چھٹی منزل – بروزِ جمعرات

ﵻ186ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ بِمُحَمَّدٍ نَّبِيِّكَ وَإِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِكَ وَمُوْسٰى نَجِيِّكَ وَعِيْسیٰ رُوْحِكَ وَكَلِمَتِكَ وَبِكَلَامِ مُوْسٰى وَإِنْجِيْلِ عِيْسىٰ وَزَبُوْرِ دَاوُدَ وَفُرْقَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِكُلِّ وَحْیٍ أَوْحَيْتَهٗ أَوْ قَضَاءٍ قَضَيْتَهٗ أَوْ سَائِلٍ أَعْطَيْتَهٗ أَوْ فَقِيْرٍ أَغْنَيْتَهٗ أَوْ غَنِیٍّ أَفْقَرْتَهٗ أَوْ ضَالٍّ هَدَيْتَهٗ، وَأَسْألُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَهٗ عَلٰى الْأَرْضِ فَاسْتَقَرَّتْ، وَعَلٰى السَّمٰوَاتِ فَاسْتَقَلَّتْ وَعَلٰى الْجِبَالِ فَرَسَتْ وَأَسْأَلُكَ بِاِسْمِكَ الَّذِیْ [اسْتَقَرَّ] بِهٖ عَرْشُكَ وَأَسْأَلُكَ بِاِسْمِكَ [الطَّاهِرِ الْمُطَهَّرِ الْمُنَزَّلِ فِیْ کِتَابِكَ مِنْ لَّدُنْكَ] وَبِاِسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَهٗ عَلٰى النَّهَارِ فَاسْتَنَارَ وَعَلَى الْلَّيْلِ فَأَظْلَمَ وَبِعَظَمَتِكَ وَكِبْرِيَائِكَ وَبِنُوْرِ وَجْهِكَ أَنْ تَرْزُقَنِی الْقُرْآنَ الْعَظِيْمَ وَتُخَلِّطَهٗ بِلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَتَسْتَعْمِلَ بِهٖ جَسَدِیْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ فَإِنَّهٗ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ »۔ [1]

 اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں بطفیلِ حضرت محمد کے جو تیرے نبی ہیں، اور بطفیلِ ابراہیم علیہ السلام کے جو تیرے خلیل ہیں اور اور بطفیلِ موسیٰ   علیہ السلام کے جو تیرے کلیم ہیں، اور بطفیلِ عیسٰی علیہ السلام کے جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، اور بطفیلِ کلامِ حضرت موسیٰ   علیہ السلام کے، اور انجیلِ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے، اور زبورِ حضرت داؤد علیہ السلام کے، اور فرقانِ حضرت محمد کے، اوربطفیلِ ہر وحی کے جسے تو نے بھیجا ہو یا ہر حکم ِ(تکوینی) کے جسے تو نے جاری کیا ہو، اور بطفیلِ ہر سائل کے جس کو تو نےتونگر کر دیا ہو، اور بطفیلِ ہر تونگر کے جس کو تو نے محتاج کر دیا ہو، اور ہر گمراہ کے جسے تو نے ہدایت دے دی ہو، اور میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں بطفیل تیرے اُس نام کے جس کو تو نے زمین پر رکھا اور وہ ٹھہر گئی، اور آسمانوں پر رکھا تو وہ قرار پکڑ گئے ، اور پہاڑوں پر رکھا تو وہ جم گئے، اور درخواست کرتا ہوں میں تجھ سے بطفیل اس نام کے جس سے تیرا عرش ٹھہرا ہوا ہے، اور درخواست کرتا ہوں میں تجھ سے بطفیل اُس نام کے کہ وہ پاک ہے اور ستھرا ہے، اور تیری کتاب میں تیرے پاس سے نازل ہوا ہے، اور بطفیل تیرے اُس نام کے جسے تو نے دن پر رکھا تو وہ روشن ہو گیا اور رات پر رکھا تو وہ اندھیری ہو گئی، اور بطفیل تیری عظمت اور تیری بڑائی کے، اور  بطفیل تیرے نورِ ذات کے، کہ تو مجھے قرآنِ عظیم نصیب کرے، اور اسے میرے گوشت میں اور میرے خون میں اور میری شنوائی میں اور میری بینائی میں پیوست کردے، اور اس پر میرے جسم کو عامل بنادے اپنی قدرت اور قوت سے، بے شک نہ کوئی بچاؤ (معصیت سے)ہے اور نہ کوئی قوت (طاعت) ہی کی ہے مگر تیرے ذریعہ سے ۔

شرح: اسم سے مراد جیسا کہ اوپر کسی حاشیہ میں گزر چکا ہے صفت ہوئی ہے، اور یہ صفات الہٰی ہی کے ظهور و تجلی کا نتیجہ ہے کہ عالمِ تدبیر میں یہ سارا انتظام پیدا ہو گیا ہے اور عرش وسما، زمین اور پہاڑ سب اپنے اپنے کام میں لگ گئے ہیں۔

انھی صفات ہی کی شان ِظہور ہے جس نے دن کو دن اور رات کو رات بنا رکھا ہے :

یعنی قرآن مجید کی عظمت اور اس کے احکام میری روح اور پوست سب میں حلول کر جائیں۔ میں دیکھوں تو قرآن ہی کی آنکھ سے، سنوں تو قرآن ہی کے کان سے، سوچوں تو قرآن ہی کے دماغ سے ،کوئی عمل کروں تو قرآن ہی کی قوت ہے۔ ہر طرح پر اور ہر طرح سے قرآن ہی میری زندگی پر چھا جائے۔

یعنی بس تو ہی چاہے تو ہمیں گناہوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور تو ہی چاہے تو ہمیں طاعتوں پر آمادہ کر سکتا ہے۔ ایجاب وسلب ، ترکِ معصیت وادائے طاعت کی ساری طاقتیں بس تیرے ہی ہاتھ میں ہیں۔

—————————————–

ﵻ187ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَاتُؤْمِنَّا مَكْرَكَ وَلَاتُنْسِنَا ذِكْرَكَ وَلَاتَهْتِكْ  عَنَّا سِتْرَكَ وَلَاتَجْعَلْنَا مِنَ الْغَافِلِيْنَ» ۔ [2]

اے اللہ! تو ہمیں اپنی خفیہ گرفت کی طرف سے بے فکر نہ کردے اور نہ ہمیں اپنی یاد سے غافل ہونے دے، اور نہ ہماری پردہ دری کر، اور نہ ہمیں غافلوں میں سے کر ۔

