
ﵻ80ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ صَبُوْرًا وَّاجْعَلْنِیْ شَكُوْرًا وَّاجْعَلْنِیْ فِیْ عَيْنِیْ صَغِيْرًا وَّ فِیْ اَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيْرًا »۔[1]
اے اللہ! مجھے انتہائی صبر و شکر کرنے والا بنا اور مجھے میری اپنی نظر میں چھوٹا لیکن لوگوں کی نظروں میں بڑا بنا دے ۔
شرح: [یعنی ہر مصیبت کے وقت صبر کا ، اور ہر نعمت کے موقع پر شکرگزاری کا ثبوت دیتار ہوں ]۔ جب بندہ خود اپنی نظر میں چھوٹا بن جائے گا تو دوسروں کی نظر میں بڑا بن جانے سے جن نقصانات کا احتمال رہتا ہے، وہ از خود رفع ہو گئے، اور جو فوائد ہو سکتے ہیں وہ باقی رہ گئے۔
—————————————–
ﵻ81ﵺ
«اَللّٰهُمَّ ضَعْ فِیْ أَرْضِنَا بَرَكَتَهَا وَزِيْنَتَهَا وَسَكَنَهَا »۔ [2]
اے اللہ! ہمارے ملک میں برکت اور شادابی اور امن رکھ دے ۔
شرح:
اَللّٰهُمَّ ضَعْ فِیْ أَرْضِنَا : اپنے ملک و وطن کے حق میں ترقی و برکت کی دُعا کرتے رہنا ممنوع نہیں بلکہ مأثور ہے۔
[۞قرآن کریم میں ابراہیمؑ کی یہ دعا بیان ہوئی ہے: رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (02:126)
پروردگارا! اس شہر کو امن والا بنا دے۔
ملک و قوم کی سلامتی اور امن کی دعا پیغمبروں ؑ تک نے مانگی ہے، امن ایک بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورۂ قریش میں بھوک سے کھلانے اور خوف سے امن دینے کی نعمت کا ذکر فرما کر قریش کو خاص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔]
—————————————–
ﵻ82ﵺ
«وَلَا تَحْرِمْنِیْ بَرَكَةَ مَآ أَعْطَيْتَنِیْ، وَلَا تَفْتِنِّیْ فِيْمَآ اَحْرَمْتَنِیْ »۔ [3]
اور جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس کی برکت سے مجھے محروم نہ رکھ، اور جس چیز سے تو نے مجھے محروم رکھا ہے اس کے باب میں مجھے فتنہ (آزمائش) میں نہ ڈال ۔
شرح: یعنی جو چیزیں تو نے اپنی کسی مصلحتِ تکوینی سے میرے لیے مناسب نہیں سمجھیں اُن کی طلب میرے دل میں ایسی ہرگز نہ پیدا ہونے دے کہ میں نافرمانی کے قریب بھی پہنچوں۔
—————————————–
ﵻ83ﵺ
«اَللّٰهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَأَحْسِنْ خُلُقِیْ »۔ [4]
اے اللہ! جس طرح تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے، میری سیرت بھی اچھی کر دے ۔
—————————————–
ﵻ84ﵺ
«وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِیْ وَأَجِرْنِیْ مِنْ مُّضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَآ أَحْيَيْتَنَا »۔ [5]
اور میرے دل کی کھولن (الجھن و بے چینی) دور کردے اور جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمیں گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچائے رکھ ۔
شرح: یعنی ساری زندگی مرضیات الہٰی میں گزرے اور موت اس پر آئے۔
غَيْظَ قَلْبِيْ:یہ کہ طبیعت میں ہر وقت کی اُلجھن و بے چینی، دنیا کی ہر چیز سے بے اطمینانی، خالق و مخلوق سب کی طرف سے ناگواری رہے۔
—————————————–
ﵻ85ﵺ
«اَللّٰهُمَّ لَقِّنِّیْ حُجَّةَ الْإِيْمَانِ عِنْدَ الْمَمَاتِ »۔ [6]
اے اللہ! مجھے مرتے وقت ایمان کی حُجت (لا الٰہ الا ﷲ) کی تلقین نصیب فرما ۔
شرح: حُجَّةَ الْإِيْمَانِ : یعنی ایمان پر صحیح و روشن و مضبوط دلیل ، جس سے قدم میں ڈگمگاہٹ کا احتمال بھی نہ ہو۔
—————————————–
ﵻ86ﵺ
«رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِیْ هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهٗ »۔ [7]
اے اللہ! اس دن میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور دن کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں ۔
[۞یہ اور اس سے اگلی دعاصبح وشام کی دعاؤں میں شامل ہیں۔]
—————————————–
ﵻ87ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ [وَ]فَتْحَهٗ وَنَصْرَهٗ وَنُوْرَهٗ وَبَرَكَتَهٗ وَهُدَاهُ »۔ [8]
اے اللہ! میں تجھ سے آج کےدن کی بہتری یعنی اس دن کی فتح اور مدد اور اس دن کے نور و برکت اور ہدایت کا سوال کرتا ہوں ۔
—————————————–
ﵻ88ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِیْ دِيْنِیْ وَدُنْيَایَ وَأَهْلِیْ وَمَالِیْ، اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ وَآمِنْ رَّوْعَاتِیْ، اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْۢ بَيْنِ يَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ يَّمِيْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ، وَأَعُوْذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ »۔ [9]
اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کرتاہوں،اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا طلبگار ہوں۔ اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال میں۔[10] الہٰی! میرے عیوب پر پردہ پوشی فرما دے اور مجھے خوف و ڈر سے امن میں رکھ اور میرے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں اور اوپر سے حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کی پناہ لیتا ہوں کہ میں نیچے سے ہلاک کیا جاؤں ( زمین میں دھنس جانے سے پناہ)۔
شرح:
إِنِّىْ أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِیْ دِيْنِیْ وَدُنْيَایَ : حق تعالیٰ سے امن و عافیت اور معافی طلب کرنے کے لیے محل دنیا اور آخرت دونوں ہیں۔ دنیا پرستوں کی نادانی یہ ہے کہ وہ راحت و آسائش، سہولت و آسانی تمام تر اسی دُنیا کی چاہتے ہیں، اور اُس مستقل اور پائدار عالم کو سرے سے بھلائے رکھتے ہیں۔ غالی دین داروں کا غلو اِن کے مقابلے میں یہ ہے کہ واسطہ اور تعلق تمام تر اُسی دُنیا سے رکھا جائے اور اِس عالم کی راحت اور آسانیوں کو سرے سے نظر انداز رکھا جائے ۔۔۔ شریعتِ حق کی صحیح ، معتدل، متوازن، آسان اور ہر ایک کے لیے قابلِ عمل تعلیم عاجل ، اور آجل ، فوری اور مستقل کی جامعیت ہے۔
وَأَهْلِیْ وَمَالِیْ : اہل اور مال بڑے سے بڑے دین دار کے لیے بھی نا قابلِ اعتنا نہیں، خیر و برکت طلب کیے جانے کے قابل ہیں۔
