میت کو قبر میں اتارتے وقت:
حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب میت کو قبر میں اُتارتے تو یہ پڑھتے:
بِسْمِ اللّٰہِ وَ بِاللّٰہِ وَ عَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۰
(مسند احمد بحوالہ مشکوٰۃ : 1707 )
ترجمہ: اللہ کا نام لے کر، اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ (ﷺ) کے طریق پر اُتارتا ہوں۔
حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺکی صاحبزادی حضرت ام کلثومؓ کو جب قبر میں اتارا جانے لگا تو آپ ﷺنے یہ آیت پڑھی۔ (مسند احمد:22540)
مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرَی۰
(طٰہ:55)
ترجمہ: ’’ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے‘‘۔
حضرت زید بن اسلمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبر کی کھدائی کے وقت موجود تھے اور فرمایا: اس طرح کرو اُس طرح کرو (یعنی کام کے متعلق ہدایات دیں) اور پھر فرمایا کہ میرا نہی خیال کہ اس سے میت کو کوئی فائدہ ہو گا لیکن اللہ کو یہ بات پسند ہے کہ جب کو ئی کام کیا جائے تو پختگی سے کیا جائے ۔
اور ایک اور جگہ روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس میت کے گھر والوں کیلیے زیادہ باعث تسکین ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: 6498)
میت کے دفن کرنے کے بعد:
حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب میت کے دفن سے فارغ ہو جاتے تو وہاں کچھ عرصہ ٹھہرتے اور اپنے اصحاب کرام سے فرماتے۔ اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے ایمان پر ثابت رہنے کے لیے دعا کرو۔ کیونکہ اب اس سے سوال کیاجا رہا ہے۔ (ابوداؤد بحوالہ ریاض الصالحین:944)
یعنی کچھ اس طرح دعاکی جائے۔
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَهُ اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْہُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہِ
(مستدرک حاکم بحوالہ حصن المسلم: 164)
خاتون کیلیے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَھَا اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْہَا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللہِ
ترجمہ: اے اللہ اس کی مغفرت کر دے اور اسے پکی بات (یعنی کلمہ طیبہ) پر ثابت قدم رکھنا۔
حضرت عمرو بن العاصؓ کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے گھروالوں سے)فرمایا جب تم مجھے دفنا کر فارغ ہو جاؤ، تو میری قبر کے گرد اتنی دیر کھڑے رہنا جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جائے تاکہ میں تم سے انس حاصل کروں اور میں جان لوں کہ میں اپنے رب کے فرستادوں (فرشتوں) کو کیا جواب دوں۔ (صحیح مسلم بحوالہ ریاض الصالحین:947)
امام شافعیؒ نے فرمایا: مستحب ہے کہ (دفن کے بعد قبر) کے پاس کچھ حصہ قرآن سے پڑھا جائے اور اگر سارا قرآن ہی وہاں ختم کر دیں تو اچھا ہے۔ (ریاض الصالحین:947)
