
ﵻ122ﵺ
«اَللّٰهُمَّ لَكَ صَلَاتِیْ وَنُسُكِیْ وَمَحْيَایَ وَمَمَاتِیْ وَإِلَيْكَ مَاٰبِیْ وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِیْ »۔ [1]
اے اللہ تیرے ہی لئے ہے میری نماز اور میری عبادت، اور میرا جینا اور میرا مرنا، اور تیری ہی طرف ہے میرار جوع ، اور تیرا ہی ہے جو کچھ میں چھوڑ جاؤں گا ۔
شرح:
لَكَ صَلَاتِیْ وَنُسُكِيْ: نماز بلکہ ہر عبادت کو اللہ ہی کے لیے تو ہونا ہی چاہیے اور بظاہر ہوتی بھی ہے لیکن عملاً ایسی نمازیں اور عبادتیں کمتر ہی ہوتی ہیں۔ اکثر میں دوسرے دوسرے پہلوؤں کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ یہاں دُعا اس کی ہے کہ ہر نماز اور ہر عبادت، پورے شعور نفس کی بیداری کے ساتھ خالصتاً حق تعالیٰ ہی کے لیے ہو۔
مَحْيَایَ وَمَمَاتِیْ : تاکید اور تصریح اس آرزو کی ہے کہ عبادتیں ہی نہیں بلکہ ساری عادتیں اور اعمالِ تکوینی بھی رضائے مولیٰ ہی کی نیت سے ہوں۔۔۔ کھانا پینا، چلنا پھرنا ، اٹھنا بیٹھنا،سونا جاگنا، بولنا چالنا، ہنسنا رونا، دیکھنا سننا، یہ سب اگر رضائے الہٰی ہی کو پیش نظر رکھ کر ادا ہوں ، تو ایسے شخص کے کمالِ مقبولیت کا کیا کہنا!
وَإِلَيْكَ مَاٰبِیْ وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِیْ : انسان کو خود اپنے ، اور اپنے مال کے اس انجام کا استحضار اگر ہر وقت رہے، تو نہ عام طاعت ہی میں فرق آ سکے اور نہ مالی کو تاہیاں ہی سر زد ہوں۔
—————————————–
ﵻ123ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَجِٓیْءُ بِهِ الرِّيَاحُ» ۔ [2]
اے اللہ! میں تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں ان چیزوں کی جنہیں ہوائیں لاتی ہیں۔
شرح: کنا یہ ہے اُن کل چیزوں سے جو اس دُنیا میں موجود ہیں۔
—————————————–
ﵻ124ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ أُعَظِّمُ شُكْرَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَ تَّبِعُ نَصِيْحَتَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ» ۔ [3]
اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا بہت زیادہ شکر کروں، تیرا بہت زیادہ ذکر کروں، تیری نصیحت کی بہت اتباع کروں اور تیرے احکام کو بہت زیادہ یاد رکھوں ۔
—————————————–
ﵻ125ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إنَّ قُلُوْبَنَا وَنَوَاصِيَنَا وَجَوَارِحَنَا بِيَدِكَ، لَمْ تُمَلِّكْنَا مِنْهَا شَيْئاً، فَإِذَا فَعَلْتَ ذٰلِكَ بِنَا، فَكُنْ أَنْتَ وَلِيَّنَا، وَاهْدِنَآ إِلىٰ سَوَآءِ السَّبِيْلِ »۔ [4]
اے اللہ! ہمارے دل اور ہم خود سرتاپا اور ہمارے اعضاء تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو نے ہمیں اُن میں سے کسی چیز پر بھی اختیارِ (کامل) نہیں دیا ہے، پس جب تو نے ہمارے ساتھ یہ کیا ہے تو تُو ہی ہمارا مددگار رہنا، اور ہمیں سیدھی راہ دکھائے رکھنا۔
شرح: اللہ کی رحمت وکرم کو جذب کرنے کے لیے اس کے رسول مقبول ﷺنے بھی کیسے کیسے طریقے اختیار کیے ہیں۔
اس دُعا کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ہم تکوینیات میں تمام تر تیرے بس میں ہیں، تو ایسا کر دے کہ احکامِ تشریعی میں بھی تمام تر تیرے ہی پابند ہو کر رہ جائیں، اور نافرمانی کر ہی نہ سکیں۔
—————————————–
ﵻ126ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ الْأَشْيَآءِ إِلىَّ وَاجْعَلْ خَشْيَتَكَ أَخْوَفَ الْأَشْيَآءِ عِنْدِىْ وَاقْطَعْ عَنِّى حَاجَاتِ الدُّنْيَا بِالشَّوْقِ إِلٰى لِقَآئِكَ وَإِذَا أَقْرَرْتَ أَعْيُنَ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ دُنْيَاهُمْ فَأَقْرِرْ عَيْنِىْ مِنْ عِبَادَتِكَ »۔ [5]
اے اللہ! اپنی محبت کو میرے لیے ہر چیز کی محبت سے بڑھا دے ، مجھ میں اپنا خوف ہر چیز کے خوف سے زیادہ کر دے ، دنیا کی ہر طلب پر اپنی ملاقات کا شوق غالب کر دے اور جب تو د نیا والوں کو ان کی دنیا سے ٹھنڈک دے تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک اپنی عبادت میں رکھ دے۔
شرح: یعنی جس طرح دنیا جہاں والوں کو تسکین و مسرت دنیوی نعمتوں اور مادی لذتوں سے ہوتی رہتی ہے، اور یہ ایک طبعی امر ہے تو میرے لیے لذت وراحت طاعتوں اور عبادتوں ہی میں رکھ دے، اور اسی کو میرے لیے امر طبیعی بنادے۔
اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ الْأَشْيَآءِ إِلىَّ: یعنی تیری ہی محبت دنیا کی ساری رغبت و شوق کی چیزوں پر غالب رہے۔
وَاجْعَلْ خَشْيَتَكَ أَخْوَفَ الْأَشْيَآءِ عِنْدِىْ : یعنی تیرا ہی ڈر مخلوق کے ہر ڈر پر غالب رہے۔
ڈر ایک تو ہوتا ہے جیسے وحشی جانوروں اور درندوں سے، یہ آپ ہی آپ اور بلا وجہ انسان پر حملہ کر بیٹھتے ہیں، اور ایک ڈر ہوتا ہے کسی کے کمال قدرت و عظمت اور ہر طرح کے صاحبِ اختیار ہونے کی بنا پر، جو باوجود ہر طرح شفیق و کریم ورحیم ہونے کے بہر حال نافرمانی پر عتاب اور سزا کی بھی قدرت رکھتا ہے۔
—————————————–
ﵻ127ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ وَالْأَمَانَةَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ وَالرِّضٰی بِالْقَدَرِ» ۔ [6]
اے اللہ! میں تجھ سے صحت کا سوال کرتا ہوں، پاک دامنی، امانت اور حسنِ اخلاق کی التجا کرتا ہوں، اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوالی ہوں ۔
شرح: دعا میں اخلاقی وروحانی خوبیوں کے ساتھ ساتھ تندرستی کی بھی دُعا کا شُمول جو گیا نہ مذہب کے منافی ہے، اور ایک بڑی تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے۔
—————————————–
ﵻ128ﵺ
«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا وَّلَكَ الْمَنُّ فَضْلاً »۔ [7]
اے اللہ! تیرے ہی لئے ہر تعریف ہے شکر کے ساتھ اور تیرا ہی حصہ ہے فضل و کرم کے ساتھ احسان کرنا ۔
شرح: یعنی تو ہر ایک پر احسان و کرم بلا طلب و بلا استحقاق از خود کرتا رہتا ہے۔
لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا : یعنی تیری ہر تعریف شکرگزاری کے ساتھ ہم سب پر واجب ہے۔
—————————————–
ﵻ129ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ التَّوْفِيْقَ لِمَحَآبِّكَ مِنَ الْأَعْمَالِ وَصِدْقَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ» ۔ [8]
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے توفیق دے ان اعمال کی جو تجھے محبوب ہیں، اور عطا فرما مجھے سچا توکل، اور اپنی ذاتِ پاک کے ساتھ نیک گمان رکھنے کی ۔
—————————————–
ﵻ130ﵺ
«اَللّٰهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِیْ لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِیْ طَاعَتَكَ وَطَاعَةَ رَسُوْلِكَ، وَعَمَلًا ۢ بَكِتَابِكَ »۔ [9]
اے اللہ! میرے دل کے کان اپنے ذکر کے لئے کھول دے اور مجھے اپنی اور اپنے رسولﷺ کی فرمانبرداری نصیب کر اور اپنی کتاب (قرآن) پر عمل نصیب فرما ۔
—————————————–
ﵻ131ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيٓ أَخْشَاكَ كَاَ نِّیْ أَرَاكَ أَبَدًا حَتّٰى أَلْقَاكَ، وَأَسْعِدْنِی بِتَقْوَاكَ، وَلَا تُشْقِنِیْ بِمَعْصِيَتِكَ »۔ [10]
اے اللہ! میرا حال ایسا کر دے کہ تیرے حضور میں حاضر ہونے تک (یعنی مرتے دم تک) تیرے قہر و جلال سے میں ہر وقت اس طرح ترساں و لرزاں رہوں کہ گویا ہر دم تجھے دیکھ رہا ہوں، اور اپنے خوف و تقویٰ کی دولت نصیب فرما کر مجھے خوش بخت کر دے، اور ایسا نہ ہو کہ تیری نافرمانی کر کے میں بدبختی میں مبتلا ہو جاؤں۔
شرح: ظاہر ہے کہ جب بندہ کو ہر وقت اس کا استحضار رہے گا کہ ایسی عظیم الشان قدرت والی ہستی ہمہ وقت اس کی نگراں ہے تو کوئی معصیت اس سے سرزد ہو ہی نہیں سکتی ۔ ساری معصیتوں کا سرچشمہ اس حقیقتِ اعظم کی طرف سے ذُہول و غفلت ہی ہے۔
سعادت یا خوش نصیبی کا راز تقویٰ میں ہے اور شقاوت یا بدنصیبی کا معصیت میں ۔
—————————————–
ﵻ132ﵺ
«اَللّٰهُمَّ الْطُفْ بِىْ فِىْ تَيْسِيْرِ كُلِّ عَسِيْرٍ فَإِنَّ تَيْسِيْرَ كُلِّ عَسِيْرٍ عَلَيْكَ يَسِيْرٌ وَّأَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِىْ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ »۔ [11]
اے اللہ! میری ہر دشواری کو آسان فرما کر مجھ پہ مہربانی فرما، ساری دشواریوں اور مشکلوں کو آسان کرنا تیرے لئے بالکل آسان ہے۔ اور میں تجھ سے دنیا اور آخرت(دونوں) میں سہولت و آسانی اور کامل عافیت کا سوالی ہوں۔
—————————————–
ﵻ133ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اعْفُ عَنِّیْ فَاِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيْمٌ» ۔ [12]
اے اللہ ! مجھ سے درگزر کر، تُو تو بڑا معاف کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔
شرح: [تو اس لیے تیرا میری اس درخوست کو قبول کرنا کوئی بات ہی نہیں ہے ]۔
اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا ہے۔؎
اک مرے دل کے، وہ خوش کرنے پہ کیا قادر نہیں
ایک کن سے دو جہاں کو جس نے پیدا کر دیا
بے شک بشر اپنی ساری کمزوریوں کے ساتھ ، آخرت تو کجا، دنیا کی بھی سختیوں کی تاب لاہی نہیں سکتا۔
—————————————–
ﵻ134ﵺ
«اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِیْ مِنَ الرِّيَآءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْكَذِبِ وَعَيْنِیْ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُوْرُ »۔ [13]
اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو رِیا سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک کر دے، کیونکہ تو خیانت کرنے والی آنکھوں کو جانتا ہے (کیونکہ تجھ پر تو روشن ہیں آنکھوں کی چوریاں بھی) اور جو کچھ سینے (دل) چھپاتے ہیں (تو اسے بھی جانتا ہے)۔
شرح: تجھ پر علانیہ و پوشیدہ سب ہی کچھ روشن ہے، اور تیرے لیے ہر جلی اور خفی یکساں ہے۔ تجھ سے کسی گہری سے گہری چوری کا چھپا نا عبث ہے۔ درخواست صرف تیرے رحم و کرم کی ہے۔ تو ظاہری اور باطنی ، خارجی اور قلبی ، ہر کُدُورَت سے مجھے پاک ہی کر دے۔
—————————————–
ﵻ135ﵺ
«اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِىْ عَيْنَيْنِ هَطَّالَتَيْنِ تَسْقِيَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدُّمُوْعِ مِنْ خَشْيَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَكُوْنَ الدُّمُوْعُ دَمًا وَّالْأَضْرَاسُ جَمْرًا» ۔ [14]
اے اللہ ! مجھے برسنے والی آنکھیں نصیب کر جو دل کو تیری خشیت (خوف) کی بنا پر بہتے ہوئے آنسوؤں سے سیراب کر دیں، بغیر اس کے کہ آنسو خون ہو جائیں اور کچلیاں انگارے بن جائیں ۔
شرح: مطلوب یہ روتی ہوئی اور اشک بہاتی ہوئی آنکھیں ہیں ۔ غفلت کے قہقہے ، جو رونقِ کار گاہِ تہذیب و تمدن ہیں ، مطلوب کسی درجے میں بھی نہیں !
قَبْلَ أَنْ تَكُوْنَ الدُّمُوْعُ دَمًا وَالْأَضْرَاسُ جَمْرًا: قبل یہاں بغیر کے معنی میں ہے۔ یہ مراد نہیں کہ پہلے یہ واقعہ ہولے پھر وہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ اگر خشیت اس درجے میں پیدا ہو گئی تو ان نتائج کی نوبت ہی نہ آئے گی جو بغیر اس خشیت کے پیدا ہونے لازمی تھے۔
—————————————–
ﵻ136ﵺ
«اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِیْ قُدْرَتِكَ، وَأَدْخِلْنِیْ فِیْ رَحْمَتِكَ، وَاقْضِ أَجَلِىْ فِیْ طَاعَتِكَ، وَاخْتِمْ لِىْ بِخَيْرِ عَمَلِیْ وَاجْعَلْ ثَوَابَهُ الْجَنَّةَ »۔ [15]
اے اللہ! مجھے اپنی قدرت سے عافیت عطا فرما اور مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے، اور میری زندگی اپنی طاعت و عبادت میں پوری کرا دے (یعنی میں زندگی کے آخری لمحہ تک تیری طاعت و عبادت کرتا رہوں) اور میرے بہترین عمل پر میرا خاتمہ فرما اور اس کے صلے میں مجھے جنت عطا فرما۔
شرح: جنت تو نام ہی رضائے الہٰی کے محل کا ہے۔ کاش! ہمارے جاہل صوفیہ و مشائخ اور جاہل شعرا اِسے سمجھتے۔
—————————————–
ﵻ137ﵺ
«اَللّٰهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ، كَاشِفَ الْغَمِّ، مُجِيْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّيْنَ، رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَرَحِيْمَهَا، أَنْتَ تَرْحَمُنِیْ، فَارْحَمْنِیْ بِرَحْمَةٍ تُغْنِيْنِیْ بِهَا عَنْ رَّحْمَةٍ مَّنْ سِوَاكَ»۔ [16]
اے اللہ ! فکر کے دور کرنے والے، غم کے زائل کرنے والے، بے قراروں کی دعا کے قبول کرنے والے، دنیا کے رحمٰن ورحیم! ، مجھ پر تو ہی رحم کرے گا ، تو میرے اوپر ایسی رحمت کر کہ تو اس کی بنا پر مجھے اپنے سواہر ایک سے بےنیاز کر دے۔[17]
—————————————–
ﵻ138ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ مِنْ فُجَآءَةِ الْخَيْرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فُجَآءَةِ الشَّرِّ» ۔ [18]
اے اللہ! میں تجھ سے غیر متوقع بھلائی مانگتا ہوں ، اور ناگہانی (آفت و ) برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
شرح: کوئی نعمت جب یک بیک نصیب ہو جاتی ہے تو دل کو کیسی غیر معمولی خوشی ہوتی ہے۔ اسی طر ح کوئی مصیبت جب ناگہانی آ پڑتی ہے تو قلب کو صدمہ بھی کس درجے کا ہوتا ہے !