یعنی پناہ اس سے کہ دنیا یا آخرت کسی میں بھی کسی قسم کی سزا میں یک بیک مبتلا کر دیا جاؤں۔
—————————————–
ﵻ89ﵺ
«يَا حَیُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ، أَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ كُلَّهٗ وَلَا تَكِلْنِیْ إِلٰى نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَيْنٍ »۔ [11]
یَاحَیُّ یَاقَیُّومُ ! ( اے ہمیشہ سے زندہ ذات! اے ہر چیز کو قائم رکھنے والی ذات!) میں تجھ سے تیری ہی رحمت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں، میرے سارے معاملات سنوار دے، اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد مت فرما۔
شرح: اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے لائق صرف بڑے بڑے اہم معاملات ہی نہیں ، دُنیا کے معاملات ہی نہیں، ہر چھوٹے سے چھوٹا معاملہ ہے نفسِ بشری کا کچھ اعتبار کسی چھوٹی سی چھوٹی مدت کے لیے بھی نہیں ہے اس کی طرف سے بدگمان اور خائف ہر وقت رہنا چاہیے۔ عارفین اسی لیے اس دُعا کا ورد، دل سے اور زبان سے ہر وقت رکھتے ہیں۔ اور یہاں تو براہ راست
سرورِ عالم ﷺ کی زبان سے بھی ہدایت و تعلیم اس کی مل رہی ہے۔
—————————————–
ﵻ90ﵺ
«أَسْأَلُكَ بِنُوْرِ وَجْهِكَ الَّذِیْٓ أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمٰوٰتُ وَالْأَرْضُ [وَ] بِكُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ، وَبِحَقِّ السَّآئِلِيْنَ عَلَيْكَ أَنْ تُقِيْلَنِیْ، وَأَنْ تُجِيْرَنِیْ مِنَ النَّارِ بِقُدْرَتِكَ»۔[12]
تیرے اُس نورِ ذات کے واسطہ سے جس سے آسمان و زمین روشن ہیں، اور ہر اس حق کے واسطہ سے جو تیرا ہے، اور اُس حق کے واسطہ سے جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، میں مانگتا ہوں کہ تو مجھ سے درگزر کرے اور یہ کہ اپنی قدرت سے مجھے دوزخ سے پناہ دے۔
شرح: بنده مضطر و مضطرب ہو کر حاکمِ حقیقی سے رحم و کرم کی درخواست ہر ہر پہلو سے کرتا ہے اور ایک ایک حق اور ایک ایک واسطے کو اپنا شفیع بنا کر پیش کرتا ہے۔
—————————————–
ﵻ91ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هٰذَا النَّهَارِ صَلَاحًا وَّأَوْسَطَهٗ فَلَاحًا وَّآخِرَهٗ نَجَاحًا، أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَا أَرْحَمَ الرّٰحِمِيْنَ »۔ [13]
اے اللہ! آج کے دن کے پہلے حصے کو میرے حق میں بہتر بنادے، درمیانی حصے کو فلاح اور اس کے آخری حصے کو کامیابی، میں تجھ سے دنیا و آخرت (دونوں کی) بھلائی چاہتا ہوں، اے مہربانوں کے مہرباں! (ہم پر مہربانی فرما)۔
شرح: اس دُعا سے بڑھ کر جامع دعا اور کیا ہوسکتی ہے؟ سارا دن طاعت ہی میں گزرے، شروع حصے میں صلاح کے ساتھ ، درمیانی میں فلاح کے ساتھ اور آخر میں نجاح کے ساتھ! اور ساری عمر اس میں گزرے پھر تصریح کہ خیر وخیریت دونوں ہی عالموں کی مقصود ہے۔ اور پھر درخواست کس سے؟ ارحم الراحمین سے ، اس سے، جو فوری رحم وکرم کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے۔
—————————————–
ﵻ92ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْۢبِیْ وَأَخْسِئْ شَيْطٰنِیْ وَفُكَّ رِهَانِیْ وَثَقِّلْ مِيْزَانِیْ وَاجْعَلْنِیْ فِی النَّدِیِّ الْأَعْلىٰ »۔ [14]
اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، اور میرے شیطان کو دور کر دے، اور میرا بند کھول دے (یعنی جن چیزوں نے مجھے گناہوں میں جکڑا ہوا ہے، ان سے آزاد کردے)، اور میرا (نیکیوں کا) پلہ بھاری کر دے، اور مجھے طبقۂ اعلیٰ (اپنے مقبول بندوں) میں شمار کر دے۔
شرح:فُكَّ رِهَانِیْ: یعنی جو چیزیں مجھے گناہوں میں جکڑے ہوئے ہیں ، ان سے مجھے آزاد کر دے۔
وَأَخْسِئْ شَيْطٰنِیْ : جب شیطان ہی کے تصرفات دور ہو گئے ، تو پھر انسان کے سنورنے اور سدھرنے میں کیا کسر رہ سکتی ہے۔
وَثَقِّلْ مِيْزَانِیْ : میزان سے مراد میزان عمل ہے۔ اس میزان میں وزن صرف اعمال صالح ہی کا ہوگا۔
—————————————–
ﵻ93ﵺ
«اَللّٰهُمَّ قِنِیْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ »۔ [15]
اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لینا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے (یا جمع) کرے گا۔
—————————————–
ﵻ94ﵺ
«اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَمَآ أَظَلَّتْ وَرَبَّ الْأَرْضِيْنَ وَمَآ أَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّيَاطِيْنِ وَمَآ أَضَلَّتْ كُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ شَرِّ خَلْقِكَ اَجْمَعِيْنَ أَنْ يَّفْرُطَ عَلَیَّ أَحَدٌ مِّنْهُمْ أَوْ أَنْ يَّطْغيٰ عَزَّ جَارُكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ »۔ [16]
اے اللہ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ان سب کے رب! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ (زمینیں)بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچانے کے لیے میرا نگہبان بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کر سکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، کیونکہ محفوظ اور باعزت تو تیراپناہ دیا ہوا ہی ہے ، اور تیری ثنا (و تعریف) بڑھ چڑھ کر ہو۔
شرح: یعنی برکت کا ظہور جہاں کہیں بھی ہے، تیرے ہی اسما و صفات کا ہے۔
السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ اور الْأَرْضِيْنَ: کہنے میں جمیع کا ئنات اور اس کے تمام ممکن احوال آگئے۔
رَبَّ الشَّيَاطِيْنِ وَمَآ أَضَلَّتْ: اس مختصر دو لفظی فقرے میں یہ کلامی حقیقت آگئی کہ ایک طرف تو ہر ضلالت کی علت ِقریب شیطان ہی ہے اور دوسری طرف تکوینی حیثیت سے سارے اسباب کا سرا آخر میں جا کر حق تعالیٰ ہی پر ختم ہوتا ہے۔
—————————————–
ﵻ95ﵺ
«لَا إِلٰهَ إِلَّآ أَنْتَ، [لَا شَرِيْكَ لَكَ] ، سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْۢبِیْ، وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ »۔ [17]
