پہلی منزل⁦-⁩بروزِ ہفتہ

ﵻ1ﵺ

﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْآخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝۲۰۱﴾

(البقرة،02:201)

اے ہمارے  پروردگار ! ہمیں اس دنیا میں بھی کامیابی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

شرح : قرآن مجید کی ہر دعا بجائے خود ایک پہلو جامعیت کا رکھتی ہے، لیکن یہ ان جامع دُعاؤں میں بھی شاید جامع ترین دعا ہے۔ اور اس کے بعد درجۂ اجمال میں تو اور کسی دُعا کی ضرورت ہی نہیں باقی رہ جاتی۔

رَبَّنَآ اٰتِنَا : بجائے واحد متکلم کے صیغہ جمع متکلم کا ملحوظ رہے۔ بندہ دُعا صرف اپنی ذات کے لیے نہیں مانگتا۔ اپنے بیوی بچوں، خاندان والوں پر بھی اکتفا نہیں کرتا، بلکہ دعا میں ہم سب کو ، سارے مسلم بندوں کو شریک کر رہا ہے ۔ یہ آفاقیت اور ہمہ گیری اسلام سے باہر کم تر ہی کہیں نظر آئے گی۔

حَسَنَةً:بندہ کو طلب بجز اپنی بھلائی کے اور کس چیز کی ہو سکتی ہے؟ اور یہی قرآن مجید نے اس کی زبان سے ادا کر دیا۔ وہ اپنی بھلائی ہی طلب کر رہا ہے، بھلائی فوری اور عاجل ، اس دُنیا میں بھی اور بھلائی مستقل و غیر فانی، عالم آخرت میں بھی۔

بعض کج فہموں نے آیت سے طلبِ دنیا کی مشروعیت نکالنی چاہی ہے، جو سر تا سر جہل ہے۔یہ دونوں تو صرف محل یا مقام ہیں۔ مقصود و مطلوب صرف حَسَنہ [بھلائی] ہے۔ یہاں بھی اور وہاں بھی، آج بھی اور کل بھی۔حَسَنہ کا لفظ خود اس قدر وسیع اور جامع ہے کہ دنیا و آخرت کے سارے ہی مرغوبات و محبوبات اس کے اندر آگئے۔

وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ :آخری اور اصلی پناہ مانگنے کی چیز تو یہی عذابِ آخرت ہے۔ اور جب اس سے نجات طلب کر لی گئی ، تو اب آگے کچھ کھٹکا نہ رہا۔ طلبِ نجات کے صیغہ ]قِنَا [ کا جمع ہونا ملحوظ رہے۔ بندہ نجات اپنی ذات ِواحد کے لیے نہیں ، سب کے لیے چاہ رہا ہے۔

—————————————–

 ﵻ2ﵺ

﴿رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ۝۲۵۰﴾

(البقرة،02:250)

اے ہمارے رب! ہم پر صبر کے دہانے کھول دے، ہمارے قدم جما دے اور ہمیں اِن لوگوں پر غلبہ عنایت کر دے جو تیرے قوانین سے انکار کرتے اور ان سے سرکشی برتتے ہیں۔

شرح :صبر تو ایسی چیز ہے، جس کی ضرورت ہر مومن کو کش مکش حیات میں قدم قدم پر پڑتی ہے۔ دوسرے اس کے پڑوس میں عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اور یہ فاقہ یا نیم فاقہ کشی کی زندگی بسر کر رہا ہے، ایسے موقع پر قناعت قائم رکھنا اور طمع ورشک و حسد کے جذبات سے بچے رہنا صبر ہی کی ایک قسم ہے پھر گرمیوں میں روزے رکھنا ، سردی میں عشاء اور فجر کی نمازوں کے لیے وضو کرنا، طرح طرح کی زحمتیں اُٹھا کر حج کے لیے جانا ، یہ سب مواقع صبرہی کے ہیں تبلیغ حق اور اقامت دین میں غیروں کی شدید مزاحمت کے وقت بد دل نہ ہونا اور ثابت قدم رہنا یہ بھی صبرہی کی ایک شاخ ہے۔ اور جس نے صبر کی دُعا کی اُس نے ان سب موقعوں کے لیے تیاری طلب کر لی۔

اَفْرِغْ عَلَيْنَا :میں اشارہ اس طرف ہے کہ خوب ہی ہمیں اس دولت سے مالا مال کر دے۔ اس کے مشکیزے کے مشکیزے ہمارے اوپر لنڈ ھادے۔

ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا:ہمارے قدم اس طرح جمادے کہ ہم راہ حق پر استوار رہیں حق و باطل کے کسی معرکہ میں بھی پیچھے نہ ہٹیں ۔ اور اندرونی اور بیرونی ہر قسم کے دشمنوں کے مقابلے میں ہم ثابت قدم ہی رہیں۔

وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ:آیت خاص اس موقع کی ہے جب بنی اسرائیل اپنے پیمبر صموئیلؑ کے زمانے میں، اور طالوت کی زیر سیادت، عہدِ داؤدی سے ذرا قبل، ارضِ کنعان میں ایک بڑے طاقت ور غنیم، کفارِ عمالقہ کا مقابلہ کر رہے تھے۔ کا فرقوم کی تصریح اسی لیے ہے۔ لیکن یوں بھی مومن کو زندگی بھر کفر اور اہل کفر کا مقابلہ کرتے تو رہنا ہی ہوتا ہے۔

—————————————–

 ﵻ3ﵺ

﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ        رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَـمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ    رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ       وَاعْفُ عَنَّاٙ       وَاغْفِرْ لَنَاٙ وَارْحَمْنَآٙ  اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝۲۸۶ ﴾

(البقرة، 02:286)

اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چُوک میں جو قصور ہو جائیں،ان پر گرفت نہ کرنا۔ مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ پروردگار !جس بوجھ کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ(یعنی ایسا بار بھی ہم پر نہ رکھ جسے اٹھانے میں تکلف و اہتمام کرنا پڑے)، ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تُو ہی ہمارا مولیٰ (کارساز) ہے، پس کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔

شرح :بھول یا نسیان اور غیر ارادی خطا و لغزش پر مواخذہ تو فضلِ خداوندی نے خود ہی معاف کر رکھا ہے، پھر بھی شانِ عبدیت کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ خود بھی اپنی زبان سے برابر اس کی طلب و درخواست کرتا رہے۔و ہ قومیں ہم سے قوی تر تھیں، وہ نباہ لے گئی ہوں گی ۔ ہم ہر طرح کمزور ہیں، بات کا تحمل ذرا بھی نہ کر سکیں گے۔ عربی میں طاقہ کا مفہوم اردو کی طاقت سے ذرا مختلف ہے۔ اردو میں طاقت ’وسعت‘ کے مرادف ہے۔ اور اس کا تو قرآن مجید میں وعدہ موجود ہے کہ حق تعالی کسی انسان پر ذمہ داری اس کی قدرِ وسعت سے زیادہ نہیں ڈالتے۔ہم تو تیرے ہی دین کے سپاہی ہیں۔ تو ہمیں ان لوگوں پر فتح ونصرت کیوں نہ دے گا، جو تیرے باغی اور تیرے دین کے دشمن ہیں۔ تو ہر طرح مالک و مختار ہو کر اپنے بندوں کی کیسے نہ مدد کرے گا۔

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاط۔۔۔ طَاقَةَ: کا استعمال عربی میں ان مواقع پر آتا ہے کہ کوئی بار اُٹھا یا جاسکتا تو ہو لیکن دقت اور دشواری کے ساتھ ۔ دُعا بندے کی زبان سے یہ کرائی جارہی ہے کہ ہم پر بار ایسا بھی نہ ڈالیے جس کے اُٹھانے میں ہمیں تکلف و اہتمام کرنا پڑے۔ بس ہم سے تو وہی کام لے جوہم آسانی اور سہولت سے انجام دے سکیں ۔

وَاعْفُ عَنَّا  :ہماری خطاؤں سے درگزر کر ،ان کی سزا ہمیں نہ دے۔۔۔ یہ پہلی منزل ہوئی۔

وَاغْفِرْ لَنَا:ہم کو عذاب سے محفوظ رکھنے کے درجۂ سلبی پر اکتفانہ کر، بلکہ مرتبۂ ایجابی میں ہماری مغفرت بھی کر دے۔ ہمیں داخل ِجنت کر دے۔ یہ دوسرا قدم ہوا۔

وَارْحَمْنَآ:ضابطے سے پروانہ ٔنجات تو مل گیا، لیکن یہ بھی کافی نہیں، ہمیں اپنی مزید شفقت و مرحمت سے بھی مالا مال کردے۔ ہمارے مراتب بلند سے بلند تر کرتا جا ۔۔۔یہ  ارتقاءِ   مومن کی آخری منزل ہوئی۔

—————————————–

 ﵻ4ﵺ

﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ      اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ ۝۸﴾

(آل عمران،03:08)

اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے، ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر، بے شک تو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔

شرح:

رَحْمَةً:کا اجمال اشارہ کر رہا ہے کہ وہ کوئی رحمت عظیم یا رحمت خاص ہی ہوگی۔ عربی میں صیغۂ نکرہ کی ایک یہ بھی خصوصیت ہوتی ہے۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا :یہ بالکل اس طرح کی دعا ہے جیسے کہا جائے کہ اے پروردگار ہمیں صحت کے بعد بیمار نہ  کرڈالنا۔۔۔ بیماری اور گمراہی سب کے اسباب تکوینی حیثیت سے اکٹھے کر دینا بحیثیتِ مُسَبِّبُ الاسباب کے،  حق تعالیٰ کا کام ہے۔ اور ہدایت کے بعد گمراہی ایک شدید ترین مصیبت ہے۔

وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً :پہلی درخواست صرف سلبی تھی، کہ ہمیں روح کی بیماریوں سے بچا۔ اب ایجابی پیش ہو رہی ہے کہ ہمیں خوب روحانی صحت و توانائی عطا فرما۔

مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً: رحمتِ خصوصی ہمارے اکتساب واستحقاق پر نظر کر کے نہیں بلکہ، خاص اپنی ہی طرف سےعنایت کر کتنی زبردست اور جاذبِ رحمت اپیل بندے کی زبان سے اپنے مالک و مولیٰ کے حضور میں ہے!