رسولِ برحق ﷺ نے فطرت بشری کے ان تقاضوں کو پڑھ کر کتنے صحیح طریق پر اول الذکر کی طلب کی ہے، اور ثانی الذکر سے پناہ مانگی ہے۔
—————————————–
ﵻ139ﵺ
«اَللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ وَإِلَيْكَ يَعُوْدُ السَّلَامُ [أَسْأَلُكَ] يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ أَنْ تَسْتَجِيْبَ لَنَا دَعْوَتَنَا وَأَنْ تُعْطِيَنَا رَغْبَتَنَا وَأَنْ تُغْنِيَنَا عَمَّنْ أَغْنَيْتَهٗ عَنَّا مِنْ خَلْقِكَ»۔ [19]
اے اللہ! تیرا ہی نام سلام ہے اور اور تجھی سے سلامتی کی ابتدا ہے اور تیری ہی طرف ہر سلامتی لوٹتی ہے، اے صاحب ِعزت و جلال! میں تجھ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تو ہمارے حق میں ہماری دعا قبول کر لے، اور تو ہماری خواہشیں پوری کر دے، اور تو نے اپنی مخلوق میں سے جن کو ہم سے غنی کر دیا ہے ان سے ہم کو بھی غنی کردے۔
شرح: [کہ مخلوق سے واسطہ ٹھہرنے میں نفس کی ذلت تو بہر حال ہوتی ہے ]۔
أَنْ تُعْطِيَنَا رَغْبَتَنَا : یعنی تو اس لیے تیرا میری اس درخوست کو قبول کرنا کوئی بات ہی نہیں ہے۔
—————————————–
ﵻ140ﵺ
«اَللّٰهُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْ لِیْ »۔ [20]
اے اللہ! تو ہی میرے لیے (چیزوں کو) چھانٹ لے اور پسند کرلے۔[21]
(فائدہ: استخارہ کی دعا)
شرح: مطلب یہ کہ ظاہر ہے کہ جب تو خود انتخاب کرے گا تو اس میں کسی غلطی کا امکان و احتمال بھی نہیں رہ جاتا۔
—————————————–
ﵻ141ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اَرْضِنِیْ بِقَضَائِكَ، وَبَارِكْ لِیْ فِیْ مَا قُدِّرَ لِیْ حَتّٰى لَآ أُحِبَّ تَعْجِيْلَ مَا أَخَّرْتَ وَلَا تَأْخِيْرَ مَا عَجَّلْتَ» ۔ [22]
اے اللہ! مجھے اپنی مشیت پر راضی رکھ، اور جو کچھ میرے لئے مقدر کر دیا گیا ہے اس میں مجھے برکت دے تا کہ جس چیز میں تونے دیر رکھی ہے اُس کے لئے میں جلدی نہ کروں، اور جس چیز کا جلد ملنا تو نے مقدر رکھا ہے، اس میں میں دیر نہ چاہوں۔
شرح: کتنی عاقلانہ وحکیمانہ دعا ہے۔ انجامِ قریب و انجامِ بعید کے سارے پہلوؤں کی رعایت ملحوظ رکھے ہوئے۔
—————————————–
ﵻ142ﵺ
«اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَةِ »۔ [23]
اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے (اور آخرت کے فائدہ کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں)۔
شرح: یہ دنیا کا عیش بھی کوئی عیش ہے، کہ بالفرض ساری دُنیا کا عیش اکٹھا ہو کر بھی کسی کو مل جائے ، تو کتنے دن کا ؟ ۔۔۔ بندے میں صبر شکر، قناعت، رضا پیدا کرنے کا کیسا حکیمانہ نسخہ ہے!
—————————————–
ﵻ143ﵺ
«اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِیْ مِسْكِيْنًا وَّأَمِتْنِیْ مِسْكِيْنًا وَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ»۔[24]
اے اللہ! مجھے خاکسار اور متواضع مزاج بنا کر زندہ رکھ، اور خاکساری ہی کی حالت میں موت لا (متواضع مزاج لوگوں کی معیت ورفاقت میں ہی موت دے)، اور خاکساروں ہی میں مجھے اُٹھا ( اورروز ِقیامت میرا حشر متواضع مزاج لوگوں ہی کے ساتھ کر)۔
شرح: اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِیْ ۔۔۔ الْمَسَاكِيْنِ:
خوب خیال کر کے دیکھ لیا جائے۔ رسولِ انامﷺ کو تمنا کس گروہ میں شامل رہنے کی ہے؟ ملوک وسلاطین، امرا، اغنیا ، زمین داروں اور ساہوکاروں کے کسی طبقے میں نہیں، مسکین رہنے اور مسکینوں کے گروہ میں شامل رہنے کی! صحیح سوشلزم کے معنی یہ ہیں، نہ یہ کہ دوسرے زرداروں کا چھن چھنا کر اپنے کو مل جائے ، دوسرے نادار ہو جائیں ، اور ہم خود زردار بن جائیں۔
[۞امام بیہقیؒ نے سنن الکبریٰ (کتاب قسم الصدقات: 12786) میں لکھا ہے کہ آپﷺ کے وصال کے وقت( مالداری اور فتوحات کی) جو کیفیت تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے وہ مسکنت نہیں مانگی تھی جس کا تعلق مال و دولت کی کمی کے ساتھ ہو، بلکہ اس مسکنت کا تعلق تواضع اور انکساری کے ساتھ ہے، گویا آپﷺ نے اللہ تعالی سے یوں دعا کی ہو کہ اے اللہ! مجھے ظالم اور متکبرین میں سے نہ بنانا، اور سرکش مالداروں کی جماعت میں سے نہ اٹھانا۔‘]
—————————————–
ﵻ144ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِيْنَ إِذَآ أَحْسَنُوْا اسْتَبْشَرُوْا وَإِذَا أَسَآءُوْا اسْتَغْفَرُوْا»۔[25]
اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو جب کوئی نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اور جب کوئی برائی کرتے ہیں تو مغفرت چاہنے لگتے ہیں۔
شرح: اہل سعادت کی پہچان یہ ہے کہ جب ان سے کوئی نیکی بن پڑتی ہے تو دل میں خوش ہو لیتے ہیں، اور جب کوئی لغزش سرزد ہو جاتی ہے تو اس پر ملول و نادم ہو کر اس کی تلافی کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔۔۔ بخلاف اہلِ شقاوت کے، کہ انھیں عین فسق و معصیت ہی میں لطف آنے لگتا ہے، اور جب شر ما شرمی کوئی طاعت و عبادت بظاہر کرتے بھی ہیں تو اس میں کوئی حلاوت قطعاً نہیں محسوس کرتے۔
—————————————–
ﵻ145ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِكَ تَهْدِیْ بِهَا قَلْبِیْ وَتَجْمَعُ بِهَآ أَمْرِیْ وَتُلِمُّ بِهَا شَعْثِیْ وَتُصْلِحُ بِهَا دِيْنِیْ [وَتَقْضِیْ بِهَا دَيْنِیْ] وَتَحْفَظُ بِهَا غَائِبِیْ وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِیْ وَتُبَيِّضُ بِهَا وَجْهِیْ وَتُزَكِّیْ بِهَا عَمَلِیْ وَتُلْهِمُنِیْ بِهَا رَشَدِیْ وَتَرُدُّ بِهَا أُلْفَتِیْ وَتَعْصِمُنِیْ بِهَا مِنْ كُلِّ سُوٓءٍ. اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِیْ إِيمَانًا [لَّا يَرْتَدُّ] وَيَقِيْنًا لَّيْسَ بَعْدَهٗ كُفْرٌ وَّرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِیْ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ فِیْ الْقَضَاءِ وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ وَعَيْشَ السُّعَدَآءِ وَمُرَافَقَةَ الْاَ نْۢبِيَآءِ وَالنَّصْرَ عَلىٰ الْأَعْدَآءِ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاءِ. اَللّٰهُمَّ مَا قَصُرَ عَنْهُ رَأْيِیْ وَضَعُفَ عَنْهُ عَمَلِیْ وَلَمْ تَبْلُغْهُ [مُنْيَتِیْ] وَمَسْأَلَتِیْ مِنْ خَيْرٍ وَّعَدْتَّهٗ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيْهِ أَحَدًا مِّنْ عِبَادِكَ فَإِنِّیْٓ أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ وَأَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ. اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِیْ وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِیْ وَضَعُفَ عَمَلِی افْتَقَرْتُ إِلىٰ رَحْمَتِكَ فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِیَ الْأُمُوْرِ وَيَا شَافِیَ الصُّدُوْرِ كَمَا تُجِيْرُ بَيْنَ الْبُحُوْرِ أَنْ تُجِيْرَنِیْ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُوْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُوْرِ. اَللّٰهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيْدِ وَالْأَمْرِ الرَّشِيْدِ أَسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيْدِ وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُوْدِ مَعَ الْمُقَرَّبِيْنَ الشُّهُوْدِ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ الْمُوْفِيْنَ بِالْعُهُوْدِ إِنَّكَ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ وَّإِنَّكَ تَفْعَلُ مَا تُرِيْدُ. اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِيْنَ مُهْتَدِيْنَ غَيْرَ ضَآلِّيْنَ وَلَا مُضِلِّيْنَ سِلْمًا لِّأَوْلِيَائِكَ حَرْبًا لِّأَعْدَآئِكَ نُحِبُّ بِحُبِّكَ مَنْ أَحَبَّكَ وَنُعَادِیْ بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ مِنْ خَلْقِكَ اَللّٰهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الْإِجَابَةُ وَهٰذَا الْجَهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ» ۔ [26]
اے اللہ! میں تجھ سے تیری خالص رحمت کی درخواست کرتا ہوں، جس سے تو میرے دل کو ہدایت کر دے، اور اس سے میرے کاموں کو جمعیت دے، اور اس سے میری ابتری کو درست کر دے اور اس سے میرے دین کو سنوار دے اور اس سے میرے قرضہ کو ادا کر دے، اور اس سے میری نظر سے غائب چیزوں کی نگہبانی کر، اور اس سے میری پیشِ نظر چیزوں کو بلندی عطا کر، اور اس سے میرا چہرہ نورانی کر دے، اور اس سے میرا عمل پاکیزہ کر دے، اور اس سے رُشد و ہدایت میرے دل میں ڈال دے، اور اس سے میرے حالِ مالوف کو لوٹا دے ، اور اس کے واسطے سے مجھے ہر برائی سے بچائے رکھ۔
اے اللہ ! مجھے ایسا ایمان دے جو پھر نہ پھرے، اور ایسا یقین کہ اس کے بعد کفر نہ ہو، اور ایسی رحمت کہ اس کے ذریعہ سے میں دنیا اور آخرت میں تیرے ہاں کی عزت کا شرف پالوں۔
اے اللہ! میں تجھ سے طلب کرتا ہوں امورِ تکوینی میں کامیابی، اور شہیدوں کی سی مہمانی، اور سعیدوں کا ساعیش، اور انبیاء علیہم السلام کی رفاقت اور دشمنوں پر فتح ، بے شک تو ہی دُعاؤں کا سننے والا ہے۔
اے اللہ! جو بھلائی بھی ایسی ہو کہ اس تک پہنچنے سے میری سمجھ قاصر رہ گئی ہو، اور میرا عمل وہاں تک نہ ساتھ دے سکا ہو، اور اس تک میری آرزو اور میرے سوال کی رسائی نہ ہو، اور تو نے اُس بھلائی کا وعدہ اپنی مخلوق میں سے کسی سے بھی کیا ہو یا جو ایسی بھلائی ہو کہ تو اپنے بندوں میں سے کسی کو بھی وہ دینے والا ہو، تو میں تجھ سے اس کی خواہش کرتا ہوں اور اسے تجھ سے تیری رحمت کے واسطہ سے طلب کرتا ہوں ، اے عالمین کے پروردگار !
اے اللہ! میں اپنی خواہش تیرے ہی حوالہ کرتا ہوں، گو میری سمجھ کوتاہی کرے اور میرا عمل ضعیف رہے، میں محتاج ہوں تیری رحمت کا ،تو اے سب کاموں کے پورا کرنے والے اور اے دلوں کے شفا دینے والے! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے سمندروں کے درمیان فاصلہ رکھا ہے، تو مجھے بھی دوزخ کے عذاب سے، اور جزع فزع سے، اور فتنۂ قبور سے فاصلے پر رکھ۔
اے اللّٰہ!مضبوط رسی (طاقت) والے اور سچے حکم والے !میں تجھ سے خوف والے دن (روزِ قیامت) امن و اطمینان کی اور آخرت میں (تیرے) ان مقرب لوگوں کی معیت میں جنت کی درخواست کرتا ہوں ،جو (حق کی) گواہی دینے والے (حاضر باش ہیں) ،بڑے رکوع کرنے والے (ذمہ داری پوری کرنے والے)، بڑے سجدے کرنے والے (اطاعت گزار) اور (تیرے اورتیرے بندوں کے ساتھ کئے گئے) معاہدوں اور اقراروں کو پورا کرنے والے ہیں، بے شک تو بڑا مہربان ہے، بڑا شفیق ہے، اور تو جو چاہے کر سکتا ہے۔
اے اللہ! ہمیں بنا دے راہ نما راه یاب نہ کہ بے راہ اور بھٹکانے والے، اور اپنے دوستوں کا دوست، اور اپنے دشمنوں کا دشمن ، ہم تیری مخلوق میں سے اسی کو دوست رکھیں جو تجھے دوست رکھتا ہو، اور دشمن رکھیں اُسے جو تیرا نا فرمان ہو۔
اے اللہ! دعا تو یہ ہے اور قبول کرنا تیرا کام ہے، کوشش یہ ہے اور بھروسہ تیرے ہی اوپر ہے۔
شرح: شروع میں درخواست ، رحمتِ خاص کی کی ہے، اور آگے سب اس کی تشریح و توضیح ہے۔
تَهْدِیْ بِهَا قَلْبِیْ : وہ رحمت ایسی ہو جس سے قلب پوری طرح ہدایت پا جائے۔
تَجْمَعُ بِهَآ أَمْرِیْ : وہ رحمت ایسی ہو جس سے میرے سارے کام بن جائیں۔
تُلِمُّ بِهَا شَعْثِیْ : وہ رحمت ایسی ہو جس سے میری پریشانیاں سلجھ جائیں۔
وَتَرُدُّ بِهَا أُلْفَتِیْ : اس کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ رحمت ایسی ہو جس سے میرے فطری جذبات الفت جو ہر بندے کے حق تعالیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں از سر نو پیدا ہو جائیں ۔
تَعْصِمُنِیْ بِهَا مِنْ كُلِّ سُوٓءٍ : جامع درخواست ہے کہ وہ رحمت مجھے ہر برائی سے خرابی سے بچادے۔
دنیا اور آخرت کی ہر عزت اور مرتبے کے لیے جامع دعا ہے۔
اور اسی لیے تو تیری خدمت میں یہ سب معروضات پیش کیے جارہے ہیں۔
نُزُلَ الشُّهَدَاءِ: یعنی ایسی اعلیٰ قسم کی میز بانی جیسی کہ شہیدوں کی جنت میں ہوگی ۔
الْفَوْزَ فِیْ الْقَضَاءِ : امور تکوینی میں کامیابی و کامرانی کوئی حقیر شے نہیں بلکہ ایسی ہے کہ ان درخواستوں میں سب سے مقدم وہی رکھی گئی ہے۔
اس میں تعلیم آگئی کہ بندے کو ہر ممکن بھلائی کی طلب میں کسی درجہ حریص ہونا چاہیے!