کوئی معبود نہیں ہے سوائے تیرے، کوئی تیرا شریک نہیں ہے، پاک ہے تو اے اللہ! میں تجھ سے اپنے ہر گناہ کی معافی چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا طلب گار ہوں ۔
شرح: یعنی تیری ذات اس سے پاک اور برتر ہے کہ کسی قسم کی شرکت کو قبول کرے۔
—————————————–
ﵻ96ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْۢبِیْ، وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ، وَبَارِكْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ »۔ [18]
اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما، میرے گھر میں کُشادگی (امن و سکون) عطا فرما، اور جو رزق تُو نے مجھے دیا ہے، اس میں برکت عطا فرما ۔
شرح: بندہ، خاک اور خون والا بندہ، گوشت اور پوست والا بندہ، جس طرح گناہوں سے بچائے جانے کا محتاج ہے، اسی طرح رزق کا اور گھر بار کی ساری مادی ضروریات کا بھی محتاج ہے۔ رسول اللہﷺ کی تعلیم اور دعاؤں میں یہ گہری حقیقت ہر جگہ نمایاں ہے۔
اکبر الہ آبادی کا شعر کتنی عارفانہ حقیقت کا ترجمان ہے۔؎
اُٹھا تو تھا، ولولہ یہ دل میں ، کہ صرف یاد خدا کریں گے
معا ًمگر ، یہ خیال آیا ملی نہ روٹی ، تو کیا کریں گے؟
—————————————–
ﵻ97ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ »۔ [19]
اے اللہ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں اوربہت پاک صاف رہنے والوں میں سے بنا دے ۔
—————————————–
ﵻ98ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَاهْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَعَافِنِیْ »۔ [20]
اے اللہ ! مجھے بخش دے، اور مجھے ہدایت دے، اور مجھے رزق دے اور مجھے عافیت دے ۔
[۞دعا نمبر 46 کا حاشیہ دیکھ لیں۔]
—————————————–
ﵻ99ﵺ
«اِهْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ »۔ [21]
اور جس چیز کے حق ہونے میں اختلاف ہو اس میں مجھے اپنے حکم سے راہِ صواب دکھا دے ۔
شرح: جن حقائق کا حق ہونا کھلا ہوا ہے، ان میں تو انسان توفیقِ الہٰی کا محتاج ہے ہی لیکن جن مسائل کی حقیقت اتنی واضح نہیں، بلکہ ذرا خفی ہے، اُن میں بھی توفیقِ حق وصواب کی دُعا برا بر حق تعالیٰ سے کرتے رہنا چاہیے۔
[۞صحیح مسلم (1811)میں رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا روایت ہوئی ہے:
«اَللّٰهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيْلَ وَمِيْكَائِيْلَ وَإِسْرَافِيْلَ ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ، اِهْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ ، إِنَّكَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ»۔
اے اللہ! جبرائیلؑ، میکائیل ؑاور اسرافیل ؑکے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کرتے تھے تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے تو ہی اپنے حکم سے مجھے ان میں سے جو حق ہے اس پر چلا، بے شک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔]
—————————————–
ﵻ100ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَّعَنْ يَّمِيْنِیْ نُوْرًا، وَّعَنْ شِمَالِیْ نُوْرًا، وَّخَلْفِیْ نُوْرًا، وَّمِنْ أَمَامِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا، وَّفِیْ عَصَبِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ لَحْمِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ دَمِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ شَعْرِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا، وَّاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْنِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا، وَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِیْ نُوْرًا »۔ [22]
اے اللہ ! نور کر دے میرے دل میں، اور نور کر دے میری بینائی میں، اور نور کردے میری شنوائی میں، اور نور کر دے میری داہنی طرف اور نور کر دے میرے بائیں طرف، اور نور کر دے میرے پیچھے، اور نور کر دے میرے سامنے، اور نور کردےمیرے پٹھوں میں اور نور کر دے میرے گوشت میں، اور نور کر دے میرے خون میں، اور نور کر دے میرے بالوں میں، اور نور کر دے میری جلد میں، اور نور کر دے میری زبان میں، اور نور کر دے میری جان میں، اور مجھے نورِ عظیم دے، اور مجھے سراپا نور ہی بنادے، اور میرے اوپر نور کردے اور میرے نیچے نور کردے،اے اللہ! مجھے نور عطا کر۔
شرح: مثنوی معنوی کی زبان میں ۔؎
نورِ اُو در یُمن و یُسر و تحت و فوق
برسر و بر گردنم مانند ِطوق
حکیم الامت تھانویؒ کے ایک وعظ ’موسومه الشریعہ‘ سے:
”یہ نور لالٹین کی روشنی نہیں، بلکہ ایک کیفیت ِخاصہ ہے۔ کیوں کہ حقیقت نور کی یہ ہے :
ظَاهِرٌ لِّنَفْسِهٖ مُظْهِرٌ لِّغَيْرِهٖ: یعنی خود بھی ظاہر ہوا اور دوسرے کو بھی ظاہر کر دے۔
اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ (النور، 24:35): میں بھی نور کے یہی معنی ہیں۔ نور کے معنی چمک دمک نہیں۔
تو یہ ہوئی نور کی حقیقت کہ خود بیّن ہوتا ہے اور دوسرے حقائق کو بیّن کر دیتا ہے، اور قلب کے اندر اسی نور کے پیدا ہونے سے ظلمت دور ہوتی ہے۔ کون سی ظلمت ؟ ظلمت کسل کی ، ظلمت کینہ کی، ظلمت حسد کی ، ظلمت کبر کی، ظلمت معصیت کی، وغیرہ وغیرہ، اور اس کے اندر نشاط ، تازگی اور شگفتگی پیدا کر دیتا ہے“۔
—————————————–
ﵻ101ﵺ
«اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لَنَآ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَسَهِّلْ لَّنَآ أَبْوَابَ رِزْقِكَ »۔ [23]
اے اللہ! ہم پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور اپنے رزق کے دروازے ہمارے لئے آسان کر دے ۔
—————————————–
ﵻ102ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّيْطَانِ »۔ [24]
اے اللہ! مجھے شیطان سے محفوظ رکھ ۔
شرح: اس مختصر [ دُعا] میں منفی اور سلبی حیثیت سے سب کچھ آ گیا ۔۔۔ ترکِ منکرات کے باب میں جامع ترین دُعا۔
