ساتویں منزل – بروزِ جمعہ

ﵻ214ﵺ

«يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ» ۔ [1]

اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار ۔

—————————————–

ﵻ215ﵺ

«اَللّٰهُمَّ يَا كَبِيْرُ يَا سَمِيْعُ يَا بَصِيْرُ يَا مَنْ لَّا شَرِيْكَ لَهٗ وَلَا وَزِيْرَ [لَهٗ] يَا خَالِقَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الْمُنِيْرِ [وَ] يَا عِصْمَةَ الْبَائِسِ الْخَائِفِ الْمُسْتَجِيْرِ، وَيَا رَازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِيْرِ وَيَا جَابِرَ الْعَظْمِ الْكَسِيْرِ، أَدْعُوْكَ دُعَاءَ الْبَائِسِ الْفَقِيْرِ، كَدُعَاءِ الْمُضْطَرِّ الضَّرِيْرِ، أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ، وَبِمَفَاتِيْحِ الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ وَ بِالْأَسْمَاءِ الثَّمَانِيَةِ الْمَكْتُوْبَةِ عَلٰى قَرْنِ الشَّمْسِ۔[2]أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِيْعَ قَلْبِیْ وَجِلَاءَ حُزْنِیْ» ۔[3]

اے اللہ ، اے بڑائی والے! اے سننے والے! اے دیکھنے والے! اے وہ کہ جس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ مشیر ! اے آفتاب و ماہتابِ روشن کے پیدا کرنے والے اور اے مصیبت زدہ ، ترساں و پناہ جُو کے پناہ دینے والے اور اے  ننھے بچے کی روزی پہنچانے والے! اور اے ٹوٹی ہوئی ہڈی کے جوڑنے والے! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں مصیبت زدہ محتاج کی سی درخواست، بے قرار آفت زدہ کی سی درخواست، تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے عرش کے بند ہائے عزت کے واسطے سے، اور تیری کتاب کی کلید ہائے رحمت کے واسطے سے، اور ان آٹھ ناموں کے واسطے سے جو رُخِ آفتاب پر لکھے ہوئے ہیں، یہ کہ قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے غم کی کشائش بنا دے۔

شرح: عنوانات تو سب ہی دُعاؤں کے اپنی اپنی جگہ پر مؤثر ہیں لیکن اس دُعا کا عنوان اس باب میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔۔۔ دعا مانگنے والا بندہ گویا اس وقت تمام تر مضطر اور مضطرب ہے اور بے خودی میں اس کی زبان سے کچھ ادا ہی نہیں ہو رہا ہے، بجز’ اے میرے پروردگار!‘ یا’ اے میرے مالک‘ کی تکرار کے۔

رَازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِيْرِ:یعنی وہ بچہ جو ابھی کسبِ معیشت کی ادنیٰ قابلیت بھی نہیں رکھتا لیکن باوجود اس کے محض تیری رزاقی کے طفیل ہر طرح روزی حاصل کر رہا ہے۔

أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِيْعَ قَلْبِیْ وَجِلاءَ حُزْنِيْ: ہر مومن کو قرآن مجید سے جو گہرا تعلق ہونا چاہیے اور قرآن کی محبت جس طرح اس کی رگ رگ میں بس جانا چاہیے ، اس دُعا کے الفاظ سے بالکل ظاہر ہے۔

بِالْأَسْمَاءِ الثَّمَانِيَةِ الْمَكْتُوْبَةِ عَلٰى قَرْنِ الشَّمْسِ:اللہ اور اس کے رسول ہی کو بہتر علم ہے کہ ان آٹھ اسمائے الہٰی کے رخ شمس پر لکھے ہوئے ہونے سے کیا مراد ہے۔۔۔ اس شرح میں یہ بڑا خلا شارح کی کم علمی سے رہا جا رہا ہے۔ کاش بعد کے کوئی شارح صاحب اسے پورا کر دیں۔[4]

—————————————–

ﵻ216ﵺ

«رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْيَا كَذَا وَكَذَا ۔[5] يَا مُؤْنِسَ كُلِّ وَحِيْدٍ، وَّيَا صَاحِبَ كُلِّ فَرِيْدٍ، وَّيَا قَرِيْبًا غَيْرَ بَعِيْدٍ، وَّيَا شَاهِدًا غَيْرَ غَائِبٍ، وَّيَا غَالِبًا غَيْرَ مَغْلُوْبٍ، يَّا حَىُّ يَا قَيُّوْمُ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»۔[6]

اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں فلاں فلاں چیز عطا کر، اے غمگسار ہر اکیلے کے اور اے رفیق ہر تنہا کے اور اے ایسے قریب جو بعید نہیں! اور اے ایسے حاضر جو غائب نہیں! اور اے ایسے غالب جو مغلوب نہیں! اور یا حی ّیا قیوم! اے بزرگی اور عظمت والے!

 (یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ یَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامْ)۔

شرح: یہاں دُعا کا پڑھنے والا بجائے فلاں فلاں چیز کے کسی جائز خواہش کا تصور کرے۔صحت ، عافیت ، امت کی فلاح و بہبود، دشمنوں سے نجات، بیوی بچوں کی خیریت ، اضافۂ آمدنی وغیرہ۔بہر حال کوئی سامباح دنیوی مقصد۔

بخلاف ساری مخلوقات کے، جو غایتِ قرب کے باوجود بعید ، اور غایتِ حضور کے باوجود غائب،اور غایتِ غلبہ کے باوجود مغلوب، حالاً نہ سہی مآلاً ، اور فعلاً نہ سہی امکاناً تو بہر حال ہوتے ہی ہیں۔ اور تُو ہی چھوٹی بڑی ہر حاجت کا حاجت روا ہے۔