شرح: یعنی ایسا نہ ہو کہ تیری گرفتیں جو خفیہ ہوا کرتی ہیں ان کی طرف سے ہمارے دل میں بے پروائی آجائے تو ہمیں ہمیشہ اُن سے خائف اور ان کی طرف سے مشتبہ رکھ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تیری یاد ہی کو بھلا دیں، تو ہمیشہ ہماری ستاری اور پردہ پوشی کرتا رہ اور ہمیں غفلت کا شکار نہ ہونے دے۔

—————————————–

ﵻ188ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ تَعْجِيْلَ عَافِيَتِكَ [وَدَفْعَ بَلَائِكَ] وَخُرُوْجًا مِّنَ الدُّنْيَآ إِلٰى رَحْمَتِكَ »۔ [3]

اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں عافیتِ عاجل کی  (یعنی ہمیشہ عافیت میں رہوں)، اور دفعِ بلا کی، اور دنیا سے تیری رحمت کی جانب منتقل ہونے کی ۔

شرح: یعنی جب موت کا وقت آئے ، تو ہم تمام تر آغوش رحمت ہی میں جائیں۔

أَسْأَلُكَ تَعْجِيْلَ عَافِيَتِكَ : یعنی دنیا میں جب تک رہوں  تو میرے حق میں عافیت برابر نازل کرتا رہ۔

—————————————–

ﵻ189ﵺ

«يَا مَنْ يَّكْفِىْ عَنْ كُلِّ أَحَدٍ وَّلَا يَكْفِىْ مِنْهُ أَحَدٌ، يَّا أَحَدَ مَنْ لَّا أَحَدَ لَهٗ يَا سَنَدَ مَنْ لَّا سَنَدَ لَهٗ اِنْقَطَعَ الرَّجَاءُ إِلَّا مِنْكَ [نَجِّنِيْ] مِمَّآ أَ نَا فِيْهِ وَأَعِنِّى عَلٰى مَآ أَ نَا عَلَيْهِ مِمَّا نَزَلَ بِىْ بِجَاهِ وَجْهِكَ الْكَرِيْمِ وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ عَلَيْكَ اٰمِيْنَ»۔ [4]

اے وہ کہ کافی ہے وہ سب کے عوض اور کوئی بھی کافی نہیں ہے اس کے عوض، اے کس بے کسوں کے! اے سہارے بے سہاروں کے! امیدیں منقطع ہو چکی ہیں مگر تجھ سے، مجھے نجات دے اِس حال سے جس میں کہ میں ہوں ، اور جو بلا کہ نازل ہو چکی ہے اُس کے مقابلہ میں میری مدد کر،  صدقہ اپنی ذاتِ پاک کا، اور حضرت محمد کے اس حق کے طفیل میں جو تجھ پر ہے، آمین۔

شرح: يَا مَنْ يَّكْفِىْ عَنْ كُلِّ أَحَدٍ : جو شخص کسی ابتلائے تکوینی [ مرض ، فقر و غیرہ ]میں مبتلا ہو اُسے جو سہارا اللہ دے سکتا ہے وہ کسی مخلوق سے بھی ممکن نہیں۔

وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ عَلَيْكَ :یعنی حضرت محمد کے جوحق تُو نے[اپنے] اوپر اپنے وعدے کے بموجب لازم کر لیے ہیں۔[5]

—————————————–

ﵻ190ﵺ

«اَللّٰهُمَّ احْرُسْنِیْ بِعَيْنِكَ الَّتِیْ لَا تَنَامُ،  وَاكْنُفْنِیْ [بِرُكْنِكَ] الَّذِیْ لَا يُرَامُ، وَارْحَمْنِیْ بِقُدْرَتِكَ عَلَیَّ،  فَلَآ أَهْلِكَ وَأَنْتَ رَجَائِیْ، فَكَمْ مِنْ نِعْمَةٍ أَنْعَمْتَ بِهَا علَیَّ قَلَّ لَكَ بِهَا شُكْرِیْ، وَكَمْ مِنْۢ بَلِيَّةِ  ابْتَلَيْتَنِیْ بِهَا قَلَّ لَكَ بِهَا صَبْرِیْ، فَيَا مَنْ قَلَّ عِنْدَ نِعْمَتِهٖ شُكْرِیْ فَلَمْ يَحْرِمْنِیْ، وَيَا مَنْ قَلَّ عِنْدَ بَلِيَّتِهٖ صَبْرِیْ فَلَمْ يَخْذُلْنِیْ، وَيَا مَنْ  رَّاٰنِیْ عَلَى الْخَطَايَا فَلَمْ يَفْضَحْنِیْ»۔ [6]

اے اللہ! میری نگہبانی کر اپنی اُس آنکھ سے جو کبھی سوتی نہیں، اور مجھے اپنی اس قوت  و حفاظت کی آڑ میں لے لے جس کے پاس کوئی نہیں پھٹک سکتا، اور مجھ پر اپنی اس قدرت سے رحم کر جو تجھ کو مجھ پر حاصل ہے، تاکہ میں ہلاک نہ ہوں، اور تو ہی میری امید گاہ ہے، کتنی ہی نعمتیں تو نے مجھے دیں، اور میرا اُن کے لئے شکر کم ہی رہا، اور کتنی مصیبتیں ہیں جن میں تو نے مجھے مبتلا کیا، اور میرا صبر ان پر کم ہی رہا، پس اے وہ کہ اُس کی نعمت کے وقت میرا شکر کم رہا، پھر بھی مجھے محروم نہ کیا، اور اے وہ کہ اس کے ابتلاء کے وقت میرا صبر کم رہا، پھر بھی اس نے میرا ساتھ نہ چھوڑا، اور اے وہ کہ مجھے گنا ہوں پر دیکھا، پھر بھی مجھے ذلیل و رسوا نہ کیا۔

شرح: یعنی نہ عیش میں میں نے حقِ شکرِ نعمت ادا کیا اور نہ غم میں میں نے صبر ہی کا ثبوت دیا۔

بِعَيْنِكَ الَّتِیْ لَا تَنَامُ : یعنی تیری ہی آنکھ ایسی ہے جس کا جھپک جانا ممکن نہیں ۔۔۔ مطلب یہ ہوا کہ مجھے ہر لمحہ اور ہر آن اپنی حفاظت میں لیے رہ۔

—————————————–

ﵻ191ﵺ

«يَا ذَا الْمَعْرُوْفِ الَّذِىْ لَا يَنْقَضِىْ أَبَدًا، وَّيَا ذَا النَّعْمَآءِ الَّتِىْ لَا تُحْصٰٓى اَبَدًا، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّىَ عَلٰى مُحَمَّدٍ []، وَّعَلىٰٓ اٰلِ مُحَمَّدٍ، وَّبِكَ أَدْرَأُ فِیْ نُحُوْرِ الْأَعْدَاءِ وَالْجَبَابِرَةِ»۔ [7]

