
۱ اَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجَيْمِ
میں شیطانِ مردود سے (بچنے کے لیے) اللہ کی حفاظت میں آتا ہوں۔
﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ﴾ آمِين!
[ الفاتحہ]
شروع اللہ کے نام سےجو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔
شکر (تعریف) اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا (پروردگار) ہے۔ (وہ جو) سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔(وہ جو)جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔ ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں (اور کرتے رہیں گے) اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں (اور چاہتے رہیں گے)۔ (اے ہمارے رب !) ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت بخش (اُس پر ہمارے دلوں کو مطمئن کر دے۔ اور ہمیں اُس پر ثبات و استقامت بخش دے)۔ ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا، اُن کی(راہ) نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه ِحق سے برگشتہ ہوگئے)۔[1]
————————————-
۲ ﴿اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجَاهِلِيْنَ﴾
[البقرة،02:67]
میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں اِس سے کہ میں(نادان بنوں اور) جاہلوں کی سی باتیں کروں ۔[2]
————————————-
۳ ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ… وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ﴾
[البقرة، 02:127]
اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے تُو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ اور ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرما (اور ہم پر عنایت کی نظر فرما)، یقیناً تُو بڑا معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔[3]
————————————-
۴ ﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
[البقرة،02:201]
اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس دنیا میں بھی کامیابی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔[4]
————————————-
۵ ﴿رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِينَ﴾
[البقرة، 02:250]
اے ہمارے رب! ہم پر صبر کے دہانے کھول دے، ہمارے قدم جما دے اور ہمیں اِن لوگوں پر غلبہ عنایت کر دے جو تیرے قوانین سے انکار کرتے اور ان سے سرکشی برتتے ہیں۔[5]
————————————-
۶ ﴿سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ﴾
[البقرة، 02:285]
ہم نے سُنا اور مانا۔ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔[6]
————————————-
۷ ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِينَآ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ وَاعْفُ عَنَّا ٙ وَاغْفِرْ لَنَا ٙ وَارْحَمْنَا ٙ اَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
[البقرة، 02:286]
اے ہمارے رب ! ہم سے بھول چُوک میں جو قصور ہو جائیں،ان پر گرفت نہ کرنا۔ مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تُو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ پروردگار !جس بوجھ کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ(یعنی ایسا بار بھی ہم پر نہ رکھ جسے اٹھانے میں تکلف و اہتمام کرنا پڑے)، ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تُو ہی ہمارا مولیٰ (کارساز) ہے، پس کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔[7]
————————————-
۸ ﴿رَبَّنَا لَا تُزِ غْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ رَبَّنَآ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾
[آل عمران، 09–08 :03]
اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے، ہمیں اپنے خزانہ ٔفیض سے رحمت عطا کر، بے شک تُو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔[8]اے رب ہمارے ! یقیناً تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک ایسے دن کے لیے جس (کے آنے) میں کوئی شک وشُبہ نہیں ہے، یقیناً خداوعده خلافی نہیں کرتا۔ [9]
————————————-
۹ ﴿رَبَّنَا اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
[آل عمران، 03:16]
اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس ہماری خطاؤں سے در گزر فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔[10]
————————————-
۱۰ ﴿قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِ عُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ ز وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُط بِيَدِكَ الْخَيْرُ ط اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرُ تُوْلِجُ الَّيْلَ فِی النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّيْلِ ز وَتُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
[آل عمران، 27- – 26 :03]
