دوسری منزل – بروزِ اتوار

ﵻ47ﵺ

«رَبِّ أَعِنِّیْ وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، وَانْصُرْنِیْ وَلَا تَنْصُرْ عَلَیَّ، وَامْكُرْ لِیْ وَلَا تَمْكُرْ عَلَیَّ، وَاهْدِنِیْ وَيَسِّرِالْهُدٰى لِیْ، وَانْصُرْنِیْ عَلٰى مَنْ بَغٰى عَلَیَّ، رَبِّ اجْعَلْنِیْ لَكَ ذَكَّارًا، لَّكَ شَكَّارًا، لَّكَ رَهَّابًا، لَّكَ مِطْوَاعًا، لَّكَ مُطِيْعًا، اِلَیْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ، أَوَّاهًا مُّنِيْبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِیْ، وَاغْسِلْ حَوْبَتِیْ، وَأَجِبْ دَعْوَتِیْ، وَثَبِّتْ حُجَّتِیْ، وَسَدِّدْ لِسَانِیْ، وَاهْدِ قَلْبِیْ، وَاسْلُلْ سَخِيْمَةَ صَدْرِیْ»۔ [1]

اے میرے پروردگار!میری مدد فرمااور میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، مجھے کامیاب کراورمیرے دشمن کو مجھ پر کامیاب نہ کر، میرے لیے خفیہ تدبیر فرمااورمیرے مخالف کے لیےتدبیر نہ فرما،مجھے ہدایت دےاورمیرے لیے ہدایت کا راستہ آسان کردے، اور جوشخص مجھ پر ظلم کرےاس کے مقابلے میں میری مددکر۔

اے میرے رب! مجھے اپنا شکرگزار، اپنی  یاد کرنے والا، اپنے سے ڈرنے والا، اپنا فرمانبردار، اپنی طرف گڑگڑانے والا(متوجہ ہونےوالا) بنادے۔

اے میرے پروردگار!میری توبہ قبول کرلے، میرے گناہ دھو ڈال،میری دعا قبول فرما، میری حُجت مضبوط کردے،میری زبان کوسیدھا رکھ، میرے دل کو راہِ راست پرلگا اورمیرے سینےکی کُدُورَت نکال دے۔

شرح :مطلب یہ کہ جس سے دین کی پابندی اور خدا اور بندوں کے حقوق کی ادائی میرے اوپر آسان ہو جائے۔یہ دعادنیا اور آخرت کی تمام حسنات کی جامع ہے۔

وَاهْدِنِیْ :یعنی میں تو مسلسل ہدایت کا محتاج ہوں، مجھے ہر منزل اور ہر قدم پر ہدایت حاصل ہوتی رہے۔

وَيَسِّرِالْهُدٰى لِیْ:بندہ کو چاہیے کہ راہ ہدایت پر قائم رہنے کی سہولت کی ہمیشہ طلب کرتا رہے۔

لَكَ ذَكَّارًا: کہ تجھے ہر حال میں اور زندگی کے ہر موقع و مقام میں یاد کرتار ہوں۔

رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِیْ:شانِ عبدیت و نیاز مندی یہ ہے کہ تو بہ بھی کیے جائے ، اور پھر قبولِ تو بہ کی دعا بھی کرتا رہے۔

وَثَبِّتْ حُجَّتِیْ:یعنی میں دین کی جس حجت پر قائم ہوں ، اس میں ضعف و تزلزل نہ پیدا ہونے پائے۔

—————————————–

ﵻ48ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا، وَارْضَ عَنَّا، وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ، وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهٗ»۔[2]

اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہو جا، ہماری عبادت قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، اور جہنم سے بچا، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے۔

شرح :وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ:جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات کی تمنا قرآنی دعاؤں کی طرح حدیثی دُعاؤں کا بھی ایک جز و اعظم ہے۔دعاؤں کے صیغہ کے جمع متکلم میں آنے پر حاشیے پہلے گزر چکے۔

—————————————–

ﵻ49ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوْرِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِیْ أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوْبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِيْنَ لِنِعْمَتِكَ، مُثْنِيْنَ بِهَا قَابِلِيْهَا، وَأَتِمَّهَا عَلَيْنَا»۔[3]

اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہمارے آپس کے تعلقات کو درست فرما دے، اور سلامتی کی راہوں کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے،ہماری  آنکھوں، دلوں اور ہمارے ازواج اور بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے، تُو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں کا قدردان، ان پر شکر گزار و ثنا خواں  اور ان نعمتوں کے قابل بنا، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے۔

شرح :یعنی اپنی نعمتیں ہمیں بہ تمام و کمال عنایت کر، اور ہمیں اس قابل کر کہ ہم انھیں قبول کر کے ان کا حق ادا کر سکیں۔

اَللّٰهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِنَا:آپس کا اتحاد اور امت میں میل ملاپ جس درجے میں اہم ہے، اسی سے ظاہر ہے کہ رسول نے اسے ایک مقصود قرار دے کر اس کے لیے دعا کی تعلیم کی ہے۔

وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوْرِ :  شہواتِ نفس اور عقلی گمراہیوں کی ظلمتیں کہ تہ بہ تہ اور بے شمار ہوتی ہیں۔ اس لیے قرآن کی طرح حدیث میں ان کے لیے جمع کا صیغہ آیا ہے۔ بخلاف اس کے نور و ہدایت ، خط ِمستقیم کی طرح مفرد ہے۔

وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ: بچنے کے قابل صرف پبلک فضیحتے نہیں ہوتے[ جیسا کہ بڑی بڑی مہذب جاہلی قوموں نے سمجھ رکھا ہے] بلکہ وہ خفی گناہ بھی ہوتے ہیں جنھیں کانوں کان کسی باہر والے کو خبر نہیں ہوتی۔

وَبَارِكْ لَنَا فِیْ أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوْبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا: آنکھ ، کان ، دل کی صحت اور بیوی بچوں کی خیر و عافیت بشر کے سکونِ قلب کے لیے جس قدر ضروری ہیں ، اس کا تجربہ ہر صاحبِ تجربہ رکھتا ہے۔۔۔ ہمارے ہادی اور سردار نے امت کے کمزور سے کمزور فرد کے جذبات کی بھی کتنی رعایت کرلی ہے!

—————————————–

ﵻ50ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيْمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَّقَلْبًا سَلِيْمًا [وَّخُلُقاً مُسْتَقِيْماً]، وَّأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ»۔[4]

اے اللہ! میں تجھ سے  (درست) معاملہ پر ثابت قدمی(جماؤ ٹھہراؤ) کی توفیق مانگتا ہوں، میں تجھ سے نیکی و بھلائی کی پختگی چاہتا ہوں (اور اعلیٰ صلاحیت کا طلبگار ہوں)، میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنی نعمت کے شکریہ کی توفیق دے، اپنی  عبادت  عمدہ طریقے سےکرنے کی توفیق دے، میں تجھ سے لسانِ صادق (سچی زبان)، قلبِ سلیم اور اخلاقِ صحیح کا طالب ہوں، اس خیر کا بھی میں تجھ سے طلب گار ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کی جنہیں تو جانتا ہے تو بیشک ساری پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔

شرح :یعنی  تُو تو ان گناہوں سے بھی واقف ہے، جو خلق میں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں۔

فِی الْأَمْرِ:میں امرسے مراد امورِ دین ہیں۔[ہمارے خیال میں اس سے مراد دین و دنیا دونوں کے امور ہیں، کیونکہ اسلام دین اور دنیا میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ہمیں تو دنیا وآخرت کی بھلائی مانگنے کا حکم ہے۔]

وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ :نعمتوں پر ادائے شکر کی توفیق ، یہ بھی اللہ ہی سے طلب کرنے کی چیز ہے۔

حُسْنَ عِبَادَتِكَ:محض عبادت اپنی خشک صورت میں نہیں، بلکہ حسنِ عبادت بھی ایک درجے میں مطلوب و مقصود ہے۔

أسْأَلُكَ مِنْ خَيْرٍ مَا تَعْلَمُ :دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیاں بہت ہی لطیف و خفی قالب رکھتی ہیں، ان کا علم تو محض توفیق الہٰی ہی سے ہو سکتا ہے۔

أَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ:ہربشر کے کتنے ہی گناہ ایسے ہوتے ہیں جنھیں وہ اس اہتمامِ اخفا کے ساتھ کرتا ہے، کہ بجز عالم ُالغیب کے کسی بشر کوان کی خبرنہیں ہونے پاتی۔ یہاں ان سب سے استغفار مقصود ہے۔

—————————————–

ﵻ51ﵺ

«اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَآ أَخَّرْتُ وَمَآ أَسْرَرْتُ وَمَآ أَعْلَنْتُ وَمَآ أَنْتَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّیْ »۔[5]

اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور اس گناہ کو  بھی جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔

شرح :یعنی ممکن ہے کہ میں ان کو بھول گیا ہوں، تو تو نہیں بھول سکتا۔ ممکن ہے وہ میرے محض شعورِ خفی میں ہوں ، تیرے لیے مخفی و جلی کا کوئی سوال نہیں ۔