—————————————–

ﵻ217ﵺ

«يَا نُوْرَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ، وَيَا زَيْنَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ، يَا جَبَّارَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ، يَا عِمَادَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ، يَا بَدِيْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ يَا قَيَّامَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَاصَرِيْخَ الْمُسْتَصْرِخِيْنَ، وَمُنْتَهٰى [الْعَائِذِيْنِ] وَالْمُفَرِّجُ عَنِ الْمَكْرُوْبِيْنَ [وَ]الْمُرَوِّحُ عَنِ الْمَغْمُوْمِيْنَ وَمُجِيْبَ دُعَاءِ الْمُضْطَرِّيْنَ، وَ[يَا] كَاشِفَ [الْمَكْرُوْبِ]، يَا إِلٰهَ الْعَالَمِيْنَ وَيَآ أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ، مَنْزُوْلٌ ۢبِكَ كُلُّ حَاجَةٍ»۔[7]

اے آسمانوں اور زمین کے نور! اور اے آسمانوں اور زمین کی زینت! اے انتظام رکھنے والے آسمانوں اور زمینوں کے ! اور اے آسمانوں اور زمین کے تھامنے والے اور اسے آسمانوں اور زمین کے موجد! اور اے آسمانوں اور زمین کے قائم رکھنے والے اور اے بزرگی اور عظمت والے! اے فریادیوں کے دادرس! اور پناہ مانگنے والوں کی آخری دوڑ(پناہ گاہ) ! اور اے بے چینوں کے کشائش والے اور غمزدوں کے راحت دینے والے اور بے قراروں کی دعا قبول کرنے اور اے صاحبِ کرب کو شفا دینے والے ! اے الٰہ العالمین ! اور اے ارحم الراحمین، تیرے ہی سامنے ہر حاجت پیش ہے۔

شرح:دعاؤں کے یہ سارے عنوانات لا کر گویا بتادیا کہ بجز اللہ تعالی کے نہ کوئی زندہ اور قائم ہے، نہ کوئی فریادرس، نہ کوئی غم کا دور کرنے والا ، نہ کوئی کشایش پیدا کرنے والا ، اور نہ کوئی دُعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا !

—————————————–

ﵻ218ﵺ

«اَللّٰهُمَّ [إِنَّكَ] خَلَّاقٌ عَظِيْمٌ، إِنَّكَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ، إِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، إِنَّكَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، اَللّٰهُمَّ [إِنَّكَ الْبَرُّ] الْجَوَادُ الْكَرِيْمُ، اِغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاسْتُرْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَاهْدِنِیْ وَلَا تُضِلَّنِىْ وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنِ»۔[8]

اے اللہ! تو خالقِ اعظم ہے، تو سب کچھ سنتا، سب کچھ جانتا ہے، تو غفور ہے، تو رحیم ہے، تو ہی عرشِ عظیم کا مالک ہے، اے اللہ! تو محسن ہے، صاحبِ جُود ہے، صاحبِ کرم ہے، تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر، اور مجھے چین و عافیت دے، اور مجھے روزی دے، اور میری پردہ پوشی کر، اور میرے نقصان کو پورا کر دے، اور مجھے بلندی دے، اور مجھے ہدایت دے، اور مجھے گمراہ نہ کر، اور مجھے جنت میں اپنی رحمت سے داخل کر دے، اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحیم ۔(یااَرحَمَ الرَّاحِمِین)۔

شرح:گویا ہر ابتدا اور ہر انتہا میں تکیہ اور اعتماد تمام تر تیری ہی ذات وصفات پر ہے، اور تیرے سوا ہر آسرے اور ہر سہارے سے تبریٰ و بے تعلقی ہے۔۔۔۔۔ یہ دُعا بھی اپنے عنوانات کی جامعیت کے لحاظ سے بس اپنی نظیر آپ ہے۔

—————————————–

ﵻ219ﵺ

«إِلَيْكَ رَبِ فَحَبِّبْنِىْ، وَفِىْ نَفْسِیْ لَكَ فَذَلِّلْنِىْ، وَفِىْ أَعْيُنِ النَّاسِ فَعَظِّمْنِىْ، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَخْلَاقِ فَجَنِّبْنِىْ» ۔[9]

اے میرے پروردگار ! مجھے اپنا بنا لے، اور میرے دل میں اپنے مقابلہ میں فرمانبرداری ڈال دے، اور لوگوں کی نظر میں مجھے معزز کر دے، اور بُرے اخلاق سے مجھے بچا دے۔

—————————————–

ﵻ220ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ سَأَلْتَنَا مِنْ أَنْفُسِنَا مَا لَا نَمْلِكُهٗ إِلَّا بِكَ فَأَعْطِنَا مِنْهَا مَا يُرْضِيْكَ عَنَّا »۔[10]

اے اللہ! تو نے ہماری ذات سے اُن اعمال کو طلب کیا ہے جن پر ہم کوئی اختیار بغیر تیری توفیق کے نہیں رکھتے تو تُو ہمیں ان میں سے اس عمل کی توفیق دے دے، جو تجھے ہم سے رضا مند کر دے۔

—————————————–

ﵻ221ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْأَلُكَ إِيْمَانًا دَائِمًا، وَّأَسْأَلُكَ قَلْبًا خَاشِعًا، وَّأَسْأَلُكَ يَقِيْنًا صَادِقًا، وَّأَسْأَلُكَ دِيْنًا قَيِّمًا، وَّأَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ مِنْ كُلِّ بَلِيَّةٍ، وَّأَسْأَلُكَ دَوَامَ الْعَافِيَةِ، وَأَسْأَلُكَ الشُّكْرَ عَلٰى الْعَافِيَةِ، وَأَسْأَلُكَ الْغِنٰى عَنِ النَّاسِ» ۔[11]

اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ہمیشہ رہنے والا ایمان ، اور تجھ سے مانگتا ہوں خشوع والا دل (جس میں تیری ہیبت اور خوف ہو)، اور تجھ سے مانگتاہوں سچا یقین، اور تجھ سے مانگتاہوں دینِ مستقیم ، اور تجھ سے مانگتا ہوں ہر بلا سے امن، اور تجھ سے مانگتا ہوں امن کا دوام ، اور تجھ سے مانگتا ہوں امن پر  شکر (کی توفیق) ، اور تجھ سے مانگتا ہوں مخلوق سے بے نیازی۔

