پانچویں – منزل بروزِ بدھ

ﵻ154ﵺ

«اَللّٰهُمَّ حَصِّنْ فَرْجِیْ [1] وَيَسِّرْ لِیْ أَمْرِیْ »۔ [2]

اے اللہ! میری شرمگاہ کو محفوظ کر دے، اور مجھ پر میرے کام آسان کر دے ۔

شرح: کوئی کلمہ گومرد یا عورت اگر خدانخواستہ حرام کاری میں اپنے شوق سے یا بطور پیشہ کے مبتلا ہو، اور اس بلا سے نکل آنے کی آرزو دل میں ہو تو اس دُعا کا ورد صدق دل سے کچھ عرصے تک رکھے، ان شاء اللہ ضرور کوئی صورت ، نکاح یا جائز آمدنی کی پیدا ہو جائے گی۔

وَيَسِّرْ لِیْ أَمْرِیْ : یعنی جو عملی دقتیں اور دشواریاں اس حرام شوق یا پیشے کے ترک کرنے میں پیش آرہی ہیں، انھیں دور کر کے کوئی اس کا جائز بدل مہیا کر دے!

—————————————–

ﵻ155ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ تَمَامَ الْوُضُوْءِ، وَتَمَامَ الصَّلَاةِ، وَتَمَامَ رِضْوَانِكَ، وَتَمَامَ مَغْفِرَتِكَ »۔ [3]

اے اللہ! میں تجھ سے کمال مانگتا ہوں: وضو میں ، اور نماز میں، اور تیری خوشنودی میں، اور تیری مغفرت میں ۔

شرح: کتنی حکیمانہ و عارفانہ ترتیب قائم فرمائی گئی ہے۔ جب عباداتِ مقصودہ اور عباداتِ اِلٰہیہ دونوں میں درجۂ کمال حاصل ہو جائے گا تو قدرتاً ان کے نتائج و ثمرات یعنی رضوانِ الہٰی و مغفرت الہٰی بھی درجۂ کمال ہی میں ظاہر ہوں گے۔

مومن کا کام کسی طرح گرتے پڑتے عبادتوں کو کر ڈالنا نہیں، بلکہ ہر طاعت اور عبادت کو اس کے مرتبۂ کمال تک پہنچانا ہے اور اس کا اجر وصلہ بھی اسی درجۂ کمال میں حاصل کرنا ہے۔۔۔ امتحان میں کسی نہ کسی طرح ہشتم پشتم نکل جانا نہیں، بلکہ درجۂ اول کے نمبروں میں اعزاز و ناموری کے ساتھ کامیابی حاصل کرنا ہے۔

—————————————–

ﵻ156ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِیْ كِتَابِیْ بِيَمِيْنِیْ »۔ [4]

اے اللہ! میرا نامہ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں دینا۔

شرح: مراد یہ کہ جو عین علامت ہے مقبولیت کی ، اور اس کے لائق مجھ سے دُنیا میں کام کرانا۔

—————————————–

ﵻ157ﵺ

«اَللّٰهُمَّ غَشِّنِىْ بِرَحْمَتِكَ وَجَنِّبْنِیْ عَذَابَكَ »۔ [5]

اے اللہ! مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور مجھے اپنے عذاب سے بچائے رکھنا ۔

شرح: جن بے خبر صوفیا نے عذاب الہٰی کی طرف سے اپنی بے پروائی ظاہر کی ہے، وہ ان حدیثوں سے اپنی بے خبری کا علاج کرائیں۔

غَشِّنِىْ بِرَحْمَتِكَ : مومن کا کام ایسی ہی رحمت الہٰی کی طلب ہے، جو اسے ہر طرف سے ڈھانپ لے، وہ اس پر پوری طرح چھا جائے ، کوئی حصہ اس کے جسم وروح کا بے ڈھکا باقی نہ رہنے دے۔

—————————————–

ﵻ158ﵺ

«اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْ قَدَمَیَّ يَوْمَ تَزِلُّ فِيْهِ الْأَقْدَامُ »۔ [6]

اے اللہ! میرے قدم (اس دن) ثابت رکھنا جس دن کہ قدم ڈگمگانے لگیں گے ۔

شرح: ظاہر ہے کہ یومِ قیامت مراد ہے۔

—————————————–

ﵻ159ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مُفْلِحِيْنَ »۔ [7]

اے اللہ! ہمیں فلاح یاب بنانا ۔

شرح: فلاح کا لفظ عربی میں ایک وسیع ترین و جامع ترین لفظ ہے۔ دنیوی واخروی وروحانی، بڑی اور چھوٹی ، ہر قسم کی کامیابی پر حاوی۔

—————————————–

ﵻ160ﵺ

«اَللّٰهُمَّ افْتَحْ أَقْفَالَ قُلُوْبِنَا بِذِكْرِكَ، وَأَتْمِمْ عَلَيْنَا نِعْمَتَكَ، وَأَسْبِغْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلِكَ، وَاجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ »۔ [8]

اے اللہ! اپنے ذکر سے ہمارے دلوں کے قُفل کھول دے، اور ہم پر اپنی نعمت کو پورا کر، اور ہم پر اپنے فضل کو پورا کر، اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں سے کرلے ۔

شرح:  مطلوب محض حصولِ نعمت و فضل نہیں، بلکہ اتمامِ نعمت و تکمیلِ فضل ہے۔

حدیث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ دلوں پر جو غفلت کے قفل لگ جاتے ہیں ان کی کلید ذکر ِالہٰی ہی ہے۔

—————————————–

ﵻ161ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اٰتِنِیْ أَفْضَلَ مَا تُؤْتِیْ عِبَادَكَ الصَّالِحِيْنَ »۔ [9]

اے اللہ! مجھے وہ سب سے بڑھ کر دے جو تو اپنے نیک بندوں کو دیتا ہے۔

  شرح: اللہ سے نعمت مانگنے میں دخل، پست ہمتی کو نہ ہو ، طلب و درخواست ہمیشہ بڑے ہی سے بڑے  انعام کی کرتے رہنا چاہیے۔

—————————————–

ﵻ162ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِیْ مُسْلِمًا، وَأَمِتْنِیْ مُسْلِمًا »۔ [10]

اے اللہ! مجھے مسلمان ہی زندہ رکھ اور مسلمان ہی رکھ کر مجھے وفات دے ۔

شرح: سب ہی کچھ ان دو لفظوں کے اندر آ گیا، اور کچھ باقی ہی نہ رہا۔ سبحان اللہ کتنی جامع دُعا ہے!