اغْفِرْ لِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَآ أَخَّرْتُ وَمَآ أَسْرَرْتُ وَمَآ أَعْلَنْتُ: ایک مختصر سے فقرے میں عمر کے ہر دور کے اور ہر قسم کے گناہوں سے معافی طلبی آگئی۔

—————————————–

ﵻ52ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهٖ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيْكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهٖ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَا تُهَوِّنُ بِهٖ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَآ أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلىٰ مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلىٰ مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِیْ دِيْنِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَآ أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، [ وَلَا غَايَةَ رَغْبَتِنَا]، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَّا يَرْحَمُنَا»۔[6]

اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کی خیر کو ہمارے بعد باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ اس سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما،  اور ہمارے دین میں ہمارے لئے مصیبت نہ ڈال، اور دنیا کو ہمارا مقصودِ اعظم نہ بنا دے (اور نہ ہی دنیا کے معاملات کو ہماری سب سے بڑی پریشانی بننے دے)، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا (کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو) اور نہ ہماری رغبت کی منزلِ مقصود ،اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔ [7]

شرح :حدیث کی اعلیٰ دعاؤں میں یہ دعا خاص طور  پر اعلیٰ ہے اور رسولِ اسلام علیہ الصلوة والسلام کی شان حکیمانہ پر ایک شاہد عادل۔

اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهٖ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيْكَ:خشیت الہٰی کا جو پورا حق ہے، اسے کون بشر ادا کر سکتا ہے، کس میں اتنی قوت وہمت ہے؟ طاعت، [فرماں برداری ] کافی صرف اس درجے میں ہے جو بندے کی رسائی جنت تک کرادے۔

وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَا تُهَوِّنُ بِهٖ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا: یقین و ایمان باللہ کا وہ درجہ کافی ہے جو دنیا کے مصائب کی برداشت بندے پر آسان کر دے۔

وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَآ أَحْيَيْتَنَا:زندگی بھر انسان سماعت کا اور بصارت کا اور جسمانی قوت کا جس درجہ محتاج رہتا ہے، ذرا سے غوروتامل کے بعد ہر شخص پر ظاہر ہو سکتا ہے۔

وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا: یعنی ان چیزوں کی اچھی یادگاریں میرے بعد بھی باقی رہ جائیں۔

وَلَا تَجْعَلْ مُصِيْبَتَنَا فِیْ دِيْنِنَا:مصیبت ہر قسم کی بری ہے لیکن جس مصیبت کا تعلق دین سے ہو وہ تو خاص طور پر بری ہے۔ اس لیے اس سے بچنے کی دعا بھی مستقل کرائی گئی۔

وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَآ أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا غَايَةَ رَغْبَتِنَا:دُعا کا یہ جزو اہم ترین ہے، اور آج جو بھی مصیبتیں ہم پر چھائی ہوئی ہیں ، اس کے ملحوظ نہ رکھنے سے ہیں۔ کاش! ہم یہ سمجھ لیتے اور سیکھ لیتے کہ دنیا نہ ہماری مقصودِ اصلی ہے اور نہ ہمارے علم اور شوق کی منتہا اور غایت! یہ دنیا تو ہمارے بڑے ہی طویل سفرِ زندگی کی صرف ایک مختصرسی منزل ہے اور بس۔

—————————————–

ﵻ53ﵺ

«اَللّٰهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَاَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَاَعْطِنَا ولَا تَحْرِمْنَا، وَاٰثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَاَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا» ۔[8]

اے اللہ! ہمیں زیادہ دے، ہمیں دینے میں کمی نہ کر، ہمیں عزت (وآبرو) دے، ہمیں ذلیل و رسوا نہ کر، ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز، اپنی نوازشات سے ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں (اوروں) پر فضیلت دے، اور دوسروں کو ہم پر فضیلت و تفوّق نہ دے، اور ہمیں راضی و خوش کر دے اور ہم سے راضی و خوش ہو جا ۔[9]

شرح :اللہ کی خوشی جو طلب کی گئی ہے وہ تو یہ ہے کہ وہ اپنی نعمتوں سے بندے کو سرفراز کرتا رہے۔ اور بندے کی خوشی جس کی دعا کی گئی ہے، یہ ہے کہ اس کی دلی مرادیں پوری ہوتی رہیں۔

زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا:یہ بڑھاؤ گھٹاؤ غالباً مادی راحتوں اور نعمتوں کے لحاظ سے ہے۔

وَاٰثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا:یہ بڑھاؤ گھٹاؤ غالباً روحانی مدارج کے اعتبار سے ہے۔

 وَاَعْطِنَا ولَا تَحْرِمْنَا:اس میں مادی وروحانی ہر قسم کی بخششیں اور عطیے آگئے۔

—————————————–

ﵻ54ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِیْ رُشْدِیْ» ۔[10]

اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے ۔

شرح :رشد و ہدایت کی دعا اگر اخلاص کے ساتھ جاری رہے تو یہ بجائے خود ایک بڑا عملی اقدام اصلاحی زندگی کے حق میں ثابت ہوگا۔

]۞عمران بن حصینؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم نے میرے باپ سے پوچھا: ”اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟“ میرے باپ نے جواب دیا سات کو، چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ”ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: ”اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے“، پھر جب حصینؓ اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِیْ رُشْدِیْ وَأَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ» ”اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے“۔(ترمذی: 3483)[

—————————————–

ﵻ55ﵺ

«اَللّٰهُمَّ قِنِیْ شَرَّ نَفْسِیْ، وَاعْزِمْ لِیْ عَلىٰ رُشْدِ أَمْرِیْ »۔[11]

اے اللہ! مجھے میرے نفس کی برائی سے محفوظ رکھ، اور مجھے میرے معاملات کی اصلاح کی ہمت دے ۔[12]

—————————————–

ﵻ56ﵺ

«اَسْأَلُ اللهَ الْعَافِيَةَ فِیْ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ »۔[13]

میں اللہ سے دنیا و آخرت دونوں میں عافیت مانگتا ہوں ۔[14]

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ: اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں (تیرے)  عفو اور عافیت کا طالب ہوں۔ سنن ابن ماجہ: 3871 ]

شرح :سبحان اللہ !کتنی جامع دعا ہے۔ سب کچھ اس کے اندر آ گیا، ایک متن ہے کہ جس کی جتنی چاہیے شرح کرتے جائیے۔

[۞حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ منبر پر کھڑے ہوئے پھر رونے لگے اور فرمایا: اللہ سے معافی اور عافیت کا سوال کرو، کیونکہ کسی کو دولتِ ایمان نصیب ہو جانے کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔(مشكوة المصابيح: 2489)

حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے عافیت مانگیں“، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اے عباسؓ! اے رسول اللہ کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کریں“۔(ترمذی: 3514)]

—————————————–

ﵻ57ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِيْنِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَإِذَآ أَرَدْتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِیْ غَيْرَ مَفْتُونٍ، [وَ] أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُّقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ»۔[15]

اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے، منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے ، اور مساکین سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تُو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے۔

شرح :سبحان اللہ و بحمدہ ! کس حکیمانہ انداز سے یہاں اس حقیقت کا اظہار فرمایا گیا ہے کہ مقصودِ اصلی تو حبِ الہٰی ہے لیکن ساتھ ہی مقصودیت میں شریک و شامل وہ اعمال بھی ہیں جو حبِ الہٰی سے قریب کر دیں ! ۔۔۔ اللہ ہی محبوب نہیں ، اللہ کی طاعات و فرائض بھی محبوب ہیں، کہ وہ سب اس منزل تک پہنچانے والے ہیں۔

وَحُبَّ الْمَسَاكِيْنِ:دعاحب مساکین کی کرائی گئی ہے، حبِ اغنیا و امرا کی نہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ شریعت اسلام میں فقرا و مساکین کا کیا درجہ ہے۔۔ صحیح سوشلزم اور حقیقی کمیونزم یہیں ہے، بغیر فساد و اِفساد کے۔

وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ : یہ نص صاف ہے اس بارے میں کہ اللہ ہی نہیں ، اللہ والے بھی محبوب ہونے چاہئیں ۔

—————————————–

ﵻ58ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَأَهْلِیْ وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ» ۔[16]

اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت  (یعنی دنیا کی تمام نعمتوں) سے بھی زیادہ کر دے۔

شرح: یعنی جو بڑی سے بڑی اور گہری سے گہری طبعی  محبتیں ہیں، ان پر بھی غالب اپنی عقلی  ہی محبت کو رکھ! اور تیرے احکام پر عمل کے وقت کوئی بھی غیر الہٰی تعلق مانع نہ ثابت ہو! ۔۔۔ بندے کے بس میں اس کے سوا ہے بھی کیا۔

[۞رسول اللہ نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی، ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں کہ:

 رسول اللہ  جب داؤد علیہ السلام کا ذکر کرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے: وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ (ترمذی: 3490)]