اے ایسے احسان والے جس کا احسان کبھی ختم نہ ہو ! اور اے ایسے نعمتوں والے کہ جس کی نعمتیں کبھی شمار نہ ہوسکیں ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ حضرت محمد پر اور حضرت محمد کی آل پر رحمتِ کامل نازل کر، میں تیرے ہی زور پر بھڑ جاتا ہوں دشمنوں اور زور آوروں کے مقابلہ میں ۔

شرح: اس آخری دعویٰ کی صحت پر تاریخی مثالیں مطلوب ہوں تو صحابہ کرام  ؓ کے مفصل حالات کا مطالعہ کر لیا جائے۔ ان میں سے ایک ایک بلا کی قوت و شجاعت رکھتا تھا، اور یہ سارا زور اسی توکل و اعتماد عَلَی اللہ نے پیدا کر دیا تھا۔

اٰلِ مُحَمَّدٍ : آل کی تصریح خود رسول اللہ کی زبانِ مبارک سے یہ آچکی ہے کہ جو کوئی میرے طریقے پر چلے وہ میری آل میں سے ہے۔

[۞رسول ِ کریم سے پوچھا گیا: آلِ محمد کون ہیں؟ فرمایا: ہر متقی(شخص) ،اور پھر آپ نے فرمایا:   (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ) (مجمع الزوائد: 17946)]

—————————————–

ﵻ192ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰى دِيْنِیْ بِالدُّنْيَا وَعَلىٰٓ اٰخِرَتِیْ بِالتَّقْوٰى وَاحْفَظْنِیْ فِيْمَا غِبْتُ عَنْهُ وَلَا تَكِلْنِیْ إِلٰی نَفْسِیْ فِيْمَا حَضَرْتُهٗ يَا مَنْ لَّا تَضُرُّهُ الذُّنُوْبُ وَلَا تَنْقُصُهُ الْمَغْفِرَةُ هَبْ لِیْ مَا لَا يَنْقُصُكَ وَاغْفِرْ لِیْ مَا لَا يَضُرُّكَ، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ  أَسْأَلُكَ فَرَجًا قَرِيْبًا  وَّصَبْرًا جَمِيْلًا  وَّرِزْقًا وَّاسِعًا  وَّالْعَافِيَةَ مِنْ جَمِيْعِ الْبَلَاءِ  وَأَسْأَلُكَ تَمَامَ الْعَافِيَةِ  وَأَسْأَلُكَ دَوَامَ الْعَافِيَةِ  وَأَسْأَلُكَ الشُّكْرَ  عَلَی الْعَافِيَةِ وَأَسْأَلُكَ الْغِنٰى عَنِ النَّاسِ »۔ [8]

اے اللہ! میرے دین پر مددگار دنیا کو بنا دے، اور میری آخرت پر مددگار تقویٰ کو کر دے، اور تو ہی  محافظ رہ میری ان چیزوں کا جو آنکھوں سے دور ہیں اور اُن چیزوں میں جو میرے پیش نظر ہیں، تو مجھے میرے نفس کے حوالہ نہ کر، اے وہ کہ نہ اسے گناہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور نہ اُس کے ہاں مغفرت کوئی کمی کرتی ہے، مجھے وہ چیز دے جو تیرے ہاں کمی نہیں کرتی ، معاف کر دے مجھے وہ چیز کہ تجھے نقصان نہیں پہنچاتی ، بے شک تو ہی بڑا دینے والا ہے، میں درخواست کرتا ہوں تجھ سے فوری کشائش کی ، اور صبرِ جمیل کی ، اور رزقِ وسیع کی ، اور جملہ بلاؤں سے امن کی ، اور میں مانگتا ہوں تجھ سے پورا چین و عافیت، اور مانگتا ہوں تجھ سے اس چین و عافیت کا دوام، اور مانگتا ہوں تجھ سے اس چین  پر توفیقِ شکر ، اور مانگتا ہوں تجھ سے مخلوق کی طرف سے بے احتیاجی ۔

شرح: یعنی میری دُنیا، دین کے کام آئے ، اور آخرت میں میرا تقویٰ میرے آڑے آ جائے۔

یعنی اگر ساری دنیا بھی گناہوں اور نافرمانیوں میں غرق ہو جائے ، تو تیرا ذرہ بھر بھی ضر ر نہیں، اور اگر تو سب کی مغفرت کر دے تو تیرے خزانے میں شمہ بھر بھی کی نہیں ہو سکتی ۔

یعنی اپنی مغفرت سے مجھے نواز ، اور میرے گناہوں سے خواہ وہ کتنے ہی ہوں ، درگز رفرما۔

دونوں لفظوں کے لانے میں نکتہ یہ ہے کہ میں درخواست تو تجھ سے کشایش ہی کی [ یعنی ] ہر بلا سے بچنے ہی کی کرتا ہوں لیکن اگر تیری حکمت ، ابتلاہی کی مقتضی ہو تو پھر مجھے صبر پسندیدہ کی توفیق عطا ہو ۔ یعنی عافیت کامل بھی ہو اور دائم بھی ہو۔

—————————————–

ﵻ193ﵺ

« وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْمِ» ۔ [9]

گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ بزرگ و برتر کی طرف سے ہے ۔

—————————————–

ﵻ194ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ سَرِيْرَتِیْ خَيْرًا مِّنْ عَلَانِيَتِیْ وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِیْ صَـالِحَةً، اَللّٰهُـمَّ  إِنِّیْ  أَسْـأَلُكَ  مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِیْ النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَالْوَلَدِ [غَيْرِ ضَالٍّ   وَّلَا مُضِلٍّ] »۔ [10]

اے اللہ ! میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنا، اور میرا ظاہر بھی بہتر فرما، اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، ان اچھی چیزوں کا، جو تو لوگوں کو دیتا ہے، مال، بیوی اور بچے میں سے، جو نہ خود گمراہ ہوں، اور نہ دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہوں (میں بھی تجھ سے ان چیزوں کا سائل ہوں)۔

شرح: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ سَرِيْرَتِیْ خَيْرًا مِّنْ عَلَانِيَتِیْ وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِیْ صَـالِحَةً : یعنی صالح و صحیح تو میرے تمام اعمال ِظاہری بھی ہو جائیں، لیکن سیرتِ باطنی کا درجہ صالحیت میں ظاہر سے بھی بڑھ چڑھ کر رہے۔

