مناجاتِ مقبول اور تدوینِ نو

مناجاتِ مقبول ــ، مولانا اشرف علی تھانویؒ  کی ایک مقبولِ عام تالیف ہے جس میں قرآنی دعاؤں  اور  رسول کریم ﷺ کی دعاؤں کو  مشہورکتابوں (حصنِ حصین اور حزب الاعظم وغیرہ) سے  اکٹھا کیا گیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ حضرتؒ کے خلیفہ  حکیم محمد مصطفٰی بجنوریؒ کا کیا ہوا ہے جسے بعد میں مولانا

 عبد الماجد دریابادیؒ نے نظرِثانی کیا اور اس پر اپنا تشریحی حاشیہ لکھا جو پہلی دفعہ 1948 میں شائع ہوا۔

ابھی تک مناجاتِ مقبول کے جو نسخے بھی سامنے آئے ہیں ان میں یا صرف دعائیں تھیں، یا دعا اور ترجمہ، یا دعا، ترجمہ اور تشریح، یا  پھر  صرف دعا اور تخریج، اور اس طرح سے ایک جامع نسخے کی کمی تھی جس میں دعا، ترجمہ، تشریح اور   تخریج شامل ہوں۔ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے مناجاتِ مقبول کی تدوینِ نو  پر کام شروع کیا۔

 اس تدوین ِ نو میں ہم نے جن امور کو پیشِ نظر رکھا ہے وہ حسب ذیل ہیں:

1۔ دعاؤں اور ترجمہ کو بین السطور یا متوازی  رکھنے کے بجائے سلسلہ وار رکھا گیا ہے۔  یعنی پہلے مکمل دعا اور پھر ترجمہ، تشریح اور صفحہ کے آخر میں ہی اس دعا کی مکمل تخریج۔

2۔ دعاؤں کے شمار نمبر کو دعا کے شروع میں لکھا گیا ہے۔  دعاؤں کے نمبر شمار وہی ہیں جو زمزم پبلشرز کی شائع کردہ مناجات مقبول کے ہیں۔ ( اشاعت دوم: مارچ 2023)

3۔ تمام حدیثی دعاؤں کی مکمل تخریج دی گئی ہے ، یہ تخریج مفتی یوسف ساچا صاحب  نے کی ہے اور زمزم پبلشرز ،کراچی نے   شائع کی ہے۔ ( اشاعت دوم: مارچ 2023)۔ یہ تخریج زمزم پبلشرز کی ملکیت ہے اور ان کے پاس اس کے حقوق  محفوظ ہیں، ان کی اجازت کے بغیر اگر کوئی اس تخریج کو استعمال کرے گا تو ادارہ  (زمزم پبلشرز) اس کے خلاف کاروائی کرسکتا ہے۔ہم زمزم پبلشرز کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مناجات ِ مقبول کی عربی دعائیں اور انکی مکمل تخریج  ہمیں مہیا کی اور  اسےشائع کرنے کی اجازت دی۔

4۔ اس  کتاب میں ترجمہ بنیادی طور پر وہی ہے جو حکیم محمد مصطفٰی بجنوریؒ   کا کیا ہوا ہے اور مولانا

عبد الماجد دریابادی ؒ کا نظرِثانی شدہ ہے اور جسے   منشورات، لاہور نے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ 2009 میں  (ڈاکٹر مولاناگل زادہ شیر پاؤ  صاحب کی تدوینِ نو کے ساتھ) چھاپا تھا ۔ہم نے اسے کچھ جگہوں پر مزید تبدیل کیا  ہے قرآنی دعاؤں کا ترجمہ اردو کے مشہور تراجمِ قرآن (مولانا محمد جوناگڑھیؒ، مولانا فتح محمد جالندھریؒ، سید ابوالاعلٰی مودودیؒ، امین احسن اصلاحیؒ وغیرہ کے ترجمہ اور تفسیر) کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔  حدیثی دعاؤں کا ترجمہ کرتے ہوئے ، خُصوصاًصحاح ِستہ کی دعاؤں کیلیے، مشہور تراجمِ حدیث  اور مولانا منظور نعمانیؒ کی  تالیف کردہ معارف الحدیث سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح زبان کو کئی جگہوں پر سہل کرنے کی کوشش کی ہے اور قوسین کے ذریعے سے کچھ الفاظ کی مزید تشریح کی کوشش کی گئی ہے۔

5۔ اس نسخے میں شرح مولانا عبد الماجد دریابادیؒ کی ہے ہم نے  اس میں کچھ اضافے بھی کیے ہیں جو صفحے کے آخر میں حوالہ جات کی صورت میں موجود ہیں۔ کئی جگہو ں پر دعا کی تشریح کیلیے احادیثِ مبارکہ سے مزید ریفرنس دیے گئے ہیں۔اور انہیں بریکٹس[          ] کے اندر لکھ دیا گیا ہے۔جہاں بھی ہماری طرف سے کچھ اضافہ کیا گیا ہے اس کے ساتھ یہ نشان(۞) بھی لگایا گیا ہے۔