—————————————–

ﵻ5ﵺ

﴿رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝۱۶﴾
(آل عمران: 03:16)

اے ہمارے رب!  ہم ایمان لائے، پس ہماری خطاؤں سے در گزر فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

شرح:اس دُعا میں جلبِ رحمت کا ذریعہ اور اصل شفیع صرف اپنے ایمان لے آنے کو بتایا ہے، کہ ہم ایمان لا چکے ، تصدیق تو آپ کی اور آپ کے سچے رسول کی اپنی طرف سے کر چکے ۔ اب آپ اسی پر اپنے غُفر کو مرتب کر دیجیے۔ ہماری کوتاہیوں، لغزشوں پر نظر نہ کیجیے، بس آپ مغفرت ہی سے کام لیجیے، اور اس بڑے اور آخری عذاب سے ہم سب کو بچادیجیے۔

—————————————–

ﵻ6ﵺ

﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝۱۹۱ رَبَّنَآ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۝۱۹۲  رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِیْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّاۚ   رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ ۝۱۹۳ رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِكَ وَلَاتُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ۝۱۹۴﴾

(آل عمران، 194–191 :03)

اے پروردگار! یہ سب کچھ (زمین و آسمان) تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تُو پاک ہے اس سے کہ کوئی عبث کا م کرے۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے ،(کیونکہ) تو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسے در حقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکار نے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی اور ایمان لے آئے، پس اے ہمارے آقا!جو قُصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انھیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ (اپنے) نیک لوگوں کے ساتھ کر۔خدا وند! جو وعدے تُو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کےدن ہمیں رسوا نہ کرنا ، بے شک تُو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔

شرح:بندہ مومن عرض کر رہا ہے کہ ہم مشرکوں اور جاہلی مذہب والوں کی طرح نہیں جو آپ کی صفاتِ کمالیہ میں سے کسی کا بھی انکار کریں۔ ہم اس کی پوری تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے اس عظیم الشان کارخانۂ کائنات کا کوئی ادنیٰ سا ادنیٰ جزو بھی بے معنی، بے مقصود، حکمتوں سے خالی نہیں پیدا کیا۔ آپ کی شان ایسے مفروضے سے بھی پاک ہے۔ آپ کے ہر عمل کا ایک ایک جزئیہ حکمتوں سے لبریز ہے۔ آپ اس تصدیق کے صلے میں ہمیں اس بڑے اور سخت عذاب سے، جوثمرہ انکار کا ہوتا ہے، نجات دے دیجیے۔

دنیا میں حق پرستی کی راہ میں ایک بہت بڑا مانع جاه طلبی رہا کرتا ہے۔ انسان بیسیوں نیکیوں کی طرف بڑھنے اور بدیوں سے بچنے سے اس لیے رکا رہتا ہے کہ اس سے اس کے جذباتِ جاہ و ناموری میں فرق پڑتا ہے۔ ایسوں کے لیے آخرت میں عذاب محض سخت و مولم [ دردناک] ہونا کافی نہ ہوگا، بلکہ ان کو خلائق کے سامنے رسوا بھی کیا جائے گا، کہ جس رسوائی کے خوف سے وہ دنیا میں خدا اور رسول سے دور رہا کرتے تھے، آج اس کا مزہ سب سے زیادہ چکھنا پڑے گا۔

وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ :جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کرتے رہے ہیں[ اور سب سے بڑا ظلم یہی ہے کہ خدا کی خدائی میں کسی کو شریک سمجھا جائے] انھیں کوئی اتنا سہارا دینے والا بھی تو نہ ہوگا جو ان کی سزا کچھ ہلکی ہی کر سکے۔ سرے سے ان کے چھڑالانے کا تو خیر کوئی ذکر ہی نہیں۔

بس ہمیں ہمارے ایمان کا صلہ عنایت ہو کہ نیکیوں کے ساتھ ان کی خوش انجامی میں شریک ہوتا بجائے خود ایک نعمت ہے۔

مُنَادِيًا:خود پیمبؑر بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے نائب بھی۔ شریعت میں مطلق ایمان بھی بہت بڑے مرتبے کی نعمت ہے۔

فَاغْفِرْ لَنَا:ہمارے اس ایمان لانے پر ہمارے لیے یہ جزا مرتب کر، کہ ہمارے گناہوں کی مغفرت کر دے۔ ایمان لے آنے سے یہ نہیں ہوتا کہ گناہ خود بخود سب کے سب چھوٹ جائیں۔ کچھ نہ کچھ گناہ تو متقی ترین غیر معصوم سے بھی بہر حال سرزد ہوں گے۔

وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا :مومن ہو جانا معصوم بن جانے کے مرادف نہیں ۔ مومن کی شان بس یہی ہے کہ وہ برابر ان سَيِّاٰت کے تلافی و کفارے کی کوشش اور دُعاؤں میں لگار ہے [ صدق دل سے دعا کرتے رہنا خود ہی اس کوشش کی ایک بہترین شکل ہے ]۔

اس کا تو امکان ہی نہیں کہ ادھر سے کسی وعدہ خلافی کا ظہور ہوگا، یہ جو درخواست ہم بار بار الحاح سے پیش کر رہے ہیں یہ تو محض ہمارے اضطرار و اضطراب کا نتیجہ ہے، اور پھر اس کی بھی کیا خبر کہ ہم مستحق بھی ان وعدوں کے ٹھہرتے ہیں یا نہیں۔

اللہ کے وعدے اپنی جگہ پر سب بالکل صحیح و درست، لیکن اس کا اطمینان زید، عمرو، بکر کو کیسے ہوسکتا ہے کہ زید، عمرو، بکر کے اعمال انھیں ان وعدوں کا مستحق بھی ٹھہراتے ہیں !۔

—————————————–

 ﵻ7ﵺ

﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَاٚ   وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا   لَنَكُوْنَنَّ   مِنَ   الْخٰسِرِيْنَ ۝۲۳﴾

(الأعراف، 07:23)

اے ہمارے پروردگار ! ہم نے خود اپنے اوپر ظلم کیے ہیں۔ اور اگر تو ہی ہمیں نہ بخشے گا  اور ہم پر رحم نہ کرے گا  تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔

شرح:تیرے سوا اور ہے کون جو ہمیں مراد تک پہنچا سکے؟

ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا :اپنی جان پر ظلم کرنا یہ ہے کہ جو اعمال اپنے لیے صریحاً مضرت بخش ہیں، ان کا ارتکاب بے کھٹکے جاری رہے۔ جیسے مریض برابر بد پرہیزیاں کرتا رہے۔ حق تعالی کو ناخوش کرنے والے جتنے بھی اعمال ہیں، سب کا شمار انہی اپنے نفس پر ظلم کرنے والے افعال میں ہے۔

—————————————–

 ﵻ8ﵺ

﴿رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِـمِيْنَ۝۱۲۶﴾

 (الأعراف،07:126)

اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہمیں دنیا سے اِس حال میں اُٹھا کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں۔

شرح:کاش کا فراس لطف کے ایک شمہ سے واقف ہوتے ، جو ہر مومن کو موت کے وقت نصیب ہوتا ہے!۔

اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا :صبر کی دُعا دونوں حیثیتوں سے ہے۔ ایک تو احکام شریعت کی تعمیل میں نفس کو مشقت اور تعب کسی درجے میں تو بہر حال برداشت کرنا ہوتا ہی ہے، اور اجر فوری ملتا نہیں، توفیق صبر ایک تو اس کے لیے ہوئی، پھر مخالفین و معاندین کی طرف سے جو ہجومِ ایذا ہوتا ہے خود اس کی برداشت کے لیے بھی بڑی قوت صبر کی درکار ہے۔

اَفْرِغْ عَلَيْنَا :خوب اچھی طرح ہمیں صبر کا خوگر کر دے۔ ہم پر صبر کی پکھالیں [ مشکیں] انڈیل دے!