اَللّٰهُـمَّ  إِنِّیْ  أَسْـأَلُكَ  مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِیْ النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْأَهْلِ : مالِ صالح اور اہلِ صالح و اولادِ صالح کی تمنا ممنوعات دمکروہات میں سے نہیں ، اور نہ کسی درجه مقبولیت کے منافی ، [ جیسا کہ جاہل مشائخ نے فرض کر رکھا ہے بلکہ عین مطلوبات میں داخل [ ہے]۔

—————————————–

ﵻ195ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِيْنَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِيْنَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِيْنَ»۔ [11]

اے اللہ! ہمیں(اپنے ان) منتخب بندوں میں سے کر لے جن کے چہرے اور اعضاء روشن ہوں گے، اور جو مقبول مہمان ہوں گے ۔

شرح: یعنی عقائد، اخلاق ، سیرت و کردار کے ہر اعتبار سے مومن کامل ہو۔

الْغُرِّ الْمُحَجَّلِيْنَ : وہ جن کے چہرے اور اعضا آخرت میں روشن اور چمک دار ہوں گے۔

الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِيْنَ : یعنی وہ جن کی میزبانی جنت میں کی جائے گی ، اور جنتیوں کی میزبانی جیسی ہوگی ظاہر ہی ہے۔

—————————————–

ﵻ196ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ نَفْسًاۢ بِكَ مُطْمَئِنَّةً تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ وَتَرْضٰى بِقَضَائِكَ وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ»۔ [12]

اے اللہ! میں تجھ سے ایسا نفس مانگتا ہوں جو تجھ پر اطمینان رکھے، اور تجھ سے ملاقات کا یقین رکھے، اور تیری مشیت پر راضی رہے، اور تیری عطا پر قانع ہو۔(یعنی  تیری طرف سےاسے  جو کچھ ملے وہ اس پر قناعت رکھے ۔)

—————————————–

ﵻ197ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَائِماً مَّعَ [دَوَامِكَ] وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا مَّعَ خُلُوْدِكَ وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَّا مُنْتَهٰى لَهٗ دُوْنَ مَشِيَّتِكَ وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَّا يُرِيْدُ قَائِلُهٗ إِلَّا رِضَاكَ وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا عِنْدَ كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ وَّتَنَفُّسِ كُلِّ نَفَسٍ»۔ [13]

اے اللہ! حمد تیرے ہی لئے ہے، ایسی حمد کہ تیری ہمیشگی کے ساتھ وہ بھی ہمیشہ رہے، اور تیرے ہی لئے حمد ہے ایسی حمد کہ تیرے دوام کے ساتھ وہ بھی دائم رہے۔ اور تیرے ہی لئے حمد ہے ایسی حمد کہ اُس کی انتہا تیری مشیت کے اِدھر نہیں، اور تیرے ہی لئے حمد ہے ایسی حمد کہ اس کے قائل کا مقصود تمام تر تیری ہی خوشنودی ہے، اور تیرے ہی لئے حمد ہے، ایسی حمد جو ہر پلک جھپکانے  اور سانس لینےکے ساتھ ہو ۔

شرح: یعنی تیری حمد ہر جہتی ہو، ہمہ وقتی ہو، بلا شرکت، خالصتاً تیرے ہی لیے ہو، بے حد نہایت ہو۔

لَّا مُنْتَهٰى لَهٗ دُوْنَ مَشِيَّتِكَ : یعنی تیری مشیت ہی اس کی انتہا کر دے تو اور بات ہے، ورنہ اپنی طرف سے تو اس کی کوئی انتہاہی نہ ہونے دوں ۔

—————————————–

ﵻ198ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَقْبِلْ بِقَلْبِیْ إِلٰى دِيْنِكَ، وَاحْفَظْ مِنْ وَّرَآئِنَا بِرَحْمَتِكَ »۔ [14]

اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین کی طرف متوجہ کر دے، اور ہماری حفاظت اِدھر اُدھر سے رکھ اپنی رحمت کے ساتھ ۔

—————————————–

ﵻ199ﵺ

«اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِیْ أَنْ أَزِلَّ وَاهْدِنِیْ أَنْ أَضِلَّ، اَللّٰهُمَّ كَمَا حُلْتَ بَيْنِیْ وَبَيْنَ قَلْبِیْ فَحُلْ بَيْنِیْ وَبَيْنَ الشَّيْطَانِ وَعَمَلِهٖ »۔ [15]

 اے اللہ! مجھے ثابت قدم رکھ کہیں لڑکھڑا نہ جاؤں، اور مجھے ہدایت پر رکھ کہ کہیں گمراہ نہ ہو جاؤں، اے اللہ! تو جس طرح حائل ہے مجھ میں اور میرے دل میں، تو حائل رہ مجھ میں اور شیطان اور اُس کےکام [وسوسوں اور چھیڑ خانیوں ] میں ۔

—————————————–

ﵻ200ﵺ

«اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ فَضْلِكَ وَلَا تَحْرِمْنَا رِزْقَكَ وَبَارِكْ لَنَا فِيْمَا رَزَقْتَنَا، وَاجْعَلْ غِنَائَنَا فِیْ أَنْفُسِنَا، وَاجْعَلْ رَغْبَتَنَا فِيْمَا عِنْدَكَ »۔ [16]

اے اللہ! ہمیں اپنا فضل نصیب کر اور ہمیں اپنے رزق سے محروم نہ رکھ، اور جو رزق تو نے ہمیں دیا ہے اس میں برکت دے اور ہمارے دلوں کو غنی کردے اور جو کچھ تیرے پاس ہے اس کی طرف ہمیں رغبت دیدے۔

شرح: یعنی جس طرح تو اپنی کسی مصلحتِ تکوینی سے میرے اور میرے خواہشوں اور ارادوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، تو میری عرض یہ ہے کہ تو میرے اور شیطان کے درمیان حائل ہو جایا کر، تاکہ میں کوئی معصیت کر ہی نہ سکوں ، اور ہمیشہ تیری طاعت اور اطاعت میں لگار ہوں۔

یعنی ہم شوق و رغبت کے ساتھ تیرے اجر وثواب کی طرف لپکیں ۔

وَاجْعَلْ غِنَائَنَا فِیْ أَنْفُسِنَا : یعنی ہمارے دلوں سے ہَوَس ہی کو مٹادے ۔۔۔ یہ دعا بڑی کلیدی دُعاؤں میں سے ہے۔

—————————————–

ﵻ201ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تَوَكَّلَ عَلَيْكَ فَكَفَيْتَهٗ، وَاسْتَهْدَاكَ فَهَدَيْتَهٗ، وَاسْتَنْصَرَكَ فَنَصَرْتَهٗ »۔ [17]

اے اللہ! مجھے ان میں کر دے جنہوں نے تجھ پر توکل کیا پس تو اُن کے لئے کافی ہو گیا، اور انہوں نے تجھ سے ہدایت چاہی سو تو نے انہیں ہدایت دے دی اور انہوں نے تجھ سے مدد چاہی سو تو نے انہیں مدد دے دی ۔

شرح: یعنی میرا شمار انھی تو کل کرنے والوں، اور ثمرہ ٔتو کل پانے والوں، اور ہدایت چاہنے والوں، اور ہدایت یاب لوگوں میں، اور امدادِ غیبی مانگنے والوں ، اور امدادِ غیبی پا جانے والوں میں کر دے!

