نماز جنازہ اور دعائے مغفرت

نماز جنازہ کی چار تکبریں ہیں، پہلی تکبیر کے بعد (سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَجَلَّ ثَنَاءُ کَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ)، دوسری تکبیر کے بعد درود شریف(درودِ ابراہیمی)،تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے دعائے مغفرت (احادیث پاک میں دعائے مغفرت کے مختلف صیغے روایت ہیں کوئی ایک یا زیادہ دعائیں مانگ سکتے ہیں)اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام ہے۔ درج ذیل میں سے کوئی دعا یا تمام دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ یہ دعائیں جنازہ میں اور زیارت قبور کے وقت بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

رسول اللہنے فرمایا  کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں، سلام کا جواب دینا، بیمار کی مزاج پرسی کرنا، جنازوں میں پیچھے چلنا (یعنی اسکے جنازے میں شرکت)، اسکی دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا۔
(متفق علیہ  بحوالہ ریاض الصالحین:895)

رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تم میت پر نماز جنازہ پڑھو تو اس کے لیے خلوص نیت سے دعا کرو۔ (ابوداؤد بحوالہ مشکوٰۃ : 1674 )

1۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا اَللّٰھُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلاَمِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ وَ لَا تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ

(مسند احمد بحوالہ مشکوٰۃ : 1674 )

ترجمہ:   اے اللہ (عزوجل)! تو ہمارے زندہ اور مردہ اور ہمارے حاضر و غائب کو اور ہمارے چھوٹے اور بڑے کو اور ہمارے مرد اور عورت کو بخش دے ، اے اللہ (عزوجل)! ہم میں سے تو جسے زندہ رکھے، اُسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے تو جس کو وفات دے اُسے ایمان پر وفات دے۔ اے اللہ (عزوجل)! تو ہمیں اس(میت) کے (نیک اعمال اور اس مصیبت پر کیے گئے)اجر سے محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈال دینا۔

2۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَهُ  وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ

 (صحیح مسلم بحوالہ مشکوٰۃ : 1655)

خاتون کیلیے دعا

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَھَا وَارْحَمْھَا وَعَافِھا وَاعْفُ عَنْھَا وَأَكْرِمْ نُزُلَھَا وَوَسِّعْ مُدْخَلَھَا وَاغْسِلْھَا بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّھَا مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْھَا دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِھَا وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِھَا وَأَدْخِلْھَا الْجَنَّةَ وَأَعِذْھَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ۰

 (صحیح مسلم بحوالہ مشکوٰۃ : 1655)

ترجمہ:    اے اللہ (عزوجل)!تو اسکی مغفرت کر دے، اس پر رحم کرنا اور اسے عافیت دینا اوراسے معاف کرنا اور اپنی شان کریمی کے مطابق اسکی کریمانہ مہمانی کرنا اور اسکے ٹھکانے (قبر) کو کشادہ فرما نا اور اسکو خطاوں (اور گناہوں) سے پانی کے ساتھ، برف کے ساتھ،اور اولوں کے ساتھ ایسے دھو دے اور پاک و صاف کردے جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کردیتا ہے اور اس کو (اس دنیا کے)گھر سے بہتر گھر دے اور اہل خانہ کے بدلے میں بہتر اہل خانہ دے اور اسکے زوج کے بدلے میں بہتر زوج عطا کرنا اور اس کوجنت میں داخل کرنا اور عذاب جہنم سے محفوظ رکھنا۔

3۔ اَللّٰھُمَّ عَبْدُكَ وَ ابْنُ اَمَتِكَ یَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ وَ یَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَ رَسُوْلُكَ اَصْبَحَ فَقِیْرًا  اِلٰی رَحْمَتِكَ وَ اَصْبَحْتَ غَنِیَّا عَنْ عَذَابِہٖ تَخَلّٰی مِنَ الدُّنْیَا وَ اَھْلِھَا اِنْ کَانَ زَاکِیًا فَزِکِّہٖ وَ اِنْ کَانَ مُخْطئًا فَاغْفِرْلَہٗ اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ وَ لَا تُضِلَّنَا بَعْدَہٗ

۔(مستدرک حاکم: 1329)

خاتون کیلیے دعا

اَللّٰھُمَّ اَمَتُكَ وَبِنْتُ اَمَتِكَ تَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ وَ تَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَ رَسُوْلُكَ اَصْبَحَت فَقِیْرَۃً اِلٰی رَحْمَتِكَ وَ اَصْبَحْتَ غَنِیَّا عَنْ عَذَابِھَا تَخَلَّتْ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَھْلِھَا اِنْ کَانَتْ زَاکِیْۃً فَزِکِّھَا وَ اِنْ کَانَتْ مُخْطِئَۃً فَاغْفِرْلَھَا اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَھَا وَ لَا تُضِلَّنَا بَعْدَھَا