—————————————–
ﵻ103ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ »۔ [25]
اے اللہ، میں تجھ سے تیرے فضل و کرم کا سوال کرتا ہوں ۔
شرح: اس مختصر [ دعا] میں ایجابی اور اثباتی حیثیت سے سب کچھ آ گیا ۔۔۔ ادائے واجبات کے باب میں جامع ترین دُعا۔
ﵻ104ﵺ
—————————————–
«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ خَطَايَایَ وَذُنُوْبِیْ كُلَّهَا، اَللّٰهُمَّ انْعَشْنِیْ وَاَحْيِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاهْدِنِیْ لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ، إِنَّهٗ لَا يَهْدِیْ لِصَالِحِهَا، وَلَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَآ إِلَّا أَنْتَ »۔ [26]
اے اللہ! میری کُل خطا ئیں اور قصور بخش دے، اے اللہ! مجھے رفعت دے اور مجھے زندہ رکھ اور مجھے رزق دے، اور مجھے اچھے اعمال و اخلاق کی طرف ہدایت دے، بے شک تیرے سوا نہ کوئی خوش اعمالیوں کی طرف رہبری کرتا اور نہ بداعمالیوں سے کوئی بچاتا ہے۔
—————————————–
ﵻ105ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا، وَّعِلْمًا نَّافِعًا، وَّعَمَلًا مُّتَقَبَّلًا »۔ [27]
اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ روزی، نفع بخش علم، اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۔
شرح: ہر فطرت ِسلیم والا انسان بس انھیں تین کلیدی مطلو بات کو کافی سمجھے گا :
¨- ایک رزقِ طیب ¨- دوسرے علمِ نافع ¨- تیسرے عملِ مقبول
—————————————–
ﵻ106ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِیْ بِيَدِكَ، مَاضٍ فِیَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اِسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهٖ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهٗ فِیْ كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهٗ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهٖ فِیْ عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيْعَ قَلْبِیْ، وَنُوْرَ بَصَرِیْ، وَجِلَاءَ حُزْنِیْ، وَذَهَابَ هَمِّیْ »۔ [28]
اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے اور تیری بندی کا بیٹا ہوں ، میں ہمہ تن تیرے قبضے میں ہوں ، تیرا حکم میرے بارے میں نافذ ہونے والا ہے ، میرے متعلق تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے ، میں تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے ، جو تو نے اپنے لئے رکھا ، یا تو نے اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ، یا تو نے اپنے پاس غیب کے خزانے میں ہی اسے رہنے دیا ، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میری آنکھ کا نور، میرے فکر و غم کا علاج اور میری تشویش کا دفعیہ بنا دے۔[29]
شرح: یعنی قرآن کو میرے دل میں بسا دے، اس کی محبت میری روح میں رچادے، اس کو میرا اولیں اور آخریں سہارا بنا دے۔
إِنِّیْ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ :حاکم پر اثر ڈالنے اور اس کے رحم و کرم کو طلب کرنے کا یہ کتنا مؤثر عنوان ہے کہ اے اللہ ! میں تیرا بندہ، میرا باپ تیرا بندہ، میری ماں تیری بندی! ۔۔۔ میرے گوشت پوست کے ہر ہر جزو پر تیری بندگی کی مہر ثبت!
نَاصِيَتِیْ بِيَدِكَ :کا لفظی معنی ’ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، لیکن محاورے میں اس کے معنی تمام تر اختیار و تصرف کے ہوتے ہیں۔
أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهٖ فِیْ عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ:اس سے ظاہر ہے کہ کچھ اسما و صفات الہٰی ایسے بھی ہیں جن کا علم نہ کسی مخلوق کو دیا گیا ہے نہ وہ . کسی کتاب الہٰی میں مذکور ہیں، بلکہ حق تعالیٰ نے انھیں سب سے غیب ہی میں رکھا ہے۔
بِكُلِّ اِسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهٖ نَفْسَكَ : اسم کے معنی نام کے ہونا ظاہر ہی ہیں لیکن محاورۂ قرآنی میں اسما کا اطلاق صفات وخواص پر بھی ہوا ہے۔
—————————————–
ﵻ107ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِلٰهَ جِبْرَئِيْلَ وَمِیْكَائِيْلَ وَإِسْرَافِيْلَ وَإِلٰهَ إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَاعِيْلَ وَإِسْحَاقَ عَافِنِیْ وَلَا تُسَلِّطَنَّ أَحَدًا مَّنْ خَلْقِكَ عَلَیَّ بِشَیْئٍ لَا طَاقَةَ لِیْ بِهٖ »۔ [30]
اے اللہ! جبرائیلؑ، میکائیلؑ، اوراسرافیلؑ کے معبود! ابراہیمؑ ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے معبود ! مجھے عافیت دے، اور میرے اوپر اپنی مخلوق میں سے کسی کو ایسی چیز کے ساتھ مسلط نہ کر دے جس کی برداشت مجھ میں نہ ہو۔
شرح: قرآن مجید میں تو بکثرت ، اور حدیث میں بھی جا بجا اس کا التزام سا معلوم ہوتا ہے کہ جن جن مخلوقات پر عوام کو معبود یا نیم معبود ہونے کا شبہ ہو سکتا ہے، عین انھیں کی عبدیت کی تصریح کر دی گئی ہے۔۔۔ کتنی ہی گمراہ قو میں اس سے تباہ ہوئی ہیں کہ انبیائے مقبول یا ملائکہ مقرب کو انھوں نے مقام معبودیت پر پہنچا دیا تھا۔
مضمونِ دُعا سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ اپنی عافیت کی اور کسی ظالم کے تسلط سے محفوظیت کی دعا مانگتے رہنا کمالاتِ ولایت کے منافی نہیں، بلکہ عین تقاضائے عبدیت اور سنتِ انبیاء ہے۔
—————————————–
ﵻ108ﵺ
«اَللّٰهُمَّ اكْفِنِیْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ »۔ [31]
اے اللہ مجھے اپنا حلال رزق عطا فرما کر حرام روزی سے بچالے اور مجھے اپنے فضل وکرم کے ذریعہ اپنے ماسوا سے مستغنی وبے نیاز کردے ۔
شرح: دل میں اتنی قناعت آجائے کہ حلال و طیب روزی کے علاوہ ناجائز آمدنیوں کی طرف نیت ڈانواں ڈول نہ ہوا کرے تو واللہ کہ دنیا میں بہت ہی بڑی دولت و نعمت ہاتھ آ جائے۔۔۔ اور پھر جب اپنے تمام مقاصد و مطالب میں نظر ِاعتماد و توکل مخلوق کو چھوڑ کر خالق پر جم جائے ، تو اس اکسیرِ اعظم کا تو کہنا ہی کیا !