—————————————–

ﵻ202ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِیْ خَشْيَتَكَ وَذِكْرَكَ وَاجْعَلْ هِمَّتِیْ وَهَوَایَ فِيْمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰى، اَللّٰهُمَّ وَمَا ابْتَلَیْتَنِیْ بِهٖ مِنْ رِّخَاءٍ وَّشِدَّةٍ فَمَسِّكْنِیْ بِسُنَّةِ الْحَقِّ وَشَرِيْعَةِ الْإِسْلَامِ»۔ [18]

اے اللہ! میرے دل کے وسوسوں کو اپنی خشیت اور اپنی یاد بنا دے، اور میرے شوق اور ہمت کی چیز  وہی کر دے جسے تُو اچھا سمجھتا ہو اور پسند کرتا ہو، اے اللہ! تو میرا امتحان نرمی یا سختی، غرض جس چیز سے بھی کرے، تو مجھے طریقِ حق اور شریعتِ اسلام پر جمائے رکھ۔

شرح: یعنی اپنی ایسی دُھن میرے دل میں جمادے کہ وسو سے تک آئیں تو وہ بھی تیری ہی یاد اور تیری خشیت کے آئیں۔

اس امتحان گاہِ عالم میں آخر یہ کیوں کرممکن ہے کہ سرے سے کوئی ابتلاہی کسی درجے کا نہ پیش آئے۔دعا کا مقصود یہ ہے کہ وہ ابتلا کسی نوعیت کا بھی ہو، بہر حال نتیجہ اس سے استقامت علی الحق ہی کا نکلے۔

—————————————–

ﵻ203ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْٓ أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ فِیْ الْأَشْيَاءِ كُلِّهَا، وَالشُّكْرَ لَكَ عَلَيْهَا، حَتّٰى تَرْضٰى وَبَعْدَ الرِّضَی الْخِيَرَةَ فِیْ جَمِيْعِ مَا يَكُوْنُ فِيْهِ الْخِيَرَةُ وَلِجَمِيْعِ مَيْسُوْرِ الْأُمُوْرِ كُلِّهَا لَا بِمَعْسُوْرِهَا يَا كَرِيْمُ»۔ [19]

اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں جملہ اشیاء میں نعمت کے پورے ہونے (کمالِ نعمت) کی ، اور اُن پر تیرے شکر کی توفیق پانے کی یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے ، اور بعد خوش ہو جانے کے، میرے لئے انتخاب کردے تمام ایسی چیزوں میں جن میں انتخاب ہوتا ہے اور انتخاب بھی سب ہی آسان کاموں کا، نہ کہ دشوار کاموں کا، اے کریم!۔

شرح: یعنی وہ انتخاب  تُو ہی ہمارے لیے کردے ، انتخاب کو اندھے بندوں پر نہ چھوڑ۔

—————————————–

ﵻ204ﵺ

«اَللّٰهُمَّ فَالِقَ الْإِصْبَاحِ وَجَاعِلَ اللَّيْلِ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا قَوِّنِیْ عَلَى الْجِهَادِ فِیْ سَبِيْلِكَ »۔ [20]

اے اللہ ! صبح کے نکالنے والے اور رات کو آرام کا وقت بنانے والے، اور سورج اور چاند کو وقت کا مقیاس بنانے والے، مجھے اپنی راہ میں جہاد کی قوت دے ۔

شرح:  تیرے ایسے قادر و توانا ، اور تجھ جیسے حکیمِ مطلق کے لیے میری اس درخواست کو قبول کر لینا دشوارہی کیا ہے۔

—————————————–

ﵻ205ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ فِیْ بَلَائِكَ وَصَنِيْعِكَ إِلٰى خَلْقِكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ فِیْ بَلَائِكَ وَصَنِيْعِكَ إِلٰٓى أَهْلِ بُيُوْتِنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ فِیْ بَلَائِكَ وَصَنِيْعِكَ إِلٰى أَنْفُسِنَا خَاصَّةً، وَلَكَ الْحَمْدُ بِمَا هَدَيْتَنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ بِمَا أَكْرَمْتَنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ بِمَا سَتَرْتَنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ بِالْقُرْاٰنِ، وَلَكَ الْحَمْدُ بِالْأَهْلِ وَالْمَالِ، وَلَكَ الْحَمْدُ بِالْمُعَافَاةِ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَتّٰى تَرْضٰى، وَلَكَ الْحَمْدُ إِذَا رَضِيْتَ يَآ أَهْلَ التَّقْوٰى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ »۔ [21]

اے اللہ! تیرے ہی لئے حمد ہے تیرے ابتلاء میں اور تیری مخلوق کے ساتھ تیرے برتاؤ  میں، تیرے ہی لئے حمد ہے تیرے ابتلاء میں اور ہمارے گھر والوں کے ساتھ تیرے برتاؤ میں، اور تیرے ہی لئے حمد ہے تیرے ابتلاء میں اور خاص ہماری جانوں کے ساتھ تیرے برتاؤ میں، اور تیرے ہی لئے حمد ہے اس پر کہ تو نے ہمیں ہدایت دی، اور تیرے ہی لئے حمد ہے اس پر کہ تو نے ہمیں عزت دی، اور تیرے ہی لئے حمد ہے کہ تو نے ہماری پردہ پوشی کی ، اور تیرے ہی لئے حمد ہے قرآن پر، اور تیرے ہی لئے حمد ہے اہل و مال پر، اور تیرے ہی لئے حمد ہے درگزر کرنے پر، اور تیرے ہی لئے حمد ہے یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے، اور تیرے ہی لئے حمد ہے جبکہ تو خوش ہو جائے ، اے وہ کہ جس ذات سے ڈرنا چاہئے ، اور اے وہ کہ تو ہی مغفرت کر سکتا ہے۔