بندہ عرض کر رہا ہے کہ کوئی بھلائی کیسی ہی ہو اُس تک میں اپنی ذہن کی نارسائی سے نہ پہنچ سکا خواہ ضعفِ عمل سے، [ یا اس وجہ سے، کہ وہ بھلائی ] میرے علم سے بھی باہر رہی ہو لیکن مخلوق میں سے کسی کے حصے میں بھی اس کا آنا ممکن ہو، تو مجھے بھی اس کا آرزو مند سمجھ لے، تو تو اعلیٰ و ادنیٰ، مستحق و غیر مستحق سب ہی کا پروردگار ہے!
افْتَقَرْتُ إِلىٰ رَحْمَتِكَ: ساری دعاؤں ، درخواستوں ، عرض داشتوں کی کلید بس یہی ہے۔۔۔ بندے کی نیاز مندی اور رحمت الہٰی کی طرف محتاجی !
قبول درخواست سے مانع دو ہی امر ہو سکتے ہیں۔ یا حاکم میں اتنی شفقت ہی نہ ہو اور یا شفقت تو ہو لیکن پوری قدرت نہ ہو۔ تو تیرے لیے یہ دونوں شفقتیں مرتفع ہیں۔َ
ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيْدِ : وہ ڈوری جو کبھی ٹوٹ نہ سکے، وہ سہارا جو کبھی دھوکا نہ دے ۔ ملاحظہ ہو، آیت کریمہ: فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَهَا (البقرة 2: 256)
الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ الْمُوْفِيْنَ بِالْعُهُوْدِ: کہ یہ سب بڑے مرتبے پانے والے لوگ ہیں ۔
سِلْمًا لِّأَوْلِيَائِكَ حَرْبًا لِّأَعْدَآئِكَ : یہاں صاف تعلیم اس کی مل رہی ہے کہ غیر اللہ سے دوستی و دشمنی دونوں کے علاقے رکھے جاسکتے ہیں۔ البتہ یہ علاقے تمام تر دوستی ِحق و دشمنیِ حق کے ماتحت ہونا چاہیں ۔ یہی معنی ہیں حب فی اللہ اور بغض اللہ رکھنے کے۔
اَللّٰهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الْإِجَابَةُ وَهٰذَا الْجَهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ: بندہ اور خدا، عبد اور معبود مخلوق اور خالق کے الگ الگ دائرہ عمل یہاں کیسے کھول کر بیان کر دیے گئے ہیں۔ کتنی عبدیت آموز دعا ہے! کاملین نے اپنے نفس پر بھروسا ایک لمحے کے لیے بھی نہیں کیا ہے۔
—————————————–
ﵻ146ﵺ
«اَللّٰهُمَّ لَا تَكِلْنیْ إِلٰى نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَيْنٍ وَّلَا تَنْزِعْ مِنِّیْ صَالِحَ مَآ أَعْطَيْتَنِیْ»۔[27]
اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے حوالہ ایک پلک بھر کے لئے بھی نہ کر، اور جو بھی اچھی چیزیں تو نے مجھے دی ہیں، وہ مجھ سے واپس نہ لے ۔
—————————————–
ﵻ147ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِـإِلٰهِ نِ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبٍّ يَّبِيْدُ ذِكْرُهُ ابْتَدَعْنَاهُ، [وَلَا عَلَيْكَ شُرَكَآءُ يَقْضُوْنَ مَعَكَ]، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ مِنْ إِلٰهٍ نَّلْجَأُ إِلَيْهِ، وَنَذَرُكَ، وَلَآ أَعَانَكَ عَلىٰ خَلْقِنَا أَحَدٌ، فَنُشْرِكُهٗ فِيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ [فَنَسْأَلُكَ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اَنْتَ إِغْفِرْلِیْ]»۔ [28]
اے اللہ ! تو ایسا خدا تو نہیں ہے جسے ہم نے گھڑ لیا ہو، اور نہ ایسا پروردگار جس کا ذکر ناپائیدار ہے۔ کہ ہم نے اُسے اختراع کر لیا ہو، اور نہ تیرے اور ساتھی ہیں جو حکم میں تیرے شریک ہیں، اور نہ تجھ سے پہلے ہی ہمارا کوئی خدا تھا، جس سے ہم پناہ حاصل کرتے رہے ہوں، اور تجھ کو چھوڑ دیتے ہوں، اور نہ کسی نے ہمارے پیدا کرنے میں تیری مدد کی ہے کہ ہم اُس کو تیرے ساتھ شریک سمجھیں، تو بابرکت ہے، اور تو برتر ہے، پس ہم تجھ سے، اے وہ کہ سوا تیرے کوئی معبود نہیں، درخواست کرتے ہیں کہ تو مجھے بخش دے۔
شرح: عجیب و غریب پر اثر دُعا ہے۔ بندہ کس اخلاص والحاح سے عرض کر رہا ہے کہ تُو تو واقعی اور یقینی خدا ہے۔ کوئی ہمارا دل کا گھڑا ہوا خدا تھوڑے ہی ہے۔ تجھ سے نہ قبل کوئی دوسرا خدا تھا، نہ اب کوئی ہے۔ نہ کوئی تیری خدائی میں کسی حیثیت سے شریک ، کہ ہم اُدھر رجوع ہو جائیں ۔ مغفرت کی درخواست صرف تجھی سے ہے۔
—————————————–
ﵻ148ﵺ
«اَللّٰهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهٖ عِبَادَكَ الصَّالِحِيْنَ، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا [وَارْحَمْهَا]»۔ [29]
اے اللہ ! تو ہی نے میری جان کو پیدا کیا ہے، اور تو ہی اسے موت دے گا، تیرے ہی ہاتھ میں اس کا مرنا اور اس کا جینا ہے، تو اگر اسے زندہ رکھتا ہے تو اُس کی ایسی حفاظت کر جیسی کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، اور اگر تو اسے موت دیتا ہے، تو تو اسے بخش دینا اور اس پر رحم کرنا۔
شرح: یعنی جب تک ہمیں زندہ رکھ تو اپنی حفاظت میں رکھ، اور جب موت دے تو خالص رحمت کے ساتھ [دے]۔
—————————————–
ﵻ149ﵺ
«اَللّٰهُمَّ أَعِنِّیْ بِالْعِلْمِ وَزَيِّنِّیْ بِالْحِلْمِ وَأَكْرِمْنِیْ بِالتَّقْوٰى وَجَمِّلْنِیْ بِالْعَافِيَةِ»۔ [30]
اے اللہ! علم سے میری مدد کر، اور تحمل کے (وصف کے) ساتھ مجھے سنوار دے، اور مجھے تقویٰ (جواب دہی کے احساس اور تقاضوں) کے ساتھ عزت دے ، اور مجھے امن وچین سے جمال دے۔[31]
شرح: یعنی تیری اعانت یہی ہے کہ مجھے علم و معرفت عطا کیا جائے ، اور مجھ میں زینت اور شائستگی پیدا ہو تو علم سے ، اور مجھ میں خوف پیدا ہو تو تقویٰ سے، اور مجھ میں جمال پیدا ہو تو حسنِ عافیت سے۔
—————————————–
ﵻ150ﵺ
