خطبہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ

نَحْمَدُكَ يَا خَيْرَ مَأْمُوْلٍ، وَاَكْرَمَ مَسْئُوْلٍ،

عَلىٰ مَا عَلَّمْتَنَا مِنَ الْمُنَاجَاةِ الْمَقْبُوْلِ، مِنْ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُوْلِ،

فَصَلِّ عَلَيْهِ مَا اخْتَلَفَ الدَّبُوْرُ وَالْقَبُوْلُ، وَانْشَعَبَتِ الْفُرُوْعُ مِنَ الْاُصُوْلِ،

ثُمَّ نَسْئَلُكَ   بِمَا  سَنَقُوْلُ  وَمِنَّا  السُّؤَالُ  وَمِنْكَ  الْقَبُوْلُ.

اے ان سب سے بہتر، جن سے امید لگائی جاسکتی ہے، اور اے ان سب سے کریم تر، جن سے کچھ طلب کیا جاسکے !

ہم تیری حمد کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں مناجاتِ مقبول سکھائی، جو اللہ کے ہاں موجبِ قربت ہے ، اور رسول اللہ کی دعائیں سکھائیں۔

تو (اے الله) ، اُن(رسول اللہ)  پر رحمتِ کامل نازل فرما جب تک کہ مغرب اور مشرق کی ہوائیں چلتی رہیں، اور جڑوں سے شاخیں پھوٹتی رہیں (یعنی ہمیشہ ہمیشہ)۔

اس کے بعد ہم تجھ سے سے وہ طلب کرتے ہیں، جو ابھی( آگے) عرض کرتے ہیں۔ کہ ہمارا کام طلب کرنا ہے اور تیرا کام عطا کرنا۔

دعا ئیں جس جامعیت اور تاثیر کی ہیں، وہ تو اگلے صفحات سے ظاہر ہی ہوتی رہیں گی، خود یہ دیبا چہ بھی اسی شان کا ہے۔دعائیں تو خیر اللہ اور رسول کی بتلائی ہوئی ہیں لیکن یہ دیباچہ تو محض ایک محبوب امتی یا مقبول بندے کے قلم سے ہے۔

نَحْمَدُكَ۔۔۔ الرَّسُوْلِ:دیبا چہ میں بجز اس کے اور ہے کیا ، اور ہونا چاہیے بھی کیا کہ پہلے سب سے بڑے دینے والے اور دلوانے والے کی مدح و توصیف۔

 فَصَلِّ۔۔۔الْاُصُوْلِ :پھر ان بزرگ کا ذکرِ خیر اور ان کے حق میں رحمتِ ابدی کی دعا، جو اس دینے اور دلوانے کے کاروبار میں سب سے بڑا ذریعہ اور واسطہ ہیں ۔

 ثُمَّ ۔۔۔الْقَبُوْلُ:اور اس کے معاً بعد عرضِ مدعا کہ اے کریم وسخی داتا! لے، بس اب تیرے در پر یہ گدا سوال کرنے اور صدا لگانے ہی کو ہے۔

دینے والے اور بخشنے والے کو تو کسی تیاری کی ضرورت نہیں ، وہ تو ہمہ وقت اور ہر جہتی تیاری رکھتا ہی ہے لیکن اس مختصر بلیغ دیباچے نے مانگنے والے اور لینے والے کی روح کو کیسا تر و تازہ کر دیا، اور اس کے قالب میں ہمت و مستعدی کی کیسی روح پھونک دی!

مَا اخْتَلَفَ الدَّبُوْرُ۔۔۔الْاُصُوْلِ :یعنی جب تک یہ دنیا اور کار خانہ کا ئنات قائم ہے۔عربی محاورے میں ان فقروں سے مراد ہمیشہ ہمیش ہے۔