بیماری اور حالت نزع

بیماری اور حالت نزع میں اللہ سے حسن ظن رکھنے کا حکم ہے رسول اللہنے فرمایا:’’تمہیں موت اللہ سے حسن ظن رکھتے ہوئے آئے ( صحیح مسلم بحوالہ مشکوٰۃ : 1605) کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے جیسا گمان رکھتا ہے میں اس سے اسی طرح پیش آتا ہوں۔ (صحیح بخاری:7405)

نبی کریم ایک نوجوان شخص کے پاس تشریف لے گئے جو حالت نزع میں تھا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کیسا محسوس کرتے ہو تو اس نے عرض کیا کہ
یا رسول اللہ ، میں اللہ سے (جنت کی)امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں (کی وجہ سے دوزخ)سے ڈرتا ہوں تو رسول اللہ نے فرمایا: اس موقع پر کسی بندے کے دل میں اگر دو چیزیں (امید اور خوف) اکٹھی ہو جائیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا فرماتا ہے جس کی وہ امید رکھتا ہے(یعنی جنت) اور اس چیز سے اسے بے خوف کر دیتا ہے جس سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے(یعنی دوزخ) ۔ (جامع ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ : 1611 )