«اَللّٰهُمَّ لَا يُدْرِكْنِیْ زَمَانٌ وَّلَا يُدْرِكُوْا زَمَانًا لَّا يُتَّبَعُ فِيْهِ الْعَلِيْمُ وَلَا يُسْتَحْیٰی فِيْهِ مِنْ الْحَلِيْمِ قُلُوبُهُمْ قُلُوْبُ الْأَعَاجِمِ وَأَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ»۔ [32]
اے اللہ! مجھے وہ زمانہ نہ پائے ، اور نہ یہ لوگ اس زمانہ کو پائیں جس میں نہ صاحبِ علم کی پیروی کی جائے ، اور نہ صاحبِ حلم کا لحاظ کیا جائے ، اور اُن کے دل عجمیوں کے سے ہو جائیں، اور ان کی زبانیں اہلِ عرب کی سی رہ جائیں۔
شرح: رسول اللہ ﷺ اپنے اور اپنے صحابیوں کے لیے اس زمانے سے پناہ مانگ رہے ہیں جو دور ِآخر میں دنیا کے ہر طرف شرو فتنے کا زمانہ ہوگا اور جب کہ نہ علم کی وقعت باقی رہ جائے گی نہ علم کی ، نہ معارف و حقائق اِلٰہیہ کی ، نہ سیرت و اخلاقِ فاضلانہ کی ۔ دلوں میں اہلِ عجم [ عرب سے باہر کے باشندوں] کا سا کھوٹ اور نفاق پیدا ہو جائے گا ، اور زبانیں اہلِ عرب کی سی نرم اور مطیع باقی رہیں گی۔
[۞ایک اور حدیث میں قلوبُ الأعاجم سے مراد حُبِ دنیا لی گئی ہے (سلسله احاديث صحيحه: 3777)، جہاں تک عربوں کی سی زبانوں” (ألسنتُهم ألسنةُ العرب) کا تعلق ہے اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ لوگ ظاہری طور پر مذہبی گفتگو کریں لیکن ان کے دل نفاق سے بھرے ہوں، واللہ اعلم۔ علامہ منّاوی ؒنے “فَیضُ القَدیر” میں انہی دو الفاظ کی شرح یوں کی ہے: “دل اخلاقِ خیر سے دور، ریا و نفاق سے بھرے؛ زبانیں عربی—متشدِّق، متفصِّح، متفیهق”۔ متشدق وہ شخص ہے جو عمدہ گفتگو کے لئے باچھوں کو موڑ کر یعنی تصنع سے بات کرے۔]
—————————————–
ﵻ151ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَّنْ تُخْلِفَنِيْهِ فَإِنَّمَآ أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ اٰذَيْتُهٗ أَوْ شَتَمْتُهٗ أَوْ جَلَدْتُّهٗ أَوْ لَعَنْتُهٗ فَاجْعَلْهَا لَهٗ صَلَاةً وَّزَكَاةً وَّقُرْبَةً تُقَرِّبُهٗ بِهَآ إِلَيْكَ»۔ [33]
اے اللہ! میں تجھ سے وعدہ لیتا ہوں جسے تو ہرگز نہ توڑنا، کہ میں بھی آخر بشر ہی ہوں، سو جس کسی مسلمان کو میں تکلیف دوں، یا اسے برا بھلا کہوں یا اُسے ماروں پیٹوں، یا اُسے بددعا دوں، تو اس (سب) کو تو اس کے حق میں رحمت اور پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بنا دینا ، جس سے تو اُس کو مقرب بنا لے۔
شرح: اللہ اکبر ! یہ دعا رسولِ معصوم ﷺ نے اپنے لیے ضروری سمجھی، جن سے بڑھ کر کسی کا کریم النفس ہونا اور حلیم اور بے آزار ہونا ممکن نہیں ، تو ظاہر ہے کہ ہم افرادِ امت کے لیے اس دُعا کا زبان و قلب دونوں پر جاری رکھنا کس درجہ اہم اور مقدم ہے!
یوں تو ساری ہی حدیثی دُعا ئیں اپنی اپنی جگہ فرد ہیں لیکن بعض دعا ئیں تو اتنی لطیف و حکیمانہ ہیں کہ دل اُن پر بے ساختہ لوٹ جاتا ہے اور انھی بہترین دعاؤں میں سے ایک یہ ہے۔
﴿استعاذہ﴾
—————————————–
ﵻ152ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیٓ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ [34] وَمِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْءِ الْأَخْلَاقِ [35] وَمِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ [36] أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ [37] وَمِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ [38]ومِنْ شَرِّ مَآ أَنْتَ اٰخِذٌ ۢبِنَاصِيَتِهٖ [39] وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هٰذَا الْيَوْمِ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهٗ »[40]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، برص سے اور ضِدّا ضِدّی(بحث و تکرار)سے، اور نفاق سے، اور بُرے اخلاق سے، اور ہر اس چیز کی برائی سے جو تیرے علم میں ہے، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اہلِ دوزخ کے حال سے اور (خود) دوزخ سے، اور ہر اُس چیز سے خواہ وہ قول ہو یا عمل جو اُس سے قریب کرے، اور ہر اس چیز کی برائی سے جو تیرے قبضہ میں ہے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس برائی سے جو آج کے دن میں ہے، اور ہر اُس برائی سے جو اُس کے بعد ہے۔
—————————————–
ﵻ153ﵺ
«وَمِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَشَرِّ الشَّيْطٰنِ وَشِرْكِهٖ وَأَنْ نَقْتَرِفَ عَلٰٓى أَنْفُسِنَا سُوْٓءًا أَوْ نَجُرَّهٗ إِلٰى مُسْلِمٍ۔ [41]
أَوْ أَ كْتَسِبَ خَطِيْٓئَةً أَوْ ذَنْۢبًا لَّا تَغْفِرُهٗ ۔ [42]وَمِنْ ضِيْقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ »۔ [43]
اور اپنے نفس کی برائی سے، اور شیطان کی برائی سے، اور شیطان کے شرک سے، اور اس سے کہ ہم کسی شر کو اپنے اوپر لگائیں یا اسے کسی مسلمان تک پہنچائیں یا میں کوئی ایسی خطا یا گناہ کروں جسے تو نہ بخشے، اور قیامت کے دن کی تنگی سے۔
شرح: استعاذہ کے کلمات یہاں بھی حسبِ معمول ایسے ہی جامع اور دُنیا و آخرت کی ایک ایک چیز پرحاوی ہیں۔
۩ ۩ ۩
[1] الجامع للترمذي (3520)، وفي صحيح ابن خزيمة (2841) «تَرَائِ» مكان «تُرَاثِي»، شعب الإيمان (3779) فيه «نِدَائِي» مكان «تُرَاثِي»، الدعاء للمحاملي (58 {64}) فيه «ثَوَابِي» مكان «تُرَاثِي»، عن عليّ بن أبي طالب .