شرح:یعنی یہ طلب کہ ہر طلب تجھی سے رکھوں نہ کہ خلق سے، یہ بھی تجھی سے رکھتا ہوں ۔دُعا کا اتنا حصہ تکوینی و تشریعی دونوں قسم کے مطلوبات و مقصودات کا جامع ہے۔

الشُّكْرَ عَلٰى الْعَافِيَةِ:بڑی ضروری دُعا ہے، ورنہ کثرت سے یہی ہوتا ہے کہ نعمتِ عافیت مل جانے کے بعد قلب میں غفلت و قساوت پیدا ہو جاتی ہے، اور انسان ادائے حقوقِ خالق و مخلوق کی طرف سے بے اعتنائی برتنے لگتا ہے۔

—————————————–

ﵻ222ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ اَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تُبْتُ إِلَيْكَ مِنْهُ ثُمَّ عُدْتُّ فِيْهِ، وَاَسْتَغْفِرُكَ لِمَآ أَعْطَيْتُكَ مِنْ نَفْسِیْ ثُمَّ لَمْ أُوْفِ لَكَ بِهٖ، وَاَسْتَغْفِرُكَ لِلنِّعَمِ الَّتِىْ تَقَوَّيْتُ بِهَا عَلٰى مَعْصِيَتِكَ، وَاَسْتَغْفِرُكَ لِكُلِّ خَيْرٍ أَرَدْتُّ بِهٖ وَجْهَكَ فَخَالَطَنِىْ فِيْهِ مَا لَيْسَ لَكَ، اَللّٰهُمَّ لَا تُخْزِنِیْ فَإِنَّكَ بِىْ عَالِمٌ، وَّلَا تُعَذِّبْنِیْ فَإِنَّكَ عَلَیَّ قَادِرٌ»۔[12]

اے اللہ! تجھ سے معافی چاہتا ہوں اس گناہ کی جس سے میں نے تو بہ کی ہو اور پھر لوٹ کر اس کو کیا ہو، اور تجھ سے معافی چاہتا ہوں اُس عہد کی جو میں نے اپنی جانب سے دیا ہو اور پھر اس کو وفا نہ کیا ہو، اور تجھ سے معافی چاہتا ہوں اُن نعمتوں کے بارہ میں جن سے میں نے قوت حاصل کر کے اسے تیری نافرمانی میں لگایا، اور تجھ سے معافی چاہتا ہوں اُس نیکی کے بارہ میں کہ میں نے اس کو خالِصَتاً تیرے لئے کرنا چاہا پھر اُس میں اُن چیزوں کی آمیزش کر لی جو صرف تیرے لئے نہ تھیں، اے اللہ! مجھے رسوا نہ کرنا ، بے شک تو مجھے خوب جانتا ہے، اور مجھ پر عذاب نہ کرنا، بے شک تو مجھ پر ہر طرح قدرت رکھتا ہے۔

شرح:کتنی سچی اور بشریت کے حسبِ حال دُعائیں ہیں ! بشر کتنی ہی بار تو بہ کرتا ہے، اور پھر وقتی کمزوریوں سے مغلوب ہو کر الٹ الٹ کر اٹھی گناہوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے، کتنی بار ایک عہد کرتا ہے،اور پھر اس کو فورا ہی تو ڑتا بھی رہتا ہے۔

کتنا حکیمانہ اور دقیق و صحیح تجزیہ نفس بشری کا ہے !۔۔۔ بشر اللہ ہی کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ اُٹھا کر ، اُسی کی عطا کی ہوئی غذا ئیں کھا کھا کر ، اُس کا بخشا ہوا اکرام اُٹھا اُٹھا کر جسم اور نفس میں  قوتیں حاصل کرکے، انھیں تمام تر وقفِ طاعت رکھنے کے بجائے ، معصیت و نافرمانی میں ہی صرف کرتا رہتا ہے۔ اور پھر جب ہوش آتا ہے تو پچھتاتا ہے ، ندامت و تاسف محسوس کرتا ہے اپنے اوپر نظریں کرتا ہے۔ اسی طرح یہ زندگی میں کتنی بار ہوتا ہے کہ ابتداءً پورے اخلاص کے ساتھ رضائے الہٰی ہی کے لیے کوئی کام ہاتھ میں لیتا ہے لیکن معاً بعد یا تو اس کام کی داد پا کر یا اُس میں لذتِ نفسانی محسوس کر کے یا اس  کی مخالفت دیکھ کر اب التفات خلق کی جانب ہو جاتا ہے۔ اور اخلاص میں آمیزش اچھی خاصی حبِ جاہ یا نفسانیت یا لذت اور ضد کی ہو جاتی ہے، یہ روز مرہ کے تجربے ہیں۔۔۔ ایسے ایسے دل کے چور، کیسے ممکن تھا کہ رسول کریم کی دقیقہ رس نگاہوں کی گرفت سے باہر رہ جاتے۔

تجھ کامل و محیط سے میرا کون سا عیب پوشیدہ رہ ہی سکتا ہے، پھر جو تُو ستاری سے کام لے اور رسوا نہ کرے تو مالک و مولیٰ ! عین تیرا کرم ہی ہے۔

تجھے قدرت تو ہر طرح کے عذاب پر حاصل ہے، پھر بھی جو تو چھوڑے رکھے، تو عین تیرا فضل واحسان ہے!