 [۞’ٹھنڈے پانی کی محبت‘ تو صرف ایک تمثیل ہے۔ بندہ یوں عرض کر رہا ہے:کہ اے اللہ! تیری محبت میری جان، میرے گھر والوں اوراس ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب ہو جائے جس کی طرف سخت گرمی کے موسم اورشدید پیاس میں دل بے اختیار لپکتا ہے۔]

—————————————–

ﵻ59ﵺ

«اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِیْ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَّنْفَعُنِیْ حُبُّهُ عِنْدَكَ، اَللّٰهُمَّ فَکَمَا رَزَقْتَنِیْ مِمَّآ أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِّیْ فِيْمَا تُحِبُّ، اَللّٰهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّیْ مِمَّآ أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِّیْ فِيْمَا تُحِبُّ»۔[17]

اے اللہ!  تُو مجھے اپنی محبت نصیب کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جس طرح تُو نے مجھے وہ دیا ہے جو مجھے پسند ہے، تو اس رزق کو اپنے پسندیدہ کاموں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ! جو کچھ تو نے دور رکھا ہے مجھ سے اُن چیزوں میں سے جو مجھے پسند ہیں تو اسے میرے حق میں ان چیزوں کے لئے موجبِ فراغ بنا دے جو تجھے پسند ہیں۔(اور اگر مجھے وہ نعمتیں حاصل نہ ہوں تو میرے دل کو فارغ رکھ تاکہ میں ان سے بے پرواہ ہو جاؤں میرا دل ان میں نہ لگا رہے)۔

 شرح:  یعنی میرے محبوبات و مرغوباتِ نفس کو تُو نے جو اپنی حکمت ور بوبیت سے مجھے دور ہی رکھا ہے، اس دوری کا یہ اثر میرے اوپر ڈال ، کہ میں عین تیری ہی مرضیات کو پسند کرنے لگوں!

—————————————–

ﵻ60ﵺ

«يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلىٰ دِيْنِكَ »۔[18]

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر (مضبوط اور) ثابت قدم رکھ ۔

شرح: دلوں کا پلٹتا تکوینی طور پر سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ جس نے اپنا رشتۂ عبودیت اس سے جوڑے رکھا اس کے لیے فلاح ہی فلاح ہے۔۔۔ مومن کو بدگمانی سب سے زیادہ اپنے ہی نفس کے ساتھ رہتی ہے کہ اگر توفیق الہٰی مسلسل دست گیر نہ رہے تو کہیں میں پھسل نہ جاؤں۔

[۞ سیدہ اُمِّ سلمہ ﷝سے مروی ہے کہ رسول اللہ کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا)۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا دل بھی الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں (کہ آپ کثرت سے یہ دعا کرتے ہیں)؟ آپ نے فرمایا: جی بالکل، بنو آدم میں سے ہر بشر کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو قائم رکھے گا اور چاہے تو ٹیڑھاکر دے گا، پس ہم اپنے رب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرے۔ مسند احمد: 27111)]

—————————————–

ﵻ61ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ إِيْمَانًا لَّا يَرْتَدُّ، وَنَعِيْمًا لَّا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ أَعْلٰى دَرَجَةِ الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ»۔[19]

اے اللہ! میں تجھ سے سوالی ہوں:  ایسے ایمان کا جس میں کبھی ارتداد نہ آئے (جو کبھی نہ پھرے)، ایسی نعمتوں کا  جو کبھی فنانہ ہوں، اور جنت ِ خُلد (جنت کا اعلیٰ  ترین مقام) میں تیرے نبی حضرت محمد کی رفاقت کا۔

شرح:   مومن کی زبان و قلب سے یہ تین کیسی کلیدی دعائیں نکل رہی ہیں :

۞  ایمان پر ثبات ، دین کا استحکام

۞  دینی و دنیوی نعمتوں کا سلسلۂ غیر منقطع

۞ جنت کے اعلیٰ ترین مقام میں سرورِ کائنات رسول اللہ نے اسلام کی معیت ورفاقت  ۔۔۔  جس سے اونچی منزل خیال میں بھی نہیں آسکتی۔

—————————————–

ﵻ62ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْٓ أَسْأَلُكَ صِحَّةً فِیْ إِيْمَانٍ، وَّإِيْمَانًا فِیْ حُسْنِ خُلُقٍ، وَّنَجَاحاً تُتْبِعُهَا فَلَاحاً، وَّرَحْمَةً مِّنْكَ وَّعَافِيَةً، وَّمَغْفِرَةً   مِّنْكَ وَرِضْوَانًا »۔[20]

اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں صحت و تندرستی ایمان کے ساتھ، اور ایمان حسنِ اخلاق کے ساتھ اور سوال کرتا ہوں تجھ سے مقاصد میں کامیابی کا آخرت کی فلاح کے ساتھ اور سائل ہوں تجھ سے تیری رحمت اور عافیت کا اور تیری مغفرت اور رضامندی (و خوشنودی) کا۔

شرح: اس میں مانگنے والے نے وہ سب کچھ مانگ لیا جو مانگا جا سکتا ہے اور جو مانگا جانا چاہیے۔ یعنی :

۞ جسمانی تندرستی، روحانی تندرستی [ یعنی ایمان ] کے ساتھ ۔

۞ روحانی زندگی ، اخلاقی پہلوؤں کی تابناکی کے ساتھ ۔

۞ فوری کامیابی اور مستقل فلاح ۔

۞ رحمت الہٰی ، اور

۞ عافیت [ دنیا میں ] اور

۞ مغفرت [ آخرت میں ] اور

۞ رضوانِ الہٰی ۔

—————————————–

ﵻ63ﵺ

«اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِیْ بِمَا عَلَّمْتَنِیْ وَعَلِّمْنِیْ مَا يَنْفَعُنِیْ »۔[21]

اے اللہ! تو نے جو علم مجھے دیا ہے اس سے مجھے نفع دے اور مجھے وہ علم (سکھا) دے جو  کارآمد  اور فائدہ مند ہو ۔

شرح: یعنی جو علم مجھے مرحمت ہوا ہے، اس پر عمل کی توفیق بھی ہو، اور علم بھی وہی مرحمت ہو جو عمل میں مُعین ہو ۔۔۔   کیسی نپی تلی بات ارشاد فرمادی گئی ہے۔

[۞ترمذی(3599) کی روایت ہے کہ رسول اللہ یہ دعا مانگا کرتے تھے:

« اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِیْ بِمَا عَلَّمْتَنِیْ وَعَلِّمْنِیْ مَا يَنْفَعُنِیْ وَزِدْنِیْ عِلْمًا، الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلىٰ كُلِّ حَالٍ، ‌وَأَعُوذُ ‌بِاللهِ ‌مِنْ ‌حَالِ ‌أَهْلِ النَّارِ  (اے اللہ! مجھے اس علم سے فائدہ پہنچا جو تو نے مجھے سکھایا، اور مجھے وہ علم سکھا جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں زیادتی عطا فرما،اے  اللہ! تیرا ہر حال میں شکر ہے، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔) ]

—————————————–

ﵻ64ﵺ

«اَللّٰهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبِ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِّیْ، وَتَوَفَّنِیْٓ إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِّي، وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِی الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْإِخْلَاصِ فِی الرِّضَیٰ وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيْمًا لَّا يَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَّا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بِالقَضَاءِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلٰى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلىٰ لِقَائِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَّفِتْنَةٍ مُّضِلَّةٍ، اَللّٰهُمَّ زَيِّنَّا بِزِيْنَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُّهْتَدِيْنَ»۔[22]

اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیرے ڈرکا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمۂ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء (حکم ِ تکوینی) پر رضا مند رہنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہمیں ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہمیں راہ نما اور ہدایت یافتہ بنا دے۔

شرح: گو یا زندگی بھی سرتا سر رحمت کے سایے میں گزرے، اور موت بھی تمام تر رحمت ہی کے آغوش میں لے جائے۔۔۔ بندہ بے چارا تو بس راحت کا بھوکا رہتا ہے، یہ عالم ہو تو ، اور وہ عالم ہو تو ۔

کہ یہی دو وقت جذباتِ نفس کی رو میں بہ جانے کے ہوتے ہیں۔ جس کسی نے ان دونوں موقعوں پر اپنے او پر قابو رکھ لیا ، اس کی مستقل زندگی متقیا نہ بن گئی۔

أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِیْ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ: یعنی خشیتِ الہٰی ہر حال میں قائم رہے، عام اس سے کہ نتائج ِعمل بالکل سامنے ہوں یا نظر سے مخفی۔

وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلٰى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلٰى لِقَائِكَ :مومنینِ اہل جنت کا ، جمالِ الہٰی اور بقائے حق سے سرفراز ہونا اہل ِسنت کا ایک مسلم عقیدہ ہے۔ اور یہی دیدارِ حق اہل ِجنت کے لیے ساری دوسری نعمتوں سے بڑھ کر ہوگا۔