—————————————–

ﵻ163ﵺ

«اَللّٰهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ»۔ [11]

اے اللہ! کافروں کو عذاب دے، اور ان کے دلوں میں ہیبت بٹھا دے، انکی بات میں اختلاف پیدا کر دےاور ان پر اپنا قہر و عذاب نازل کر ۔

—————————————–

ﵻ164ﵺ

«اَللّٰهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ، وَالْمُشْرِكِيْنَ الَّذِيْنَ يَجْحَدُوْنَ اٰيَاتِكَ وَيُكَذِّبُوْنَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ وَيَتَعَدَّوْنَ حُدُوْدَكَ وَيَدْعُوْنَ مَعَكَ إِلٰهًا اٰخَرَ لَا إِلٰهَ إِلَّآ أَنْتَ تَبَارَكْتَ، وَتَعَالَيْتَ عَمَّا يَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا»۔ [12]

اے اللہ! کافروں کو عذاب دے، چاہے وہ اہل کتاب ہوں یا مشرک، بہر حال جو بھی تیری آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور تیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں، اور تیری راہ سے (دوسروں کو) روکتے ہیں، اور تیری  (مقرر کی ہوئی) حدوں سے تجاوز کرتے ہیں، اور تیرے ساتھ کسی اور معبود کو بھی پکارتے ہیں، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں ہے بجز تیرے،  بابرکت ہے تُو،اور ہر طرح نہایت درجہ برتر ہے تو اس سے کہ جو یہ ظالم کہتے ہیں۔

شرح: معاذ اللہ، یہ مشرک اور کافر جیسی جیسی گندہ صفات تیری جانب منسوب کرتے رہتے ہیں، تیری ذاتِ اقدس کو ان سے نسبت ہی کیا !

اَللّٰهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَأَنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ: اللہ کے نافرمانوں ، سرکشوں کے حق میں دعائے بد کرنا، نا جائز نہیں، بلکہ بعض حالات میں تو مندوب و مستحسن بھی ہے۔

الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ، وَالْمُشْرِكِيْنَ: کافروں کی دو عمومی قسمیں بیان کر دی ہیں۔ بعض ان میں سے اہل کتاب ہیں، جنھوں نے عقائدِ کفریہ اختیار کر لیے ہیں اور بعض تو سرے سے توحید ہی کے منکر ہیں۔

—————————————–

ﵻ165ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ [لِیْ وَ]لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَصْلِحْهُمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ، وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَالْحِكْمَةَ، وَثَبِّتْهُمْ عَلٰى مِلَّةِ رَسُوْلِكَ، وَأَوْزِعْهُمْ أَنْ يَّشْكُرُوْا نِعْمَتَكَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، وَأَنْ يُّوْفُوْا بِعَهْدِكَ الَّذِیْ عَاهَدْتَّهُمْ عَلَيْهِ، وَانْصُرْهُمْ عَلٰى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، إِلٰهَ الْحَقِّ »۔ [13]

اے اللہ تو مجھے بخش دے، اور تمام ایمان والوں اور ایمان والیوں کو، اور تمام اسلام والوں  اور اسلام والیوں کو، اور انہیں سنوار دے، اور اُن کے آپس میں صلح کر دے، اور اُن کے دلوں میں الفت دے دے، اور ان کے دلوں میں حکمت اور ایمان رکھ دے، اور انہیں اپنے رسول کے دین پر ثابت رکھ، اور انہیں توفیق دے کہ جو نعمت تو نے انہیں نصیب کی ہے اس کا وہ شکر کرتے رہیں، اور جو عہد تو نے اُن سے لیا ہے اُسے وہ پورا کرتے رہیں، اور انہیں اپنے اور اُن کے دشمنوں پر غالب رکھ، اے معبود برحق !

شرح: مومن اپنے ساتھ ساتھ تمام اہل ملت کے حق میں دعائے خیر کرتا رہے۔ یہ

رسولِ اسلام  کی تعلیمات کا خاص اور اہم جزو ہے۔

جو اللہ کے دشمن ہیں وہ لازمی طور پر اللہ کے لشکر کے بھی دشمن ہوں گے اور ہر کلمہ گو اللہ کے لشکر کا سپاہی ہے۔

بِعَهْدِكَ الَّذِیْ عَاهَدْتَّهُمْ عَلَيْهِ : وہ عہد یہی اقرار، توحید و اطاعت کا ہے جو ہر کلمہ گو سے لیا گیا ہے ۔

—————————————–

ﵻ166ﵺ

«سُبْحَانَكَ لَآ إِلٰهَ غَيْرُكَ، اِغْفِرْ لِیْ ذَنْۢبِیْ، وَأَصْلِحْ لِیْ عَمَلِیْ، إِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوْبَ لِمَنْ تَشَٓاءُ، وَأَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ، يَا غَفَّارُ اغْفِرْ لِیْ، يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَیَّ، يَا رَحْمٰنُ ارْحَمْنِیْ، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّیْ، يَا رَءُوْفُ ارْأُفْ بِیْ، يَا رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيٓ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ، وَطَوِّقْنِیْ حُسْنَ عِبَادَتِكَ، يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهٖ، يَا رَبِّ افْتَحْ لِیْ بِخَيْرٍ، وَاخْتِمْ لِیْ بِخَيْرٍ، وَقِنِی السَّيِّئَاتِ ، وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ، وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ »۔ [14]