[۞ایک مکاتب غلام سیدنا علیؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں اپنی مکاتبت کی رقم ادا کرنے سے عاجز آچکا ہوں آپ میری مدد کیجیے۔ سیدنا علیؓ نے فرمایا:کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تجھ پر پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تو اللہ تعالیٰ تیری طرف سے اسے ادا کر دے گا۔ تو یہ کلمات پڑھا کر اور پھر یہ کلمات پڑھے۔ ]
—————————————–
ﵻ109ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِیْ وَتَرٰى مَكَانِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّىْ وَعَلَانِيَتِیْ لَا يَخْفٰى عَلَيْكَ شَئٌ مِّنْ أَمْرِىْ، وَأَنَا الْبَائِسُ الْفَقِيْرُ الْمُسْتَغِيْثُ الْمُسْتَجِيْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ [بِذَنْۢبِیْ]، أَسْأَلُكَ مَسْأَلَةَ الْمِسْكِيْنِ، [وَ] أَبْتَهِلُ إِلَيْكَ إِبْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيْلِ وَأَدْعُوْكَ دُعَاءَ الْخَائِفِ الضَّرِيْرِ، [وَدُعَآءَ] مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهٗ وَفَاضَتْ لَكَ عَبْرَتُهٗ وَذَلَّ لَكَ جِسْمُهٗ، وَرَغِمَ لَكَ أَنْفُهٗ اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَائِكَ شَقِيًّا، وَ کُنْ بِىْ رَؤُوْفًا [رَّحِيْمًا] يَا خَيْرَ الْمَسْؤُوْلِيْنَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِيْنَ »۔ [32]
اے اللہ! تو میری بات سنتا ہے اور میں جہاں جس حال میں ہوں تو اس کو دیکھتا ہے، اور میرے ظاہر و باطن سے تو باخبر ہے، تجھ سے میری کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں۔ میں دُکھی ہوں، محتاج ہوں، فریادی ہوں، پناہ جُو ہوں، ترساں ہوں، ہراساں ہوں، اپنے گناہوں کا اقراری ہوں۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں جیسے کوئی عاجز مسکین بندہ سوال کرتا ہے۔ تیرے آگے گڑگڑاتا ہوں جیسے گناہ گار ذلیل و خوار گڑگڑاتا ہے۔ اور تجھ سے دعا کرتا ہوں جیسے کوئی خوف زدہ آفت رسیدہ دعا کرتا ہے۔ اور اس بندے کی طرح مانگتا ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو اور آنسو بہہ رہے ہوں اور تن بدن سے وہ تیرے آگے فروتنی کیے ہوئے ہو اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا ہو۔ اے اللہ! تو مجھے اپنے سے دعا مانگنے میں ناکام و نامراد نہ رکھ اور میرے حق میں بڑا مہربان اور رحیم ہوجا۔ اے ان سب سے بہتر و برتر جن سے مانگنے والے مانگتے ہیں اور جو مانگنے والوں کو دیتے ہیں۔
(يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَ يَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ)۔ (رسول اللہ ﷺ کی یومِ عرفہ کی دعا)
—————————————–
ﵻ110ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّةَ حِيْلَتِىْ وَهَوَانِىْ عَلَى النَّاسِ يَا أَرْحَمَ الرّٰحِمِيْنَ إِلٰى مَنْ تَكِلُنِیْٓ إِلٰى عَدُوٍّ يَتَهَجَّمُنِیْ أَمْ إِلٰى قَرِيْبٍ مَّلَّكْتَهٗ أَمْرِىْ إِنْ لَّمْ تَكُنْ سَاخِطًا عَلَیَّ فَلَا أُبَالِیْ، غَيْرَ أَنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِیْ »۔ [33]
اے اللہ! میں تجھ سے شکوہ کرتا ہوں اپنے ضعفِ قوت کا ، اور اپنی کم سامانی کا، اور لوگوں کی نظر میں اپنی کم وقعتی کا ، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے! تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے؟ آیا کسی دشمن کے جو مجھے دبائے؟ یا کسی دوست کے قبضہ میں میرے سب کام دے رہا ہے؟ تو اگر مجھ سے ناخوش نہ ہو تو مجھے ان (میں سے کسی چیز) کی پرواہ نہیں ہے، پھر بھی تیر ادیا ہوا امن ہی میرے لیے زیادہ گنجایش رکھتا ہے۔(رسول اللہ ﷺ کی سفرِ طائف سے واپسی پر دعا)
شرح: خوب غور کر لیا جائے ، یہ الفاظ پیمبر ﷺ بلکہ سید الانبیا و سرتاج رسل ﷺ کے ہیں، اور پیمبر ﷺ کے الفاظ شائبہ مبالغہ سے پاک ہوتے ہیں ۔۔۔ الحاح و تذلل کے الفاظ اس سے بڑھ کر تو کسی اور کے کلام میں بھی نہ ملیں گے۔
رسولﷺ کا نمونہ صرف صدیقین و اولیائے کاملین ہی کے لیے نہیں، حقیر سے حقیر اور ادنیٰ سے ادنیٰ امتی کے لیے بھی ہے۔۔۔ اور یہی ایک دلیل صداقتِ رسول ﷺ کے لیے کافی ہے۔
دعا کی آخری سطروں کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تو مجھ سے راضی ہے، تو مجھے اس سے کیا، کہ میں دنیا میں کسی دشمن کے قبضے میں ہوں یا دوست کے، میں تیری رضا کے بعد اس سب سے مستغنی ہوں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ عافیت ہی بندے کے حسب حال زیادہ ہے۔
—————————————–
ﵻ111ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ قُلُوْبًا أَوَّاهَةً مُّخْبِتَةً مُّنِيْبَةً فِیْ سَبِيْلِكَ »۔ [34]
اے اللہ! ہم تجھ سے ایسے دل مانگتے ہیں جو بہت تَأثُّر قبول کرنے والے ہوں، بہت عاجزی کرنے والے ہوں، تیری راہ میں بہت رجوع کرنے والے ہوں ۔
شرح: مانگنے والوں ہی کے صیغۂ جمع کی مناسبت سے قلوب بھی صیغۂ جمع میں ہے۔
خوب خیال کر کے دیکھ لیا جائے درخواست کسی چیز کی ہو رہی ہے۔ انابت و خشوع ، رجوع وخشیت والے دل کی ترقی کرنے والے دل کی ،’آگے بڑھنے والے‘ دماغ کی نہیں!