کہو کہ اے خدا! (اے) تمام بادشاہت کے مالک! تُو جسے چاہے، حکومت (اور اقتدار) دے اور جس سے چاہے ، حکومت (واقتدار) چھین لے ، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کردے ، ہر طرح کی بھلائی تیرے اختیار میں ہے ۔ بیشک تُو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ (ہم جانتے ہیں کہ) تُو رات کودن میں اور دن کو رات میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور (جانتے ہیں کہ ) تُو مردے سے زندہ کو اور زندہ سے مردے کو نکالتا ہے اورجس کو چاہتا ہے، بے حساب روزی عطا فرماتاہے۔[11]
————————————-
۱۱ ﴿رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ج اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ﴾
[آل عمران، 03:38]
اے میرے ربّ ! تُو مجھے بھی اپنی جناب سے کوئی پاکیزہ اولاد عطا فرما دے یقیناً تُو دعا کا سننے والا ہے۔ [12]
————————————-
۱۲ ﴿رَبَّنَآ اٰمَنَّاۤ بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِينَ﴾
[آل عمران، 03:53]
اے پروردگار جو (کتاب) تُو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) رسول کی اتباع کی، پس تُو ہمیں ماننے والوں میں لکھ دے۔[13]
————————————-
۱۳ ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْ ٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
[آل عمران، 03:147]
اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، اور اگر ہم سے اپنے کسی معاملے میں حد سے تجاوز ہوگیا ہو تو اسے معاف فرما دے۔ہمارے قدم جمادے (ثابت قدمی عطا کر)اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔ [14]
————————————-
۱۴ ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ج سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ رَبَّنَآ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ طوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِیْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾
[آل عمران، 194– 191 : 03]
اے پروردگار! یہ سب کچھ (زمین و آسمان) تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تُو پاک ہے اس سے کہ کوئی عبث کا م کرے۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے ،(کیونکہ) تُو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسے در حقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکار نے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی اور ایمان لے آئے، پس اے ہمارے آقا!جو قُصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انھیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ (اپنے) نیک لوگوں کے ساتھ کر۔خدا وند! جو وعدے تُو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کےدن ہمیں رسوا نہ کرنا ، بے شک تُو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔[15]
————————————-
۱۵ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا﴾
[النسا، 04:75]
اے پروردگار ہمیں اس شہر سے، جس کے رہنے والے ظالم ہیں، نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اورخاص اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما۔[16]
————————————-
۱۶ ﴿اَللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِتَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ ج وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ﴾
[المائدہ، 05:114]
اے ہمارے رب ، ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر، جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے خوشی کا موقع (عید کا دن) قرار پائے اور(جو) تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق دے اور یقیناً تو بہترین رزق دینے والا ہے۔[17]
————————————-
۱۷ ﴿رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ… وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّلِحِيْنَ﴾
[المائدہ، 84-–83 : 05]
اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تُو ہمیں ماننے والوں میں لکھ لے(یعنی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں)۔ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک بخت اورصالح لوگوں میں شامل کرے۔[18]
————————————-
۱۸ ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ﴾
[الأعراف، 07:45]
اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اِن ظالموں کے ساتھ شامل نہ کرنا۔[19]
————————————-
۱۹ ﴿اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِيْنَ وَاكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ﴾
[الأعراف، 156 – 155 :07]
تُو ہی تو ہمارا کارساز ( پشت پناہ) ہے، پس ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرمااور تُو سب سے بڑھ کر معاف کرنے والا ہے۔ اور تُو ہمارے لیے اس دنیا (کی زندگی) میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ،ہم تیری جناب میں رجوع کرتے ہیں۔ [20]
————————————-
۲۰ ﴿رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَمَا نُعْلِنُ ط وَمَا يَخْفٰی عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ﴾