تو پاک ہے،تیرے سوا  کوئی معبود  نہیں ہے، میرے گناہ بخش دے، اور میرے عمل درست کر دے، بے شک تو ہی گناہ بخش دیتا ہے جس کے چاہتا ہے، اورتو ہی مغفرت کرنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے، اے بخشے والے! مجھے بخش دے، اے تو بہ قبول کرنے والے ! میری تو بہ قبول کر، اے بہت زیادہ رحم کرنے والے! مجھ پر رحم کر، اے معاف کرنے والے! مجھے معاف کر، اے مہربان ! مجھ پر مہربانی کر، اے پروردگار ! مجھے تو فیق دے کہ تو نے جو نعمت مجھے دی ہے اس کا شکر ادا کروں اور مجھے طاقت دے کہ تیری عبادت اچھی طرح کروں، اے پروردگار! میں تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں سب کی سب، اے پروردگار ! میرا آغاز خیر کے ساتھ کر، اور میرا خاتمہ خیر کے ساتھ کر ، اور مجھے بُرائیوں سے بچالے، اور جسے تو نے برائیوں سے اس دن بچا لیا بے شک تو نے اس پر رحم ہی کیا، اور یہی تو سب سے بڑی کامیابی ہے۔

شرح: اس دُعا کی ہمہ گیری اور ہمہ جہتی سے الگ اور مستثنیٰ کون سا شعبہ دنیا یا آخرت کا رہ جاتا ہے۔

يَوْمَئِذٍ : یعنی روز حساب کو۔

—————————————–

ﵻ167ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهٗ، وَلَكَ الشُّكْرُ كُلُّهٗ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهٗ، وَلَكَ الْخَلْقُ كُلُّهٗ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهٗ، وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ، أَسْأَلُكَ الْخَيْرَ كُلَّهٗ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهٖ»۔ [15]

اے اللہ! تیرے ہی لئے تعریف ہے سب کی سب،اور تیرے ہی لئے شکر ہے سب کا سب، اور تیرے ہی لئے ہے حکومت سب کی سب اور تیرے ہی لئے ہے مخلوق سب کی سب، تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے سب کی سب اور تیری ہی طرف امور رجوع ہوتے ہیں سب کے سب، میں مانگتا ہوں تجھ سے بھلائی سب کی سب، اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں ساری کی ساری برائیوں سے۔

شرح:

كُلُّهٗ: کی تکرار قابل ِلحاظ ہے۔ مقصودات اور مطلوبات جتنے بھی ہیں، ان میں سے حقیر یا نا قابلِ اعتنا کوئی بھی نہیں ۔ سب کے سب تمام و کمال ہی بلاکسی ادنیٰ جز و کومستثنٰی کیے ہوئے حاصل کرنے اور طلب کرنے کے قابل ہیں، بندے کا کمال و عروج عین اس کی عبدیت ، حاجت مندی و مُنقادی [تسلیم ورضا ] میں ہے نہ کہ اس کے برعکس میں ۔

—————————————–

ﵻ168ﵺ

«بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَآ إِلٰهَ غَيْرُهٗ» ۔ [16]

اس اللہ کے نام (کی برکت) سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔

شرح:  بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَآ إِلٰهَ غَيْرُهٗ : کا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ میں اس اللہ کا نام لیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

—————————————–

ﵻ169ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّی الْهَمَّ وَالْحُزْنَ. اَللّٰهُمَّ بِحَمْدِكَ اِنْصَرَفْتُ وَبِذَنْۢبِیْ اِعْتَرَفْتُ» ۔ [17]

اے اللہ! مجھ سے فکر و غم دور فرما دے، اے اللہ! میں تیری ہی حمد کے ساتھ چلتا پھرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں ۔

شرح: یہ اعترافِ ذنب ، رسول   کر رہے ہیں گو [ ظاہر ہے ان کا ذنب انھی کے مرتبے و معیار سے ہوگا ، اور صرف ضرور تاً ہوگا نہ کہ معناً و حقیقتاً ]تو ظاہر ہے کہ ہم امتیوں کا تولحہ لمحہ اسی اعترافِ تقصیر میں بسر ہوتے رہنا چاہیے۔

—————————————–

ﵻ170ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِلٰهِیْ وَإِلٰهَ إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَإِلٰهَ جِبْرَئِيْلَ وَمِيْكَآئِيْلَ وَإِسْرَافِيْلَ أَسْأَلُكَ أَنْ تَسْتَجِيْبَ دَعْوَتِیْ فَأَنَا مُضْطَرٌّ وَّتَعْصِمَنِیْ فِیْ دِيْنِیْ فَإِنِّیْ مُبْتَلًى وَّتَنَالَنِیْ بِرَحْمَتِكَ فَإِنِّیْ مُذْنِبٌ وَّتَنْفِیَ عَنِّی الْفَقْرَ فَإِنِّیْ مُتَمَسْكِنٌ» ۔ [18]

اے اللہ! میرے معبود! اور ابراہیمؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ کے معبود! اور جبرائیلؑ اور میکائیلؑ اور اسرافیلؑ کے معبود! میں تجھ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ میری عرض قبول کر لے کہ میں بے قرار ہوں، اور تو مجھے میرے دین کے باب میں محفوظ رکھ کہ میں بلا میں پڑا ہوا ہوں، اور اپنی رحمت میرے شاملِ حال رکھنا کہ میں گنہگار ہوں، اور مجھ سے محتاجی دور رکھنا کہ میں بے کس ہوں ۔

شرح: ملائکہ مقربین ہوں یا انبیائے مرسلین   ﷨، حق تعالیٰ کا رشتہ سب کے ساتھ معبودیتِ مطلق ہی کا ہے، اور اس کے حق میں سب عبدِ محض ہی ہیں۔

زمانۂ قیام ِمدینہ منورہ میں جہاں ذی اثر و صاحب علم وصاحب وجاہت یہود کے اثر سے طرح طرح کی گمراہیاں اور بد دینیاں پھیل رہی تھیں، دُعاؤں اور تعلیمات کے ذریعے سے ایسی اصلاحیں بہت ضروری تھیں۔

