا سا چند سطری تمہ ایک اور مقبول بزرگ کی زبان سے منقول اس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شروع میں خیال تھا کہ ہر حدیث کی دُعا کی تخریج اصل کتب احادیث سے درج کر دی جائے ۔ اس کوشش میں پوری کامیابی تونہ ہو پائی، پھر بھی جس بڑی حد تک حوالے آپ ملاحظہ فرمائیں گے یہ کچھ تھوڑے سے تو کتاب کے اُسی قدیم نسخے کے حاشیے سے منقول ہیں، اور زیادہ کے لیے یہ خاکسار مولانا ظہور احمدؒ صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند کا شکر گزار ہے جنھوں نے مولانا محمد شفیع صاحب دیو بندیؒ کے واسطے سے میری استدعا پر اس حد تک تخریج کی مشقت گوارا فرمائی۔ اور اس طرح علاوہ شرح کے ایک یہ بھی جدید اور مفید اضافہ کتاب میں ہو گیا۔
ناظرین سے آخری التماس یہ ہے کہ از راہِ کرم اگر وہ اپنی دعاؤں میں اس نامہ سیاہ اور اس کے عزیزوں، قریبوں ، رفیقوں ، اس کتاب کے ناشرین اور جملہ مومنین کو شامل کر لیں، تو ان شاء اللہ اپنے اجر میں اضافہ پائیں گے۔
عبد الماجد(دریابادیؒ)
دریا باد، بارہ بنکی (اُتر پردیش، بھارت)
فروری 1948، ربیع الثانی 1367 ھجری