—————————————–
ﵻ112ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْأَلُكَ إِيْمَانًا يُّبَاشِرُ قَلْبِیْ، وَيَقِيْنًا صَادِقًا حَتّٰى أَعْلَمَ أَنَّهٗ لَا يُصِيْبُنِیْ إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِیْ، وَرِضًا مِّنَ الْمَعِيْشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ »۔ [35]
اے اللہ ! میں تجھ سے وہ ایمان مانگتا ہوں جو میرے دل میں پیوست ہو جائے، اور وہ پختہ یقین کہ جس سے میں سمجھ لوں کہ مجھ تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی ، مگر وہی جو تو میرے لئے لکھ چکا ہے، اور اس چیز پر رضا مندی جو تو نے معاش میں سے میرے حصہ میں کردی ہے۔
شرح: رضا بالقضا، یعنی تکوینیات کے ہر حال میں صبر و شکر اتنی بڑی نعمت ہے جس کی تمنا خودسرورِ کا ئنات ﷺ کر رہے ہیں !
يَقِيْنًا صَادِقًا حَتّٰى أَعْلَمَ أَنَّهٗ لَا يُصِيْبُنِیْ إِلَّا مَا كَتَبْتَ لِیْ، وَرِضًا مِّنَ الْمَعِيْشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ : یقین صادق کے درجہ مطلوب کا معیار بھی یہی ہے کہ ہر حکمِ قضا کی پذیرائی صبر و شکر کے ساتھ ہونے لگے۔
رِضًا مِّنَ الْمَعِيْشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ : تقسیمِ معاش کی تصریح اس لیے کہ خلقت کو بے صبری اور ناشکری کا ابتلا سب سے زیادہ اسی باب میں پیش آتا رہتا ہے۔
—————————————–
ﵻ113ﵺ
«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِیْ تَقُوْلُ وَخَيْرًا مِّمَّا نَقُوْلُ »۔ [36]
اے اللہ! تیرے واسطے کل تعریف ہے، جیسی کہ تو فرماتا ہے، اور اس سے بڑھ کر جو ہم کہتے ہیں ۔
شرح: حق تعالیٰ کی حمد و توصیف کا حق سارے بندے مل کر بھی چاہیں تو ادا نہیں کر سکتے حق تعالیٰ کے شایان شان تو بس وہی الفاظ ہو سکتے ہیں جو خود اُس نے اپنے لیے استعمال کیے ہیں۔
—————————————–
﴿استعاذہ﴾
ﵻ114ﵺ
«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ مُّنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ، وَالْأَعْمَالِ، وَالْأَهْوَآءِ، وَالْأَدْوَآءِ »۔ [37]
اے اللہ! میں تجھ سے بری عادتوں، برے کاموں، بری یا نفسانی خواہشوں اور بیماریوں سے پناہ مانگتا ہوں ۔
—————————————–
ﵻ115ﵺ
«نَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ »۔ [38]
اور ہم تیری پناہ میں آتے ہیں ہر اس چیز سے جس سے تیرے نبی
حضرت محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے ۔
—————————————–
ﵻ116ﵺ
«[وَ]مِنْ جَارِ السُّوْءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ »۔ [39]
مستقل قیام گاہ میں بُرے پڑوسی سے اس لئے کہ سفر کا ساتھی تو چل ہی دیتا ہے(لیکن مستقل اور آباد گھر کا ہمسایہ مستقل اذیت کا باعث ہوتا ہے)۔
—————————————–
ﵻ117ﵺ
«وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَآءِ »۔ [40]
دشمن کے غلبہ سے، اور دشمنوں کے طعنہ سے ۔
—————————————–
ﵻ118ﵺ
«[وَ]مِنَ الْجُوْعِ فَإِنَّهٗ بِئْسَ الضَّجِيْعُ وَمِنَ الْخِيَانَةِ فَبِئْسَتِ الْبِطَانَةُ »۔ [41]
اور بھوک سے کہ وہ بری ہم خواب ہے، اور خیانت سے کہ وہ بری ہم راز ہے ۔
شرح:
وَمِنَ الْجُوْعِ فَإِنَّهٗ بِئْسَ الضَّجِيْعُ : شدید بھوک کی حالت میں نیند کہاں آسکتی ہے؟ انسان کروٹیں بدل بدل کر رات گزرا دیتا ہے۔ عربی میں بھوک کو ہم خواب یا شریکِ بستر سمجھنے کا محاورہ یہیں سے پیدا ہوا۔
—————————————–
ﵻ119ﵺ
«[وَ] أَنْ نَّرْجِعَ عَلٰٓى أَعْقَابِنَا أَوْ أَنْ نُّفْتَنَ عَنْ دِيْنِنَا »۔[42]
اور اس سے کہ ہم پچھلے پیروں لوٹ جائیں یا فتنہ میں پڑ کر دین سے الگ ہو جائیں ۔
شرح: وَ أَنْ نَّرْجِعَ عَلٰٓى أَعْقَابِنَا: یعنی خدانخواستہ دینِ حق سے مرتد ہو جا ئیں ۔
—————————————–
ﵻ120ﵺ
«[وَ] مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ »۔ [43]
اور سارے فتنوں سے جو ظاہری ہوں یا باطنی ۔
—————————————–
ﵻ121ﵺ
«[وَ]مِنْ يَّوْمِ السُّوْءِ، وَمِنْ لَيْلَةِ السُّوْءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوْءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْءِ »۔ [44]
اور بُرے دن سے اور بُری رات سے اور بُری گھڑی سے اور بُرے ساتھی سے ۔
۩ ۩ ۩
[1] مسند البزار (4439)، نحوه. عن بريدة .
[2] المعجم الأوسط للطبراني (4692)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (17425) 10/182، كنز (18026) فيه «أنزل» مكان «ضع»، عن سمرة، عن أبي بريدة الأسلمي.
[3] المعجم الأوسط (7110) ففيه «فِيْمَا حَرَّمْتَنِي» مكان «فِيْمَا اَحْرَمْتَنِي»، وأحال الهيتمي في مجمع الزوائد الي الطبراني (17359)، كذا في كنز العمال (3844 و5098)، ومسند الفردوس (1941)، عن أبى بن كعب.
[4] مسند أحمد (3823 و24896 {24392} و25736 {25221})، مسند أبو يعلى (5159)، الدعوات الكبير (488 و489)، مسند ابن أبي شيبة (932). عن عائشة.وعن ابن مسعود.
[5] مسند أحمد (27111 {26576})، ولم يذكر في المعجم الكبير (19231 {785، 23/336})، والدعاء للطبراني (1439)، والدعوات الكبير (375)، وعمل اليوم والليلة لابن السني (455)، «مَا أَحْيَيْتَنَا». عن أم سلمة.
[6] المعجم الأوسط (1886). عن أبي هريرة.
[7] الدعاء للطبراني (342)، عمل اليوم والليلة لابن السني (37)، المعجم الكبير (1155)، صحيح ابن حبان (959). عن البراء بن عازب.
[8] سنن أبي داود (5084)، المعجم الكبير (3375) و{3/296، 3453}. عن أبي مالك.