—————————————–

 ﵻ9ﵺ

﴿اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ۝۱۵۵﴾

(الأعراف،07:155)

تُو ہی تو ہمارا کارساز ہے، پس ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تُو سب سے بڑھ کر معاف کرنے والا ہے۔

شرح:اصلی اور یقینی بخشش تیری ہی ہے، نہ کہ تیری کسی مخلوق کی ، جو خود ہی تیری بخشش کی محتاج ہے۔

اَنْتَ وَلِيُّنَا :سہارا تیری ہی مدد و نصرت ، اور تیری ہی کارسازی کا ہے۔

وَارْحَمْنَا:بکثرت دعاؤں میں طلب رحمت کی تکرار ملاحظہ طلب ہے۔ تکیہ بندے کو اپنے اعمال پر ذرہ بھر بھی نہیں ہو سکتا ۔ آسرا سارے کا سارا اُسی کے رحم و کرم کا رہتا ہے۔

—————————————–

 ﵻ10ﵺ

﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ ۝۸۵ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ۝۸۶﴾

(يونس، 86–85 :10)

اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ظالم لوگوں کا ہدف نہ بنانا، اور ہمیں اپنے رحم و کرم سے کافر لوگوں سے چھڑا لے۔

شرح:قرآن اور حدیث دونوں میں دُعا میں صرف حسنِ عاقبت ہی کے لیے نہیں، اس دنیا میں بھی حسنِ عافیت کے ساتھ گزر کرنے کے لیے ضروری بتائی گئی ہیں۔ بعض اہل حال صوفیہ اور اہل سُکر سے جو کچھ اس کے خلاف مروی ہے، وہ ہرگز قابلِ سند نہیں ۔۔۔  ظالم قوم کا محکوم یا خدا فراموش حکومت کی رعایا ہو کر کوئی دیکھے تو ، کیسے کیسے دل آزار اور تکلیف دہ تجربے پیش آتے رہتے ہیں!

—————————————–

 ﵻ11ﵺ

﴿فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قف اَنْتَ وَلِـيِّىْ فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ج   تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ  بِالصّٰلِحِيْنَ ۝۱۰۱ ﴾

(يوسف،12:101)

اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، تُو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھانا اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں شامل کرنا۔

شرح:نیکوں کی خوش انجامی میں شریک و شامل ہونا خود ایک بڑی دولت ہے۔

دُعاؤں میں صیغۂ جمع متکلم کی تکرار ملاحظہ میں رہے۔ تقریبا ہر راحت و نعمت کی طلب فرد اپنی ذات کے لیے نہیں، بلکہ ساری جماعتِ اہلِ حق کی شرکت و شمول ہی میں کرتا ہے۔

فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ :اس طرز خطاب میں [ اصل] پہلو یہ ہے کہ جس کے لیے زمین و آسمان کی خلقت آسان ہے۔ اس کے لیے اتنی ہی درخواست قبول کر لینا کیا مشکل ہے۔– اللہ اپنی رحمت سے لبریز کردے۔ اکبر الٰہ آبادی کیا خوب فرما گئے ہیں۔ ؎

اک مرے دل کے وہ خوش کرنے پہ کیا قادر نہیں
ایک کُن سے دو جہاں کو جس نے پیدا کر دیا

اَنْتَ وَلِـيِّىْ فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ  :حق تعالیٰ کی رفاقت و نصرت اور کار سازی کی ضرورت محض آخرت میں نہیں ، اس دنیا میں بھی قدم قدم پر ہے۔ اور قرآن وحدیث دونوں کی دُعاؤں میں اس جامعیت کو برابر ملحوظ رکھا ہے۔

تَوَفَّنِی مُسْلِمًا:اعتبار تو اعمال میں خاتمے ہی کا ہے، اور حسنِ خاتمہ سے بڑھ کر کون سی دولت بندے کے لیے ہو سکتی ہے۔

—————————————–

ﵻ12ﵺ

﴿رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِیْ ط رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ۝۴۰ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ ۠ ۝۴۱  ﴾

(إبراهيم، 41–40 :14)

اے میرے پروردگار! مجھے اور میری نسل کو بھی نماز درست رکھنے والا (یعنی پابندی سے نمازقائم کرنے والا) کر دے۔ اے ہمارے رب، ہماری دعا قبول فرما،اور اے ہمارے پروردگار، مجھے،میرے والدین اور سب ایمان لانے والوں کو حساب (کتاب) کے دن معاف فرمانا۔

شرح:دعا حضرت ابراہیم خلیل اللہ  عليہ السلام کی زبان سے ادا ہوئی ہے، اور قرآن نے اسے سند اور نظیر کے طور پر قیامت تک کے لیے نقل کر دیا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِی مُقِيمَ الصَّلوةِ:نماز کو حق تعالی کے ہاں جو اہمیت حاصل ہے، اس سے ظاہر ہے کہ ابراہیمؑ جیسی مقبول و محبوب ہستی اس کی پابندی کی تمنا کر رہی ہے !

مُقِيمَ الصَّلوة:لفظ مُقِيم سے ادھر اشارہ ہو گیا کہ نماز محض کسی نہ کسی طرح پڑھ ڈالنا نہیں، بلکہ اس کے جمله ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرنا مقصود ہے۔

الصلوة:دعا سے ایک پہلو یہ بھی نمایاں ہو رہا ہے کہ جو نماز کا پابند ہوگا وہ دوسرے حقوقُ اللہ کا بھی ادا کرنے والا ہوگا۔

وَمِنْ ذُرِّيَّتِیْ :یہاں سے یہ بات نکلی، کہ جو شے اپنے حق میں ضروری ہے، اس کی دعا و تمنا اپنی اولاد کے حق میں بھی کرنا عین سنتِ انبیاء   ﷨ ہے۔

يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ  :یعنی قیامت میں۔

وَلِوَالِدَیَّ: اوپر کی دُعا میں ابراہیم خلیل اللہ عليہ السلام نے جس طرح ادائے نماز میں اپنی اولاد کو بھی شامل رکھا تھا،اس دعا میں مغفرت میں آپؑ  اپنے والدین کو بھی شامل کر رہے ہیں ۔

وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ :انبیائے کرام﷨دُعائے رحمت و مغفرت اپنی ذات تک تو کیا محدود رکھتے ، اس کے عموم میں اپنے خاندان ہی کو شامل نہیں رکھتے ، بلکہ اسے ساری امت تک کے لیے وسیع کر دیتے ہیں۔

—————————————–

 ﵻ13ﵺ

﴿رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَـمَا رَبَّيٰنِیْ صَغِيْرًا ۝۲۴﴾

   (الإسراء،17:24)

اے پروردگار، جیسا انہوں (میرے والدین) نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما۔ (تجھ سے درخواست ہے کہ بڑھاپے میں اور موت کے بعد ان پر نظرِ رحمت فرمانا)۔

شرح:یہ دعا خاص حضرتِ حق کی طرف سے تعلیم ہوئی ہے، اور اس سے والدین کے کمال درجۂ عظمت و احترام پر روشنی پڑتی ہے۔

رَّبِّ اور رَبَّيٰنِیْ : کے درمیان اشتراک لفظی ظاہر ہے۔ نا تو اں اور بے بس بچوں کی پرورش وربوبیت، ایک ہلکی سی جھلک حق تعالیٰ کی ربوبیتِ مطلقہ کی رکھتی ہے۔

—————————————–

 ﵻ14ﵺ

﴿رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ  وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا  نَّصِيْرًا ۝۸۰﴾ 

(الإسراء،17:80)

اے پروردگار، مجھ کو جہاں داخل کرنا ہے، اِس طرح داخل کر کہ وہ عزت کا داخل کرنا ہو اور جہاں سے نکالنا ہے، اِس طرح نکال کہ وہ عزت کا نکالنا ہو، اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت نصیب کر۔

(فائدہ: ہجرت کے موقع پر نبی کریم کی دعا)

شرح:اس دعا کی تعلیم رسول اللہ کو ہوئی ہے۔۔۔ گو یا آپعرض یہ کر رہے ہیں کہ میرا ہجرت کر کے مدینے میں داخلہ بھی باعث برکت ہو، اور میرا ہجرت کر کے مکہ سے کوچ کرنا بھی موجبِ سعادت ہو۔ صدق یعنی اخلاص و فلاح ہر حال میں میرے ہم رکاب رہے، اور تُو مجھے اپنی رحمت خاصه و دستگیری سے ہر حال میں منصور و ثابت قدم رکھ۔

—————————————–

 ﵻ15ﵺ

﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّهَيِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا۝۱۰﴾

(الكهف،18:10)

اے پروردگار، ہمیں اپنی رحمتِ خاص سے نواز اور ہمارے مقاصد میں کامیابی کا سامان بہم پہنچا دے۔

شرح:یہ اصحابِ کہف کی دعا ہے۔

وَّهَيِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا : ہر مقصد میں کامیابی کے سامان بہم پہنچانا اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے، اور عارفین مقبولین کی نگاہ اسی پر رہتی ہے۔