یہاں چار دعا ئیں بیان ہوئی ہیں اور چاروں میں ترتیبِ باہمی اور تناسب بہت خوب ہے۔ پہلی دُعا قبولِ دعا کی ہے اور اس کا شفیع اپنے اضطرار کو بنایا ہے۔ پھر معاًد عا عصمتِ دینی کی ہے اور اس پر شفیع اپنے ابتلا کو بنایا ہے، تیسری دُعا شُمولِ رحمت کی ہے اور اس پر دلیل اپنی مُذ نِبِیت سے لائی گئی ہے۔ آخری دُعا رفعِ فقر کی ہے اور اس پر حجت اپنی مسکینی سے لائی گئی ہے۔

—————————————–

ﵻ171ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّىْ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّآئِلِيْنَ عَلَيْكَ، فَاِنَّ لِلسَّآئِلِ عَلَيْكَ حَقًّا، أَيَّمَا عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ مِّنْ أَهْلِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَقَبَّلْتَ دَعْوَتَهُمْ، وَاسْتَجَبْتَ دُعَآءَ هُمْ أَنْ تُشرِكَنَا فِیْ صَالِحِ مَا يَدْعُوْنَكَ [فِيْهِ]، وَأَنْ تُشْرِكَهُمْ فِیْ صَالِحِ مَا نَدْعُوْكَ [فِيْهِ]، وَأَنْ تُعَافِيَنَا وَاِيَّاهُمْ، وَأَنْ تَقْبَلَ مِنَّا وَمِنْهُمْ، وَأَنْ تَجَاوَزَ عَنَّا وَعَنْهُمْ، فَاِنَّنَا آمَنَّا بِمَآ أَنْزَلْتَ، وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ، فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ»۔ [19]

اے اللہ! میں تجھ سے ہر اُس حق سے مانگتا ہوں جو سائلوں کا تجھ پر ہے( کیونکہ بے شک سائلوں کا تجھ پر حق ہے جسے تو نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اوپر قائم کر لیا ہے) کہ خشکی اور تری کے جس کسی بھی بندے یا بندی کی دُعا تو نے قبول کی ہو، تو ہمیں ان اچھی دعاؤں میں شریک کر دے جو وہ تجھ سے مانگیں، اور تو انہیں اُن اچھی دعاؤں میں شریک کر دے جو ہم تجھ سے مانگیں، اور یہ کہ تو ہمیں اور انہیں عافیت دے، اور تو ہماری اور اُن کی دعائیں قبول کر، اور یہ کہ تو ہم سے اور اُن سے درگزر کر، بے شک ہم ایمان لائے اُس پر جو تو نے اُتارا ہے، اور ہم نے رسول کی پیروی کی ، پس ہمیں بھی شہادت و گواہی  دینے والوں میں لکھ لے۔

شرح: یعنی تو نے اپنے فضل و کرم سے ان کا حق اپنے او پر قائم کر لیا ہے۔۔۔ ورنہ حقیقتاً ظاہر ہے کہ کسی مخلوق کا کوئی حق اللہ تعالیٰ کے ذمے واجب نہیں ہو سکتا۔ بندے کی سعادت کی معراج یہ ہے کہ اس کا نام حق کے مبطلوں اور منکروں میں نہیں بلکہ مصدقوں اور شاہدوں میں لکھ لیا جائے ۔ اور اس کی تمنا بندہ بڑے ذوق وشوق سے کرتا ہے۔

—————————————–

ﵻ172ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِيْلَةَ وَاجْعَلْ فِىْ الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهٗ وَفِىْ الْأَعْلَيْنَ دَرَجَتَهٗ وَفِىْ الْمُقَرَّبِيْنَ ذِكْرَهٗ »۔ [20]

اے اللہ! حضرت محمد کو مقامِ وسیلہ عنایت کر، اور آپ کی محبوبیت برگزیدہ لوگوں میں کر دے اور آپ کا مرتبہ عالی لوگوں میں، اور آپ کا ذکر اہل تقرب میں کر دے ۔

شرح:

الْوَسِيْلَةَ : جنت کا وہ مرتبہ اعلی ہے جس کا وعدہ رسول اکرم  سے ہو چکا ہے، اور اس مرتبے پر فائز ہو کر آپ  اہل اُمت کی شفاعت کا اذن بھی حاصل کر لیں [گے]۔

دُعا میں تعلیم اس کی مل رہی ہے کہ جو مراتب و فضائل رسول کے واسطے موعود ہیں، اور جن کے باب میں وعدۂ الہٰی کے بعد شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ، ان تک کے لیے بھی دعا خود کرنا اور اہلِ اُمت سے کرانا ، عین تقاضائے عبدیت ہے۔

—————————————–

ﵻ173ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اهْدِنِیْ مِنْ عِنْدِكَ، وَأَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِكَ، وَأَسْبِغْ عَلَیَّ مِنْ رَّحْمَتِكَ، وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْۢ بَرَكَاتِكَ »۔ [21]

اے اللہ! مجھے اپنے ہاں سے ہدایت نصیب کر اور مجھے اپنے فضل و کرم سے مستفید کر اور مجھ پر اپنی رحمت کامل کر، اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل کر ۔

شرح: ہدایت وہی ہے جس کا صدور حق تعالیٰ کے پاس سے ہوتا ہے۔

—————————————–

ﵻ174ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ» ۔ [22]

اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر، اور میری تو بہ قبول کر ، تو ہی بڑا تو بہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم والا ہے ۔

شرح: تیرا تو کام ہی تو بہ قبول کرتے رہنا، اور فضل وکرم بے حساب کرتے رہنا ہے۔

—————————————–

ﵻ175ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ تَوْفِيْقَ أَهْلِ الْهُدٰى وَأَعْمَالَ أَهْلِ الْيَقِيْنِ وَمُنَاصَحَةَ أَهْلِ التَّوْبَةِ وَعَزْمَ أَهْلِ الصَّبْرِ وَجِدَّ أَهْلِ الْخَشْيَةِ وَطَلَبَ أَهْلِ الرَّغْبَةِ وَتَعَبُّدَ أَهْلِ الْوَرَعِ وَعِرْفَانَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَتّٰى [اَلْقَاكَ]، اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ مَخَافَةً [تَحْجُرُنِیْ] عَنْ مَّعَاصِيْكَ حَتّٰى أَعْمَلَ بِطَاعَتِكَ عَمَلاً أَسْتَحِقُّ بِهٖ رِضَاكَ وَحَتّٰى أُنَاصِحَكَ بِالتَّوْبَةِ خَوْفًا مِّنْكَ وَحَتّٰى أُخْلِصَ لَكَ النَّصِيْحَةَ [حَيَاءً مِّنْكَ] وَحَتّٰى أَتَوَكَّلَ عَلَيْكَ فِیْ الْأُمُوْرِ [كُلِّهَا] وَحُسْنَ ظَّنٍّ بِكَ، سُبْحَانَ خَالِقِ النُّوْرِ»۔ [23]