[الابراہیم، 14:38]
اے ہمارے پروردگار ! تُو خوب جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ پر پوشیده نہیں۔[21]
————————————-
۲۱ ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا سکتہ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ﴾
[الأعراف، 07:23]
اے ہمارے پروردگار ! ہم نے خود اپنے اوپر ظلم کیے ہیں۔ اور اگر تُو ہی ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔[22]
————————————-
۲۲ ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ﴾
[الأعراف، 07:89]
اے ہمارےپروردگار! ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تُو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔[23]
————————————-
۲۳ ﴿رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ﴾
[الأعراف، 07:126]
اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہمیں دنیا سے اِس حال میں اُٹھا کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں۔[24]
————————————-
۲۴ ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَۖ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ﴾
[الأعراف، 07:151]
اے میرے پروردگار ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرمااور تُو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔[25]
————————————-
۲۵ ﴿عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ﴾
[يونس، 86 –85 : 10]
)تو وہ بولے کہ( ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں،اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ظالم لوگوں کا ہدف (تختۂ مشق) نہ بنانا، اور ہمیں اپنے رحم و کرم سے کافر لوگوں سے چھڑا لے۔[26]
————————————-
۲۶ ﴿رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَيْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ ط وَّاِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْ ٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ﴾
[ھود،11:47]
نوحؑ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ میں تجھ سے ایسی بات کا سوال کروں جس کے بارے میں میرے پاس کوئی علم نہیں ہے اور اگر تو نے مجھے معاف نہ فرما دیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاوٴں گا۔[27]
————————————-
۲۷ ﴿فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ – تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصَّلِحِيْنَ﴾
[یوسف،12:101]
اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھانا اور انجام ِکار مجھےاپنے نیک بندوں میں شامل فرما ۔[28]
————————————-
۲۸ ﴿اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِيْعُ الدُّعَآءِ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوٰلِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ﴾
[إبراهيم، 41 – 40 : 14]
بے شک میرا پروردگار دعا ضرور سنتا ہے۔ اے میرے پروردگار! مجھے اور میری نسل کو بھی نماز درست رکھنے والا (یعنی پابندی سے نمازقائم کرنے والا) کر دے۔ اور اے پروردگار، مجھے،میرے والدین اور سب ایمان لانے والوں کو حساب (کتاب) کے دن معاف فرمانا۔[29]
————————————-
۲۹ ﴿رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِیْ صَغِيرًا﴾
[الإسراء،17:24]
اے پروردگار، جیسا انہوں (میرے والدین) نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما۔ (تجھ سے درخواست ہے کہ بڑھاپے میں اور موت کے بعد ان پر نظرِ رحمت فرمانا)۔[30]
————————————-
۳۰ ﴿رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَ جَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا﴾
[الإسراء،17:80]
اے پروردگار، مجھ کو جہاں داخل کرنا ہے، اِس طرح داخل کر کہ وہ عزت کا داخل کرنا ہو اور جہاں سے نکالنا ہے، اِس طرح نکال کہ وہ عزت کا نکالنا ہو، اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت نصیب کر۔[31]
————————————-
۳۱ ﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا﴾
[الكهف،18:10]
اے پروردگار، ہمیں اپنی رحمتِ خاص سے نواز اور ہمارے مقاصد میں کامیابی کا سامان بہم پہنچا دے۔[32]
————————————-
۳۲ ﴿رَبِّ اشْرَ حْ لِیْ صَدْرِیْ وَيَسِّرْ لِیْ- ٓ اَمْرِیْ﴾
[طٰه، 26 – 25 : 20]
اے میرے پروردگار! میرا سینہ کھول دے، اور مجھ پر میرا کام آسان کردے۔[33]
————————————-
۳۳ ﴿رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا﴾
[طٰه،20:114]
اے میرے پروردگار! مجھے علم میں بڑھا (اور میری سمجھ بوجھ میں اضافہ فرما)۔[34]
————————————-
۳۴ ﴿رَبِّ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ﴾
[الأنبياء،21:83]
اے میرے رب، میں مبتلائے آزار (اور تکلیف میں) ہوں اور تُو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔[35]
————————————-
۳۵ ﴿لَآ اِلٰهَ اِلَّا ٓ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِينَ﴾
[الأنبياء،21:87]