نَعِيْمًا لَّا يَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَّا تَنْقَطِعُ :یعنی جن نعمتوں اور راحتوں سے سرفرازی ہو، انھیں دوام بھی نصیب ہو، ایسا غضب نہ ہو کہ وہ نعمتیں اور بخششیں عارضی ثابت ہوں۔

اَللّٰهُمَّ زَيِّنَّا بِزِيْنَةِ الْإِيمَانِ:ایمان کا نفسِ وجود کافی نہیں۔ اس کا اصلی مزہ تو جب ہے، جب اس کے ساتھ ساتھ زینت ایمان کے بھی اسباب موجود ہوں ۔

—————————————–

ﵻ65ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهٖ عَاجِلِهٖ وَاٰجِلِهٖ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ»۔[23]

اے اللہ! میں تجھ سے ہر طرح کی بھلائی طلب کرتا ہوں۔ جلدی وصول ہونے والی ہو یا دیر سے ملنے والی‘ وہ بھی جسے میں جانتا ہوں اور وہ بھی جسے میں نہیں جانتا ۔

شرح: مقصود و مطلوب، مومن کو ہر حال میں خیر ہی ہے۔ خیر ِعاجل بھی (یعنی جلد ملنے والی بھلائی) ، اور خیر ِآجل  (اور ملتوی شدہ بھلائی)بھی۔ اور وہ اپنا حصہ ہر خیر سے چاہتا ہے، عام اس سے کہ وہ خیر اس کے محدود علم میں ہو یا نہ ہو۔

—————————————–

ﵻ66ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْٓ أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهٗ لِیْ خَيْرًا»۔[24]

اے اللہ! میں تجھ سے وہ سب بھلائی مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور تیرے
نبی نے مانگی ۔اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کے قریب کرنے والے قول و عمل کا سوال کرتا ہوں۔  اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنے ہر حکمِ تکوینی کو میرے حق میں بہتر بنا دے۔

شرح:   بڑی جامع اور بڑی بلیغ دعا ہے۔

مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ :سب سے اچھے اور سب سے بڑھ کر مذاقِ سلیم رکھنے والے وہی تھے۔ اُنھوں نے جن جن چیزوں کو اپنے رب سے طلب کیا ، لا محالہ وہی سب سے بہتر اور وہی قابل طلب تھیں بھی۔ یہ ہیں صحیح معنی محبتِ رسول کے۔

إِنِّیْٓ أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ :جنت ایسی شے ہے جس کی طلب اس الحاح کے ساتھ خود رسولُ الثقلین کر رہے ہیں اور محض جنت ہی کی نہیں ، قول وعمل کے ان سارے راستوں کی بھی جو جنت کی طرف لے جانے والے ہیں۔ کتنی قابل غور وقابل عبرت یہ حقیقت ہے، اُن غافلوں اور جاہلوں کے لیے جو عشقِ رسول کے زعم میں اپنے کو جنت کی طرف سے بے پروا اور غیر ملتفت ظاہر کرتے ہیں!

كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهٗ لِیْ خَيْرًا: قضا سے ظاہر ہے کہ حکمِ تکوینی مراد ہے۔ یعنی جتنے حالات طبعی اور غیر اختیاری طور پر مجھے پیش آتے رہیں، وہ سب بھی میرے حق میں بھلائی ہی رکھیں۔

—————————————–

ﵻ67ﵺ

«وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِیْ مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهٗ رُشْدًا ۔[25]

اور میں تجھ سے سے یہ مانگتا ہوں کہ جو کچھ تو میرے حق میں جاری کرے،اس کے انجام کو سعادت بنادے ۔

شرح: بڑی جامع اور بڑی بلیغ دعا ہے۔

أَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِیْ مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهٗ رُشْدًا :یعنی مجھے جس حالت میں بھی رکھا جائے ، انجام ہر حالت کا خیر و سعادت ، رُشد و ہدایت ہی کی شکل میں کر دیا جائے۔

—————————————–

ﵻ68ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُوْرِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ »۔[26]

اے اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام بخیر فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔

شرح:    أَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْيَا :  حضور نے ظاہر کر دیا کہ دنیا میں اپنی تفضیح و رسوائی کے اسباب سے بچنا بھی صحیح و مناسب خودداری کی ایک قسم ہے، جو مومن کے لیے نا قابلِ التفات نہیں ۔ اور اپنی عزتِ نفس کو گنوا کر بے غیرتی اختیار کر لینا، جس کا نام بعض لوگوں نے طریقِ ملامتیہ رکھ لیا ہے، اسلام میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔

—————————————–

ﵻ69ﵺ

«اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِیْ بِالْإِسْلاَمِ قَآئِمًا، وَّاحْفَظْنِیْ بِالْإِسْلاَمِ قَاعِدًا، وَّاحْفَظْنِیْ بِالْإِسْلاَمِ رَاقِدًا، وَّلَاتُشْمِتْ بِیْ عَدُوًّا وَّلَا حَاسِدًا، اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَزَائِنُهٗ بِيَدِكَ»۔[27]

اے اللہ ! اٹھتے ، بیٹھتے اور سوتے ، ( جاگتے ہر حالت میں ) اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور میری مصیبت پر دشمنوں اور حاسدوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دے ۔ اور اے اللہ ! میں تجھ سے سب بھلائیاں مانگتا ہوں جن کے خزانے تیرے قبضہ قدرت میں ہیں۔

شرح: یعنی ہم کسی حال میں بھی ہوں ، احکامِ اسلام کی پابندی ہم سے جدا نہ ہونے پائے۔ یہ ہرگز نہ ہونے پائے کہ ہم اس سے چھٹے ہوئے رہیں اور وہ ہم سے چھٹی ہوئی رہے!۔۔۔ یہ ہے عاشقانہ مزاج کی صحیح رعایت ۔ اور اللہ تعالیٰ ہر کلمہ گوکو تو فیق اسی کی دے۔ (آمین )

اس میں یہ تعلیم آگئی کہ ہر مومن کو طلبِ خیر پر ایسا ہی حریص ہونا چاہیے۔

مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَزَائِنُهٗ بِيَدِكَ :اس میں خیر کی وہ ساری قسمیں آگئیں، جن کے ظاہری اسباب و وسائل دوسرے ہوتے ہیں۔ لیکن بہر حال بحیثیت مسبّبُ الاسباب، ان کی اصلی کنجی تو حق تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

عَدُوًّا وَّلَا حَاسِدًا :اور انسان کا سب سے بڑا دشمن خود اس کا نفس ، اور سب سے بڑا حاسد شیطان ہے۔ ایسا نہ ہو که بندۂ مومن کوئی ایسی حرکت کر گزرے، جس سے اس بڑے دشمن یا بڑے حاسد کو خوش ہونے کا موقع ہاتھ آجائے۔

—————————————–

ﵻ70ﵺ

«وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِیْ هُوَ بِيَدِكَ كُلِّهٖ »۔[28]

اور تجھ سے وہ بھلائی بھی مانگتا ہوں جو تمام تر تیرے ہی قبضہ میں ہے ۔

شرح: یہاں خیر کی وہ قسمیں مراد ہیں، جو بلا توسطِ وسائط براہِ ر است حق تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔

—————————————–

ﵻ71ﵺ

«اَللّٰهُمَّ لَا تَدَعْ لَنَا ذَنْۢبًا إِلَّا غَفَرْتَهٗ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهٗ، وَلَا دَيْنًا إِلَّا قَضَيْتَهٗ، وَلَا حَاجَةً مِّنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ   إِلَّا   قَضَيْتَهَا    يَآ    أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ»۔[29]

اے اللّٰہ ! ہمارے لئے نہ رہنے دے : کوئی گناہ ، سوائے اس کہ تُو اسے معاف کر  دے، کوئی پریشانی ، سوائے اس کہ  تُواسے دور کر  دے، کوئی قرضہ ، سوائے اس کہ  تُواسے ادا کر  دے،  اور دنیا و آخرت کی کوئی ایسی حاجت (کہ اس میں ہمارے لیے بہتری ہو اور  تیری اس میں رضا ہو)، سوائے اس کہ تواسے پورا  کردے۔ اے مہربانوں کے مہرباں! (ہم پر مہربانی فرما)۔

شرح:   یہ دعا بھی بڑی جامع ہے، اور جیسا کہ ظاہر ہے ، دنیوی اور اُخروی تمام ضرورتوں پر حاوی۔

اور اس کے خاتمے پر یا ارحم الراحمین کا خطاب بہت ہی بلیغ ہے اور نہایت موزوں ۔

—————————————–

ﵻ72ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ »۔[30]

اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور عمدہ طریقے سے اپنی عبادت کرنے (حسنِ عبادت) میں میری مدد فرما ۔

شرح:  کتنی سچی اور گہری بات ارشاد ہوئی ہے۔ نہ ذکرِ الہٰی، نہ شکرالہٰی ، نہ حسن ِعبادت، کوئی شے بھی توفیق الہٰی اور امداد الہٰی کے بغیر ممکن نہیں۔ دُعا میں یہ پہلو بھی ہے کہ انسان کو اپنی کسی عبادت و طاعت پر عُجب (غرور)نہ پیدا ہو جائے۔