—————————————–

ﵻ223ﵺ

«اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، [اَللّٰهُمَّ] اكْفِنِیْ كُلَّ مُهِمٍّ مِّنْ حَيْثُ شِئْتَ، [وَ] مِنْ أَيْنَ شِئْتَ»۔[13]

اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے مالک اور عرشِ عظیم کے مالک،اے اللہ تو میرے لئے ہر مہم میں کافی ہو جا جس طرح تو چاہے اور جس جگہ سے تو چاہے ۔

—————————————–

ﵻ224ﵺ

«حَسْبِىَ اللهُ لِدِيْنِى، حَسْبِىَ اللهُ لِدُنْيَایَ، حَسْبِىَ اللهُ لِمَآ أَهَمَّنِیْ، حَسْبِىَ اللهُ لِمَنْۢ بَغیٰ عَلَیَّ، حَسْبِىَ اللهُ لِمَنْ حَسَدَنِیْ، حَسْبِىَ اللهُ لِمَنْ كَادَنِىْ بِسُّوْءٍ، حَسْبِىَ اللهُ عِنْدَ الْمَوْتِ، حَسْبِىَ اللهُ عِنْدَ الْمَسْأَلَةِ فِیْ الْقَبْرِ، حَسْبِىَ اللهُ عِنْدَ الْمِيْزَانِ، حَسْبِىَ اللهُ عِنْدَ الصِّراطِ، حَسْبِىَ اللهُ لَآإِلٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ»۔[14]

کافی ہے مجھے اللہ میرے دین کے لئے ، کافی ہے مجھے اللہ میری دُنیا کے لئے ، کافی ہے مجھے اللہ میری فکروں کے لئے، کافی ہے مجھے اللہ اُس شخص کے مقابلہ کے لئے جو مجھ پر زیادتی کرے، کافی ہے مجھے اللہ اُس شخص کے لئے جو مجھ سے حسد کرتا ہو، کافی ہے مجھے اللہ اُس شخص کے لئے جو مجھے برائی کے ساتھ دھو کا دیتا ہے، کافی ہےمجھے اللہ موت کے وقت، کافی ہے مجھے اللہ سوالِ قبر کے وقت ، کافی  ہےمجھے اللہ میزان (حشر)کے پاس، کافی ہے مجھے اللہ صراط ( محشر)کے پاس، کافی ہے مجھے اللہ کہ کوئی معبود نہیں ہے سوا اُس کے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

شرح: میں اپنے [آپ]کو تمام تر تیری مشیت کے حوالے کیے ہوئے ہوں۔ یعنی تمام مہماتِ دنیوی و اخروی میں سارے مقاصدِ تکوینی و تشریعی میں ایک اللہ کی مدد و نصرت بالکل کافی ہے۔

موت ، سوالِ قبر، میزان ، صراط ، عالم ِبرزخ ، و آخرت کے یہ چار موقعے نازک ترین و اہم ترین ہیں ، اسی لیے ان کا ذکر صراحت کے ساتھ کر دیا گیا! اللہ کی مدد جب ان چاروں وقتوں پرآڑے آگئی تو بس پھر کسی قسم کا اندیشہ و خطرہ نہیں۔

عرشِ عظیم کے ذکر کی تخصیص اس لیے [ کی] کہ وہ مخلوقات میں اعظم ترین ہستی ہے۔

—————————————–

ﵻ225ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْأَلُكَ ثَوَابَ الشَّاكِرِيْنَ، وَنُزُلَ الْمُقَرَّبِيْنَ، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّيْنَ، وَيَقِيْنَ الصِّدِّيْقِيْنَ، وَذِلَّةَ الْمُتَّقِيْنَ، وَإِخْبَاتَ الْمُوْقِنِيْنَ، حَتّٰى تَوَفَّانِیْ عَلٰى ذٰلِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ»۔[15]

اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اجر شکر گزاروں کا سا، اور مہمانداری مقربین کی سی ، اور رفاقت انبیاء علیہم السلام کی، اور اعتقاد و یقین صدیقوں کا سا، اور خاکساری اہل تقویٰ کی سی، اور خشوع اہلِ یقین کا سا، یہاں تک کہ تو اسی حال پر مجھے اُٹھالے، اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحیم ۔(یااَرحَمَ الرَّاحِمِین)۔

شرح:یعنی زندگی بھر اعتقاد پختہ اولیا و صد یقین کا سا، اور تواضع و خاکساری اہلِ تقویٰ کی سی ، اور طبیعت میں خشوع اہلِ یقین کا سا نصیب رہے۔ اور بعد موت اجر شکر گزار بندوں کا سا نصیب ہو۔ اور جنت میں خاطر داریاں وہ ہوں جو اللہ کے مہمانوں کی کی جاتی ہیں۔ اور جنت میں رفاقت ومعیت حضراتِ انبیا   ﷨ کی ہاتھ آئے !

—————————————–

ﵻ226ﵺ

«اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ بِنِعْمَتِكَ السَّابِقَةِ عَلَیَّ، وَبَلَائِكَ الْحَسَنِ الَّذِیْ ابْتَلَيْتَنِیْ بِهٖ، وَفَضْلِكَ الَّذِیْ فَضَّلْتَ عَلَیَّ أَنْ تُدْخِلَنِیَ الْجَنَّةَ، بِمَنِّكَ وَفَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ »۔[16]

اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں، بہ واسطہ اس انعام کے جو سابق میں مجھ پر رہا ہے، اور بہ واسطہ اس اچھے امتحان کے جو تو نے لیا ہے، اور بہ واسطہ اس فضل کے جو تو نے مجھ پر کیا ہے، اس کی کہ تو مجھے اپنے احسان اور فضل و رحمت سے جنت میں داخل کرے۔

شرح:جس کی گواہی ہر زندہ بشر کا رواں رواں عمر کے ہر ہر لمحے دیتا رہتا ہے۔ بندہ پر جب کوئی ظاہری مصیبت تکوینی طور پر آتی ہے تو اس سے مقصود بندہ کی جانچ اور آزمائش ہی ہوتی ہے اور یہ آزمائش ہمیشہ حَسن [ اچھی] ہی ہوتی ہے۔