شرح: یعنی تو اپنا جو بھی برتاؤ اپنی تمام مخلوق کے ساتھ یا ہمارے کنبے والوں کے ساتھ یا ہماری ذاتِ خاص کے ساتھ رکھ ، خواہ ابتلا کا ہو یا کچھ اور ، بہر حال و بہر صورت تو ہماری طرف سے حمدِ کامل ہی کا مستحق ہے۔

یعنی تیری حمد ہے اس پر کہ تو نے قرآن جیسی نعمت عظیم سے ہمیں نوازا، اور تیری حمد ہے اس پر کہ تو نے بیوی بچے اور مال و دولت جیسی تکوینی نعمتوں سے ہمیں سرفراز کر کے زندگی کو پر لطف بنادیا۔

یعنی ڈرنے کے قابل بس تیری ہی ایک ذات ہے اور مغفرت بھی بس تُو ہی کر سکتا ہے۔

—————————————–

﴿استعاذہ﴾

ﵻ206ﵺ

«اَللّٰهُمَّ وَفِّقْنِیْ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضیٰ مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَالْفِعْلِ، وَالنِّيَّةِ وَالْهَدْىِ، إِنَّكَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ »۔ [22]

اے اللہ! مجھے اس چیز کی توفیق دے جسے تو اچھا سمجھے، خواہ وہ قول ہو یا عمل یا فعل  یا نیت یا طریق، بے شک تو ہی ہر چیز پر قادر ہے ۔

شرح: سوقول اور عمل اور فعل اور نیت اور طریق زندگی کے ہر شعبے میں توفیق خیر تمام تر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔

—————————————–

ﵻ207ﵺ

«اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ خَلِيْلٍ مَّاكِرٍ عَيْنَاهُ تَرَيَانِیْ وَقَلْبُهُ يَرْعَانِیْ إِنْ رَّاٰى حَسَنَةً دَفَنَهَا وَإِنْ رَّاٰى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا »۔ [23]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں مکار و چالباز دوست سے جس کی آنکھیں تو مجھے دیکھتی ہوں اور اس کا قلب میری نگرانی کرتا (عیب ڈھونڈتا) ہو، اگر وہ بھلائی دیکھے تو اُسے دبا دے اور برائی دیکھے تو اُس کا چرچا کرے۔

شرح: دنیا ایسے مکار ومنافق دوستوں سے بھری پڑی ہے جو نام کے تو دوست ہیں لیکن دل سے تمام تر بد خواہ ۔ ہر خوبی کو چھپانے والے، چرا ڈالنے والے اور ہر عیب کو خوب جی بھر کر اُچھالنے والے، چمکانے والے۔ ایسوں سے پناہ مانگنا بھی دنیوی دُعاؤں میں سے ایک اہم دُعا ہے۔

—————————————–

ﵻ208ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْبُؤْسِ وَالتَّبَاؤُسِ »۔ [24]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شدتِ فقر سے اور شدت ِمحتاجی سے ۔

شرح: فقر اور مسکنت اور شے ہے اور شدتِ احتیاج وفقر اور ۔ اور اس دوسری چیز سے اللہ کی پناہ طلب کرنا بالکل قدرتی اور بجا ہے۔

—————————————–

ﵻ209ﵺ

«اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ إِبْلِيْسَ وَجُنُوْدِهٖ »۔ [25]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ابلیس سے اور اس کے لشکر سے ۔

—————————————–

ﵻ210ﵺ

«اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ »۔ [26]

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں(  کہ تُو )عورتوں (یا میری خواہش ِ نفس ) کو میرے لیے آزمائش بنا دے (اور میں اس آزمائش میں پڑ کر کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھوں۔)۔[27]
شرح: فتنۂ نسائی تاریخ کے ہر دور میں اہم رہا ہے اور آج تو اس کا شمار وقت کے اہم ترین فتنوں میں ہے ۔۔۔ عورت کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ دینے میں جاہلی مذہبوں اور جاہلی تہذیبوں نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے۔

—————————————–

ﵻ211ﵺ

«اَللّٰهُمَّ [إِنِّیْ] أَعُوْذُ بِكَ أَنْ تَصُدَّ عَنِّیْ وَجْهَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ »۔ [28]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ تو قیامت کے دن مجھ سے منہ پھیر لے ۔

—————————————–

ﵻ212ﵺ

«اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْ  أَعُوْذُ بِكَ  مِنْ  كُلِّ  عَمَلٍ يُّخْزِيْنِیْ  وَأَعُوْذُ بِكَ  مِنْ كُلِّ صَاحِبٍ يُّؤْذِيْنِیْ  وَأَعُوْذُ  بِكَ  مِنْ  كُلِّ أَمَلٍ يُّلْهِيْنِیْ وَأَعُوْذُ بِكَ  مِنْ كُلِّ  فَقْرٍ  يُّنْسِيْنِیْ  وَأَعُوْذُ بِكَ  مِنْ كُلِّ غِنًى يُّطْغِيْنِیْ»۔ [29]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اُس عمل سے جو مجھے رسوا کرے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ہر ایسے ساتھی سے جو مجھے تکلیف دے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں، ہر ایسے منصوبے  اور امیدسے جو مجھے غافل کر دے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ہر ایسی مفلسی سے جو مجھے ہول میں ڈال دے( اور مجھے میرے  فرائض  بھلادے)، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ہر ایسی دولت سے جو میرا دماغ چلا دے (اور مجھے سرکش بنا دے)۔

شرح: کتنی لطیف اور حکیمانہ حقیقت یہاں بیان کر دی گئی ہے۔ حقیقتاً نہ فقرہی مذموم ہے نہ دولت۔  مذموم صرف دونوں کی پیدا کی ہوئی غفلتیں ہیں۔ حق تعالیٰ بس انھیں سے اپنے حفظ وامن میں رکھے۔

[۞ آپ نے فقر اور مالداری سے پناہ نہیں مانگی ، بلکہ فقر کے شر اور مالداری کے شر سے پناہ مانگی ہے، اسی لیے رسولِ کریم نے فرمایا ہے کہ ـ’فقر کفر تک پہنچا سکتا ہے‘ (مشکوۃ المصابیح: 5051)

حافظ مناویؒ (1031ھ) فیض القدیر  میں اس حدیث کا مطلب بتاتے  ہوئے لکھتے ہیں کہ ُاس فقر سے  وہ فقر مراد ہے جس میں ضروریات زندگی بھی پوری نہ ہو سکتی ہوں، ایسا فقر کفر کے قریب کر دیتا ہے؛ کیوں کہ یہ انسان کو مالداروں سے حسد کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور حسد نیکیاں ختم کردیتا ہے،  اور انسان اللہ تعالی کی تقدیر پر راضی نہیں رہ پاتا اور اس پر اعتراض کرنا  شروع  کر دیتا ہے، یہ تمام چیزیں اگر چہ کفر نہیں لیکن اس کی طرف لے جانے والی ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ نے  فقر سے پناہ مانگی ہے۔‘