[۞معاذ بن جبل ﷛ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے  فرمایا : اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا۔ ]

—————————————–

ﵻ73ﵺ

«اَللّٰهُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِی، وَبَارِكْ لِیْ فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلٰی كُلِّ غَائِبَةٍ  لِّیْ  بِخَيْرٍ»۔[31]

اے اللہ! ہمیں اپنے عطا کیے ہوئے رزق پر قناعت عطا فرما اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور میری جو چیزیں میرے سامنے نہیں (اور میری نظروں سے غائب ہیں)، خیر کے ساتھ میرے پیچھے ان کی حفاظت فرما ۔

شرح:   اضافۂ دولت اور ترقیٔ رزق کی دُعا ئیں تو بے شمار ہیں لیکن دولتِ قناعت و نعمتِ برکت پر نظر دنیا کے اسی ، سب سے بڑے حکیم اور دقیق النظر انسان ہی کی پہنچ سکتی ہے۔ اور حقیقتاً یہی دنیا کی ہل چل اور خلائق کی بے چینی کا سب سے بڑا اور مؤثر علاج ہے۔

ہر شخص اس خبط میں مبتلا ہے کہ جتنا مل رہا ہے اس سے اور زیادہ ملنے لگے۔ حالانکہ روزمرہ کا تجربہ ہے کہ زیادہ ملنے پر بھی ہوس نہیں بجھتی ، اور جتنی آمدنی میں ترقی ہوتی جاتی ہے، خرچ بھی اسی نسبت سے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تو بجائے اس اضافے کی تمنا کے، دُعا یہی کیوں نہ کی جائے کہ جو کچھ نہ مل رہا ہے بس اسی سے طبیعت کو آسودگی ہو جائے !۔۔۔ یہ نسخہ ایک بار بھی آزما کر دیکھا جائے تو آج اس سے یہ کی دنیا میں جو نفسی نفسی پڑی ہوئی ہے، وہ آدھی سے زیادہ تو ضرور ہی گھٹ جائے۔

بندہ عرض کر رہا ہے کہ مجھ اندھے کو مُغیبات کی کیا خبر، ہر چیز اپنے باریک اور دور رس نتائج کے لحاظ سے تو تجھی پر روشن ہے، تُو ہی میری نگہبانی خیریت کے ساتھ کر سکتا ہے۔

—————————————–

ﵻ74ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ عِيْشَةً نَّقِيَّةً، وَّمِيْتَةً سَوِيَّةً، وَّمَرَدًّا غَيْرَ مَخْزِیٍّ، وَّلَا فَاضِحٍ »۔[32]

اے اللہ! بے شک میں تجھ سے صاف ستھری زندگی، آسان موت اور ایسی عاقبت کا سوال کرتا ہوں جس میں کوئی ذلت ورسوائی نہ ہو ۔

شرح:   یعنی زندگی پاکیزہ میسر رہے، موت مبارک نصیب ہو [اور ڈھنگ والی ہو] اور آخرت میں ہر قسم کی رسوائی سے دامن محفوظ رہے۔

—————————————–

ﵻ75ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ ضَعِيْفٌ فَقَوِّ فِیْ رِضَاكَ ضُعْفِیْ، وَخُذْ إِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِیْ، وَاجْعَلِ الْاِسْلَامَ مُنْتَهٰى رِضَائِیْ، وَإِنِّی ذَلِيْلٌ فَأَعِزَّنِیْ وَإِنِّیْ فَقِيْرٌ فَارْزُقْنِیْ»۔[33]

اے میرے اللہ! میں تیرا ایک کمزور بندہ ہوں تو اپنی رضاطلبی کی راہ میں میری کمزوری کو قوت سے بدل دے اور میری پیشانی پکڑ کے میرا رُخ خیر کی طرف کر دے، اور اسلام کو میرا منتہائے رضا بنا دے، میں ذلت و پستی کے حال میں ہوں تو مجھے عزت بخش دے، اور میں فقیر و نادار ہوں تو مجھے میری ضرویات عطا فرما دے۔

شرح:  خاصُ الخاص عبدیت کی ظاہر کرنے والی دُعا اس سے بڑھ کر اور کن الفاظ میں ممکن ہے!

—————————————–

ﵻ76ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ وَخَيْرَ الدُّعَاءِ وَخَيْرَ النَّجَاحِ وَخَيْرَ الْعَمَلِ وَخَيْرَ الثَّوَابِ وَخَيْرَ الْحَيَاةِ وَخَيْرَ الْمَمَاتِ وَثَبِّتْنِیْ، وَثَقِّلْ مَوَازِينِیْ، وحَقِّقْ إِيْمَانِیْ، وَارْفَعْ دَرَجَتِیْ، وَتَقَبَّلْ صَلٰوتِیْ، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّةِ اٰمِينَ، اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهٗ وَجَوَامِعَهٗ وَأَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ وَظَاهِرَهٗ وَبَاطِنَهٗ، اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَآ اٰتِی، وَخَيْرَ مَآ أَفْعَلُ، وَخَيْرَ مَآ أَعْمَلُ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ»۔[34]

اے اللہ ! میں تجھ سے بہترین سوال ، بہترین دعا ، بہترین کامیابی ، بہترین عمل ، بہترین اجر ، بہترین زندگی اور بہترین موت کا سوال کرتا ہوں اور مجھے ثابت قدم رکھ اور میری نیکیوں کا پلہ بھاری کر اور میرے ایمان کو پختہ کر ، میرے درجات بلند کردے اور میری نماز کو قبول فرما ، اور میں تجھ سے جنت کے اعلیٰ درجہ کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں خیر کی ابتدائیں بھی اور انتہائیں بھی، اور خیر کی جامع چیزیں اور خیر کا اوّل بھی اور خیر کا آخر بھی اور خیر کا ظاہر بھی اور خیر کا باطن بھی۔ اے اللہ! میں تجھ سے خیر مانگتا ہوں اپنے ہر اس کام میں جسے اعضا سے کروں یا دل سے کروں اور اس (کام)کی بھی خیر جو پوشیدہ ہے، اور اُس (کام)کی بھی خیر جو اعلانیہ ہے ۔

شرح:   ساری دُعا آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ پہلی دعا تو یہی ہے کہ بہترین سوال ہی کی توفیق ہمیں عطا ہو۔ ہمیں کیا خبر کہ کون سی دُعا ہمارے حق میں بہترین ہے اور کون سی چیزیں ہمارے مانگنے کی ہیں۔ سو پہلے تو ہمیں خود اس کی رهبری فرما!۔

اسی مضمون کو عارفِ رومی ؒ نے اپنے ہاں یوں کہا ہے کہ دُعا کا قبول کرنا تو تیرے اختیار میں ہے ہی ، خود دعا کی تعلیم بھی تو تیرے ہی بس میں ہے۔؎

هم دعا از تُو اجابت هم زِتُو
ایمنی از تُو مہابت هم زِتُو!

دیکھیے کہ رسول بھی جنت ہی کی طلب کر رہے ہیں ، اور جنت میں بھی درجات ِبلند کی !

 وائے ہماری نادانی و کم فہمی ! کہ ہم اپنی’ روحانیت‘ و ’ولایت‘ کا کمال جنت کی طرف سے بے اعتنائی وبے التفاتی میں سمجھتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ تکوینی حالت کوئی سی بھی ہو، بندہ ہر حال میں خیر و رحمت ہی سے گھرا رہتا، اس میں اپنے کو ملفوف رکھنے کی تمنا رکھتا ہے، اور یہی اس کی صحیح ترین تمنا ہے۔

انسان کا جو بھی عمل ہوگا ، یا تو ظاہری اعضا و جوارح سے ہوگا یا قلب سے، اور یا علانیہ ہوگا یا اخفا کے ساتھ، الفاظِ دُعا کی جامعیت نے ان سب کو گھیر لیا۔

—————————————–

ﵻ77ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَیَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّیْ وَانْقِطَاعِ عُمْرِیْ»۔[35]

اے اللہ! میرے بڑھاپے کے دنوں میں اور میری عمر کے آخری حصے میں میری روزی میں زیادہ سے زیادہ وسعت فرما۔

—————————————–

ﵻ78ﵺ

«وَاجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِیْ اٰخِرَهٗ، وَخَيْرَ عَمَلِیْ خَوَاتِیْمَهٗ، وَخَيْرَ أَيَّامِىْ يَوْمَ أَلْقَاكَ فِيْهِ ۔[36] يَا وَلِیَّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهٖ، ثَبِّتْنِیْ بِهٖ حَتّٰى اَلْقَاكَ ۔[37]  أَسْأَلُكَ غِنَایَ وَغِنَا مَوْلَایَ »۔[38]

میری عمر کے آخری حصے کو میری زندگی کا بہترین حصہ کرنا، اور میرے آخری عمل میری زندگی کے بہترین عمل ہوں اور میرا سب سے اچھا دن وہ ہو جو تیرے حضور میں حاضری (اور تیری طرف لوٹنے) کا دن ہو، اے اسلام اور اہلِ اسلام کے مددگار ! مجھے اسلام پر ثابت قدم رکھ یہاں تک کہ میں تجھ سے مل جاؤں، میں تجھ سے  طلب کرتا ہوں اپنی اور اپنے متعلقین کی سیر چشمی۔

شرح:   عموماً ضعیفی ہی میں، جب انسان کی جسمانی قوتیں جواب دے چکتی ہیں اور انسان فراہمیٔ معاش کے زیادہ قابل نہیں رہتا ، اسے معاش کی تنگی کی جانب سے شکایت ہو جاتی ہے۔۔۔

یہ دعا اس وقت کے لیے کیسی تشفی بخش ہے اور ضعفائے اُمت کے لیے کیسی کیسی رعایتیں اس حکیم ِاعظم  کے کلام میں موجود ہیں۔

سبحان اللہ و بحمدہ ! ہر ہر فقرہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اور آخری فقرہ تو وجد میں لے آنے والا ہے!