[9] سنن أبي داود (5074) وفيه «رَوْعَاتي» مكان «رَوْعَتِي»، في سنن ابن ماجه (3871)، ليس فيهما «بعظمتك»، مسند أحمد (4785)، مصنف ابن أبي شيبة (29889)، المستدرك للحاكم (1945)، السنن الكبرى للنسائي (10401)، صحيح ابن حبان (957) ط: بيت الافكار، المعجم الكبير (13116، {13296}) الدعاء للطبراني (305)، سنن الكبري للنسائي (10325) عمل اليوم والليلة لابن السني (40)، الأدب المفرد (1200)، مسند الفردوس (1854) وفي هذه المصادر «عوراتي» و «روعاتي» الا في سنن أبي داود. عن ابن عمر.
[10] ۞انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات (باہم درگزر کرنا) مانگو، پھر وہ دوسرے روز حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا، اللہ کے رسولﷺ! کون سی دعا افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے اسی طرح فرمایا، پھر تیسرے روز آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اسے پھر ویسے ہی فرمایا، اور فرمایا: ”جب تجھے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات مل گئی تو تُو کامیاب ہو گیا۔(ترمذی: 3512)
[11] السنن الكبرى للنسائي (10405)، المستدرك للحاكم (2000 {1/545})، المعجم الصغير (444)، مسند البزار (6368)، عمل اليوم والليلة لابن السني (570). عن أنس بن مالك.
[12] المعجم الكبير (8027 {8/2317})، وفيه «تَقبَلَنِي» مكان «تُقِيلَنِي» وفيه زيادة «فِي هَذِهِ الغَدَاةِ، أَو فِي هَذِهِ العَشِيَّةِ»، عن أمامة الباهلي.
[13] الدعاء للطبراني (296)، الزهد والرقائق لابن المبارك (1085). عن عبد الله بن أبي أوفى.
[14] سنن أبي داود (5554) وليس فيه «وثقل ميزاني»، الدعاء للطبراني (264)، المعجم الكبير (1821)0 ولم يذكر فيهما «وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِىِّ الْأَعْلَى»، الآحاد والمثاني (2878)، وفيه بلفظ «وَاجْعَلْنِي فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى». وفي عمل اليوم والليلة لابن السني (716) وفيه «وَأَخْسَاءَ» مكان «وَأَخْسِئْ»، كذا في الدعوات الكبير (396)، ومصابيح السنة (1667)، ومسند الشاميين للطبراني (435)، ونوادر الأصول 3/275، وحلية الأولياء وطبقات الأصفياء 6/98، وفي المستدرك للحاكم (1982 {1/540})، «وَأَخْسَاءَ» مكان «وَأَخْسِئْ»، ولم يذكر فيه «ذَنْبِي»، وذكر في (2012 {1/548}) وفيه «الْمَلَأِ الْأَعْلَى» مكان «النَّدِىِّ الْأَعْلَى». عن أبي الأزهر أو أبي زهير الأنماري أو أبي رهم الأنماري.
[15] سنن أبي داود (5050)، المعجم الكبير (18911)، مسند أحمد (26465). عن حفصة ابنة عمر. المعجم الكبير، (9939 و101290)، مصنف ابن أبي شيبة (29924)، الدعاء للطبراني (247)، مسند أحمد (4226)، عن عبد الله ابن مسعود .واخرجه السنن الكبرى (10589)، وصحيح ابن حبان (5497 و5498)، مسند أبي داود الطيالسي (744)، الدعوات الكبير (402)، الدعاء للطبراني (249 و250)، المعجم الأوسط (1636)، مسند أحمد (18552 و18660 و18672 و18696). عن البراء بن عازب .، واخرجه البزار (2825) عن حذيفة . و (7275) عن أنس.
[16] سنن الترمذي (3532) نحوه، كذا في مصنف ابن أبي شيبة، والدعوات الكبير (607)، والدعاء للطبراني (1084، 1085)، ومعجم الصغير (984 {2/80})، والأمالي والقراءة لأبي محمد الحسن بن علي بن عفان الكوفي العامري المتوفى 270هـ، صـ 45، واخرجه في معجم الأوسط (3839) وذكر فيه «وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذْرَتْ». عن خالد بن الوليد المخزومي.
[17] سنن أبي داود (5061) وليس فيه «إني»، السنن الكبرى للنسائي (10701)، عمل اليوم والليلة للنسائي (865)، المستدرك للحاكم (2025 {1/540})، صحيح ابن حبان (5506) {7/424})، الدعاء للطبراني (762)، عمل اليوم والليلة لابن السني (416)، لم أجد في هذه المصادر الموجودة ِ عندي «لاشريك لك»، عن عائشة.
[18] السنن الكبرى للنسائي (9908)، عمل اليوم والليلة للنسائي (80)، عمل اليوم والليلة لابن السني (28)، الدعاء للطبراني (656)، مصنف ابن أبي شيبة (3050، 30004)، مسند أبي يعلى الموصلي (7236)، وذكر في مسند أحمد (19575) «أَصْلِحْ لِيْ دِينِيْ» مكان «اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ». وفي مصنف ابن أبي شيبة (29865) «وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي»، عن أبي موسى الاشعري.
[19] سنن الترمذي (55). عن عمر بن الخطاب.، مصنف ابن أبي شيبة (20) عن سالم بن أبي الجعد.و(25) عن أبي العالية.و(23) عن المنهال. و(25 و30517) عن حذيفة. و(30514) عن علي، الدعاء للطبراني (392)، مصنف عبد الرزاق (731) {1/186}. عن علي. السنن الكبرى (370)، السنن الصغير للبيهقي (109) عن ابن عمر، وأنس بن مالك.، المعجم الأوسط (4895)، عمل اليوم والليلة لابن السني (32) عن ثوبان.
[20] سنن أبي داود (766)، سنن النسائي (1618) و(5537)، سنن ابن ماجه (1356)، السنن الكبرى (1317 و7976)، مصنف ابن أبي شيبة (29948). عن عائشة.
[21] صحيح مسلم (200-770)، سنن أبي داود (767)، سنن الترمذي (3420)، سنن ابن ماجه (1357)، مسند أحمد (25225)، صحيح ابن حبان (2591)، مستخرج أبي عوانة (1792 {1/471})، الدعوات الكبير (425). عن عائشة.
[22] صحيح البخاري (6313)، صحيح مسلم (181-763 و187-763 و191-763)، سنن ابي داود (1353)، سنن النسائي (112)، المستدرك للحاكم (6340 {3/535}). نحوه. عن ابن عباس. وهذا الدعاء مقتبس من الروايات المتعددة كما هو ظاهر من رموز ذكرها الجزري في الحصن {المخطوطة ص33}.
[23] مستخرج أبي عوانة 1236 1/245 بلفظه، كذا فب شرح سنن أبي داود لابن رسلان ٣/٢٩٥، عن أبي حميد الساعدي.