یہ غایت عبدیت وعبودیت ہے کہ بندہ جنت میں اپنے داخلے کی درخواست کا مدار تمام تر اپنے مالک و مولیٰ کے فضل و کرم کو ٹھہرا رہا ہے، اور اپنے کسی عمل کی جانب اشارہ تک نہیں کرتا۔

—————————————–

ﵻ227ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْأَلُكَ إِيْمَانًا دَائِمًا وَّهُدًى قَيِّمًا وَّعِلْمًا نَّافِعًا»۔ [17]

اے اللہ! میں تجھ سے طلب گار ہوں ایمانِ دائم، ہدایتِ محکم اور علم ِنفع بخش کا۔

شرح:علم مطلوب حدیث میں جہاں جہاں وارد ہوا ہے اس قسم کی قید لگی ہوئی ہے ’علم ‘علی الاطلاق یعنی ہر قسم کے علوم و فنون کا مُرادِف ، اس کی مطلوبیت کی قطعاً کوئی سند نہ کتابِ الہٰی سے ملے گی نہ سنتِ رسول سے۔[18]

—————————————–

ﵻ228ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْ لِفَاجِرٍ عِنْدِیْ نِعْمَةً أُكَافِيْهِ بِهَا فِیْ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ »۔[19]

اے اللہ! کسی بدکار کا مجھ پر احسان نہ ہونے دے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس کا معاوضہ ادا کرنا پڑے ۔

شرح:ہے بھی مذاق سلیم رکھنے والے کے لیے بڑی غیرت کی بات، کہ انسان کسی سرکش و نافرمان بندہ کا زیرِ بارِ احسان ہو۔

—————————————–

ﵻ229ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِىْ ذَنْۢبِیْ، وَوَسِّعْ لِىْ خُلُقِیْ، وَطَيِّبْ لِىْ كَسْبِىْ، وَقَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ، وَلَا تُذْهِبْ طَلَبِىْ إِلٰى شَیْءٍ صَرَّفْتَهٗ عَنِّىْ »۔[20]

اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے، اور میرے اخلاق کو وسیع کر دے اور میری آمدنی کو حلال رکھ، اور جو کچھ تو نے مجھے دے رکھا ہے بس اس پر مجھے قانع کر دے، اور اُس چیز کی طرف میری طلب ہی کو نہ لے جا جو تو نے مجھ سے ہٹالی ہو (اور وہ چیز مجھے دینا مقصود نہ ہو)۔

شرح:یعنی جو شے میرے مقسوم ہی نہیں [ اور یہ مقسوم میں نہ ہونا بھی یقینا کسی حکمت و مصلحت ہی سے ہے] اس کی طلب و تمنا بھی میرے دل سے جاتی رہے، ورنہ ایک تشویشِ قلب اور ہر وقت کی کش مکش تو بہر حال باقی رہے گی۔

وَطَيِّبْ لِىْ كَسْبِىْ:جیسی اور جتنی بھی میری آمدنی ہو، بس اس کو حلال اور پاکیزہ بنادے۔

وَقَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ:بڑے گُر کی بات اور کلیدی دُعاؤں میں سے ہے۔۔۔ جسے دولتِ قناعت حاصل ہو وہ دولتِ ہفت اقلیم سے بے نیاز ہے۔

—————————————–

ﵻ230ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْتَجِيْرُكَ مِنْ جَمِيْعِ كُلِّ شَیْئٍ خَلَقْتَ وَأَحْتَرِسُ بِكَ مِنْهُنَّ »۔[21]

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تمام اُن چیزوں سے جو تو نے پیدا کی ہیں اور ان سے تیری حفاظت میں آتا ہوں ۔

—————————————–

ﵻ231ﵺ

« [وَ] اجْعَلْ لِّىْ عِنْدَكَ وَلِيْجَةً، وَّاجْعَلْ لِّىْ عِنْدَكَ زُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ، وَّاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ يَّخَافُ مَقَامَكَ وَوَعِيْدَكَ وَيَرْجُوْا لِقَاءَكَ وَاجْعَلْنِیْ [مِمَّنْ] يَّتُوْبُ إِلَيْكَ تَوْبَةً نَّصُوْحًا، وَأَسْأَلُكَ عَمَلًا مُّتَقَبَّلًا، وَّعِلْمًا نَّجِيْحًا، وَّسَعْيًا مَّشْكُوْرًا، وَّتِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ »۔[22]

اور میرے لئے اپنے ہاں دخل پیدا کر دے (کہ میں تجھ سے جو بات کروں تو اسے قبول فرمالے)، اور میرے لئے اپنے ہاں تقرب اور حسنِ مراجعت پیدا کر دے (کہ میرا انجام اچھا ہو)، اور مجھے اُن لوگوں میں سے کر دے جو تیرے سامنے کھڑے ہونے سے اور تیری وعید سے ڈرتے ہیں، اور تیرے دیدار کی تمنا رکھتے ہیں، اور مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو تیری طرف توجہ خالص کے ساتھ رجوع کرتے ہیں، اور تجھ سے سوالی ہوں عملِ مقبول کا ، اور علمِ کارآمد کا ، اور سعیِ مشکور کا (ایسی کوشش جس کی قدر کی جائے) اور تجارتِ کامیاب  کا(وہ تجارت جس میں خسارہ ہو ہی نہ سکے)  ۔

شرح:

تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ:یعنی ایسی تجارت جس میں کبھی خسارہ ہو ہی نہ سکے ، یعنی نفعِ اُخروی۔

شوق اور خوف دونوں کی جامعیت، جیسی کہ اکثر حدیثی دُعاؤں میں ہے، اس دُعا کا بھی جو ہر ہے۔

—————————————–

ﵻ232ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ فِكَاكَ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ »۔[23]

اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ دوزخ سے میری جاں بخشی کر دی جائے ۔

شرح: اَلعَظْمَۃُ لِلّٰہ:یہ دُعا رسول ِمقبول و معصوم اپنے حق میں کر رہے ہیں جن کے لیے تلبُسِ نارکا کوئی ادنیٰ احتمال بھی نہ تھا، تو ہم بندگانِ دُنیا کا اپنی برائے نام طاعت و عبادت پر نازاں ہو جانا کس درجہ حمق و نادانی ہے!