اے اللہ! میں تجھ سے توفیق مانگتا ہوں اہلِ ہدایت کی سی، اور عمل اہلِ یقین کے سے، اور اخلاص اہلِ توبہ کا سا، اور ہمت اہلِ صبر کی سی ، اور کوشش اہلِ خوف کی سی ، اور طلب اہلِ شوق کی سی ، اور عبادت اہلِ تقوی کی سی ، اور معرفت اہلِ علم کی سی ، تا آنکہ میں تجھ سے آ ملوں۔

اے اللہ! میں تجھ سے وہ خوف مانگتا ہوں جو مجھے تیری نافرمانیوں سے روک دے، تاکہ میں تیری طاعت کے ایسے عمل کروں جن سے میں تیری خوشنودی کا مستحق ہو جاؤں ، اور تاکہ میں تجھ سے ڈر کر تیرے سامنے خالص تو بہ کروں، اور تا کہ تجھ سے شرما کر تیرے روبرو خلوص کو صاف کروں، اور تا کہ کُل کاموں میں تجھ پر بھروسہ کروں، اور تیرے ساتھ گمانِ نیک کا سوالی ہوں،تو  پاک ہے اے نور کے پیدا کرنے والے!

شرح:  یعنی وقت موت تک ان میں سے کسی چیز میں خلل نہ پڑے۔۔۔ ہر ہر طبقے کی وہ چیز مانگی ہے جو اس طبقے میں درجۂ کمال میں موجود ہے۔

تَوْفِيْقَ أَهْلِ الْهُدٰى : انھیں پوری توفیق نہ مل گئی ہوتی تو یہ اہلِ ہدی ٰہوتے ہی کیوں۔

أَعْمَالَ أَهْلِ الْيَقِيْنِ : عمل بہترین جبھی صادر ہوتے ہیں جب یقین پختہ ترین ہو چکتا ہے۔

مُنَاصَحَةَ أَهْلِ التَّوْبَةِ : اہلِ تو بہ کا اخلاص اگر کامل نہ ہوتا تو انھیں تو بہ کی توفیق ہی کیوں ہوتی ۔

وَعَزْمَ أَهْلِ الصَّبْرِ : ہمت ہی تو وہ چیز ہے جو اہلِ صبر سے سب کچھ برداشت کر ا لیتی ہے۔

جِدَّ أَهْلِ الْخَشْيَةِ : خشیت جب پوری طرح طاری ہو گی تو انسان ہر ممکن جد و جہد کر ڈالے گا۔

طَلَبَ أَهْلِ الرَّغْبَةِ : اہل شوق و طلب کی طلب کا کیا کہنا۔

تَعَبُّدَ أَهْلِ الْوَرَعِ : جو تقوی میں کمال رکھتے ہیں وہی عبادت کا بھی حق ادا کر سکتے ہیں۔

عِرْفَانَ أَهْلِ الْعِلْمِ : جو علوم شرعیہ میں جتنا زیادہ مستغرق ہو گا اس نسبت سے اس کی معرفت بھی کامل ہوگی۔

اللہ سے [ اتنا] خوف ، جتنا اس کا حق ہے ، کون بندہ بے چارا رکھ سکتا ہے اور برداشت کر سکتا ہے؟ خوف کا درجہ ٔکافی اس کے لیے صرف اتنا ہے کہ بس گناہوں سے روک ہو جائے اور طاعت کی جانب رغبت پیدا ہو جائے ۔ باقی تمام مطلوبات اسی کے ثمرات ہوں گے۔

حق تعالیٰ خالق ِنور ہے، جس طرح اور ہر چیز کا بھی خالق ہے۔ بذات خود نہ جو ہر ہے، نہ عرض ، نہ معنی میں نور ، جس میں مجوس وغیرہ گمراہ قوموں نے سمجھ رکھا ہے۔

—————————————–

ﵻ176ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَا تُهْلِكْنَا فُجَآءَةً، وَلَا تَأْخُذْ نَا بَغْتَةً، [وَلَا تُغْفِلْنَا ] عَنْ حَقٍّ وَّلَا وَصِيَّةٍ »۔ [24]

اے اللہ! ہمیں ناگہاں ہلاک نہ کرنا ، اور نہ ہمیں اچانک پکڑنا ، اور نہ ہمیں کسی حق و وصیت کی طرف سے غفلت میں رکھنا۔

شرح: یعنی کسی کے حق یا وصیت کا اِتلاف اسلام میں ایک شدید معصیت ہے۔

—————————————–

ﵻ177ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اٰنِسْ وَحْشَتِىْ فِىْ قَبْرِىْ »۔ [25]

اے اللہ ! میری قبر میں وحشت کی جگہ اُنس پیدا کر دینا ۔

شرح: قبر ایک ایسا مقام ہے جس سے انسان کو اس عالمِ ناسوت میں وحشت ہونا امرطبعی ہے، یہاں بندےکی زبان سے دُعا اس کی کرائی جارہی ہے کہ وہ وحشت اُنس میں تبدیل ہو جائے ۔

—————————————–

ﵻ178ﵺ

«اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِیْ بِالْقُرْآنِ الْعَظِيْمِ وَاجْعَلْهُ لِیْ إِمَامًا وَّنُوْرًا وَّهُدًى وَّرَحْمَةً، اَللّٰهُمَّ ذَكِّرْنِیْ مِنْهُ مَا نَسِيْتُ وَعَلِّمْنِیْ مِنْهُ مَا جَهِلْتُ وَارْزُقْنِیْ تِلَاوَتَهٗ اٰنَآءَ اللَّيْلِ وَاٰنَآءَ النَّهَارِ وَاجْعَلْهُ لِیْ حُجَّةً يَّا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ »۔ [26]