واخرجه ابن ماجه (772) وأبو عوانة (1234) 1/245، ومصنف ابن أبي شيبة (3432)، وعبد الرزاق (1665) عن أبي حميد الساعدي، ولكن في هذه المصادر «اَللَّهُمُّ افْتَحْ لِيْ» مكان «اَللَّهُمُّ افْتَحْ لنا».. واخرجه عبد الرزاق (1666) نحوه وفيه «يَسِّرْ لِيْ» مكان «وَسَهِّلْ عَلَيَّ». عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ.
[24] سنن ابن ماجه (773) بلفظه، كذا في الدعاء للطبراني (427)، وأخرجه النسائي في الكبرى (9918 {6/27})، وفيه «بَاعِدْنِي» مكان «اعْصِمْنِي»، وفي المستدرك للحاكم (747 {1/208}) والصحيح لابن حبان (2050) «للَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ». عن أبي هريرة.
[25] صحيح مسلم (68-713)، سنن أبي داود (465)، سنن النسائي (730)، السنن الكبرى للنسائي (10005)، سنن ابن ماجه (772)، صحيح ابن حبان (2046 و2047)، السنن الكبرى للبيهقي (4319)، سنن الدارمي (1534 و2895)، عمل اليوم والليلة للنسائي (177)، الدعوات الكبير (66)، مسند البزار (3720)، مسند أحمد (16057)، مسند ابن أبي شيبة (30144). عن أبي حميد أو عن أبي أسيد. المعجم الكبير (10226)، الدعاء للطبراني (878). عن ابن مسعود.
[26] المعجم الكبير للطبراني (7811 {8/236}) نحوه عن ابن عمر ، كذا في المستدرك للحاكم (5942) {1/264}. عن أبي أيوب الأنصاري، وعمل اليوم والليل لابن السني (116) عن أبي أمامة .ولم أجد «وأحيني» إلا في الحصن الحصين {المخطوطة ص44}.
[27] المعجم الصغير للطبراني (735)، المعجم الكبير للطبراني (685)، وعمل اليوم لابن السني (110)، ومسند أبي يعلى الموصلي (6894). عن أم سلمة.
[28] المعجم الكبير (10198 {10/209})، صحيح ابن حبان (972)، الدعاء للطبراني (1035)، مصنف ابن أبي شيبة (29930)، مسند أحمد (4318 بلفظه وفي 3712 نحوه)، واخرجه ابن السني في عمل اليوم والليل لابن السني (340) والبيهقي في شعب الإيمان (2781)، وذكر فيه «وَابْنُ أَمَتِكَ فِي قَبْضَتِكَ. ولم يذكر الحاكم في المستدرك (1877 {1/509}) «وابن عبدك»، وأبو يعلى الموصلي في المسند (5276) «وابن أمتك»،. عن ابن مسعود.
[29] سیدنا عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب بھی کسی کو کوئی فکر و غم اور رنج و ملال لاحق ہو اور وہ یہ دعا پڑھے۔۔۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، ہر سننے والے کو یاد کر لینے چاہئیں۔
(سلسله احاديثِ صحيحه: 3043)
[30] مصنف ابن أبي شيبة (29790).
[31] سنن الترمذي (3563)، مسند أحمد (1319)، المستدرك للحاكم (2016 {1/538})، مسند البزار (563)، الدعوات الكبير (303)، الدعاء للطبراني (1042) فيه بلفظ «أغنني» مكان «اكفني». عن علي.
هذه الدعوات كلها إلی التعوذات من الحزب الاعظم إلا قوله «اللهم فارج الهم» فمن الحصن، وأما التعوذات المختلفة فمن الحزب والحصن.
[32] الدعاء للطبراني (877) نحوه. كذا في المعجم الصغير (696)، ط المكتب الإسلامى، دار العمان {1/247 ط العلمية} وتاريخ مدينة السلام للخطيب البغدادي 99:7 (ترجمة إبراهيم بن محمد بن إبرهيم الهمذاني)، وإحياء علوم الدين مع تخريج العراقي كتاب إسرار الحج، الجملة السادسة في الوقوف وما قبله. عن ابن عباس .
[33] المعجم الكبير (181)، الدعاء للطبراني (1036). عن عبد الله بن مسعود.
[34] المستدرك للحاكم (1957 {1/534}). عن عبد الله بن مسعود.
[35] (17410)، مسند البزار (5387)، لم يذكر فيه «يقينا صادقا»، والمعجم الأوسط (5974) ليس فيه «من المعيشة» بعد «رضا». عن ابن عمر.
[36] سنن الترمذي (3520)، وفيه بلفظ «كالذي نقول» مكان «كالذي تقول» كذا في صحيح ابن خزيمة (2841)، وأورده البيهقي في شعب الإيمان (3779) بلفظه، عن علي.
[37] سنن الترمذي (3591)، لم يذكر فيه «والادواء»، وذكر في مصنف ابن أبي شيبة (30210)، والمستدرك للحاكم (1992) بلفظ «جَنِّبْنِي» مكان «إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ»، وذكر الهندي في الكنز (3671)، والمنذري في الترغيب باب الأدعية الصالحة (22) بلفظه. عن قطبة بن مالك.
[38] جامع الترمذي (3521)، الأدب المفرد (679) نحوه، وذكر في المستدرك للحاكم (866)، والطبراني في الكبير (7693 {7791}) نحوه عن أبي أمامة.
[39] المستدرك للحاكم (1994 {1/532})، سنن الكبري للنسائي (7939)، مصنف ابن أبي شيبة (25930)، مسند أبي يعلى الموصلي (6505)، الدعاء للطبراني (1340)، الدعوات الكبير (347). عن أبي هريرة.
[40] سنن النسائي (5490)، السنن الكبرى للنسائي (7910 و7924)، المستدرك للحاكم (1988 {1/531}). عن عبد الله بن عمر.
[41] سنن أبي داود (1547)، سنن النسائي (5483 و5484 {5468 و5469})، السنن الكبرى للنسائي (7904 {7852})، سنن ابن ماجه (3354)، مصنف عبد الرزاق (19636 {10/51})، مسند أبي يعلى الموصلي (6381)، مسند إسحاق بن راهويه (299)، الدعوات الكبير (350)، الدعاء للطبراني (1360). عن أبي هريرة.
[42] صحيح البخاري (6593) (7048)، صحيح مسلم (2293). عن أسماء بنت أبي بكر.
[43] صحيح مسلم (67-2867)، صحيح ابن حبان (996)، مصنف ابن أبي شيبة (29731 و(38345)، المعجم الكبير (4650 {4785})، معجم ابن الأعرابي (35). عن زيد بن ثابت. مسند أحمد (2667 و6778)، المعجم الكبير (12608 {12779})، الدعاء للطبراني (663)، عن ابن عباس.
[44] المعجم الكبير (14227 {810، 17/294})، الدعاء للطبراني (1338). عن عقبة بن عامر .
