زیارت قبور

نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا (لیکن) اب قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ دنیا سے بے رغبت کرتی اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔ (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰة: 1769)

یوں تو زیارت قبور کسی دن بھی کی جا سکتی لیکن اس کے لیے جمعہ کا دن سب سے افضل ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص ہر جمعے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرتا ہے اسے بخش دیا جاتا ہے اور اسے (والدین کا) فرمانبردار لکھاجاتا ہے۔ (بیہقی شعب الایمان بحوالہ مشکوٰۃ: 1768)

قبروں کی زیارت کے وقت:

حضرت بریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺمسلمانوں کی قبروں پر جاکر پڑھنے کے لیے یہ سکھلاتے تھے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ اِنَّآ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ نَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَ لَکُمْ الْعَافِیَۃَ

(صحیح مسلم بحوالہ مشکوٰۃ:1764)

تم پر سلامتی ہو اے ان گھروں کے رہنے والے مومنو اور مسلمانو! اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تمہارے پاس یقیناً پہنچنے والے ہیں ہم اپنے اور تم سب کے لیے اللہ سے عافیت چاہتے ہیں۔

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَھْلَ الْقُبُوْر یَغْفِرُ اللّٰہُ لَنَا وَ لَکُمْ أَنْتُمْ سَلَفُناَ وَ نَخْنُ بِالْاَثَرِ 

’’سلام ہو تم پر اے قبر والو! اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے آگے جانے والے ہو اور ہم پیچھے پیچھے آرہے ہیں‘‘۔ (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ:1765)

حضرت سیّدنا حسن بصریؒ فرماتے ہیں: جو شخص قبرستان میں داخل ہو کر یہ دعا پڑھے تو حضرت سیّدنا آدم ؑسے لے کر اس وقت تک جتنے بھی مسلمان فوت ہوئے سب اس کے لیے استغفار کرتے ہیں (دعا یہ ہے):
 اَللّٰھُمَّ رَبَّ الْاَجْسَادِ الْبَالِیَۃِ وَ الْعِظامِ النَّخِرَۃِ الَّتِیْ خَرَجَتْ مِنَ الدُّنْیَا وَ ھِیَ بِكَ مُؤْمِنَۃٌ اَدْخِلْ عَلَیْھَا رَوْحًا مِّنْ عِنْدِكَ وَ سَلَامًا مِّنِیْ۰

یعنی اے ہمارے پروردگار، اے اُن بوسیدہ جسموں اور گلی ہوئی ہڈیوں کے رب جو تجھ پر ایمان رکھتے ہوئے دنیا سے گئیں! اپنی بارگاہ سے ان پر راحت اور میری طرف سے سلام داخل فرما‘‘۔ (مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ شرح الصدور)