تعزیت اور دعا

جب موت واقع ہو جائے تو اہل تعلق (خاندان اور لواحقین) یہ دعا پڑھیں:

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰھُمَّ أجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا       

(ترمذی،صحیح مسلم بحوالہ ریاض الصالحین:921)
ترجمہ: بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں، اور اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ!مجھے  میری مصیبت میں اجر دے اور اس کے عوض مجھے اچھا بدلہ عنایت فرما۔

میت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد اپنے لیے (یعنی لواحقین کے لیے)دعائے خیر اور اس کے لیے دعائے مغفرت کا حکم ہے، رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تم کسی مریض یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو کیونکہ تم جوبات کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ (صحیح مسلم بحوالہ ریاض الصالحین:920)

میت کے اہل خانہ سے تعزیت کرنا نبی کریم کی سنت طیبہ ہے جب کسی مرنے والے کے پسماندگان سے تعزیت کرنی ہو تو یہ کلمات کہے:
اِنَّ لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَلَہٗ مَا اَعْطیٰ وَکُلُّ شَیْ ٍٔ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔

(متفق علیہ بحوالہ حصن المسلم: 162)
ترجمہ: بیشک اللہ ہی کا تھا جو اس نے لے لیا اور اللہ ہی کا ہے جو اس نے عطا فرمایا اور اس کے نزدیک ہر شخص کا ایک وقت مقرر ہے، لہٰذا تمہیں چاہئے کہ صبر کرو اور ثواب حاصل کرو۔

نبی کریم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کے بیٹے کی وفات پر ان کو جو تعزیت کا خط بھیجا اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

"حمد و ثناء کے بعد اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عظیم عطا فرمائے اور صبر کی توفیق دے اور ہمیں اور تمہیں شکر ادا کرنا نصیب فرمائے اس لیے کہ بیشک ہماری جانیں، ہمارا مال، ہمارے اہل و عیال اور ہماری اولاد اللہ بزرگ و برتر کے خوشگوار عطیے اور امانت کے طور پر سپرد کی ہوئی اشیاء ہیں جس سے ہمیں ایک معینہ مدت تک فائدہ اٹھانے کا موقعہ دیا جاتا ہے اور مقررہ وقت پر اللہ تعالیٰ واپس لے لیتا ہے پھر ہم پر فرض عائد کیا گیا ہے کہ جب وہ دے تو ہم شکر ادا کریں اور جب وہ آزمائش کرے تو صبر کریں۔ تمہارا بیٹا بھی اللہ تعالیٰ کی انہی خوشگوار نعمتوں اور سپرد کی ہوئی امانتوں میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے تم کو قابل رشک اور خوشیوں والا نفع پہنچایا اور اب اجر عظیم رحمت اور مغفرت اور ہدایت کا عوض دے کر لے لیا بشرطیکہ تم صبر کرو پس تم صبر کے ساتھ رہو ۔

اور دیکھو! تمہارا رونا دھونا تمہارے اجر کو ضائع نہ کر دے ورنہ پچھتاو  گے اور رو نا دھونا کچھ نہیں لوٹا کرلا تا (یعنی مرنے والا لوٹ کر نہی آتا)  اور نہ ہی غم و اندوہ (مصیبت) کو دور کرتا ہے اور جو ہونے والا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ (حصن حصین)

اسلام میں رونے سے نہیں بلکہ آہ و بکا ، بین اور نوحہ سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنے بیٹے ابراہیمؓ کے پاس آئے اور وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پس رسول اللہ کی آنکھوں کے ساغر چھلک پڑے۔ تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے آپ سے عرض کیا اورکیا آپ بھی (روتے ہیں) یا رسول اللہ؟ تو آپ نے فرمایا، اے ابن عوف! یہ رحمت و شفقت ہے اور آپ دوبارہ رو پڑے اور فرمایا: بے شک آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دل غمگین ہے، لیکن ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کردے اور اے ابراہیم! ہم تیری جدائی پر یقیناً غمزدہ ہیں۔ (صحیح بخاری بحوالہ ریاض الصالحین:927)

اسی طرح عبداللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں‘ سعد بن عبادہؓ کسی بیماری میں مبتلا ہوئے تو نبی ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ ‘ سعد بن ابی وقاصؓ اور عبداللہ بن مسعودؓبھی آپ کے ساتھ تھے‘ جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے انہیں بےہوشی کے عالم میں پایا: کیا یہ فوت ہو چکے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! نہیں ‘ پس نبی رونے لگے،جب لوگوں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رو دیئے،آپ نے فرمایا :کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ آنکھوں کے رونے اور دل کے غمگین ہونے پر عذاب نہیں دیتا‘ لیکن وہ تو زبان کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے‘ اور بےشک میت کو‘ اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے  (آہ وبکا)کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔( متفق علیہ بحوالہ مشکوٰۃ : 1724)   اسی  طرح احادیث مبارکہ میں ابتدائے صدمہ کے وقت صبر کا حکم ہے۔

 نبی کریم نے فرمایا:  صبر  وہی ہے جوکہ صدمے کے آغاز میں کیا جائے۔
( متفق علیہ بحوالہ مشکوٰۃ : 1728)

اور فوت ہونے والے شخص کی خوبیوں کا ذکر کرنا چاہیے کیونکہ نبی کریم نے فرمایا:  اپنے فوت شدگان کے محاسن بیان کیا کرو اور انکی برائیاں کرنے سے اجتناب کرو۔ (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ : 1678 )