—————————————–

ﵻ233ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَكَرَاتِ الْمَوْتِ »۔[24]

اے اللہ! تو موت کی سختیوں پر اور جان کنی کی تکلیف پر میری مدد فرما ۔

—————————————–

ﵻ234ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ وَأَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِيْقِ الْأَعْلٰى»۔ [25]

اے اللہ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے اعلیٰ رفیقوں (ان میں فرشتے، انبیا اور ابرار و صالحین شامل ہیں) کے ساتھ جاملا ۔

﴿استعاذہ﴾

—————————————–

ﵻ235ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ [ مِنْ] أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَّأَنَا أَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَآ أَعْلَمُ [بِهٖ] »۔[26]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ تیرے ساتھ کچھ بھی شریک کروں در آن حالیکہ اُسے جان رہا ہوں، اور تجھ سے اُس(شرک) کی معافی چاہتا ہوں جسے نہ جانتا ہوں۔

شرح: شرک کی ایک قسم تو شرک بالعَمد ہے جو عظیم ترین معصیت ہے، اور اس سے بالکل پناہ مانگی گئی ہے۔ دوسری قسم نادانستگی میں مبتلائے شرک ہو جانے کی ہی جس پر صرف صورتاً ہی شرک کا اطلاق ہو سکتا ہے معافی اس سے بھی چاہی گئی ہے۔

—————————————–

ﵻ236ﵺ

« وَأَعُوْذُ بِكَ أَنْ يَّدْعُوَ عَلَیَّ رَحِمٌ قَطَعْتُهَا »۔[27]

 اور تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ مجھے کوئی رشتہ دار بددعا دے جس کی میں نے حق تلفی کی ہو۔

شرح: عزیزوں کو ان کے حقوقِ عزیز داری ادا نہ کرنا اسلام میں ایک سخت جرم اور قبیح معصیت ہے۔

—————————————–

ﵻ237ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَنْ يَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَيْنِ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَّمْشِیْ عَلیٰٓ  أَرْبَعٍ »۔[28]

 اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اُس حیوان کے شر سے جو پیٹ کے بل چلتا ہے اور اُس حیوان کے شر سے جو دو پیروں سے چلتا ہے، اور اُس حیوان کے شر سے جو چار پیروں سے چلتا ہے۔

شرح: یعنی رینگنے والے جانوروں، اور دو پائے اور چوپائے ہر قسم کے جانوروں کے شر سے۔۔۔ انسان غریب تو بڑے چھوٹے ایک ایک موذی جانور کی اذیت وشر سے پناہ طلب کرنے کا محتاج ہے۔

—————————————–

ﵻ238ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ اِمْرَأَةٍ تُشَيِّبُنِیْ قَبْلَ الْمَشِيْبِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَّلَدٍ يَّكُوْنُ عَلَیَّ [وَ بَالًا]، وَّأَعُوْذُ بِكَ مِنْ مَّالٍ يَّكُوْنُ عَلَیَّ عَذَاباً »۔[29]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس شریکِ حیات سے جو مجھے بڑھاپے سے قبل ہی بوڑھا کر دے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ایسی اولاد سے جو مجھ پر وبال ہو، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے مال سے جو میرے حق میں عذاب ہو جائے۔

شرح:شریکِ حیات   (یعنی شوہر کیلیے بیوی اور بیوی کیلیے شوہر)، اولاد اور مال سے بڑھ کر دل کو عزیز اور انسان کی راحت کی چیزیں اور کون ہو سکتی ہیں، لیکن یہ سب بھی بڑی سے بڑی مصیبت کا سبب بن سکتی ہیں، اور دُنیا میں بنتی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ دعا بھی بہت ضروری دُعاؤں میں سے ہے۔

—————————————–

ﵻ239ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ فِیْ الْحَقِّ بَعْدَ الْيَقِيْنِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ يَوْمِ الدِّيْنِ »۔[30]

 اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں حق بات میں اعتقاد کے بعد شک لانے سے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں شیطانِ مردود سے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں روزِ جزا کی سختی سے۔

—————————————–

ﵻ240ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ مَّوْتِ الْفَجَاءَةِ وَمِنْ لَّدْغِ الْحَيَّةِ وَمِنَ السَّبُعِ وَمِنَ الْغَرَقِ وَمِنَ الْحَرَقِ وَمِنْ أَنْ أَخِرَّ عَلىٰ شَیْئٍ وَمِنَ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ»۔[31]

 اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں موتِ نا گہانی سے، اور سانپ کے کاٹنے سے، اور درندے سے، اور ڈوبنے سے، اور جل جانے سے، اور اس سے کہ کسی چیز پرگِر پڑوں اور لشکر کے بھاگنے کے وقت مارے جانے سے۔

شرح: غرض ہر اس چیز سے، جو تکوینی یا تشریعی کسی حیثیت سے بھی خوف ناک ہو، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔

۩ ۩ ۩


ان دعاؤں کے ختم پر کہیے:

 اے اللہ! ان دعاؤں کو قبول فرما

حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ (مؤلف کتاب ) اور

مولوی       عبد الواسعؒ، ( ناظم ترجمہ) اور

مولوی حکیم محمد مصطفٰی ؒ (مترجمِ اول) اور

محمد علیؒ (ساعیٔ ترجمہ) اور

 مولانا محمد شفیع دیوبندیؒ اور

 مولانا عبد الماجد دریا بادیؒ (مترجم ِثانی اور شارح)اور

افتخار احمد (تدوینِ نو اور اس نسخے کو دعا، ترجمہ، شرح اور تخریج کی صورت میں مرتب کرنیوالے)  کے حق میں

اور ہر اس شخص کے حق میں ( جس نےاس  کتاب کی طباعت اور تدوینِ نو میں کوئی بھی کوشش کی ہے)،

اور ان سب کے والدین اور

 جملہ ایمان والوں اور ایمان والیوں کے حق میں !