جہاں تک مالداری کے شر کا تعلق ہےسورۃ علق (96:6-8)میں یہی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ  مال و متاع کے ملنے پر کئی دفعہ   انسان اپنے آپ کو بے نیاز سمجھ لیتا ہےاور اپنے آپ کو خدا سے مستغنی خیال کرنے لگتا ہے، شکر گزار ہونے کے بجائے  سرکشی پر اتر آتا ہے اور حدّ بندگی سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔لیکن  آخر کار اسےپلٹنا تو تیرے رب ہی کے پاس ہے۔ پھر اسے معلوم ہو جائے گا کہ اِس روش کا انجام کیا ہوتا ہے۔

اسکے علاوہ مشہور روایت الْفَقْرُ فَخْرِي  یعنی’ فقر میرا فخر ‘ہے کو محدثین مثلاً ملاعلی قاریؒ (الموضوعات الكبرى) اور ناصرالدین البانیؒ (السلسلة الضعيفة والموضوعة) نے موضوع (باطل) قرار دیا ہے ، اگر  یہ بالفرض سچ ہو بھی تو اس کا  ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسول کریم نے بوجہِ سخاوت اپنے فقرِاختیاری کو  اپنا فخر فرمایا  ہو، نہ کہ ہول ڈالنے والے فقر کو، علما کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ کا فقر اختیاری  تھا (قناعت اور سخاوت کی وجہ سے) ،
واللہ اعلم]

—————————————–

ﵻ213ﵺ

«[اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ] أَعُوْذُ بِكَ مِنْ مَّوْتِ الْهَمِّ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ   مَّوْتِ الْغَمِّ »۔ [30]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں فکر کی موت سے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں غم کی موت  سے ۔

شرح: موت بطور ایک واقعہ طبعی کے تو اپنے وقت پر بہر حال سب ہی کو پیش آتی ہے۔ پناہ مانگنے کے قبل ایسی موتیں ہوتی ہیں جو عذاب بن کر نازل ہوں ، اور انھیں میں سے یہ فکر و غم والی موتیں ہیں۔

۩ ۩ ۩


[1] الدعا للطبراني (1449) نحوه، رواه أبو الشيخ في كتاب الثواب كما في تخريج أحاديث الإحياء للعراقي 1/1314، وقال رواه رزين ولم أره بهذا اللفظ كما ذكره ابن اثير في جامع الأصول (2302)، جمع الفوائد (9421)، قوت القلوب 1/19، وفي الكل تفاوت يسير. عن ابن مسعود﷛.

[2] مسند الفردوس (2017) فيه «لاترنا» مكان «لاتؤمنا»، تخريج أحاديث الإحياء للعراقي ص 374، المقاصد الحسنة (173). عن ابن عباس﷛.

[3] صحيح ابن حبان (918) [922]، المعجم الأوسط للطبراني (969)، المستدرك على الصحيحين (1917 1/703) {1/522}، الدعاء للطبراني (1452)، الدعوات الكبير للبيهقي (223)، مسند الفردوس (1844)، جامع الأحاديث الهمزة مع التاء (209). وفي هذه المصادر بلفظ «وصبرا على بليتك» مكان «دفع بلائك». عن عائشة﷝.

[4] مسند الفردوس (1282) وفيه «فَاكْفِنِي» مكان «نجني». وفي كنز العمال (3425) «فُكَّنِي» مكان «نجني»، وفي هذه المصادر بلفظ «من كل أحد» مكان «عن كل أحد» و«مما قد نزل» مكان «مما نزل». عن عمر وعلي﷛.

[5] ۞نبی  اکرم کے ’حقوق موہوبہ‘ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے وعدوں کے ذریعے لازم فرما دیا—خصوصاً مقامِ محمود/شفاعت (17:79)، نصرت و غلبہ(48:1)، حفاظت(5:67)، اعلاءِ ذِکر(94:4)، کوثر یا حوض ِ کوثر(108:1)، وغیرہ

[6] مسند الفردوس (8317). عن على ﷛. كنز العمال (3441 و5014) وفيه بلفظ «بكنفك» مكان «بركنك»، وفيهما بلفظ «اغفر لي» مكان «وارحمني» اما في الفرج بعد الشدة 2/ 126 ففيه بلفظ «واعف عني بقدرتك».  عن جعفر صادق﷛.

[7] مسند الفردوس (8317)، كنز العمال (3441) واللفظ فيهما «والجبارين» مكان «والجبابرة»، واما في الفرج بعد الشدة 2/ 126 ففيه زيادة «والجبارين والطغاة والمتمردين». عن على﷛.

[8] تاريخ دمشق 18/86 (2159)، الفرج بعد الشدة لابن أبي الدنيا (70) {2/126} نحوه، مسند الفردوس (1913 و1832)، وفيه «لا تكلني إلى فيما» مكان إلى «نفسي» و«حضرت» مكان «حضرته». عن على﷛.

[9] نوادر الأصول 3/446 (1094) عن على َ﷛. تاريخ دمشق 18/86 (2159)، العجالة في الأحاديث المسلسلة المسلسل بقول كل راو كتبته فيها هو في جيـبي 91، والفوائد الجليلة في مسلسلات ابن عقيلة الرابع والثلاثون الحديث المسلسل بقول كل راو وكتبته وهاهو في جيبي (34) ص 162، مناقب الأسد الغالب ممزق الكتائب ومظهر العجائب (59) ص 55.

[10] سنن الترمذي (3586)، وفيه «غَيْرَ الضَّالِّ وَلَا الْمُضِلِّ» مكان «غَيْرَ ضَالِّ وَلَا مُضِلِّ». عن عمر بن الخطّاب﷛.

[11] مسند أحمد (15554 و17832). عن وفد عبد القيس﷛.

[12] المعجم الكبير (7363)، مسند الشاميين (1598)، تاريخ دمشق (3872) 35/81 و(9342) 69/158، مسند الفردوس (1835)، جامع الأحاديث حرف الهمزة (15330). عن أبی أمامة﷛.

[13] شعب الإيمان للبيهقي (4079) 6/226 نحوه، وفي مسند الفردوس (1303)، والمعجم الأوسط (5538) نحوه. عن علي بن أبي طالب﷛.