اے اللہ! مجھ پر قرآنِ عظیم کے طفیل میں رحم کرنا ، اور اسے میرے حق میں رہبر اور نور اور ہدایت اور رحمت بنا دینا، اے اللہ! میں اس میں سے جو کچھ بھول گیا ہوں وہ  مجھے یاد کرا دے، اور اس میں سے جو کچھ میں نہ جانتا ہوں وہ مجھےسکھا دے اور مجھے اس کی تلاوت دن اور رات کے اوقات میں نصیب کر، اور اسے میرے لئے حُجت بنادے، اے پروردگار عالم ۔

شرح:  قرآن کے درجاتِ فضائل و برکات سب ان دعاؤں سے بالکل ظاہر ہیں۔

وَاجْعَلْهُ لِیْ حُجَّةً : یعنی دنیا و آخرت میں میری دلیل، میرا سہارا ۔۔۔ یعنی اس کی بنا پر میں یہاں بھی قائم رہوں اور وہاں بھی۔

—————————————–

ﵻ179ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَنَا عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِیْ بِيَدِكَ۔[27] أَتَقَلَّبُ فِیْ قَبْضَتِكَ، وَأُصَدِّقُ بِلِقَآئِكَ، وَأُوْمِنُ بِوَعْدِكَ أَمَرْتَنِیْ فَعَصَيْتُ، وَنَهَيْتَنِیْ فَأَتَيْتُ، هٰذَا مَكَانُ الْعَآئِذِ بِكَ مِنَ النَّارِ، لَآ إِلٰهَ إِلَّآ أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ، [ إِنَّهٗ] لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّآ أَنْتَ» [28]

اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں اور بیٹا ہوں تیرے بندے اور بندی کا ، ہمہ تن تیری ہی مٹھی میں ہوں، تیرے قبضہ میں چلتا پھرتا ہوں ، تیرے ہی ملنے کی تصدیق کرتا ہوں، اور تیرے وعدہ پر یقین رکھتا ہوں، تو نے مجھے حکم دیا، لیکن میں نے نافرمانی کی ، اور تو نے مجھے (گناہ سے)روکا تو میں نے اس کا ارتکاب کیا، یہ جگہ دوزخ سے پناہ لینے کی تیرے ذریعہ سے ہے، کوئی معبود نہیں ہے سوائے تیرے، تُو پاک ہے، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، تو مجھے بخش دے، بے شک کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا بجز تیرے۔

 

شرح:

[نَاصِيَتِیْ بِيَدِكَ] :  لفظی معنی یعنی ’ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ‘مراد نہیں، بلکہ عربی محاورے میں اس سے مراد تمام ترکسی کے اختیار و قبضے میں ہونا ہوتا ہے۔

أَنَا عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ : کمال عجز و تذلل وافتقار [انکساری]کے اظہار کے لیے ہے کہ میں خود تو کیا، جنھوں نے بظاہر اسباب مجھے پیدا کیا ہے، وہ تک تیرے ہی بندے ہیں۔

حاکم پر اثر ڈالنے اور اس کے رحم و کرم کو طلب کرنے کا یہ کتنا مؤثر عنوان ہے کہ اے اللہ ! میں تیرا بندہ، میرا باپ تیرا بندہ، میری ماں تیری بندی! ۔۔۔  میرے گوشت پوست کے ہر ہر جزو پر تیری بندگی کی ثبت !

حضرت آدم ؑ  کی دعائے قرآن بھی اس موقع پر یاد کر لی جائے:

رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا سکتة   وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا   لَنَكُوْنَنَّ   مِنَ   الْخٰسِرِيْنَ ۝۲۳ [الاعراف 23:7]

نتیجہ یہ نکلا کہ از حضرت آدم ؑ تا اِیں دم، بڑے بڑے کاملین و مقربین کے لیے بھی کھلی ہوئی راہ یہی اعترافِ ذُنوب اور استغفار کی ہے۔

—————————————–

ﵻ180ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَإِلَيْكَ الْمُشْتَكٰى وَبِكَ الْمُسْتَغَاثُ وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ »۔ [29]

اے اللہ ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، اور اور تیری طرف ہی شکایت ہے اور تجھی سے مدد مانگی جاتی ہے اور گناہوں سے پِھرنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ کے بغیر نہیں ہے۔

(۞فائدہ: موسیٰ علیہ السلام کی دعا بنی اسرائیل کے ساتھ دریا پار کرتے ہوئے)۔

شرح: یعنی ہر مدح دو صف کا سزاوار بھی تو ہی ہے اور ہر قسم کی شکایت و فریاد کا مخاطَبِ صحیح بھی، تو اور ہر مدد مانگے جانے کا اہل بھی تُو ہی اکیلا۔

گناہوں سے بچانا اور اطاعت کی طرف لانا صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔

—————————————–

﴿استعاذہ﴾

—————————————–

ﵻ181ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ لَآ أُحْصِیْ ثَنَآءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَآ أَثْنَيْتَ عَلٰى نَفْسِكَ» ۔ [30]

اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو ودرگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف پوری طرح کر ہی نہیں سکتا ، تُو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے۔

—————————————–

ﵻ182ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَعُوْذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَّزِلَّ أَوْ نُزِلَّ أَوْ نُضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ يُظْلَمَ عَلَينَا أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا أَوْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ »۔ [31]

اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اس سے کہ ہم کہیں ڈگمگا جائیں یا کسی کو ڈگمگا دیں، یا ہم کسی کو گمراہ کریں، یا ہم کسی پر ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے، یا ہم جہالت کریں یا کوئی ہم سے جہالت کرے، یا میں گمراہ ہوں یا کوئی مجھے گمراہ کرے۔