اور اے اللہ! رحمتِ کامل نازل فرما سیدِ کائنات اور اکرمِ مخلوقات پر، ایسی رحمت کہ جس کی کوئی حدو نہایت نہ ہو۔


[1] جامع العلوم والحكم الحديث العاشر عن الفضل بن عباس وعطاء ﷛. قال يزيد الرقاشي عن أنس ما من عبد يقول يا رب يا رب يا رب……. 1/273، الترغيب والترهيب باب في كلمات يستفتح بها الدعاء وبعض ما جاء في اسم الله الأعظم (11) 2/488، عجالة الإملاء المتيسرة من التذنيب (272) {4/582}، عن عائشة وعن أنس ﷛. حلية الأولياء 3/313، تفسير لابن أبي حاتم (4668)2 /844 عن عطاء

[2] مسند الفردوس (1996) بلفظ «ياخبير» مكان «يا كبير» ولم يذكر فيه «يامنير»، ولكن ذكر فيه «والأسماء»، التدوين في أخبار قزوين 3/135 نحوه. عن أبي بكر الصديق ﷛.

[3] المستدرك للحاكم مع الاستدراك للذّهبي (1920) 1/509، مسند أبي يعلى (5276)، المعجم الكبير للطبراني (10198)، الدعاء للطبراني (1035)، مسند أحمد (3712)، صحيح ابن حبان (972)، الدعوات الكبير (184)، عمل اليوم لابن السني (340)، جمع الجوامع (123/ 18619)، الترغيب والترهيب (6)، مسند الفردوس (1895)، كنز العمال (3434-3436)، جامع الأصول (2300)، الأسماء والصفات للبيهقي باب بيان أنّ لله جلّ ثناؤه أسماء أخرى، المجالسة وجواهر العلم (1803) 5/14. وفي جميع المصادر هو قطعة من حديث طويل. عن عبد الله بن مسعود ﷛

[4] ۞احادیث میں یہ نام متعین نہیں کیے گئے تاہم امام عبدالوہاب شعرانیؒ نے اپنی کتاب ’الیواقیت والجواہر‘ میں “المبحث السادس عشر: في حضرات الأسماء الثمانية” کے تحت انہی آٹھ اسماء کو بنیاد بنا کر ان کے “متعلَّقات” و معانی پر گفتگو ہے۔ انکے خیال میں ’حضرات الاسماء الثمانية‘ یہ ہیں: الحي، العالِم، القادر، المريد، السميع، البصير، المتكلِّم، الباقي۔  اسکے علاوہ مولانا محمد یونس جونپوریؒ نے اپنی کتاب ’الیواقیت الغالیہ‘ کی پہلی جلد  میں مولانا سراج الحق مچھلی شہری ثم الٰہ آبادیؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ انکے خیال میں آٹھ نام یہ ہیں: المتكلِّم، الحي، العليم، القدير، المريد، الخالق، السميع، البصير۔ تاہم اوپر کی دونوں فہرستیں تعیینی دلیل نہیں رکھتیں اور صرف اہلِ تصوف کے ظن اور گمان پر مبنی ہیں۔ واللہ اعلم

[5] حزب الأعظم الحزب (16).

[6] القول البديع (صلاة الحاجة) صـ 230، جامع الأحاديث (13070)، كنز العمال (5103) وعزاه الي الديلمي، معجم الشيوخ لابن عساكر ذكر من اسمه جامع (245). عن انس ﷛.

[7] المعجم الأوسط (145)، وفيه «قيوم» مكان «قيام»، و«العابدين» مكان العائذين و«كاشف الكرب» مكان «ويا كاشف المكروب» و «تزول بك» مكان «منزول بك»، الكنى للدولابي (1205) 2/685 نحوه وفيه بلفظ «غَيَّاثُ الْمُسْتَغِيثِينَ وَمُنْتَهَى الْعَابِدِينَ»، و«منزول لك». عن حذيفة بن اليمان ﷛.

[8] مسند الفردوس (1800)، وليس فيه «واسترني». أما في (5111) تاريخ دمشق لابن عساكر (2793)، وكنز العمال، وجامع الأحاديث (14024) {19/186}، ففيهم «أنت الخلاق العظيم» مكان «إنّك خلّاق» وليس فيهم «إنّك البر». عن جابر ﷛

[9] مسند الفردوس (1727). كنز العمال (5087)، جامع الأحاديث (17618) {20/437}، عن ابن مسعود ﷛.

[10] تاريخ دمشق لابن عساكر (4130)، الترغيب والترهيب باب الأدعية الصالحة 4/582، كنز العمال (3625، 3782)، جامع الأحاديث باب الهمزة (4032)، محاسبة النفس لابن أبي الدنيا (93) وفيه «من أنفسنا» مكان «منها»، الفوائد لأبي القاسم تمام بن محمد بن عبد الله بن جعفر بن عبد الله بن الجنيد البجلي الرازي ثم الدمشقي (1471). عن أبى هريرة﷛.

[11] كنز العمال (5055)، جامع الأحاديث (6029) {15/343}، نوادر الأصول في سر دعوات أبي ذرؓ . وفيه «وأسألك علما نافعا» و«وأسألك تمام العافية» مسند الفردوس (1832). عن علي بن ابى طالب﷛.

[12] كنز العمال (5126 و5127) جامع الأحاديث (16759) {20/298}، وفيهما «أنعمت بها علي فتقويت بها على معاصيك» مكان «للنعم التي تقويت بها على معصيتك»،. عن ابن عمر﷛.

[13] مكارم الأخلاق للخرائطي (1037) صـ 336، جامع الأحاديث (19251)، كنز العمال (3433) وعزاه للخرائطي. عن علي﷛.