رَحْمَةً:صیغۂ نکرہ اظہارِ عظمت واہمیت کے لیے ہے۔ مراد رحمتِ خصوصی سے ہے۔

[۞ اصحاب ِکہف چند نوجوان مؤمن تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے کفر و جبر سے بچنے کے لیے اللہ کی خاطر اپنے شہر سے ہجرت کرکےایک غار میں پناہ لی؛ اللہ نے اُنہیں معجزانہ طور پر طویل عرصہ ( 309  سال) تک سُلا دیا اور پھر بیدار کر کے لوگوں کے لیے اپنی قدرت و بعثِ بعد الموت (مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے) کی نشانی بنادیا۔ قرآن انکے  کتے کا ذکر بھی کرتا ہے  جو غار کی دہلیز پر اپنے پنجے پھیلائے  بیٹھاتھا۔یہ قصہ قرآنِ کریم کی سورۃ الکہف میں مذکور ہے۔اس میں اہم بات یہ ہے کہ جب وہ سچے دل سے ایمان لے آئے  تو اللہ نے انکی ہدایت میں اضافہ کیا اور جب وہ دین  (حق بات) کیلیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ نے انکے دلوں کو مضبوط کر دیا۔  ]

—————————————–

 ﵻ16ﵺ

﴿رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ۝۲۵ وَيَسِّرْ لِیْٓ اَمْرِیْ ۝۲۶ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً  مِّنْ  لِّسَانِیْ  ۝۲۷   يَفْقَـــہُوْا قَوْلِیْ ۝۲۸﴾

   (طٰه، 28–25 :20)

اے میرے پروردگار! میرا سینہ کھول دے، اور مجھ پر میرا کام آسان کردے، اور میری زبان سے گنجلک (لکنت) کھول دے، تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں۔

شرح:یہ دعا حضرت موسی کلیم اللہ عليہ السلام   کی اس وقت کی ہے، جب آپؑ نبوت سے سرفراز ہوئے ہیں، اور فرعونِ مصر کی طرف پیام ہدایت لے کر بھیجے جارہے ہیں۔

اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ :شرحِ صدر سے مراد عربی محاورے میں کسی معاملے میں پورا اطمینان قلب وسکون خاطر نصیب ہو جانا ہوتا ہے۔

يَسِّرْ لِیْٓ اَمْرِیْ: اس کے عموم میں ہر جائز ومشروع مقصد داخل ہے۔۔۔اپنے حصولِ مقاصد میں آسانی و سہولت کی دُعاپیمبرِ برحق تک کرتے ہیں تو پھر ہم دنیا داروں کی کیا بساط ہے، کہ اپنی عالی ہمتی کے جوش میں آکر سختیوں اور دشواریوں کی طلب کرنے لگیں۔

وَاحْلُلْ۔۔۔قَوْلِیْ:تقریر پر اس طرح قادر ہونا کہ مخاطبین پوری آسانی اور بے تکلفی کے ساتھ مغز و مفہوم تک پہنچ جائیں، اہل تبلیغ کے لیے تو مقصود اور مطلوب کا حکم رکھتا ہے۔

—————————————–

  ﵻ17ﵺ

﴿رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۝۱۱۴﴾

(طٰه،20:114)

اے میرے پروردگار! مجھے علم میں بڑھا۔

شرح:اس دعا کی تعلیم خود حضور ِاقدسکو دی گئی ہے، اور مرتبہ ٔعلم کی رفعت اس سے ظاہر ہے، البتہ یہ خوب سمجھ لیا جائے کہ خود علم سے مراد محاورۂ قرآنی میں صرف اس علم سے ہوتی ہے جس سے معرفتِ الہٰی کی راہیں کھلیں۔ آج کل کے علوم و فنون و صنائع سے اس علمِ قرآنی کو کوئی تعلق نہیں۔ جو علوم و فنون بجائے معرفت حق کے خدا فراموشی ، اور آخرت فراموشی اور غفلت کی جانب لے جائیں، ان پر شریعت کی زبان میں علم کا نہیں، جاہلیت کا اطلاق ہوگا ۔

[۞ ہمیں اس پر کچھ اختلاف ہے۔ ہمارا خیال یہی ہے کہ جو علوم وفنون انسانیت کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور خدا فراموشی کا ذریعہ نہیں بنتے اُن کے مطلوب ہونے کا اشارہ بعض نصوص میں موجود ہے، مولانا عبدالسلام بھٹوی اپنی تفسیر قرآن الکریم میں فرماتے ہیں کہ:’ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ‘‘ میں ’’ عِلْمًا ‘‘ عام ہے اور اس سے مراد علمِ نافع ہے۔ دین یعنی قرآن و حدیث کا علم ہو یا دنیا کا ایسا علم جو دنیا و آخرت دونوں میں نافع ہو‘۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کی اکثر دعا یہ تھی : ( اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِي الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ ) ( بخاري: 6389 ) ” اے اللہ ،اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ سے بچا۔ـ‘

دنیاوی علم کا مقصد اگر رزقِ حلال کمانا اور خدا کی مخلوق کیلیے آسانیاں پیدا کرنا ہو تو اس علم کی دعا کرنا چاہیے اور اس طرح کا علم  دنیا کی بھلائیوں  میں شامل ہے۔]

—————————————–

ﵻ18ﵺ

﴿اَنِّىْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَـمُ الرّٰحِمِيْنَ۝۸۳﴾

(الأنبياء،21:83)

میں مبتلائے آزار (اور تکلیف میں) ہوں اور تُو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

شرح:یہ دعا حضرت ایوب عليہ السلام پیمبر کی زبان سے ہے، جب آپؑ سخت جسمانی آزار میں مبتلا تھے۔ جسمانی آزار و علالت کے وقت حق تعالیٰ سے رحم اور شفا کی درخواست کرنا عین سنتِ  انبیاء   ﷨  ہے۔ اور اس کے برخلاف راہ عمل اختیار کرنا ، ہرگز جواں مردی اور عالی ہمتی کی دلیل نہیں۔ قدم قدم پر بندے سے تذلل و تضرع و شکستگی ہی مطلوب ہے نہ کہ اس کے برعکس زعم و پندار ۔

—————————————–

 ﵻ19ﵺ

﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ۝۸۹﴾

(الأنبياء،21:89)

اے میرے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے۔

شرح:حضرت زکر یا عليہ السلام ایک اشارۂ الہٰی سے یہ دُعا اپنے لیے ضعیفی میں طلبِ اولاد کی کر رہے ہیں، اور تقاضائے طبعی اور اسبابِ ظاہری کی رعایت سے یہاں تک کہتے ہیں کہ میں بے اولا د رہا جاتا ہوں لیکن ساتھ ہی اعتماد علی اللہ پر ثابت اور مضبوط ہو کر یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ اولاد سے جو مقصود ہوتا ہے، اسے اس سے کہیں زیادہ اور احسن طریق پر تو حق تعالیٰ خود ہی پورا کر سکتا ہے۔

 اولا دو ازواج کی خواہش طبعی کو جو لوگ اولیا و مقبولین کے مرتبے سے فروتر سمجھ رہے ہیں، وہ انبیاءو مرسلین کی ان دعاؤں پر غور فرمالیں۔

—————————————–

    ﵻ20ﵺ

﴿رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ ۝۲۹﴾

(المؤمنون،23:29)

اے میرے رب، مجھے برکت والی جگہ اُتارنا، اور تُو ہی سب سے بہتر اُتارنےوالا  ( استقرار دینے والا)ہے۔

شرح:حضرت نوح   عليہ السلام کی زبان سے یہ دعانقل ہوئی ہے۔۔۔ ظاہر ہے کہ آپؑ کشتی پر حکمِ الہٰی ہی سے سوار ہوئے تھے، اور بہر حال کسی منزلِ مبارک ہی پر اتارے جاتے ، اس پر بھی تصریح کے ساتھ دعا بھی آپؑ اس کی کرتے جاتے ہیں ! یہ معنی ہیں کمال ِعبدیت و کمالِ اقربیت کے!

—————————————–

 ﵻ21ﵺ

﴿رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِۙ ۝۹۷ وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ ۝۹۸﴾

   (المؤمنون، 98–97 :23)

اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں۔بلکہ اے میرے ربّ، میں تو اِس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔

شرح:اس دعا کی تلقین بھی حضرتِ حق سے ہو رہی ہے۔بندہ شیطانی چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہنے میں تمام تر پناہ ِخداوندی ہی کا محتاج ہے ۔۔۔ صرف اسی میں نہیں بلکہ اس میں بھی کہ شیطان اس کے قریب نہ آنے پائیں۔

—————————————–

 ﵻ22ﵺ

﴿رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ۝۱۰۹﴾

(المؤمنون،23:109)

اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، پس تُو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تُو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے۔

شرح:مطلب یہ کہ تُو ہمیں بخش تو ضرور ہی دے گا لیکن ہماری عبدیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم تجھ سے التجا کرتے رہیں ، کہ ہمارے مجر د ایمان لے آنے پر ، مغفرت کا ثمرہ مرتب کر دے ۔

—————————————–

   ﵻ23ﵺ

﴿رَبَّنَااصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَؕؕؕؕ    اِنَّ عَذَابَہَا كَانَ غَرَامًا ۝۶۵﴾

  (الفرقان،25:65)

اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔

شرح:یہ دعا ، دُعائے ماقبل کی طرح مقبول بندوں کی زبان سے موقعِ مدح پر قرآن مجید میں نقل ہوئی ہے۔ اب جن حضرات صوفیہ سے کسی حالت سُکر ومستی میں دوزخ کی طرف سے بے پروائی روایتوں میں بیان ہوئی ہے، اگر وہ روایتیں صحیح ہیں بھی، تو ہرگز وہ حالت قابلِ استناد نہیں ۔

—————————————–

ﵻ24ﵺ

﴿رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۝۷۴﴾

(الفرقان،25:74)

اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ہماری ازواج و اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔

شرح:اور پر ہیز گاروں کی پیشوائی ظاہر ہے کہ اُس کے نصیب میں آسکتی ہے جسے خود تقویٰ کا انتہائی اعلیٰ درجہ نصیب ہو! تو گویا اس دُعا کے معنی یہ ہوئے کہ ہمیں تقویٰ کا وہ مرتبۂ اعلیٰ نصیب کر، کہ دوسرے بھی ہمارے اقتدا میں متقی بن جائیں۔

مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا :ازواج و اولاد کی طلب کی یہ ایک اور نظیر مقبولینِ حق کی دعاؤں اور نمازوں میں مل گئی۔

قُرَّۃَ اَعْيُنٍ :آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد عربی محاورے میں ، دل کا چین اور سکھ ہوتا ہے۔ مقبولین کے دلوں کی پوری مسرت ظاہر ہے کہ اسی وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو بھی اپنی ہی طرح دین میں کامل اور اطاعتِ الہٰی میں مستعد دیکھ لیں گے۔

—————————————–

   ﵻ25ﵺ

﴿رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ  فِیْ  عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ  ۝۱۹  ﴾

(النمل،27:19)

اے میرے رب مجھے سنبھالے رکھ کہ میں اس فضل کا شکرگزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور تُو اپنے فضل سے مجھے اپنے صالح بندوں کے زمرے میں داخل کر۔

شرح:یہ دعا حضرت سلیمان عليہ السلام کی زبان سے نقل ہوئی ہے۔

اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ  فِیْ  عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ :سلیمان  عليہ السلام   انسانیت کے سب سے اونچے مقام یعنی پیمبری پر تو فائز ہی ہیں، پھر بھی یہ دُعا کیے جارہے ہیں کہ اے پروردگارا امیر اشمار محض اپنے فضل و کرم سے اپنے مقبول وصالح بندوں میں کر لیجیے!۔۔۔ کیا ٹھکانا ہے اس خشیت و عبدیت کا !

نِعْمَتَكَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ  :نعمت کا مفہوم عام ہے، نعمتِ نبوت ، نعمت ِبادشاہت، نعمتِ صحت و عافیت، جملہ اقسام ِنعمت دنیوی و اخروی پر حاوی۔

حضرت سلیمان عليہ السلام کی یہ دعا امیروں رئیسوں کے لیے مناسبِ حال خاص طور پر ہے۔

—————————————–

 ﵻ26ﵺ

﴿رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ۝۲۴  ﴾

(القصص،28:24)

اے میرے رب! جو خیر بھی تُو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا محتاج ہوں۔

شرح:حضرت موسیٰ عليہ السلام حالتِ سفر میں بھوک سے مضطر ہو رہے ہیں، اور اس وقت یہ دعا زبان پر آ رہی ہے۔

مِنْ خَيْرٍ :سے سیاق میں خاص اشارہ بھوک کی تکلیف دور ہونے اور غذا             ملنے کی جانب ہے۔

فَقِيْرٌ:پیمبر بھی بہ ایں مرتبۂ کمال بہر حال بشر ہی ہوتا ہے اور تمام بشری ضروریات کا محتاج ۔۔۔حضرتِ حق کے حضور میں کاملین نے ہمیشہ اپنی ضرورت مندی اور احتیاج ہی پیش کی ہے، نه که استغنا۔

—————————————–

 ﵻ27ﵺ

﴿رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ ۠ ۝۳۰﴾

  (العنكبوت،28:30)

اے میرے رب! مفسد لوگوں کے مقابل میں میری مدد کر۔

شرح:یہ حضرت لوط پیغمبر عليہ السلام کی دعا ہے، ہجوم اعدا و غلبۂ مخالفین کو دیکھ کر اپنے رب سے عرض کرتے ہیں، اور یہی ہر مومن کو ایسے موقع پر کرنا چاہیے۔

—————————————–

 ﵻ28ﵺ

﴿رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَا بُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ ۝۷  رَبَّنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاىِٕـہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّيّٰــتِہِمْ ط اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۸  وَقِہِمُ السَّيِّاٰتِ ط وَمَنْ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ ط وَذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝۹﴾

(غافر، 09–07 :40)

اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرما جو توبہ کریں اور تیرے راستہ کی پیروی کریں اور ان کو عذاب جہنم سے بچا۔ اور اے ہمارے رب! ان کو ہمیشگی کے ان باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے آباء اور ازواج و ذریات میں سے جنت کے لائق ٹھہریں۔ بے شک عزیز و حکیم تو ہی ہے۔ اور ان کو برے نتائج ِاعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تو نے رحم فرمایا۔ اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔

شرح:یعنی ان کی تو بہ اور پیروی حق تیرے علم سے باہر رہ ہی نہیں سکتی ، اور جب اس علم محیط پر تیری رحمت عام مستزاد ہے، تو تو ان کی مغفرت تو یقینی کر کے رہے گا۔یہ رحمت الہٰی کا منفی یا سلبی پہلو ہے، اور آداب عبدیت میں سے یہ ہے کہ پہلے طلب اس کی کی جائے۔

 آیت 8 اور آگے یہ رحمتِ الہٰی کا اثباتی یا ایجابی پہلو ہے، اور یہی مطلوب و مقصود ہے۔

جَنّٰتِ عَدْنِ :جنت ہر مومن کا مقصود و مطلوب ہے، ایسی شے ہرگز نہیں، جس سے شاعرانہ استکبار کے ساتھ اغماض و اعراض برتا جائے۔

مَنْ صَلَحَ :انسان کو پورا اور انتہائی لطف اُسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اس لطف میں اپنے بڑے، اور اپنے چھوٹے ، اور اپنے ساتھ والے، غرض سب اہلِ اخلاص شریک ہوں۔ یہاں دُعا اسی کی کرائی جارہی ہے کہ ان اعزہ واقربا میں سے جو اصلاً مومن تو ہوں لیکن بہ لحاظِ اعمال اس مرتبے کے نہ ہوں، انھیں بھی ان جنتیوں کا شریک اور ان کا ہم درجہ بنادیا جائے!

تیرے لیے اس درخواست کا پورا کر دینا مشکل کیا ہے، تُو تو العزیز سب پر غالب ہے اور تو یقیناً اس کا انتظام اس طرح بھی کر سکتا ہے کہ اس سے تیرے انتظامات تکوینی میں کہیں بھی غلطی نہ پڑے تُو تو الحکیم ہے، سب سے بڑا حکمت والا ہے۔

دُنیا کی عارضی کامیابیاں بھی کوئی کامیابیاں ہیں، اصل کامیابی تو یہی دار آخرت کی حقیقی، مستقل اور پائدار کامیابی ہے۔ قرآن مجید نے کثرت کے ساتھ اس حقیقت کو مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے۔

—————————————–

 ﵻ29ﵺ

﴿وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّيَّتِیْۚ  اِنِّىْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاِنِّىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ ۝۱۵ ﴾

(الأحقاف،46:15)

اور میری اولاد میں بھی میرے نیک بخت وارث اٹھا (اور انہیں نیکی کی صلاحیت دے)۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں تیرے فرماں برداروں میں سے ہوں۔

شرح:یہ دعا ایک بندۂ حق اپنی عمر کی پختگی پر پہنچ کر کرتا ہے۔

اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّيَّتِیْ :اپنے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی اصلاح ، دعاو فکر کرتے رہنا مقبولین و کاملین کی سنت ہے۔

—————————————–

  ﵻ30ﵺ

﴿رَبِّ اَنِّىْ  مَغْلُوْبٌ  فَانْتَصِرْ ۝۱۰ ﴾

 (القمر،54:10)

(بارِ الٰہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تُو (ان سے) بدلہ لے۔

شرح:حضرت نوح عليہ السلام کی دُعا ہے، جب اپنی قوم پر تبلیغ کرتے کرتے ، اور اس کی بے اثری دیکھ، آپؑ عاجز آچکے تھے۔ مقبولین و کاملین کِس کِس طرح حضرتِ حق کے حضور میں اپنی شکستگی و تضرع کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

—————————————–

  ﵻ31ﵺ

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۠۝۱۰  ﴾

(الحشر،59:10)

اے ہمارے رب ، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سےپہلے ایمان لائے ہیں اورہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیےکوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب تُو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔

شرح:ملی یکجہتی اور ساری امت کے درمیان اخوت کی روح دوڑادینے کے لیے یہ کتنی موثر دعا ہے۔

الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ :اپنے پیش روؤں کے حق میں دعائے خیر کی تصریح خاص طور پر قابل لحاظ ہے۔

تُو اپنی اسی رأفت اور اسی رحمت کا ایک پر تو ہم سب پر بھی ڈال دے، تو ہمارے دل بھی سب ایک دوسرے سے جُڑ جائیں۔ اور ایک دوسرے کے حق میں محبت اور خیر خواہی سے لبریز ہو جا ئیں ۔