بے شک ہر مومن کے دل کی عین ترجمانی یہی ہے کہ اس کی آخر عمر بہترین ہو، اور اس کے آخری اعمال بہترین اعمال ہوں، اور اس کی بہترین گھڑی اپنے رب کے حضور میں پیشی کی گھڑی ہو۔یہی معنی ہیں قرآن مجید کی اس آیت کے : وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰی يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ [الحجر 99:15] عمر بھر کی ریاضتیں اور مجاہدے اسی لیے ہوتے ہیں کہ خاتمہ توحید ورسالت کی گواہی پر ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جس سے نہ میں کسی کا محتاج و دست نگر رہوں اور نہ میرے متعلقین محتاج ہوں۔

﴿استعاذہ﴾

ﵻ79ﵺ

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ سُوْءِ الْعُمْرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ [39] وَأَعُوْذُ بِعِزَّتِكَ لَآ إِلٰهَ إِلَّآ اَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِیْ [40] وَمِنْ جُهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ [41] وَمِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ [42] وَمِنْ شَرِّ مَا عَلِمْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْلَمْ [43] ومِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَآءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيْعِ سَخَطِكَ [44] وَمِنْ شَرِّ سَمْعِیْ، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِیْ، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِیْ، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِیْ، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّیْ [45] وَمِنَ الْفَاقَةِ [46] وَمِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ [47] وَمِنَ الْهَدْمِ وَمِنَ التَّرَدِّیْ وَمِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ. وَأَنْ يَّتَخَبَّطَنِیَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَمِنْ أَنْ أَمُوْتَ فِیْ سَبِيْلِكَ مُدْبِرًا، وَأَنْ أَمُوْتَ لَدِيْغًا»۔[48]

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بُری عمر سے اور دل کے فتنہ سے، تیری پناہ مانگتا ہوں بواسطہ تیری عزت کے کہ کوئی معبود نہیں بجز تیرے، اس سے کہ تو مجھے گمراہ کردے،اور تیری پناہ چاہتا ہوں  عاجز کر دینے والی آزمائش سے، بدبختی کے آ لینے سے، انسان کے حق میں برا ثابت ہونے والے فیصلے سے (بری تقدیر)، اور اپنی تکلیف پر دشمنوں کے خوش ہونے سے، میں پناہ طلب کرتا ہوں اس کام کی برائی سے جو میں نے کیا اور اس کام کی برائی سے جسے میں نے نہیں کیا اور اس چیز کی برائی سے جو مجھے معلوم ہے اور اُس چیز کی برائی سے جو مجھے معلوم نہیں، میں پناہ طلب کرتا ہوں میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری عطا کردہ عافیت کے چلے جانےسے، تیرے ناگہانی عذاب سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی و غصہ سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر (بری باتوں کے سننے) سے، اپنی آنکھ کے شر (بری باتوں کے دیکھنے) سے، اپنی زبان کے شر (بری باتوں کے کہنے اور بولنے) سے، اپنے دل کے شر (بری باتوں کے ذہن میں لانے)سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر(بے جا اور ناجائز شہوت رانی) سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں فاقے سےاور اس سے کہ میں کسی پر زیادتی کروں یا کوئی مجھ پر زیادتی کرے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، (دیوار یا کسی اور چیز کے نیچے) دب جانے سے ، اونچائی سے گر پڑنے سے، ڈوب جانے اور جل جانے سے ، اور اس بات سے کہ شیطان موت کے وقت مجھے بہکا دے (اور گڑبڑ میں ڈال دے)، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری موت تیرے راستہ یعنی جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے آئے، اور اس بات سے کہ کسی موذی جانور کے ڈس لینے سے میری موت ہو۔

شرح: غرض یہ کہ تکوینی و تشریعی ، مادی اور روحانی طبعی واخلاقی جتنی حیثیتوں سے جتنے بھی خطرے ممکن ہیں، بندہ ان سب سے اپنی حفاظت ، محافظِ حقیقی کی پناہ میں آجانے سے چاہتا ہے، اور اس کے لیے الحاح و تضرع کے ساتھ التجا کر رہا ہے۔

مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ :یعنی ان گناہوں کے وبال سے جو میں کر چکا ہوں۔

مِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ:یعنی ان فرائض و واجبات کے ترک کے وبال سے جو میں ترک کر چکا ہوں ۔

مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ :اس نعمت کے عموم میں دنیوی و اخروی و مادی وروحانی ساری نعمتیں آگئیں۔

مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ:یعنی بری باتوں کے سننے سے۔

مِنْ شَرِّ بَصَرِیْ :یعنی بری باتوں کے دیکھنے سے۔

مِنْ شَرِّ لِسَانِیْ :یعنی بری باتوں کے کہنے اور بولنے سے۔

وَمِنْ شَرِّ قَلْبِیْ :یعنی بری باتوں کے ذہن میں لانے سے۔

مِنْ شَرِّ مَنِيِّیْ:یعنی بے جا اور نا جائز شہوت رانی ہے۔

حضرت محمد بن عبد الله کی صداقت و رسالت پر تنہا یہی دعا ئیں دلیلِ قوی کا حکم رکھتی ہیں۔

اُمت کے کمزور سے کمزور فرد کے دل کی گہرائیوں تک اتنی ہمہ گیر رسائی بجز
رسول صادق کے اور کسی سے ممکن ہی نہیں ۔

أَنْ تُضِلَّنِیْ :اس میں اضلال کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب تکوینی حیثیت سے بطور علتُ العلل یا مسّببُ الاسباب کے ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بھی بار ہا آیا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ حق تعالیٰ از خود کسی بندے کو گمراہ کرتے ہیں۔

أَنْ يَّتَخَبَّطَنِیَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ :مومن کی عمر بھر کی کمائی کو حق تعالیٰ یوں ہی ضائع ہونے سے بہر حال بچائے گا۔ پھر بھی اپنی طرف سے تقاضائے عبدیت و عبودیت یہی ہے کہ اس مالک سے اس نازک ترین اور اہم ترین موقع کے لیے التجا ہی جاری رہے۔

۩ ۩ ۩


[1] سنن أبي داود (1510 و 1511) وفيه «هُدَايَ إليَّ» مكان «الْهُدٰي لِي»  و«شَاكراً، ذاكراً، رَاهباً إليَّ» مكان «شَكَّارًا»، ذَكَّارًا، رَهَّابًا وليس فيه  «أَوَّاهًا مُّنِيبًا»، الجامع للترمذي (3551)، وفيه «لَكَ مُخْبِتًا» مكان «إليك مُخبِتاً »، سنن ابن ماجه (3830) وليس فيه «لَكَ مِطْوَاعًا»، السنن الكبرى للنسائي (10443)، مسند أحمد (1997) وفيه «هُدَايَ إليَّ مكان الْهُدٰي»، مصنف ابن أبي شيبة (30003) وفيه «هُدَايَ إليَّ مكان الهُدٰي لِي»، المستدرك للحاكم كتاب الدعاء … (1910 {1/519})، صحيح ابن حبان (943)، كذا في الدعوات الكبير (195). ولم أجد كلمة «لك مطواعا» في المصادر المتوفرة عندي إلا في سنن ابن ماجه (3830)، عن ابن عباس ﷛.

[2] سنن ابن ماجه (3836)، مسند أحمد (22534 {22181} و22554 {22201})، مصنف ابن أبي شيبة (29963)، المعجم الكبير (8072 {8/334})، مسند أحمد (22181 و22201) مسند البزار (6642)، نحوه «وَتَقَبَّلْ مِنَّا» بعد وارض عنا، عن أبي أمامة الباهلي ﷛.

[3] سنن أبي داود، (969)، المستدرك للحاكم الدعاء المباركة (977) {1/265}، صحيح ابن حبان (992 {2/170}) وفيه بلفظ «احْفَظْنَا» مكان بَارِكْ لَنَا»، مصنف ابن أبي شيبة (30137)، المعجم الكبير (10274{10/191}). نحوه الا في سنن أبي داود عن ابن مسعود ﷛.