—————————————–

ﵻ183ﵺ

«أَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْهِكَ الْكَرِيْمِ الَّذِىْ أَضَآءَتْ لَهُ السَّمٰوَاتُ، وَأَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ وصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنْ تُحِلَّ عَلَیَّ غَضَبَكَ وَتُنْزِلَ عَلَیَّ سَخَطَكَ، وَلَكَ الْعُتْبٰى حَتّٰى تَرْضٰى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ»۔ [32]

میں تیری ذاتِ گرامی کے نور کی پناہ میں آتا ہوں جس نے آسمانوں کو روشن کر رکھا ہے، اور اس سے ظلمتیں چمک اُٹھی ہیں، اور اس سے دنیا و آخرت کے کام درست ہیں۔

میں پناہ چاہتا ہوں اس امر سے کہ تو مجھ پر اپنا غصہ اُتارے، اور تو مجھ پر اپنی نا خوشی نازل کرے، اور حق ہے کہ تجھے ہی منایا جائے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے، اور نہ کوئی بچاؤ (گناہ) سے ہے، اور نہ کوئی طاقت (عبادت کی) ہے، مگر تیری ہی مدد سے۔

شرح:

أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ :  یعنی اگر وہ نور نہ ہوتا تو آج جو روشنیاں نظر آ رہی ہیں، یہ سب تاریکیاں ہی رہتیں۔

—————————————–

ﵻ184ﵺ

«اَللّٰهُمَّ وَاقِيَةً كَوَاقِيَةِ الْوَلِيْدِ »۔ [33]

اے اللہ! میں نگہبانی چاہتا ہوں بچہ کی سی نگہبانی ۔

شرح:یعنی جس طرح شفیق ماں [ اپنے ]بچے کو اپنی آنکھ سے ایک لمحے کے لیے نہیں اوجھل ہونے دیتی اور ہمہ وقت اس کی نگہبانی اور نگرانی میں لگی رہتی ہے، یہ بندہ حق تعالیٰ سے ایسی ہی نگہبانی ہر ہر جزیئے میں چاہتا ہے۔

—————————————–

ﵻ185ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّى أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْأَعْمَيَيْنِ السَّيْلِ وَالْبَعِيْرِ الصَّؤُلِ »۔ [34]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں دو اندھی برائیوں سے، یعنی سیلاب اور حملہ آور اونٹ سے ۔

شرح:عرب میں نا گہانی مصیبت کے لیے بطور مثال کے ان دو چیزوں کا نام لیا جاتا تھا۔

۩ ۩ ۩


[1] مسند الفردوس (8830)، تخريج أحاديث إحياء علوم الدين (290)، ذكره المتقي الهندي في كنز العمال (26990-26992) وعزاه الي الديلمي، روضة المحدثين (5062)، عن على بن أبى طالب﷛.

[2] السنن الكبري للبيهقي (9475)، الدعوات الكبير (537)، مصنف ابن أبي شيبة (15135 و29656)، عن على بن أبى طالب﷛.

[3] مسند الحارث (78 و469)، المطالب العالية باب ما يذكر على الوضوء 1/25 (81)، كنز العمال (26993)، عن على بن أبى طالب﷛.

[4] مسند الفردوس (8830)، التلخيص الخبير (117)، كنز العمال (26990 و26992)، نتائج الأفكار 1/258، جامع الأحاديث، مسند علي، (33327 و33671 و33672)، عن علي. قال النووي في الأذكار وأما الدعاء على أعضاء الوضوء، فلم يجئ فيه شيء عن النبي  وقد قال الفقهاء يستحبّ فيه دعوات جاءتْ عن السلف، وزادوا ونقصوا فيها

[5] كنز العمال (26990)، وفي اتحاف سادات المتقين 2/361، ونتائج الأفكار 1/261 بلفظ «اللَّهُمَّ تَغَشَّنَا» مكان «اللَّهُمَّ غَشنَي»، وفي البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبير الحديث الْحادي والسّتّون الحَدِيث الثَّانِي، وتحفة المحتاج إلى أدلة المنهاج باب الْوضوء (89) بلفظ «اللَّهُمَّ غَشنَا بِرَحْمَتك وجنبنا عذابك». عن أنس﷛.

[6] التلخيص الحبير (117) نحوه، كذا في جمع الجوامع المعروف بـ «الجامع الكبير» (4/1191)، وكنز العمال (26992)، البدر المنير 2/270 و275. عن أنس﷛.

[7] عمل اليوم والليلة لابن السني (92)، الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير (9124)، المقاصد الحسنة (175)، كنز العمال (17960)، الأذكار للنووي (219)، الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية 2/130. كلهم عزاه إلى ابن السني. عن معاوية بن أبي سفيان﷛.

[8] عمل اليوم والليلة لابن السني (100)، الثقات لابن حبان (100)، مسند الفردوس 1/484 (1978)، لم يذكر في المصادر «أسبغ علينا». عن أنس بن مالك﷛.

[9] صحيح ابن خزيمة (453)، السنن الكبرى (9841)، مسند البزار (113)، المستدرك للحاكم 1/132 (748) و2/74 (2402)، مسند أبي يعلى الموصلي (693)، صحيح ابن حبان (4640)، الدعاء للطبراني (492)، عمل اليوم والليلة لابن السني (106). عن سعد بن أبي وقاص﷛.

[10] مسند البزار (4638)، المعجم الكبير (6903) {7048}. عن سمرة بن جندب﷛.

[11] الدعوات الكبير (432)، عنْ أنس بْن مالك ﷛. مصنف عبد الرزاق (4968) {3/110}. عن أبي رافع ﷛. و(4989) {3/120}. عن ابن جريج﷛.

[12] الدعاء للطبراني (750) نحوه، وذكر كلمة «يصدّوْن عنْ سبيْلك» في بعض القنوت كما في نتائج الأفكار المجلس (150)، {2/110} وغيرها، عن عبد الله بن زريْر﷛. من يريد الاطلاع على صيغة القنوت فليراجع «القنوت في الوتر» لوليد بن عبد الرحمن بن محمد آل فريان

[13] الدعوات الكبير (432)، وفيه «اللهم اغفر» مكان «اللهم اغفرلي» عن أنس بن مالك﷛. مصنف عبد الرزاق (4968 و4982) نحوه. عنْ أبي رافع وعن ابن جريج﷛.