—————————————–

  ﵻ32ﵺ

﴿رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۝۴ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَاۚ    اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۵﴾

(الممتحنة، 05–04 :60)

اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ کر آنا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کا فر لوگوں کا ہدفِ ستم نہ بنا، اور اے پروردگار، ہمیں بخش دے، بے شک تو ہی زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔

شرح:اگر انھی عقائد کا استحضار رہنے لگے، کہ بھروسا اور رجوع کے قابل اس ایک کی ذات ہے، اور آخری سابقہ اسی ایک سے پڑنا ہے تو دنیا نمونۂ گلزار ِجنت بن جائے ۔

محل ِآزمائش بننے سے بچنے کی کوشش و تمناہی عین طاعت ہے، نہ کہ اس کے بالعکس، اس میں پڑنے کی آرزو ، جیسا کہ بعض نافہموں نے سمجھ رکھا ہے۔

إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ :یعنی نہ تو ہماری مغفرت تیرے لیے کچھ بھی دشوار ہے اور نہ تو اس سے اپنے کسی آئین ِحکمت میں خلل پڑنے دے گا۔

—————————————–

  ﵻ33ﵺ

﴿رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَاۚ   اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ ۝۸﴾

(التحريم،66:08)

اے ہمارے پروردگار، ہمارے لئے ہمارا نور کامل کر دے اور ہمیں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پرخوب قادر ہے۔

شرح:تُو تو ایمان سے محروموں کو نور سے بہرہ ور کر سکتا ہے، تو ہم بہر حال صاحب ایمان تو ہیں ہی، اب تجھ سے التجا ہے کہ اس نور کو درجۂ کمال تک پہنچادے۔

—————————————–

     ﵻ34ﵺ

﴿رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط

(نوح،71:28)

میرے رب ، مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے۔

شرح:یہ دعا حضرت نوح عليہ السلام کی زبان سے ادا ہوئی ہے۔۔۔ پیمبر ہو کر بھی التجا اپنی مغفرت کے لیے کیے جاتے ہیں ! کیا شان ِعبدیت ہے !

اب یہاں سے آخر کتاب تک حدیثی دعا ئیں ملیں گی۔

—————————————–

  ﵻ35ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَایَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِیْ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِیْ وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَّ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ»۔[1]

اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے، اور میرے دل سے گناہوں کو اسی طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے سے میل صاف کیا جاتا ہے  اور مجھ میں اور میرے گناہوں کے درمیان ایسا فاصلہ کر دے جیسا کہ مشرق و مغرب میں تُو نے فاصلہ رکھا ہے۔

شرح:

اغْسِلْ۔۔۔الْبَرَدِ: مراد اس طرح دھو دینا ہے، جس کے بعد کوئی شائبہ بھی ظلمت معصیت و ظلمانیت کا باقی نہ رہ جائے۔

نَقِ قَلْبِي۔۔۔ الدَّنَسِ اور بَاعِد۔۔۔ الْمَغْرِبِ: مقصود دونوں تمثیلوں سے جو عربی اسلوب بیان میں عام ہیں گناہوں کی آلودگی سے کامل پاکیزگی ہے۔

مسلمان کو چاہیے کہ جب یہ الفاظ زبان سے نکالے، تو کچھ ان کی لاج بھی رکھے، اور عملاً بھی ہر گناہ سے بچنے کی ممکن حد تک کوشش کرے اور اےاللہ! اس کی توفیق سب سے پہلے اس نامۂ سیاہ راقمِ سطور کو دے۔

—————————————–

 ﵻ36ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اٰتِ نَفْسِیْ تَقْوَاهَا وَزَكِّهَآ أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكّٰهَآ أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا»[2]

اے اللہ، میرے نفس کو اسکی پرہیز گاری عطا کر اور اسے پاک کر دے تو ہی اس کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے، تُو ہی اس کا کارساز اور مالک ہے۔

شرح:یہ دعا ئیں خیر البشر اور سرور ِانبیاء   اپنے حق میں کر رہے ہیں ، اور معلوم ہے کہ پیمبر کی زبان کسی مبالغہ پسند شاعر کی زبان نہیں ہوتی۔ تو ظاہر ہے کہ ہم بندگانِ دنیا کو کس شد و مد اور کس اہتمام سے اپنے حق میں دعائے تقوی ٰاور عمل تزکیہ کی ضرورت ہے۔

—————————————–

  ﵻ37ﵺ

«(اَللّٰهُمَّ) إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [3]

اے اللہ! ہم تجھ سے وہ سب بھلائیاں مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی
حضرت محمد نے مانگی ہیں۔[4]

شرح:کتنی جامع و پر اثر دعا ہے کئی کئی پہلو اس سے روشنی میں آگئے ۔ مثلاً:

1۔ ایک تو یہ کہ نبی نے جب طلب کی تو بھلائی ہی کی۔ جو چیز آپ نے طلب کی وہ کبھی بری طلب ہی نہیں کی۔

2۔نبی بھی بایں جلالتِ قدر اور بندوں میں لاثانی ہونے کے بہر حال صاحبِ احتیاج تھے۔ اور اپنی حاجتیں برابر حضرتِ حق میں عرض کرتے رہتے تھے۔

3۔دعا و درخواست میں بھی اتباع نبوی کرنے سے اتباعِ سنت کا اجر مزید حاصل ہوتا جائے گا۔

4۔اپنی خواہشوں اور درخواستوں کو بھی رسولِ معصوم کی درخواستوں سے متحد کر دینا یہی صحیح مقام فنافی الرسول کا ہے۔

—————————————–

 ﵻ38ﵺ

«(اَللّٰهُمَّ) إِنَّا نَسْأَلُكَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَمُنْجِيَاتِ أَمْرِكَ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالنَّجَاةَ مِنَ النَّارِ»[5]

اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں تیری مغفرت کو پکا کردینے والے اعمال کا، نجات دینے والے کاموں کا، اور ہر گناہ سے محفوظ رہنے کا اور ہر نیکی کی توفیق کا اور تجھ سے مانگتے ہیں جنت کا حصول اور دوزخ سے نجات۔

شرح:

الْجَنَّةِ:تو نام ہی ہے محل رضائے الہٰی کا۔ اور

النَّارِ:محل عتابِ الہٰی کا۔

ایک کے حصول اور دوسرے سے نجات کی طلب عین عشقِ الہٰی کا ثبوت دینا ہے۔ خدامعلوم وہ کیسے عجیب و غریب مدعیانِ عشق و محبت ہیں جو جنت و جہنم یعنی محبوب کے محلِ رضاءومحلِ عتاب کو یکساں قرار دیتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔

—————————————–

    ﵻ39ﵺ

«(اَللّٰهُمَّ إِنِّی)اَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا» [6]

اے اللہ! میں تجھ سے فائدہ دینے والے علم (نافع اور کارآمد علم) کا سوال کرتا ہوں۔[7]

شرح:اس حدیث نے تو جڑہی کاٹ دی مطلق علم کی مطلوبیت کی۔ مطلق علم ہرگز ہرگز مطلوب نہیں ہے۔ نافعیت کی قید نے ان تمام علوم وفنون کو دائرہ مطلوبیت سے خارج کر دیا جو معرفتِ الہٰی اور نجاتِ اُخروی میں معین و معاون نہیں۔ اور دنیوی حیثیت سے بھی ان ’علوم و فنون‘ میں سے اکثر کی مضرتیں ان کے نفع پر غالب ہی ہیں ظلم اور جہل کی کوئی انتہا ہے کہ فضیلتِ علم کی آیتیں اور حدیثیں پیش کر کے حمایت ان علوم وفنون کی اور اس نظامِ تعلیم کی کی جاتی ہے جن کا حاصل تمام تر خدا فراموشی اور آخرت سےغفلت ہے۔

[۞  ہمیں  اس پر کچھ اختلاف ہے۔ اور ہم  نے اسی منزل کی دعا نمبر 17 کے حاشیے میں اس پر لکھا بھی ہے کہ  جو علوم وفنون انسانیت کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور خدا فراموشی کا ذریعہ نہیں بنتے اُن کے مطلوب ہونے کا اشارہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔دنیاوی علم کا مقصد اگر رزقِ حلال کمانا اور خدا کی مخلوق کیلیے آسانیاں پیدا کرنا ہو تو اس علم کی دعا کرنا چاہیے اور اس طرح کا علم  دنیا کی بھلائیوں  میں شامل ہے۔]

—————————————–

  ﵻ40ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ  ذُنُوْبِیْ  وَخَطَئِیْ وَعَمَدِیْ» [8]

اے اللہ! میرے دانستہ و نادانستہ گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما۔

شرح:اس میں اس کی تعلیم آگئی، کہ بندے کو اپنے دانستہ اور بالقصد گناہ کے ساتھ نا داستہ اور بلا قصد گناہوں کی بھی عذر خواہی کرتے رہنا چاہیے ۔۔۔ اور استغفار جب نبی معصوم نے کیا ہے، تو پھر کسی غیر معصوم کا کیا ذکر ہے۔