(پس اس نے تاریکیوں کے اندر پکارا کہ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصور وار ہوں![36]
————————————-
۳۶ ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِينَ﴾
[الأنبياء،21:89]
اے میرے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے۔[37]
————————————-
۳۷ ﴿رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ﴾
[الأنبياء،21:112]
اے میرے رب، حق کے ساتھ فیصلہ کر دے، اور لوگو، تم جو باتیں بناتے ہو اُن کے مقابلے میں ہمارا ربِّ رحمان ہی ہمارے لیے مدد کا سہارا ہے۔[38]
————————————-
۳۸ ﴿رَبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ﴾
[المؤمنون،23:29]
اے میرے رب، مجھے برکت والی جگہ اُتارنا ( میرے نزول و قیام کو بڑی بھلائیوں والا بنا)، اور تُو ہی سب سے بہتر اُتارنےوالا ( استقرار دینے والا)ہے۔[39]
————————————-
۳۹ ﴿رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ﴾
[المؤمنون،23:94]
تو اے میرے رب مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا (اورجب ظالموں پر عذاب آئے تو الہٰی مجھ کو اس کے ذیل میں شامل نہ کرنا)۔[40]
————————————-
۴۰ ﴿رَبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ﴾
[المؤمنون، 98 – 97 :23]
اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں۔بلکہ اے میرے ربّ، میں تو اِس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔
————————————-
۴۱ ﴿رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ﴾
[المؤمنون،23:109]
اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، پس تُو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تُو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے۔
————————————-
۴۲ ﴿رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ﴾
[المؤمنون،23:118]
اے میرےپروردگار، مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، تُو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے۔
————————————-
۴۳ ﴿رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَۖ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾
[الفرقان،25:65]
اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔یقیناً وہ بہت بری جگہ ہے مستقل ٹھکانے کے لیے بھی اور عارضی قیام کے لیے بھی۔
————————————-
۴۴ ﴿رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوٰجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا﴾
[الفرقان،25:74]
اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ہماری ازواج و اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔
————————————-
۴۵ ﴿رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِيْنَ وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِيْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِ وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَ وَلَا تُخْزِنِیْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ﴾
[الشعرا،90 – 83 :26]
اے میرے رب! مجھے حکمت ودانائی عطا فرما اور (دنیا وآخرت میں) مجھے نیک بخت لوگوں کا ساتھ دے۔اور بعد کے آنے والوں میں میرا ذکرِ خیر باقی رکھ۔(یعنی بعد کی نسلیں مجھے خیر کے ساتھ یاد کریں اور مجھے قبولیت حاصل ہو) اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں شامل فرما۔ اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ راہ بُھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا۔ اور مجھے (اُس دن) رسوا نہ کرنا جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ اولاد، مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہوا۔[41]
————————————-
۴۶ ﴿رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَهْلِیْ مِمَّا يَعْمَلُوْنَ﴾
[الشعرا،26:169]
اے میرے پروردگار مجھےاور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے۔[42]
————————————-
۴۷ ﴿رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِ فَافْتَحْ بَيْنِیْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾
[الشعرا،118 – 117 :26]
(نُوحؑ نے دُعا کی)”اے میرے ربّ، میری قوم نے تومجھے جھُٹلا دیا۔اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے۔[43]
————————————-
۴۸ ﴿رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْ ٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وٰلِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰهُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ﴾
[النمل،27:19]
اے میرے رب مجھے سنبھالے رکھ کہ میں اس فضل کا شکرگزار رہوں جو تُو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور تُو اپنے فضل سے مجھے اپنے صالح بندوں کے زمرے میں داخل کر۔[44]
————————————-
۴۹ ﴿رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ﴾
[القصص،28:16]
اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے۔[45]
————————————-