[14] المعجم الكبير (9799) {9942} لم يذكر فيه «يومئذ». مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (2862 و3394) {2/143} نحوه، عنْ عبْد الله بْن مسعود﷛.

[15] ذكره في كنز العمال (22551) وعزاه الي ابن تركان في الدعاء والديلمي. ولم يذكر «ولك الشكر كله» في شعب الإيمان (4088)، والدعاء للطبراني (1746)،. عن أبي سعيد﷛.

[16] مسند الفردوس (2132)، المعجم الأوسط (2499)، الدعاء للطبراني (658)، نزهة الألباب في قول الترمذي وفي الباب 2/856. عن أنس بن مالك﷛.

[17] مسند الفردوس (1956)، أما في أخبار أصبهان من اسمه عبيد الله ففيه زيادة «الغم» عن أنس بن مالك﷛.

[18] كنز العمال (3476)، مسند الفردوس (1970)، عمل اليوم والليلة لابن السني (138) وفيه «فَإِنِّي مُضْطَرٌّ» نزهة الألباب في قول الترمذي وفي الباب 2/859،. عن أنس بن مالك﷛.

[19] كنز العمال (4977) وعزاه الي الديلمي، وجامع الأحاديث (9823) {17/225}، وفيهما «فإنّا» مكان «فإننا»، وليس فيهما «فيه» في الموضعين، عن أبي سعيد الخدرى﷛.

[20] كنز العمال (21015)، جامع الأحاديث حرف الهمزة (2291)، المعجم الكبير (9669) {7990}، الدعاء للطبراني باب القول عند الأذان (433)، نخب الأفكار 3/121. وفي هذه المصادر بلفظ «أعط» مكان «آتِ». عن عبد الله﷛.

[21] مسند الفردوس (1911)، جامع الأحاديث للسيوطي (9135)، كنزالعمال (3520). عن ابن عباس﷛.

[22] مسند أحمد (5354)، مسند الفردوس (3241)، المعجم الكبير (13532) فيه «رب» مكان «اَللّٰهُمَّ»، كذا في جامع الأحاديث (12462). عن ابن عمر﷛.

[23] الترغيب والترهيب كتاب النوافل، الترغيب في صلاة التسبيح (4)، كنز العمال (21549)، وعزاه الى أبي نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء في المقدمة 1/76، وفيه «حتى اخافك» مكان «ألقاك» و «تحجزنيْ» مكان «تحجرنيْ» و «حبا» مكان «حياء» وكذا في جامع الأحاديث بحرف الياء (28010) وفيه «الأَمر» مكان «الأُمور»، ولم يذكر في المصادر المذكورة «كلها» بعد «أمورها»، وفي مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (3679) {2/282}، ففيه «النار» مكان «النور». عن ابن عباس﷛.

[24] المعجم الأوسط للطبراني (7572)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (3226) {2/201}، وفيهما «لا تعجلنا» مكان «لا تغفلنا» عن عبد الله بن مسعود﷛.

[25] جامع الأحاديث باب الهمزة (1475)، كنز العمال (2784). عن أبى أمامة﷛.

[26] إتحاف سادات المتقين 4/492 فصل في اعتبار سجدات القرآن، غيث النفع صفحة 406، تخريج أحاديث الإحياء للعراقي كتاب آداب تلاوة الْقرْآن الْباب الثّاني في ظاهر آداب التّلاوة. قال العراقي رواه أبو منصور المظفر بن الحسين الأرجاني في فضائل القرآن وأبو بكر بن الضحاك في الشمائل كلاهما من طريق أبي ذر الهروي من رواية داود بن قيس معضلًا.

[27] مسند أحمد (4318)، المعجم الكبير (10198) {10352} فيه «إِنِّي» مكان «أَنَا»، كذا في الدعاء للطبراني (1035)، ومسند ابن أبي شيبة (329)، ومسند البزار (1994)، صحيح ابن حبان (972)، الدعوات الكبير (185)، حبان (972). عن ابن مسعود﷛.

[28] مسند الفردوس (1895) نحوه، وفيه «فَإِنَّهُ» مكان «إِنَّهُ» عن ابْن عمر﷛.

[29] الدعوات الكبير (264)، مسند الفردوس (1807). ولم يذكر «وَبِكَ الْمُسْتَغَاثُ» في المعجم الأوسط (3394) والمعجم الصغير (339). عن ابن مسعود﷛.

[30] صحيح مسلم (222-486)، سنن أبي داؤد (1427)، سنن النسائي (137) و(1748)، سنن ابن ماجه (3841) (1179)، صحيح ابن حبان  (1929)، المستدرك على الصحيحين (1150)، الدعوات الكبير (437)، الدعاء للطبراني (751). عنْ عائشة﷝. وعليّ﷛.

[31] هذا الدعاء مقتبس من روايات متعددة، سنن أبي داؤد (5095)، سنن الترمذي (3427)، السنن الكبرى للنسائي (7926)، مسند الطيالسي (1607 و1630)، الطبراني في الكبير (11) {24/9}، وفى الأوسط (2383) {3/34}. بتغيير. عن عبد الله بن مسعود﷛. وعنْ عائشة﷝. وأمّ سلمة وميمونة﷝.

[32] المعجم الكبير (181)، الدعاء للطبراني (1036)، جامع الأحاديث حرف الهمزة (4023)، الترغيب والترهيب 4/585،. عن عبد الله بن جعفر﷛.

[33] مسند الفردوس (2005)، الدعاء للطبراني (1446)، الترغيب والترهيب 4/585، جامع الأحاديث (4103)، مسند الشهاب القضاعي (1484-1487). عن عبد الله ابن عمر﷛.

[34] أمثال للرامهرمزي 1/158،)، الطبراني فى الكبير (858) 24/344، الترغيب والترهيب 4/590، كنز العمال (3649)، جامع الأحاديث (4064)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (17183). وفي الكل «والْبَعِيرِ الصَّؤُولِ» عن عائشة بنت قدامة بن مظعون﷛.