[۞انبیاء علیہ السلام  کا استغفار اُن کی عبودیت کے اظہاراور تعلیمِ اُمّت  کیلیے ہوتا ہے۔]

—————————————–

   ﵻ41ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ خَطِيْئَتِیْ وَجَهْلِیْ وَإِسْرَافِیْ فِٓیْ أَمْرِیْ وَمَآ أَنْتَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّیْ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ جِدِّیْ وَهَزْلِیْ»[9]

اے اللہ! میری خطا معاف فرما دے۔ نیز میری نادانی و جہالت کے کاموں کو بخش دے۔ میرے کام میں مجھ سے جو زیادتیاں سرزد ہوئیں ان کو بھی اور جو کچھ میرے بارے میں تیرے علم میں ہے ان سب کو بھی معاف فرما دے۔ اے اللہ! مجھ سے ارادۃً یا غیر ارادی طور پر جو کچھ صادر ہوا اس کی مغفرت فرما دے۔

شرح:اس  اجمالی معذرت و توبہ کے اندر ہر ہر گناہ کی تفصیل آگئی۔

وَمَآ أَنْتَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّیْ:بعض گناہ ایسے خفی ہوتے ہیں جو انسان کے شعور میں پوری طرح آتے بھی نہیں۔ انسان انھیں قصداً بھلائے رکھنا چاہتا ہے۔ وہ سب اس دُعا میں شامل ہو گئے۔

جِدِّیْ وَهَزْلِیْ: بہت سے گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں، خصوصاً زبان کے، جو انسان بغیر سنجیدگی سے سوچے ہوئے یوں ہی ہنسی کھیل ، تفریح میں کر گزرتا ہے۔ یہ استغفار ان سب کا بھی جامع ہے۔

—————————————–

    ﵻ42ﵺ

«اَللّٰهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ، صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلىٰ طَاعَتِكَ» [10]

اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ! ہمارے دل اپنی طاعت کی طرف پھیر دے۔

شرح: اگر بندہ صدقِ دل سے اس کی تمنا رکھتا ہے کہ وہ طاعتوں ہی کی طرف راغب ہو جائے ، اور دُعا بھی کرتا رہتا ہے، تو عجب کیا کہ اس کی برکت سے واقعتاً اس کا دل اطاعتوں کی طرف پھر جائے۔

—————————————–

    ﵻ43ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اهْدِنِیْ   وَسَدِّدْنِیْ» [11]

اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اور درستگی پر قائم رکھ۔

شرح:مومن تو خود ہی ہدایت پر ہوتا ہے لیکن ہدایت مزید کی ضرورت اسے حال و مستقبل کے قدم قدم پر رہتی ہے اور اسی کے لیے وہ درخواست کرتا رہتا ہے۔

وَسَدِّدْنِیْ:جو دولت مومن کو حاصل ہو چکی ہے اس پر ثابت و مضبوط رہنا، یہ خود بھی بہت بڑی دولت ہے۔

—————————————–

  ﵻ44ﵺ

«اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْ  أَسْأَلُكَ الْهُدٰى وَالتُّقٰى وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰى»[12]

اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور (دل کا) غنا

(سیر چشمی) مانگتا ہوں۔

شرح:ان چار مختصر لفظوں کے اندر ہر قسم کی اعتقادی ، عبادتی ، اخلاقی ، معاشری خوبیوں کی طرف اشارہ آگیا، اور یہ چار لفظ ایمان، عبادت، اخلاق و معاشرت سب کے مقتضیات کے جامع ہو گئے۔

—————————————–

   ﵻ45ﵺ

«اَللّٰهُمَّ أَصْلِحْ لِیْ دِيْنِیَ الَّذِیْ هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِیْ، وَأَصْلِحْ لِیْ دُنْيَایَ الَّتِی فِيهَا مَعَاشِیْ، وَأَصْلِحْ  لِیْ اٰخِرَتِیَ الَّتِیْ فِيْهَا مَعَادِیْ، وَاجْعَلِ الْحَيٰوةَ زِيَادَةً لِّیْ فِیْ كُلِّ خَيْرٍ، وَّاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِّیْ مِنْ كُلِّ شَرٍّ»[13]

اے اللہ!     میرے لیے میرے دین کو درست کر دے جو میرےتمام معاملات کی حفاظت کا ذریعہ ہے،میری دنیا کو سنوار دے جس میں میری زندگی کا سامان  (معاش)ہے،میری آخرت کو بہتر بنا دے جس کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے، اور(میری)   زندگی کو میرے حق میں ہر قسم کی خیر و بھلائی میں اضافہ کا باعث بنا اور(میری )موت کو میرے حق میں ہر قسم کے شر سے راحت کا باعث بنا۔

شرح:یعنی زندگی وموت دونوں میرے حق میں سرتا سر رحمت ہی بن جائیں ۔۔۔ جب تک جیوں، ہر بھلائی میں ترقی ہی کرتا رہوں۔ ہر بھلائی کی دولت ہی جمع کرتا رہوں۔ اور جب دنیا سے اُٹھوں تو ہر برائی سے نجات پا جاؤں – ایک مومن کا نصب العین اس سے بڑھ کر اور ممکن کیا ہے؟ معاش اور معاد کی ساری ممکن نعمتوں کی جامعیت اس دعا میں آگئی۔

—————————————–

    ﵻ46ﵺ

«اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ عَافِنِیْ وَ ارْزُقْنِیْ» [14] 

اے اللہ ! مجھے بخش دے ! مجھ پر رحم فرما ! مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے ۔

شرح:آخرت کو ہمارے رسول  و معلم بر حق نے ہر دعا میں مقدم رکھا ہے کہ وہی تو اصل مقصود ہے۔ لیکن ساتھ رعایت ہم ضعیفوں کی مناسب سے ہر موقع پر معیشت دنیوی کی بھی رکھی ہے۔

[۞  نبی کریم ﷺ  دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ :

  اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے،(اپنے فیضانِ نعمت سے) میرے نقصان پورے کردے (میری بگڑی بنا دے( اور مجھے (دنیاوآخرت دونوں میں) بلندیٔ (درجات) عطا کر۔

(سنن ابو داؤد :850؛ سنن ابن ماجہ: 898)]

﴿استعاذہ﴾

«اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ [15] وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ،[16] وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنىٰ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ، [17]  وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ،[18] وَمِنَ الْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ وَالْكُفْرِ وَالْفُسُوْقِ وَالشِّقَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ وَمِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ[19]، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَمِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْبُخْلِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ[20]، وَمِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ [21]   وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا [22] ، وَمِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَّا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَّا يُسْتَجَابُ لَهَا.» [23]

اے اللہ!  میں تیری پناہ لیتا ہوں کم ہمتی اور سُستی اور بزدلی سے اور انتہائی کِبَر سنی سے اور قرضہ سے اور گناه سے اور عذاب دوزخ سے اور دوزخ کے فتنه سے اور قبرکے فتنه سے اور قبر کے عذاب سے اور مال داری کے برے فتنہ سے اور محتاجی کے بُرے فتنہ سے اور مسیحِ دجال کے برے فتنہ سے اور زندگی و موت کے فتنہ سے اور سخت دلی سے اور غفلت سے اور تنگ دستی سے اور ذلت سےاور بیچارگی سے اور کفر سےاور فسق سے اور ضِدّا ضِدّی (بحث و تکرار)سے اور لوگوں کے سنا وے سے اور دکھاوے سے اور بہرہ پن سے اور گونگے پن سے اور جنون سے اور جذام سے اور بری(لاعلاج) بیماریوں سے اور قرضہ سے اور فکر سے اور غم سے اور بخل سے اور لوگوں کے دباؤ سے اور اس سے کہ ناکارہ عمر (بہت زیادہ بڑھاپے کی عمر)تک پہنچوں اور دنیا کے فتنہ سے اور اس علم سے جو بے فائدہ ہو ( اور نفع بخش نہ ہو)، اور اس دل سے جس میں تیری ہیبت   (خشوع ) نہ ہو (اور وہ بے حضور ہو) اور اس نفس سے جو (طبعی خواہشات سے)سیر نہ  ہو(اور بے صبرا ہو ) اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔

شرح:تعوذات کا یہ سلسلہ حدیثی دُعاؤں کی حیرت انگیز جامعیت کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ غور کرنے کے بعد بھی اس فہرست میں اضافے کی گنجائش نہ نکل سکے گی۔ کسی حکیمانہ ایجاز و جامعیت کے ساتھ ایک ایک بشری ضرورت کو اس کے اندر سمیٹ لیا ہے۔

مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ :یہ کا ہلی اور بزدلی ہی انسان کوکتنی اخروی سعادتوں اور دنیوی نعمتوں سے محروم رکھتی ہیں !