[2] الدعاء للمحاملي (58 {64})، شعب الإيمان للبيهقي (3560) أمّا في (3779)، وصحيح ابن خزيمة (2841)، ففيهما «الريح» مكان «الرياح». عن عليّ بن أبي طالب.
[3] سنن الترمذي (3604)، مسند أحمد (8087 و10182)، الدعاء للطبراني (1402). عن أبي هريرة .
[4] ذكر في الترغيب والترهيب 4/589، وحلية الأولياء وطبقات الأصفياء 8/367، «وَلِيَّهُمَا» مكان «وَلِيُّنا». ولم يذكر «ونواصينا» و«واهدنا إلى سواء السّبيل». عن جابر. ذكر في مسند الفردوس (1984) وسلسلة الأحاديث الضعيفة (2909) «ونواصينا» مكان «قلوبنا وجوارحنا» و«وأهدنا إِلَى سَوَاء السَّبِيل». عن أنس بن مَالك .
[5] الفردوس (1965)، الترغيب والترهيب، باب الأدعية الصالحة (75). وفي حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 8/282 بلفظ «خوفك» مكان «خشيتك» و «فَأَقِرَّ» مكان «فَأَقْرِرْ»، عن الهيثم بن مالك الطائى .
[6] الأدب المفرد (307)، المعجم الكبير 14/۵۰ (14644)، الدعاء للطبراني (1406)، الدعوات الكبير (259)، عن عبد الله بن عمر.قال على القاري في المرقاة (وَحُسْنَ الْخُلُقِ) بِضَمِّ اللَّامِ وَسُكُونِهَا أَيْ حُسْنَ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ أَهْلِ الْإِسْلامِ.
[7] المعجم الكبير للطبراني 19/144 (316). عن كعب بن عجرة.
[8] حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 8/224، مختصر كتاب الوتر 1/ 325، عن الأوزاعى مرسلا والحكيم عن أبى هريرة.
[9] المعجم الأوسط للطبراني (1286) و (5341)، الترغيب والترهيب (82). عن الحارث الأعور.
[10] الدعاء للطبراني (1424)، المعجم الأوسط (5982). عن أبي هريرة.
[11] المعجم الأوسط (1250) وفيه «الطُفْ لِي» مكان «الطُفْ بِي»، الترغيب والترهيب (85). عن أبي هريرة.
[12] المعجم الأوسط للطبراني 7/367 (7746)، الترغيب والترهيب (86). عن أبي سعيد الخدري.
[13] مسند الفردوس (1953)، مساوئ الأخلاق للخرائطي (478)، الدعوات الكبير للبيهقي (258)، الترغيب والترهيب (1328)، نوادر الأصول (888) 3/82. عن أم معبد الخزاعية.
[14] ابن عساكر (2729)، الترغيب والترهيب (88). وذكر في الدعاء للطبراني (1457) وحلية الأولياء وطبقات الأصفياء 2/196 «بِذُرْفِ الدَّمْع» مكان «بِذُرُوفِ الدَّمْعِ»، وفي الجميع «تشفيان» مكان «تسقيان»، وفي الزهد والرقائق لابن المبارك (480) «تبكيان» مكان «تسقيان القلب»، عن سالم عن ابن عبد الله.
[15] ابن عساكر في تاريخ دمشق (5742)، الترغيب والترهيب، (68). عن ابن عمر.
[16] المستدرك للحاكم 1/515 (1941)، الدعاء للطبراني (1041)، وفيهما «رحمٰن الدنيا والآخرة ورحيمهما» مكان «رحمٰن الدنيا ورحيمها». عن أبي بكر الصديق.
[17] ۞مستدرک حاکم (1941)کی ہی روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ یہ دعا اپنے اصحاب کو سکھایا کرتے تھے، اور کسی پر پہاڑ کے برابر سونا بھی قرض ہوگا تو اس کے پڑھنے کی برکت سے ادا ہوجا ئے گا۔
[18] مسند أبي يعلى 3/199 (3358)، عمل اليوم والليلة (39)، ففيهما «فَجْأَةِ» مكان «فُجَاءَةِ». عن أنس بن مالك. قال في هامش المطالب العالية «الفَجْأة» بفتح الفاء، وإسكان الجيم، أي إذا أخذه بغتة من غير تقدم سبب. النهاية (3/ 412). قال الحافظ ابن حجرؒ في «نتائج الأفكار» 410/2 تنبيه وقع هذا الحديث في أكثر النسخ سابقا على الذي قبله، وفي بعضها كما أمليته. اهـ.
[19] عمل اليوم والليلة لابني السني (147)، الدعاء للطبراني (1457)، الدعوات الكبير (211) وفيهم «اليك السلام» مكان «اليك يعود السلام»، ولم يذكر في كشف الأستار عن زوائد البزار (3103)، «أسألك» قبل «يا ذا الجلال والإكرام» عن أبي سعيد الخدري.
[20] سنن الترمذي (3516)، مسند البزار (59 و103)، مسند أبي يعلى (40)، عمل اليوم والليلة لابني السني (597). عن أبي بكر الصديق.
[21]۞استخارہ کرنا گویا اللہ سے طلبِ خیر کرنا اورمشورہ طلب کرنا ہے۔یہ استخارہ کی مختصر ترین دعا ہے، اسکے علاوہ سنن ترمذی کی حدیث نمبر 480 میں یہ استخارہ کی بڑی دعا روایت ہوئی ہے: جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺہمیں ہر معاملے میں استخارہ کرنااسی طرح سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ آپﷺ فرماتے: ”تم میں سے کوئی شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت پڑھے، پھر کہے: «
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أقدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أعلَمُ وَأَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اَللّٰهُمَّ إِنَّ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِّی فِی دِينِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَةِ أَمْرِی – أوْقَالَ فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِهِ – فَاقْدُرْهُ لِی وَيَسِّرْهُ لِی ثُمَّ بَارِكْ لِی فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِی فِی دِينِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَةِ أَمْرِی – أَوْ قَالَ فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِهٖ – فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِی عَنْهُ وَاقَدُرْ لِیَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِی بِهٖ» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تیری طاقت کے ذریعے تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم والا ہے اور میں لا علم ہوں، تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے، اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے (یا آپﷺ نے فرمایا: یا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے) بہتر ہے، تو اسے تو میرے لیے آسان بنا دے اور مجھے اس میں برکت عطا فرما، اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے (یا آپ ﷺ نےفرمایا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے )میرے لیے برا ہے تو اسے تو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے وہ جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“ آپ ﷺنے فرمایا: ”اور اپنی حاجت کا نام لے“ لفظ ((هَذَا الْأَمْرَ)) ”اِس کام“ کی جگہ اپنی ضرورت کا نام لیں۔
[22] مسند الفردوس (6346)، وفي عمل اليوم والليلة لابني السني (350) «رَضِّنِي» مكان «اَرْضِنِيْ». عن ابن عمر.