(مستدرک حاکم: 1329)

ترجمہ:    اے اللہ (عزوجل)! یہ تیرا بندہ   اور تیری باندی کا بیٹا ہے، یہ گواہی دیا کرتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اورگواہی دیا کرتا تھا کہ محمد () تیرے بندے اور رسول ہیں (آج یہ) یہ تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اس کے عذاب سے بے نیاز ہے (اب یہ) دنیا اور دنیا والوں سے جدا ہو (کر تیری بارگاہ میں ہمیشہ کیلیے حاضر ہو گیا ہے)، اگر یہ (گناہوں سے) پاک ہے تو تُو اسے مزید پاک و صاف کر دے اور اگر خطا کار ہے تو (رحمت کا معاملہ فرماتے ہوئے) بخش دے۔ اے اللہ (عزوجل)! اس (مصیبت کے وقت صبر اور تیری بارگاہ کی طرف توجہ) کے اجر سے ہمیں محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ ہونے دینا۔

4۔ اَللّٰھُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ اَمَتِكَ اِحْتَاجَ اِلٰی رَحْمَتِكَ وَ اَنْتَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِہٖ اِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِہ وَ اِنْ کَانَ مُسِیْئًا فَتَجَاوَزْ عَنْہُ  

(مستدرک حاکم بحوالہ حصن المسلم: 159)

خاتون کیلیے دعا

اَللّٰھُمَّ اَمَتُكَ وَبِنْتُ اَمَتِكَ اِحْتَاجَتْ اِلٰی رَحْمَتِكَ وَ اَنْتَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِھَا اِنْ کَانَتْ مُحْسِنَۃً فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِھَا وَ اِنْ کَانَتْ مُسِیْئَۃً فَتَجَاوَزْ عَنْھَا

  (مستدرک حاکم بحوالہ حصن المسلم: 159)

  ترجمہ:    اے اللہ (عزوجل)! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری باندی کا بیٹا ہے، (یہ آج) تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اس کے عذاب سے بے نیاز ہے اگر یہ نیکو کار ہے تو اس کی خوبیوں (حسنات) میں اضافہ کر اور اگر گنہگار ہے تو اس سے درگذر فرما۔

5۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبُّھَا وَ اَنْتَ خَلَقْتَھَا وَ اَنْتَ ھَدَیْتَھَا لِلْاِسْلَامِ وَ اَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَھَا وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِسِرِّھَا وَ عَلَانِیَّتِھَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْلَھَا

(ابوداؤد بحوالہ مشکوٰۃ : 1688 )

ترجمہ:    اے اللہ (عزوجل)! تو اس کا رب ہے اور تو نے اس کو پیدا کیا اور تو نے اس کو اسلام کی طرف ہدایت کی اور تو نے اس کی روح کو قبض کیا تو اس کے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے ہم (تو بس تیرے نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق) سفارش کے لیے حاضر ہوئے  ہیں  پس اسے بخش دے۔

6۔ اَللّٰھُمَّ إِنَّ فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ فِى ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۰

(ابوداؤد بحوالہ حصن المسلم: 158)

خاتون کیلیے دعا

اَللّٰھُمَّ إِنَّ فُلَانَةُ بِنْتَ فُلَانٍ  فِى ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِھَا مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَھَا وَارْحَمْھَا إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

(ابوداؤد بحوالہ حصن المسلم: 158)

ترجمہ:    اے اللہ (عزوجل)! فلاں بن فلاں (میت اور اسکے والد کا نام) تیری حفاظت اور ہی پناہ کے سہارے پر ہے، اس کو فتنۂ قبر اور عذاب جہنم سے بچا، تو اہل وفا (وعدوں کو پورا کرنے والا) اور سب تعریفوں کے لائق ہے اے اللہ (عزوجل)! اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما دے بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے۔

بچوں کیلیے دعا

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا سَلَفًا وَ فَرَطًا وَ ذُخْرًا وَّ اَجْرًا

(صحیح بخاری بحوالہ حصن المسلم: 161)

ترجمہ: اے اللہ! اس بچے کو ہمارے لیے پیش رو، پیش خیمہ اور ذخیرہ ثواب کر دے۔

والدین کیلیے دعا

اولاد  اپنے والدین کے لیے بکثرت یہ دعائیں پڑھیں:

رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًاؕ   

(بنی اسرائیل:24)
ترجمہ:   اے اللہ! ان دونوں پر (اپنا) سایۂ رحمت فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے شفقت سے پالا۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ 

(ابراہیم:41)

ترجمہ:   اے ہمارے رب! مجھے، میرے والدین اور تمام ایمان والوں کو یومِ حساب (روز قیامت) معاف فرما دینا۔