6۔ یہ  شاید مناجاتِ مقبول کا پہلا ایڈیشن ہو گا جس میں دعاؤں کے اردو ترجمہ و تشریح کے ساتھ ساتھ مکمل تخریج بھی دی گئی ہے اور اسے ہر صفحہ پر حوالہ جات کی صورت میں لکھا گیا ہے۔

7۔حزبُ الاعظم اور مناجاتِ مقبول  کو عام طور پر سات دنوں کی منزلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر دن ایک منزل کی تلاوت بزرگوں کا معمول رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ بھی اسے اپنا معمول بنائیں گے ۔ اور روزانہ کی منزل کے علاوہ بھی ان دعاؤں سے حق کے راستے میں چلنے کیلیے قوت کشید کریں گے۔

  دعا اورقبولیتِ دعا کے سلسلے میں تین چیزیں عرض کرنا چاہوں گا:

الف۔ دعا مانگنا اللہ کے حکم پر عمل کرنا ہے کیونکہ وہ خود کہتا ہے کہ مجھے پکارو اور میں تمھاری پکار سنوں گا۔ (ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ 40:60)

ب۔ رسول کریم ﷺ نے قبولیتِ دعا کے بارے میں فرمایا ہے کہ: ”جو بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کرتا ہے (یعنی دعا کی قبولیت تو یقینی ہے) ، یہ دعا یا تو دنیا ہی میں قبول ہو کر اپنا اثر ظاہر کر دیتی ہے یا یہ دعا اس کے نیک اعمال میں شامل ہو کر آخرت کے لیے ذخیرہ بن جاتی ہے، یا مانگی ہوئی دعا کے مطابق اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ مانگی گئی دعا کا تعلق کسی گناہ کے کام سے نہ ہو، نہ ہی قطع رحمی کے سلسلہ میں ہو اور نہ ہی جلد بازی سے کام لیا گیا ہو“، صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسولﷺ! جلد بازی سے کام لینے کا کیا مطلب ہے؟
آپ ﷺنے فرمایا ”وہ یہ کہنے لگے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی لیکن اللہ نے میری دعا قبول نہیں کی۔“(ترمذي:3604M)

ج۔ دعا میں درود شریف کا اہتمام بھی کرنا چاہیے، یہ دعا کے آداب میں سے ہے، اس سے دعا میں تاثیر  پیدا ہو تی  اور وہ قبولیت کے زیادہ قریب ہوجاتی ہے۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا: بے شک دعا آسمان اور زمین کے درمیان موقوف رہتی ہے، اس میں سے کچھ بھی آسمان کی طرف بلند نہیں ہوتا جب تک تم اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجو۔ (ترمذی:486) اگر دعا (یاروزانہ کی منزل)کے  شروع اور آخر دونوں میں درود شریف پڑھا جائے تو زیادہ بہتر ہے، ورنہ دعا یا منزل میں کسی بھی موقع پر (اول، آخر یا درمیان میں) پڑھ لیا جائے۔

 اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کےلیے میں سیماب حیدر عزیز   (ترتیب و ڈیزائن کیلیے)، عائشہ میر  (پروف ریڈنگ کیلیے)، ثوبیہ احمد (سرورق  کےڈیزائن کیلیے )اور اپنی بیٹی یمنیٰ احمد (ٹائپنگ کیلیے) کا  شکرگزار ہوں ۔

 اس تدوینِ نو کے دوران ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ یہ کام اغلاط سے پاک ہو  لیکن انسان پھر بھی خطا کا پتلا ہے اور کہیں نہ کہیں کوئی غلطی رہ ہی جاتی ہے، اگر آپ کے سامنے ایسی کوئی غلطی آئے تو براہ ِکرم ہمیں مطلع کیجیے، ہم اسےآئندہ اشاعت میں  درست کرنے کی کوشش کریں گے، انشاء اللہ۔

1500 سالہ عید ِمیلادالنبیﷺ کے موقع پر ہم اس کام کو اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کی بارگاہ میں  ہدیۃً  پیش کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے درخواست ہے کہ وہ ہماری کاوش کو قبول فرماتے ہوئے اسے سعیِ مشکور میں بدل دے ، اس کتاب کو نفع بخش بنائے اور روزِ قیامت ہمیں ہمارے والدین، بہن بھائیوں اوربیوی بچوں کے ساتھ نبی کریمﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے۔ آمین ۔

افتخار احمد

حافظ میاں محمد اجمل ؒ اسلامک سینٹر،نمل، میانوالی

اکتوبر 2025، ربیع الثانی 1447 ھجری