[23] صحيح البخاري (2961) و(3795-3798) و(6413)، صحيح مسلم (126-1804 إلى 127-1805)، سنن الترمذي (3856 و3857)، مسند أبي يعلى الموصلي (7476). عن سهل بن سعد وأنس بن مالك.
[24] سنن ابن ماجه (4126) بلفظه، وفي سنن الترمذي (2352) زيادة «يوم القيامة» بعد «زُمْرَةِ المَسَاكِينِ». عن أنس بن مالك وعن أبي سعيد الخدريّ.
[25] سنن ابن ماجه (3820)، مسند أحمد (24980 و25120 و26021)، مسند إسحاق (1336)، مسند أبي داود الطيالسي (1637)، الدعوات الكبير (211)، الدعاء للطبراني (1401) مسند أبي يعلى الموصلي (4455)، الترغيب والترهيب (146). عن عائشة.
[26] سنن الترمذي (3419) باب (30) بدون ترجمة، ذكر فيه «وَتَلُمُّ» مكان «وَتَلِمُّ» «وَتُصْلِحُ بِهَا غَائِبِي» مكان «وَتُصْلِحُ بِهَا دِيْنِيْ» و«رُشْدِي» مكان» رَشَدِي و«نِيَّتِي» مكان «مُنْيَتِيْ» ولم يذكر«وَتَحْفَظُ بِهَا غَآئِبِيْ» و «وَتُبَيِّضُ بِهَا وَجْهِيْ» و «لَا يَرْتَدُّ» و «وَمُرَافَقَةَ الْاَنْبِيَآءِ» و«اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاءِ» و«وَضَعُفَ عَنْهُ عَمَلِيْ». وفي الدعاء للطبراني (482) المعجم الكبير (10520)، المعجم الأوسط (3697) وفيهم «شَمْلِي» مكان «أَمْرِي». ولم أجد «تقضي بها دَيني» إلا في قوة القلوب 1/12، لأبي طالب المكي. عن عبد الله بن عباس . وذكر في الأسماء والصفات للبيهقي (335) «وتحفظ بها غائبي» و «وتبيّض بها وجهي» وفي الدعوات (69) نحوه.
[27] حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 8/367، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 10/181 (17409)، مسند الفردوس (2008). عن ابن عمر .
[28] المعجم الكبير للطبراني (7300) لم يذكر فيه «وَلَا بِرَبٍّ يَبِيدُ ذِكْرُهُ، وَلَا عَلَيْكَ شُرَكَاءٌ يَقْضُوْنَ مَعَكَ»، كذا في المستدرك للحاكم 3/401 (5761) والدعاء للطبراني (1450). عن صهيب .وذكر في الدعوات الكبير (70) «وَلَا رَبٍّ يَبِيدُ ذِكْرُهُ، وَلَا عَلَيْكَ شُرَكَاءٌ يَقْضُوْنَ مَعَكَ» و «فَنَشَكَّ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اغْفِرْ لِي». عن عائشة.
[29] وأخرجه صحيح مسلم (60-2712)، والسنن الكبرى للنسائي (10632)، وعمل اليوم والليلة للنسائي (796)، وصحيح ابن حبان 7/428 (5516) وأخرجه أحمد (5502)، نحوه. والبيهقي في الأسماء والصفات (124)، والغزالي في بداية الهداية آداب النوم، عن عبد الله بن عمر . وذكر في مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لفظ «وَإِنْ أَمَتَّهَا فَارْحَمْهَا» (17387).
[30] التدوين في أخبار قزوين 2/324، الحلم لابن أبي الدنيا 1/20، الترغيب والترهيب (90)، كنز العمال (3663 و3757)، جامع الأحاديث حرف الهمزة (4019)، عزاه السيوطي لابن النجار ورمز لحسنه، وابن عمر . مسند الفردوس (1906) عن الحسين بن علي ، وفي جميع المصادر الموجودة ِ عندي «أغنني» مكان «أَعِنِّيْ» ولم أجد «أعني».
[31] ۞ابن ابی الدنیاؒ نے کتاب الحلم میں یہ دعا ان الفاظ سے روایت کی ہے: اللَّهُمَّ أَغْنِنِي بِالْعِلْمِ، وَزَيِّنِّي بِالْحِلْمِ، وَأَكْرِمْنِي بِالتَّقْوَى، وَجَمِّلْنِي بِالْعَافِيَةِ۔ یعنی علم دے کر غنی کردے ۔ باقی دعا وہی ہے۔
[32] مسند أحمد (22879)، المستدرك على الصحيحين (8557) بلفظه، مسند الفردوس (2009). وفي هذه المصادر الموجودة ِ عندي «لا يدركني زمان أو لا تدركوا زمانا»،. جامع الأحاديث حرف الهمزة (4095) بلفظه، كذا في كنز العمال (3686). عن سهل بن سعد.
[33] صحيح مسلم (90-2601) نحوه، مسند أحمد (9074)، صحيح ابن حبان 8/154 (6482)، الترغيب والترهيب باب الأدعية الصالحة (108) وفي الكل زيادة «يوم القيامة» عن أبى هريرة .
[34] سنن أبي داود (1554)، مسند أحمد 13004 (13035)، صحيح ابن حبان 2/179 (1013)، مصنف ابن أبي شيبة (29739)، مسند أبي يعلى الموصلي (2890) {3/71} مسند أبي داود الطيالسي (2021)، الدعاء للطبراني (1342)، عن أنس بن مالك .
[35] سنن أبي داود (1546)، سنن النسائي (5473)، السنن الكبرى (7906). عن أبي هريرة .
[36] سنن الترمذي (2407)، سنن النسائي (1305)، السنن الكبرى (1227)، مسند أحمد (17114، 17133)، مصنف ابن أبي شيبة (29971)، صحيح ابن حبان (935 و1974)، المستدرك للحاكم (1872) {1/508}. عن شدّاد بن أوس.
[37] سنن الترمذي باب 129، (3599)، سنن ابن ماجه (3804)، الدعوات الكبير (398). عن أبي هريرة.
[38] سنن ابن ماجه (3846)، المستدرك للحاكم (1957) {1/522}، مسند أحمد (1484 و1485 و25019 و25137، مسند إسحاق بن راهويه (1165)، مسند أبي يعلى الموصلي (4456)، الدعاء للطبراني (1347 و1355). عن عائشة .
[39] مصنف بن أبي شيبة (29929)، عن عليّ .صحيح ابن حبان 2/143 (930). عن عمر بن الخطاب.
[40] الدعاء للطبراني باب القول عند الصباح والمساء (295)، عمل اليوم والليلة لابن السني (38)، عن البراء بن عازب. مسند الفردوس (1868). عن ابن مسعود.
[41] سنن أبي داود (5083)، المعجم الكبير (2775) نحوه، جامع الأحاديث حرف الهمزة (4365). هامش الإحياء 1/327، الناشر دار المعرفة – بيروت. عن أبي مالك الأشعري. وفي سنن الترمذي (3529)، مسند أحمد (6851)، الدعاء للطبراني (289)، الدعوات الكبير (30)، عن عبد الله بن عمرو بن العاص.
[42] المستدرك للحاكم (1900) {1/516} وفيه زيادة «محبطة» بعد «خطيئة»، مسند أحمد (21666)، وذكر في المعجم الكبير (4803 و4932)، والدعاء للطبراني (320) «أُذْنِبَ ذَنْبًا لَا تَغْفِرُهُ». عن زيد بن ثابت .
[43] سنن أبي داود (766)، سنن النسائي (1617) و(5535)، السنن الكبرى (۱۳۱۷)، سنن ابن ماجه (1356)، مصنف ابن أبي شيبة (29948). عن عائشة.