[14] مسند أبي يعلى الموصلي (3472)، الأحاديث المختارة: رقم 1682، عن أنس﷛.

[15] الإصابة في تمييز الصحابة (6667)، أسد الغابة (3228) مسند عبد الله بن الهاد، معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني (4558)، وذكره ابن كثير  في جامع المسانيد والسّنن (1095)، عن عبد الله بن الهاد﷛.

[16] مسند الفردوس (1972) {1/482}، مصنف ابن أبي شيبة (30010) نحوه، حلية الأولياء 5/66 و7/265، وفي هذه المصادر بلفظ «غِنَانَا» مكان «غِنَائِنَا» عن سعيد بن جبير ﷛. عن ابن عباس﷛.

[17] مسند الفردوس (1924)، ابن أبي الدنيا في التوكل (4) {1/137}. عن أنس﷛.

[18] مسند الفردوس (1930) {1/474} وفيه بلفظ «هَمِّيْ» مكان «هِمَّتِيْ» و«فمَكِّنِّي» مكان «فمسكني» و «وَمَا ابتلتني» مكان «وَمَا ابتليتني».

[19] الشكر لابن أبي الدنيا (109) {1/502}، جمع الجوامع المعروف بالجامع الكبير 14/309، كنز العمال (5034)، عدة الصابرين وذخيرة الشاكرين صـ 131، وفي هذه المصادر «والخيرة» مكان «الخيرة» وأيضا «بجميع» مكان «ولجميع»،. عن أبي بكر الصديق﷛.

[20] موطأ مالك (495) وفيه فَالِقَ الْإِصْبَاحِ، مصنف ابن أبي شيبة (29803)، جامع الأصول من أحاديث الرسول (2372)، وفي جميع المصادر الموجودة ِ عندي «وَقُوَّنِي فِي سَبِيلِكَ» مكان «قوني على الجهاد في  سبيلك» إلا في تخريج أحاديث الإحياء للعراقي 2/844، «قوني على الجهاد في سبيلك»، وأما اعراب «وَّالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» إما منصوب مجرور. عن يحيى بن سعيد﷛.

[21] الدعاء للطبراني (1725) نحوه، وفي جمع الجوامع المعروف بالجامع الكبير 19/168، وكنز العمال (5100) بلفظه، عن أنس بن مالك﷛.

[22] مسند الفردوس (1916)، جامع الأحاديث (4324)، كنز العمال (3797)، ولم يذكر في الدعاء للطبراني (1454)، والسنة لأبي بكر بن أبي عاصم (373) «وَالْفِعْل». عن أنس بن مالك﷛.

[23] الدعاء للطبراني (1339) وفيه لفظ «عينه يراني» مكان «عيناه ترياني»، وفي جزء فيه حديث أبي سعيد الأشج (69)، والترغيب والترهيب 4/590، (576)، وكنز العمال (3666) وعزاه الي ابن نجار، وجمع الجوامع المعروف بـ «الجامع الكبير» (232/9870) بلفظه. ﷛.

[24] معجم الصحابة للبغوي (2080)، مسند الشاميين للطبراني عن مالك بن مرارة الرهاوي (745). معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني (6۰۱۲)، الإصابة في تمييز الصحابة (6۰۱۲). عن مالك بن مرارة الرهاوي﷛.

[25] عمل اليوم والليلة لابن السني (155). عن أبي أمامة﷛.

[26] اعتلال القلوب للخرائطي (200)، الترغيب والترهيب 4/592، كنز العمال (3687)، جامع الأحاديث الأحاديث (4072). عن سعد بن أبى وقاص﷛.

[27] ۞اس دعا میں استعمال کردہ لفظ ’فتنہ‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے مختلف مفاہیم ہیں جن میں سے ایک   آزمائش یا امتحان ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :

إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ( 15 64:)

’تمہارے مال اوراولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں۔ اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے۔

اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے :

وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةًؕ ( 21:35 )

’ اور ہم اچھے اور بُرے حالات (سختی اور آسودگی)میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔

اسی طرح قرآن سورۃ زمر کی آیت 49 میں کہتا ہے کہ نعمتیں اور متاعِ دنیا تو دراصل آزمائش ہیں۔ لیکن انسان سمجھتا ہے کہ اسے سب کچھ علم کی بنا پر دیا گیاہے۔ (قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍؕ-بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ)

اور رسول اللہ نے بھی ایک اور حدیث میں فرمایا :

إنَّ لكلِّ أُمَّةٍ فتنةً وإنَّ فتنةَ أُمَّتي المالُ ( ترمذی : 2336 )

’کہ ہر امت کے لئے ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔‘

 اللہ اور اللہ کے رسول جن معنوں میں کسی کو فتنہ کہہ رہے ہیں وہ آزمائش  اور امتحان کے ہیں کہ اس دنیا میں مال، اولاد، زوج (یعنی عورت کیلیے اسکا شوہر، مرد کیلیے اسکی بیوی)، اقتدار اور شہرت وغیرہ فتنہ ہیں کسی بھی مرد اور عورت کے لئے۔ کیونکہ یہ چیزیں انسان کو اس کا ربّ بھلا سکتی ہیں، اسکے دین سے غافل کرسکتی ہیں۔ لہٰذا تنبیہ کے طور پر انسان کو بتلایا گیا ہے۔ فتنۂ نسا کا ایک مطلب  خواہشِ نفس یا جنسی خواہش بھی ہوسکتا ہے کہ میری خواہشِ نفس میرے لیے آزمائش نہ بن جائے، اس لیے  یہ دعا دونوں، یعنی مرد اور عورت، کیلیے اہم ہے۔ واللہ اعلم

[28] مسند البزار (4638)، المعجم الكبير 7048 {7/258}، كشف الأستار (523)، مجمع الزوائد (2615)، كنز العمال (19643). عن سمرة﷛.

[29] نزهة الألباب 2/856 بلفظه، مسند أبي يعلى الموصلي (4352)، مجمع الزوائد (16973)، وعمل اليوم واليل لابن السني (120)، وجامع    الأحاديث (36225)، وفي هذه المصادر بلفظ «كل صاحب يرديني» مكان «كل صاحب يؤذيني»، وفي مسند البزار (7449) نحوه، عن أنس بن مالك﷛.

[30] الدعوات الكبير (350) كنز العمال (3775) وعزاه لابن النجار، جمع الجوامع المعروف بـ «الجامع الكبير (229/9867) وفي هذه المصادر بلفظ «مِنْ مَوْتِ الْهَدْمِ»، مكان «مِنْ مَوْتِ الْهَمِّ»، جامع الأحاديث (5009)،. عن أبي هريرة﷛.