وَالْهَرَمِ:پنا ہ مطلق کبرسِنی سے نہیں، بلکہ پیرِ فرتوت بننے سے مانگی گئی ہے۔ مطلق بڑھاپا تو ایک نعمت ہے۔ البتہ اس میں زیادتی ایک بلا ہے۔

 مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ :دو لفظوں کے الگ الگ آنے سے معلوم ہوا کہ ایک تو دوزخ میں جاپڑنا اور اس کے عذاب میں مبتلا ہونا ہے، اور دوسری چیز ہے محض اس کے لیے آزمائش ہونا، اس کی طرف لے جانے والے سوال و جواب ہوتا اور پناہ ما نگنے کے قابل دونوں ہی چیزیں ہیں۔

فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ :ایک شے تو ہے عذاب قبر اور ایک شے ہے قبر میں دھڑ کانے والا سوال و جواب ہونا ۔ مومن کے لیے عافیت اس میں ہے کہ نجات و مغفرت بغیر کسی مواخذے اور سوال و جواب ہی کے نصیب ہو جائے۔

شَرّفِتْنَةِ الْغِنىٰ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ:اسلوبِ بیان کی بلاغت ملاحظہ ہو۔ بجائے خود بری چیز نہ مال داری ہے نہ افلاس، دونوں اپنے اپنے ساتھ فتنے اور برائیاں رکھتی ہیں۔ اور پناہ مانگنے کے قابل بھی دونوں ہی کی خدا فراموشیاں فتنہ سامانیاں اور معصیت کوشیاں ہیں۔

فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ:زندگی اور موت دونوں بجائے خود تو اللہ کی رحمتیں ہیں، استعاذے کے قابل دونوں کی محض فتنہ سامانیاں ہیں۔ ۔۔سانپ کے زہر یلے دانت اگر توڑ دیے جائیں تو پھر سانپ تو ایک خوش نما کھلونا رہ جاتا ہے۔

وَالشِّقَاقِ :شقاق یہ کہ محض دوسروں کی ضدم ضدا میں نفسانیت سے کوئی فعل کیا جائے ۔

وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَاءِ :سمعہ وریا  یہ کہ راہِ اخلاص سے الگ ہو کر خلق میں نمائش کے لیے کوئی فعل کیا جائے۔

الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ:یہ تمام جسمانی علامتیں اور آزاد بھی حد درجہ پناہ مانگنے کے قابل ہیں۔ بندہ یہ ہرگز نہ سمجھے کہ شریعت اسلام جسمانی کلفتوں کی طرف سے بے نیازی کی تعلیم دیتی ہے۔

وَمِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ :یہ وہی چیز ہے جس کا ذکر ابھی ہرم کے تحت میں اوپر آچکا ہے۔

وَمِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ:علمِ غیر نافع سے اللہ کی پناہ!

وَمِنْ قَلْبٍ لَّا يَخْشَعُ:قلب کا تو اصل جو ہر یہی خُشوع ہے۔ یہ نہیں تو موتی بےآب کے، پھول بغیر خوشبو کے، شکر بلا مٹھاس کے ہے۔

وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ :ہر خواہشِ طبعی اگر اپنے حدود کے اندر رہے تو ایک نعمت ہے۔ لیکن ان خواہشوں کا ہوس بن جاتا ، یہی عین نفس پرستی ہے، اور بشریت کی نہیں ، ابلیسیت کی راہ ہے۔۔۔ دولت پر دولت حاصل ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر [بھی] دل نہیں بھرتا، دنیا ہی میں دوزخ کا مزہ آنے لگتا ہے۔

 [۞اس دعا میں فتنہ کے لفظ کا مطلب آزمائش ہےجیسے مالداری اور محتاجی کے فتنے سے پنا مانگی گئی ہے۔]

۩ ۩ ۩


[1] صحيح البخاری (6375)، مسند أحمد (25727)، الدعوات الكبير (250)، وفي صحيح مسلم (49–589)، سنن النسائي (61) و(335) و(5489)، سنن ابن ماجه: (3838)، مصنف ابن أبي شيبة (29815)، مسند أحمد (24301). «كما نقيت» مكان «كما ينقى». عن عائشة﷝۔

[2] صحيح مسلم (73-2722)، سنن نسائی (5458 و5548) 546۰، (29734)، مسند أحمد (19308)، الدعوات الكبير (201)، مصنف ابن أبي شيبة (12158). عن زيد بن أرقم﷛۔

[3] الجامع للترمذي (3521). عن أبي أمامة ﷛. وقال هذا حديث حسن غريب.

[4] ۞ابوامامہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہنے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا:

 اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا:کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں جو ان سب چیزوں (دعاؤں) کی جامع ہو، کہو اور پھر آپ نے یہ دعا تعلیم فرمائی۔ (ترمذی: 3521)

[5] المستدرك للحاكم (1957) {1/534}. ووافقه الذهبى. عن عبد الله بن مسعود﷛۔

[6]سنن ابن ماجه (925)، الدعاء للطبراني عن أم سلمة﷝ (669 و671 و672)، صحيح ابن حبان (82)، السنن الكبرى (7818)، المعجم الأوسط (1315 و9050)، عن جابرٍ﷛  و(7139). عن عائشة﷝، مصنف عبد الرزاق (9112) ، المستدرك للحاكم (1739) {1/473}، السنن الكبرى (9850) عن ابن عباسٍ﷛۔

[7] ۞جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ سے اس علم کا سوال کرو جو نفع بخش اور فائدہ مند ہو، اور اس علم سے پناہ مانگو جو فائدہ نہ پہنچائے“۔ [سنن ابن ماجه: 3843]

[[8]] المعجم الأوسط (662) 1/602 عن انس بن مالك﷛۔ المعجم الكبير 9/53 (8369)، وفي مسند احمد (16269) بلفظ «ذَنْبِي» مكان «ذُنُوبِي» عن عثمان بن أبي العاص﷛، وامرأةٍ من قريش۔ . قال الهيتمي رجالهما رجال الصحيح.

[[9]] صحيح البخاري (6399)، صحيح مسلم (70-2719)، الأدب المفرد (688)، مصنف ابن أبي شيبة (30005) نحوه. عن أبي موسى الأشعري﷛۔

[[10]] صحيح مسلم (17-2654)، عن عبد الله بن عمرو بن العاص﷛۔

[[11]] صحيح مسلم [6911] (78-2725)، سنن النسائي (5215)، سنن أبي داود (4225). مسند أحمد (1321)، السنن الكبرى (9541 و 9825)، مسند أبي يعلى (414 و 602). عن أبي موسى الأشعري﷛۔

[[12]] صحيح مسلم (72-2721)، سنن الترمذي (3489)، سنن ابن ماجه (3832)، مسند أحمد (3950 و4162)، مسند أبي داود الطيالسي (301). عن عبد الله بن مسعودٍ ﷛۔

[[13]] صحيح مسلم (71-2720). عن أبي هريرة﷛۔

[[14]] صحيح مسلم (36-2697)، سنن أبی داود (850)، سنن ابن ماجه (3845)، مصنف ابن أبي شيبة (29798). عن أبي مالك الأشجعي عن أبيه﷛۔

 لمْ يراع الترتيب في ترجمة التعوذات ولاالتساوي في العدد بل اتى بالفاظ جامعة ردما للاختصار فلذا لم يمكن إعلامها بالأعداد المطابقة.

[[15]] صحيح البخاري (2823)، صحیح مسلم (50-2706)، مسند أحمد (12113)، الدعوات الكبير (384)، الأدب المفرد (671). عن أنس بن مالكٍ ﷛۔

[[16]] صحيح البخاري (6375)، سنن النسائي (5481)، و (5487)، (5492)، السنن الكبرى للنسائي (7888 و 7889 و 7907). عن عائشة ﷝ وأنس بن مالك﷛۔

[[17]] صحيح البخاري (6375)، مسند أحمد (24578). عن عائشة ﷝.

[[18]] صحيح البخاري (2823 و 6367) عن أنس بن مالكٍ﷛، صحيح مسلم (129-589) عن عائشة ﷝. و( 1329 {132}) عن أبي هريرة﷛ و(1333 {134}) عن ابن عباسٍ﷛  وسنن أبي داود (880) عن عائشة ﷝. و(984) عن ابن عباسٍ﷛۔ و(1540)، عن أنس بن مالكٍ﷛۔ و(1542)، عن ابن عباسٍ﷛۔ الجامع للترمذي (3494) عن أنس بن مالكٍ﷛۔ و(3604) عن أبي هريرة﷛۔ سنن النسائي (1310 و 2062 و 2065 و 5507 و 5508 و 5510 _ الى _ 5518 و5520 و 5522). سنن ابن ماجه (3840). عن أبي هريرة﷛۔

[[19]] المستدرك للحاكم (1944) {21/530} ووافقه الذهبي، الدعوات الكبير (348)، صحيح ابن حبان (1017 و1023). عن أنس بن مالكٍ﷛۔

[[20]] صحيح البخاري (2893 و 5425 و 6363 و 6369)، سنن النسائي (5453 ، 5476، 5403، 5491 و 5518) نحوه. عن أنس بن مالكٍ ﷛

[[21]] صحيح البخاري (2822 و 6365 و6370 و 6374)، سنن النسائي (5445 و5447 و5478 و5480}و5496).  عن عبد الله بن مسعود ﷛.

[[22]] صحيح البخاري (2822 و6365 و6370 و6374 و6390)، سنن الترمذي (3568)، سنن النسائي (5445 و5447 و5478 و5479. عن عائشة ﷝.

[[23]] صحيح مسلمٍ (73-2722)عن زيد بن أرقم ﷛.