[4] الجامع للترمذي (3407)، وفيه زيادة «وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ»،  مصنف ابن أبي شيبة (29971)، ولم أجد كلمة «خلقا مستقيما» فيهما إلا في المستدرك للحاكم (1872 {1/509}) وفيه «التثبيت في الامور» مكان «الثَّبَاتَ في الأمر»، نحوه. عن شداد بن أوس ﷛.

[5] صحيح مسلم (70-2719) أما في (1812 [771]) وفيه زيادة «وما أسرفت». صحيح ابن حبان (953)، معجم الأوسط (5824)، الدعوات الكبير (195)، الدعاء للطبراني (1795) عن أبي موسى الأشعري ﷛، الجامع للترمذي (3421) أما في (3422)، سنن أبي داود (760 و1509)، مسند أحمد (729 و803) صحيح ابن خزيمة (723 و743) سنن الدارقطني (1137)، صحيح ابن حبان (1963 و2021)، مسند البزار (536)، مسند أبي يعلى (173 و570)، الدعوات الكبير (115)، الدعاء للطبراني (1796)، عن علي ﷛، مسند أحمد (7913 و10668 و10811)، مسند أبي يعلى (2512)، ، جامع الأحاديث (4313) عن أبي هريرة ﷛، المعجم الصغير 2/27 عن ابن عمر، المستدرك للحاكم (1934 {1/528}) عن ابن عمر ﷛، مسند البزار (4859)، الدعاء للطبراني (757) عن ابن عباس ﷛، الزهد والرقائق لابن المبارك (1154). وفي البعض شيء من الزيادة مثل «وَمَا أَسْرَفْتُ» او «وَإِسْرَافِي» بعد  «وَمَا أَعْلَنْتُ».

[6] الجامع للترمذي (3502) وفيه «يحول» مكان «تحول به»، عمل اليوم والليلة للنسائي (401)، فيه و «مصيبات الدنيا» مكان «مصائب الدنيا» وليس في هذه المصادر «ولا غاية رغبتنا». الزهد والرقائق لابن المبارك (431) فيه «رحمتك» مكان «جنتك» و «يحول» مكان «تحول به» و «مصيبات الدنيا» مكان «مصائب الدنيا» مسند البزار (5989) فيه «يحول» مكان «تحول به» و «تهون علينا به»، الدعاء للطبراني (1911) فيه «افتح لنا» مكان «اقسم لنا»، السنن الكبرى للنسائي (10234) فيه  «أمتعنا» مكان «متعنا». عمل اليوم والليلة (446) وفيه «تبلغنا به الي…». عن ابنعمر ﷛. وليس في هذه المصادر «ولا غاية رغبتنا» إلا قي ترتيب الأمالي الخميسية للشجري (1099) وكشف المناهج والتناقيح في تخريج أحاديث المصابيح (1809).

[7] ۞عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ  اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں۔

(ترمذی:3502)

[8] الجامع للترمذي (3173)، أما في المستدرك للحاكم (1961 {1/535} 3479) {2/392}، مسند أحمد (223)، الدعوات الكبير (240)، ولم يذكر في مصنف عبد الرزاق (6036) «وَأَرْضِنَا». عن عمر بن الخطاب ﷛.

[9] ۞حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ  نبی کریم پر وحی نازل ہوئی اس کے بعد آپ نے یہ دعا فرمائی اور پھر سورہ مومنون کی پہلی دس آیات مکمل تلاوت فرمائیں۔  (ترمذی:3173)

[10] الجامع للترمذي (3483)، المعجم الكبير (396)، المعجم الأوسط (1985)، الدعاء للطبراني (1393)، مسند البزار (3580)، عن عمران بن حصين ﷛.

[11] السنن الكبرى للنسائي (10830 و10831)، عمل اليوم والليلة  للنسائي (993)، موارد الظمآن (2431)، وذكر في المستدرك للحاكم (1880 {1/510})، وصحيح ابن حبان (896)، والمعجم الكبير (15002 [599])، والدعاء للطبراني (1394)، والدعوات الكبير (214) بلفظ «أرشد أمري»، عن حصين ابن عبيد ﷛.

[12]۞مسند احمد میں یہ دعا یوں روایت ہوئی ہے: اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي: اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کام پر پختگی عطاء فرما ۔(مسند احمد: 19992(

[13] الجامع للترمذي (3514 و 3558) و(3594)، مسند أحمد (1783)، مصنف ابن أبي شيبة (27975)، الأدب المفرد (726)، عن عباس ابن عبد المطلب ﷛. سنن أبي داود (5074)، السنن الكبرى للنسائي (10401)، صحيح ابن حبان (961)، مسند أحمد (4785) عن عبد الله عمر بن الخطاب ﷛. مصنف ابن أبي شيبة (29799) عن عائشة ﷝، و(29800) عن هلال بن يساف ﷛، و(27972) عن أبي بكر﷛، (33518) عن أبي جعفر ﷛.

[14]۞رسول اللہ نے فرمایا: ’تم میں سے جس کے لیے دعا کے دروازے کھولے گئے، اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے عافیت مانگنا ہر چیز مانگنے سے زیادہ محبوب ہے‘۔(ترمذی: 3548)

[15] الجامع للترمذي (3235)، مسند أحمد (22109)، وفيهما «فِتْنَةً فِي قَوْمٍ  فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» مكان «بقَوْمٍ فتنة فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ»، المستدرك للحاكم (1932 {1/527})، الدعوات الكبير (1417) عن ثوبان مولى
رسول الله ﷛ وفيه بلفظ «فتوفني إليك، وأنا غير مفتون» مكان «فتوفني غير مفتون» «حُبًّا يبلغنِي» مكان «يُقَرِّبُ إِلَى»، وفي (1415) بلفظ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ أَحَبَّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ. وفي رؤية الله للدارقطني (254) بلفظ «بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ» مكان «فَتَوَفَّنِي غَيْرُ مَفْتُونٍ» و«حُبًّا يَبْلُغْنِي» مكان «يُقَرِّبُ إِلَى»، وفي (253) بلفظ «فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ» و«حُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ»، المعجم الكبير (16640)، وفیه «وَإِذَا أَرَدْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ». عن معاذ بن جبل ﷛.

[16] الجامع للترمذي (3490)، المستدرك على الصحيحين (3621 {2/433})، الدعوات الكبير (276). عن أبي الدرداء ﷛.

[17] الجامع للترمذي (3491)، الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير (2424)، ففيهما «مَا رَزَقْتَنِي» مكان «فكما رَزَقْتَنِي» عن عبد الله بن يزيد الخطمي ﷛.

[18] الجامع للترمذي (2140)، و(3522)، (3587)، الأدب المفرد (683)، المعجم الكبير (758)1/201 ({1/261 759}) مسند البزار (7508)، عن أنس ﷛، المعجم الأوسط (1530)عن عائشة ﷝ و(2381 و5330 و9432) عن أم سلمة ﷝، مسند أحمد (12131 {12107}) (13731 {13696}) عن أنس و(26662 {26133} و 25111 {24604})، مصنف ابن أبي شيبة (29806 و29809 و31044 و31047)، السنن الكبرى للنسائي (7737)، المستدرك للحاكم (1926 و1927) {1/525 و 526} و3140 و3141) {2/288 و289} و(7907) {4/321}، عن عائشة ﷝. مسند أبي يعلى الموصلي (2314) عن جابر ﷛. و(3675 و3676) عن انس ﷛. الدعاء للطبراني (1257-1263). عن عدة اصحاب النبي ﷛، كذا في كنز العمال (1682 و1686 و1687 و1695 و3727 و18019).

[19] السنن الكبرى للنسائي (10705) بلفظه، كذا في عمل اليوم والليلة للنسائي (869)، وفي مسند أبي يعلى (16 و17 و5036 و5037)، المستدرك للحاكم (1928) {1/526} وذكر في مصنف ابن أبي شيبة (30146) «نبيك» مكان «نبينا» وفي (5437) {3/317} «محمد w» مكان «نبينا»، كذا في صحيح ابن حبان (1970) {3/212} و(7027) {9/102}، وفيهما بلفظ «أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» مكان «دَرَجَةِ الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ»، المعجم الكبير (8334 و 8335) 4/438، مسند أحمد (3797 و4255 و4340)، الدعوات الكبير (232 و233) الآثار لأبي يوسف (219) نحوه، وفي هذه المصادر «أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» مكان «دَرَجَةِ الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ» إلا الاوليين. عن عبد الله بن مسعود ﷛.

[20] الدعوات الكبير (225)، و(3656)، المستدرك للحاكم (1919) {1/523}، الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير (2461)،  السنن الكبرى للنسائي (9849 و10404) فيه ««خُلُقٍ حَسَنٍ» مكان «حُسْنِ خُلُقٍ»، وفي المعجم الأوسط (9333) فيه «نجاة» مكان «نجاحا» و «خُلُقٍ حَسَنٍ» مكان «حُسْنِ خُلُقٍ»، وفي هذه المصادر «يَتْبَعُهُ فَلاحٌ» مكان «تُتْبِعُهَا فَلاحاً». عن أبي هريرة ﷛.