[14] نوادر الأصول في سر الكلمات العشر بعد الصّلاة، أما في كنز العمال (3558)، وجامع الأحاديث (22648) فلم يذكر فيهما «حسبي الله لدنياي» و«وهو رب العرش العظيم» إلا في الإحياء للغزالي 1/317 في دعاء معروف الكرخيؒ.، وفي كنز العمال «حسبي الله في القبر. عن بريدة﷛.

[15] مسند الفردوس (1839) كنز العمال (4945) بلفظه وعزاه الي الديلمي، وفي جامع الأحاديث شاملة (42494) بلفظ «على أن توفني» مكان «حتى توفاني» عن أبى هريرة ﷛.

[16] المعجم الكبير للطبراني (8917) [8825] وفيه «أفضلت» مكان «فضلت» المعجم الكبير للطبراني (8825) 4/516 [8916]، مسند الفردوس (1849)، جامع الأحاديث للسيوطي باب الهمزة (4305)، كنز العمال (3784)، وفي جميع المصادر الموجودة عندي «السَّابِغَةِ» مكان «السَّابِقَةِ». عن ابن مسعود﷛.

[17] مصنف ابن أبي شيبة (31001) [30364]، حلية الأولياء 6/179، جامع  الأحاديث باب الهمزة (4311) نحوه، وفي هذه المصادر «هديا» مكان «هدًي». عن أنس ﷛.

[18] ہم اس معاملے میں محترم گل زادہ شیر پاؤ  (منشورات، 2009)کے ہم خیال ہیں جو اس دعا کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ: ’یہاں شارح کے خیالات محلِ نظر ہیں۔ دوسری دُعاؤں کے ضمن میں انھوں نے خود ایک سے زائد مرتبہ ان لوگوں پر گرفت کی ہے جو صرف روحانی فوائد پر زور دیتے ہیں اور جسمانی اور دنیوی منافع کی نفی کرتے ہیں۔ یہاں بھی اگر نفع کو جسم و روح دونوں کے لیے عام سمجھا جائے تو مختلف قسم کے علوم وفنون بھی جو انسانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، مطلوب کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں اور اس کے دلائل قرآن وسنت میں بے شمار ہیں۔ ہاں، اگر کوئی چیز دنیوی اور جسمانی نفع کے ساتھ اُخروی اور روحانی نفع کے حصول میں رکاوٹ بنے تو وہ شرعا مطلوب نہیں ہوگی ۔‘

[19] كنز العمال (3810) بلفظه، وفي جامع الأحاديث (4398)، ومسند الفردوس (2011) «أكافئه» مكان «أكافيه». عن معاذ ﷛.

[20] مسند الفردوس (8348) فلم يذكر فيه «طلبي» وذكر في كنز العمال (3834، و5061)، «قلبي» مكان «طلبي»، كذا في جامع الأحاديث حرف الهمزة مع العين (3395)،. عن علي بن أبي طالب ﷛.

[21] تاريخ دمشق لابن عساكر 52/260، كنز العمال (3850 و5021)، جامع الأحاديث باب الهمزة (4146) وعزاه إلى ابن سعد، عمل اليوم لابن السني (346) نحوه. عن أنس ﷛.

[22] الفوائد لأبي تمام (506)، كنز العمال (3855)، جامع الأحاديث (11653) وعزاه إلى الديلمي. وفي هذه المصادر «فاجعلني لي أتوب» مكان «واجعلني ممن يتوب» عن أبى هريرة ﷛.

[23] مسند الفردوس (1897)، كنز العمال (4966)، جامع الأحاديث (13061). عن أنس﷛.

[24] الجامع للترمذي (978). عن عائشة ﷝.

[25] صحيح البخاري (4440 و5674)، صحيح مسلم (85-2444)، ليس فيهما «الأعلى»، الجامع للترمذي (2496)، السنن الكبرى (7105، 10934)، موطأ إمام مالك (564)، مسند أحمد (24774 ،25947)، صحيح ابن حبان (6584)، الدعوات الكبير (216)، مصنف ابن أبي شيبة (23570) [24037 تـ عوامة]، عمل اليوم لإبن السني (1095). عن عائشة ﷝.

[26] مسند أبي يعلى الموصلي (54 و55)، ادب المفرد (716)، عمل اليوم لابن السني (286)، وليس في هذه المصادر «مِن» قبل «أن أشرك بك» أما مجمع الزوائد وفيه «أن أشرك بك (شيئا)» قال المحقق في هامش التوضيح لشرح الجامع الصحيح 29/216 «ساقطة من الأصل». عن ابي بكر﷛.

[27] المعجم الكبير للطبراني (4849)، معجم الشيوخ (407)، وفيهما «تَدْعُوَ» مكان «يَدْعُوَ». عن زيد بن ثابت﷛.

[28] المعجم الأوسط للطبراني (9304) نحوه، مسند الفردوس (1869). عن ابن عباس﷛.

[29] المعجم الاوسط (6180) والدعاء للطبراني (1339) نحوه، وذكر في مسند الفردوس (1880) بألفاظ متقاربة، تاريخ واسط صـ (130). عن علي بن أبي طالب ﷛. عن أبى هريرة ﷛.

[30] تاريخ أصبهان لابي نعيم 2/170 بلفظه، مسند الفردوس (1882)، وفي مصنف ابن أبي شيبة (29754) [29177 تـ عوامة] نحوه، كنز العمال (3817) وعزاه الى أمالي ابن صصري. عن البراء بن عازب﷛.

[31] معجم الأوسط (173)، معجم الكبير (163)، مسند احمد (6594 و17818)، الدعوات الكبير (353)، وفي هذه المصادر «وَمِنْ أن يخر على شيء، أو يخر على شيء». وذكره المتقي في كنز العمال (3786) بلفظه وعزاه الي احمد، كذا في جامع الأحاديث للسيوطي الهمزة (3408)، عن عبد الله بن عمرو بن العاص﷛.