تلقین اور تلاوت کلام پاک

رسول کریم نے فرمایا: اپنے مردوں کو (حالت نزع اور بعد از دفن) لا الہ الا اللّٰہ کی تلقین کرو (صحیح مسلم بحوالہ ریاض الصالحین:918) تلقین کا مطلب زبردستی پڑھانا نہیں بلکہ حالت نزع والے کے پاس پڑھتے رہنے کا حکم ہے۔ نبی کریم نے فرمایا: جس کا آخری کلام لا الہ الا اللّٰہ ہوا وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ (مستدرک حاکم بحوالہ ریاض الصالحین:917)

رسول اللہ نے فرمایا: ’’اپنے قریب المرگ افراد کو ان کلمات کی تلقین کرو:

لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ: اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ عرش عظیم کا رب پاک ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘۔ صحابہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! (یہ کلمات) زندوں کے متعلق کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بہت خوب! بہت خوب‘‘۔ (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ : 1626 )

رسول کریم نے فرمایا: اپنے مردوں (حالت نزع اور بعد از دفن، بقول علماء  ، دونوں کو شامل ہے) کے پاس سورۃ یٰسین پڑھو (ابوداؤد  بحوالہ مشکوٰۃ : 1621 ) کیونکہ جس مرنے والے کے پاس سورۃ یٰسین تلاوت کی جاتی ہے اللہ اس پر آسانی فرماتا ہے۔ (موسوعہ ابن ابی الدنیا بحوالہ شرح الصدور)

نبی کریم کے دور میں حالت نزع والے کے پاس مسلسل درود پاک پڑھا جاتا یہاں تک کہ اس کی روح قبض ہو جاتی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ شرح الصدور)

مریض خود یہ دعا کرتارہے:

اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَ سَکَرَاتِ الْمَوْت
(جامع ترمذی بحوالہ ریاض الصالحین:912؛ حِصن حَصِین)

ترجمہ:   اے اللہ تو موت کی سختیوں پر اور جان کنی (کی تکلیف) پر میری مدد فرما۔

مرنے کے وقت مرنے والے کا منہ قبلہ طرف کر دیا جائے اور یہ دعا مانگے:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی
(متفق علیہ بحوالہ ریاض الصالحین:911؛ حِصن حَصِین)

ترجمہ:   اے اللہ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے رفیق اعلیٰ (انبیا و صالحین) کے ساتھ ملا دے۔

نوٹ: سکرات موت کے وقت زبردستی پڑھانے کی بجائے دوسروں کا ان دعاوں کو پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