[21] الجامع للترمذي (3599)، سنن ابن ماجه (251) و (3833)، السنن الكبرى (7868)، المعجم الأوسط (۱۷۴۸)، المستدرك على الصحيحين 2/510 ({1879})، مصنف ابن أبي شيبة (30006)، الدعاء للطبراني (1405)، الدعوات الكبير (۲۴۱). عن أبي هريرة وأنس بن مالك ﷛.

[22] سنن النسائي (1306 بلفظه. وفي 1305، و 1304 نحوه)، السنن الكبرى للنسائي (1228) بلفظه، ونحوه في المستدرك للحاكم (1923) {1/524}، ومسند أحمد (18515)، وصحيح ابن حبان (1968) {3/213}، والدعاء للطبراني (624 و625)، ومسند ابن أبي شيبة (29958، 8325)، ومسند أبي يعلى (1721). عن عمار بن
ياسر ﷛.

[23] الجامع للترمذي (3599)، سنن ابن ماجه (251) و (3833)، السنن الكبرى (7868)، المعجم الأوسط (۱۷۴۸)، المستدرك على الصحيحين 2/510 ({1879})، مصنف ابن أبي شيبة (30006)، الدعاء للطبراني (1405)، الدعوات الكبير (۲۴۱). عن أبي هريرة وأنس بن مالك ﷛.

[24] سنن ابن ماجه (3846)، صحيح ابن حبان (866)، وزاد فيهما «قضيته» بعد «قضاء»، مسند أحمد (25533 {25019})، مصنف ابن أبي شيبة (29957)، وزاد فيهما «تقضيه» بعد «قضاء» عن عائشة ﷝.

[25] شرح مشكل الآثار (6023)، المستدرك للحاكم (1914) {1/521-522}، مسند أحمد (25652 {2513۷}) وفيه «رَشَدًا» مكان «رُشْدًا» عن عائشة ﷝.

[26] المستدرك للحاكم (6508) {3/591}، صحيح ابن حبان {2/150} (945)، مسند أحمد (1762)، المعجم الكبير (1183)، الدعاء للطبراني (1436). عن بسر بن أرطاة القرشي ﷛.

[27] المستدرك للحاكم {1/525} (1924)، الدعوات الكبير (252 و253)، لم يذكر فيهما «ولا» قبل «حاسدا». وذكره السيوطي في جامع الأحاديث (4002) والمنذري في الترغيب والترهيب (40) بلفظه. عن عبد الله ابن
مسعود ﷛.

[28] ابن حبان {2/143} (934)، الدعاء الكبير (252). عن عمر بن الخطاب ﷛.

[29]   الجامع للترمذي (479)، ابن ماجه (1384)، الدعاء للطبراني (1044)، المعجم الأوسط (3398)، المعجم الصغير (341)، مصنف ابن   أبي شيبة (3115) نحوه، وفي هذه المصادر«بِرَحْمَتِكَ» الا في مسند البزار (3374) ليس فيه «بِرَحْمَتِكَ». عن أنس بن مالك ﷛.

[30] سنن أبي داود (1522)، سنن النسائي (1303)، الدعوات الكبير (108) و(275) بلفظه، المستدرك للحاكم (1010) {1/273} و(1838) {1/499} و(5194) {3/273}، مسند أحمد (7982) بلفظه، المعجم الصغير (341)، السنن الصغير للبيهقي (18)، صحيح ابن خزيمة (751)، صحيح ابن حبان (2020 و2021)، مصنف ابن أبي شيبة (30444)، مسند البزار (2075 و 2661)، عمل اليوم والليلة للنسائي (109)، عمل اليوم والليلة لابن السني (118)، الادب المفرد (690)، وفي هذه المصادر بلفظ «أعني» مكان «أعنا» وعن معاذ بن جبل ﷛. الا في مسند أحمد (7982)،  معجم ابن الأعرابي (118) حلية الأولياء 9/223،  الاوليين. عن أبي هريرة ﷛

[31] المستدرك للحاكم (1674) {1/455} (1878) {1/510} و(3360) {2/356}، القناعة لابن السني (11 و13)، مصنف ابن أبي شيبة    (30249)، صحيح ابن خزيمة (2728)، الدعوات الكبير (242)، الادب المفرد (681) وفي البعض «رَبِّ» مكان «اللهم». عن ابن عباس ﷛.

[32] المستدرك للحاكم (1986) {1/541}، الدعوات الكبير (192). عن ابن عمر ﷛. ولم يذكر في المعجم الكبير للطبراني (14288) 13/438 «ولا فاضح». وفي هذه المصادر بلفظ وفيه «مُخْزٍ» مكان «مَخْزِيٍّ».

قال المناوي: (ومردا غير مخز) بضم الميم وبالزاي أي مرتجعا إلى الآخرة غير مخز بضم فسكون وفي رواية مخزي بإثبات الياء المشددة أي غير مذل ولا موقع في بلاء. قال الزمخشري: تقول ارتد هبته ارتجعها وخزي خزيا ومخزاه ذل (فيض القدير شرح الجامع الصغير (3121) 2/135. كذا في هامش المعجم الكبير.

[33] الدعوات الكبير (268)، وذكر في المعجم الأوسط للطبراني (6585) وفي مصنف ابن أبي شيبة (29965) بألفاظ متقاربة، وفي شرح مشكل الآثار (180) بلفظ «فأغنني» مكان «فارزقني»، وفي المستدرك للحاكم (1931) {1/527} فيه «لي الخير» مكان «الي الخير». وفي هذه المصادر «إني ضعيف فقوني»، عن بريدة ﷛.

[34] المستدرك للحاكم (1911) {1/520} ولم يذكر «آمين» بعد «اللهم إني أسألك فواتح» و«وآخره»، الدعاء للطبراني (1422) والمعجم الكبير  (19192) المعجم الأوسط (6218)، الدعوات الكبير (256) نحوه. عن أم سلمة ﷝.

[35] المستدرك للحاكم (1987) {1/542}، الدعاء للطبراني (1049)، المعجم الأوسط (3611)، الدعوات الكبير (270). عن عائشة﷝

[36] المعجم الأوسط (9448)، وفي مصنف ابن أبي شيبة (30124) وعمل اليوم والليلة (121) ومسند الفردوس (1962)، نحوه. عن أنس بن مالك ﷛.

[37] المعجم الأوسط (661)، عن أنس بن مالك ﷛.

[38] المعجم الكبير (828) {22/329}، مسند أحمد (15846{15744})  و(15848 {15756})، مصنف ابن أبي شيبة (29801)، الأدب المفرد (662)، عن أبي صرمة ﷛

[39] سنن النسائي (5499)، السنن الكبرى للنسائي (7881)، مسند البزار (324)، صحيح ابن حبان (1020)، الدعوات الكبير (3610)، نحوه عن عمرو بن ميمون عن عمر ﷛.

[40] صحيح مسلم (67-2717)، مسند أحمد (2748)، الدعوات الكبير (199)، عن ابن عباس ﷛.

[41] صحيح البخاري (6347) و(6616)، مسند أبي يعلى الموصلي (6632)، صحيح ابن حبان (1014)، الأدب المفرد (669)، وفي صحيح مسلم (53-2707} نحوه. عن أبي هريرة ﷛

[42] صحيح مسلم (65-2716)، سنن أبي داود (1550)، سنن النسائي (5525 – 5528) (5529 و 5530)، سنن ابن ماجه (3839)، السنن الكبرى (1230 و 7968). عن عائشة﷝.

[43] سنن أبي داود (1550). عن عائشة﷝.

[44] صحيح مسلم (96-2739)، السنن الكبرى للنسائي (7955)، الدعاء للطبراني (1337)، الدعوات الكبير (354)، المستدرك للحاكم (1946) {1/531} وفيه زيادة «مِن»، وفي سنن أبي داود (1545)، ومسند البزار (6109)، والمعجم الأوسط (6109) بلفظ «تَحْوِيلِ» مكان «تَحَوُّلِ»، وفي الأدب المفرد (685) «فُجأةِ» مكان «فُجَاءَةِ». فال النووي الْفَجْأةُ بِفَتْحِ الْفَاءِ وَإِسْكَانِ الْجِيمِ مَقْصُورَةٌ عَلَى وَزْنِ ضَرْبَةٍ وَالْفُجَاءَةُ بِضَمِّ الْفَاءِ وَفَتْحِ الْجِيمِ وَالْمَدِّ لُغَتَانِ وَهِيَ الْبَغْتَةُ. عن ابن عمر ﷛.

[45] سنن أبي داود (1551)، الجامع للترمذي (3492). عن شكل بن حميد ﷛

[46] صحيح ابن حبان (1030)، الدعاء للطبراني (1341)

[47] سنن أبي داود (1544)، مسند أحمد (8294) {8311}، المستدرك للحاكم (1983) {1/541}، صحيح ابن حبان (1026) {2/183} الدعوات الكبير (351). عن أبى هريرة ﷛.

[48] سنن أبي داود (1552) بلفظه. عن أبی اليسر ﷛.