۵۰ ﴿رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ﴾
[القصص،28:21]
اے میرے رب، مجھے ظالموں (اور بے انصاف لوگوں) سے بچا۔[46]
————————————-
۵۱ ﴿رَبِّ اِنّیِْ لِمَا اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾
[القصص،28:24]
اے میرے رب! جو خیر بھی تُو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا محتاج ہوں۔[47]
————————————-
۵۲ ﴿رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ﴾
[العنكبوت،28:30]
اے میرے رب! مفسد لوگوں کے مقابل میں میری مدد کر۔[48]
————————————-
۵۳ ﴿فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ يُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِ جُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَيُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ط وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ﴾
[الروم، 19 – 17 : 30]
پس تم اللہ کی تسبیح کیا کرو جب تم شام کرو (یعنی مغرب اور عشاء کے وقت) اور جب تم صبح کرو (یعنی فجر کے وقت)۔اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)۔وُہی مُردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب فرماتا ہے، اور تم (بھی) اسی طرح (قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔
————————————-
۵۴ ﴿رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ﴾
[الصافات،37:100]
اے میرے رب، مجھے اولاد ِصالح عطا فرما۔[49]
————————————-
۵۵ ﴿قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهٰدَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ﴾
[الزمر،39:46]
کہو کہ اے اللہ، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب و حاضر کے جاننے والے، تُو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔
————————————-
۵۶ ﴿رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَاَزْوٰجِهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ، اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ﴾
[الغافر، 09 – 07 : 40]
اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرما جو توبہ کریں اور تیرے راستہ کی پیروی کریں اور ان کو عذابِ جہنم سے بچا۔ اور اے ہمارے رب! ان کو ہمیشگی کے ان باغوں میں داخل کر جن کا تُو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے آباء اور ازواج و ذریات(یعنی آل اولاد) میں سے جنت کے لائق ٹھہریں۔ بے شک عزیز و حکیم تو ہی ہے۔ اور ان کو برے نتائج ِاعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تُو نے رحم فرمایا۔ اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔
————————————-
۵۷ ﴿رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وٰلِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰهُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّيَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾
[الأحقاف،46:15]
اے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس فضل کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہیں۔اور میری اولاد میں بھی میرے نیک بخت وارث اٹھا (اور انہیں نیکی کی صلاحیت دے)۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں تیرے فرماں برداروں میں سے ہوں۔[50]
————————————-
۵۸ ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِی قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ﴾
[الحشر،59:10]
اے ہمارے رب ، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سےپہلے ایمان لائے ہیں اورہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیےکوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب تُو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔
————————————-
۵۹ ﴿رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ﴾
[الممتحنة، 05 – 04: 60]
اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ کر آنا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کا فر لوگوں کا ہدفِ ستم نہ بنا، اور اے پروردگار، ہمیں بخش دے، بے شک تو ہی زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔
————————————-
۶۰ ﴿رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ج اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ﴾
[التحريم،66:08]
اے ہمارے پروردگار، ہمارے لئے ہمارا نور کامل کر دے اور ہمیں بخش دے، بیشک تُو ہر چیز پرخوب قادر ہے۔
————————————-
۶۱ ﴿رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ﴾
[نوح،71:28]
میرے رب ، مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے۔
————————————-
۶۲ ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾
﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾
کہوکہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں(جورات کا اندھیرا ختم کرکے دن کی روشنی لا تا ہے)۔ (میں پناہ میں آتا ہوں) اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔اور گرهیں(لگا کر ان) میں پھونکنے والوں کے شر سے (کالا جادو کرنے والے مردوعورت سے)، اور (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے بھی جب وہ حسد کرے۔[51]
————————————-
۶۳ ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ اِلٰهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ اَلَّذِیْ يُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾
کہوکہ میں پناہ میں آتا ہوں تمام انسانوں کے رب کی۔تمام انسانوں کے بادشاہ ِ حقیقی کی۔تمام انسانوں کے معبود ِ برحق کی۔اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے (اور جو خدا کا نام سن کر پیچھے ہٹ جاتا ہے)،جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
————————————-
۶۴ ﴿سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ : وَاٰخِرُ دَعْوٰهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ﴾
[یونس: 10:10]
"(وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ) پاک ہے تُو اے خدا“،اور اُن کی یہ دُعا ہوگی کہ ”سلامتی ہو“ اور اُن کی ہر بات کا خاتمہ اِس پر ہو گا کہ ”ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا (پروردگار) ہے۔
————————————-
۶۵ ﴿قَالَ اللهُ تَعَالٰی: وَلِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنیٰ فَادْعُوْهُ بِهَا﴾
[الاعراف: 07:180]
اور اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں تو اس کو انہی ناموں سے پکارو۔
————————————-
۶۶ ﴿وَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : اِنَّ لِلّٰهِ تَعَالٰی تِسْعَةً وَّ تِسْعِيْنَ اِسْمًا، مَنْ اَحْصٰهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ. (وَفِیْ رِوَايَةٍ) مَنْ حَفِظَهَا:
یقیناً اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99)نام ہیں، یعنی ایک کم سو (100) ، جس نے ان کا احصاء کیا ( یعنی پڑھا، سمجھا،یاد کیا) وہ جنت میں داخل ہو گا۔[52]
————————————-
| هُوَ اللهُ الَّذِی لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ | |||
| وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں | |||
| الرَّحْمٰنُ | الرَّحِيْمُ | الْمَلِكُ | الْقُدُّوْسُ |
| سراسر رحمت | ابدی شفقت والا | بادشاہ | پاکیزہ (نہایت مقدس) |
| السَّلَامُ | الْمُؤْمِنُ | الْمُهَيْمِنُ | الْعَزِيْزُ |
| سراسر سلامتی | (خوف سے) امن دینے والا | نگہبان | سب پر غالب، بڑا زبردست |
| الْجَبَّارُ | الْمُتَكَبِّرُ | الْخَالِقُ | الْبَارِئُ |
| اپنا حکم بزور نافذ کرنیوالا، شکستہ دلوں کو ڈھارس دینے والا | بڑائی والا | پیدا کرنیوالا، خالق | پیدا کرنیوالا |
| الْمُصَوِّرُ | الْغَفَّارُ | الْقَهَّارُ | الْوَهَّابُ |
| صورت گری کرنیوالا | گناہوں کو بہت معاف کرنیوالا | بہت غلبے والا | بہت عطا کرنیوالا |
| الرَّزَّاقُ | الْفَتَّاحُ | الْعَلِيْمُ | الْقَابِضُ |
| بے حد رزق دینے والا | بہترین فیصلہ کرنیوالا، اور کشائش دینے والا | جاننے والا | تنگی کرنیوالا |
| الْبَاسِطُ | الْخَافِضُ | الرَّافِعُ | الْمُعِزُّ |
| فراخی دینے والا | پست کرنیوالا | بلند کرنیوالا | عزت دینے والا |
| الْمُذِلُّ | السَّمِيْعُ | الْبَصِيْرُ | الْحَكَمُ |
| ذلیل کرنیوالا | سننے والا | دیکھنے والا | اٹل فیصلے والا |
| الْعَدْلُ | اللَّطِيْفُ | الْخَبِيْرُ | الْحَلِيْمُ |
| مساوات و برابری قائم کرنیوالا | بہت مہربان | ہر چیز کی خبر رکھنے والا | بے حد بُردبار |
| الْعَظِيْمُ | الْغَفُوْرُ | الشَّكُوْرُ | الْعَلِیُّ |
| عظمت والا | بہت بخشنے والا | (تھوڑے عمل پر) بہت قدردانی کرنیوالا | بلند رُتبے والا |
| الْكَبِيْرُ | الْحَفِيْظُ | الْمُقِيْتُ | الْحَسِيْبُ |
| بہت بڑا | حفاظت کرنیوالا | ہر چیز پر قدرت رکھنے والا | بھروسہ کرنے والوں کے لیے کافی، حساب لینے والا |
| الْجَلِيْلُ | الْكَرِيْمُ | الرَّقِيْبُ | الْمُجِيْبُ |
| بڑی شان والا | بے مانگے عطا کرنے والا | نگران و نگہبان | دعاؤں کے قبول کرنے والا |
| الْوَاسِعُ | الْحَكِيْمُ | الْوَدُوْدُ | الْمَجِيْدُ |
| وسعت والا | بہت حکمت والا | بےحد محبت کرنیوالا | بڑی شان والا |
| الْبَاعِثُ | الشَّهِيْدُ | الْحَقُّ | الْوَكِيْلُ |
| مردوں کو قبروں سے زندہ کرکے اٹھانیوالا | گواہ، حاضر و موجود | تمام صفات کے ساتھ ثابت | کارساز، کام بنانے والا |
| الْقَوِیُّ | الْمَتِيْنُ | الْوَلِیُّ | الْحَمِيْدُ |
| بڑی قوت والا | بہت مضبوط | مددگار | نہایت قابلِ تعریف |
| الْمُحْصِی | الْمُبْدِئُ | الْمُعِيْدُ | الْمُحْيِیْ |
| ہر چیز کا شمار رکھنے والا | پہلی بار پیدا کرنیوالا | دوسری بار پیدا کرنیوالا | زندہ کرنیوالا |
| الْمُمِيْتُ | الْحَیُّ | الْقَيُّوْمُ | الْوَاجِدُ |
| مارنے والا | ہمیشہ زندہ رہنے والا | ہمیشہ قائم رہنے والا | ہر کمال بالفعل رکھنے والا |
| الْمَاجِدُ | الْوَاحِدُ | الْاَحَدُ | الصَّمَدُ |
| شرف و عزت والا | یکتا، ایک | لاثانی | بےنیاز، جس کے سب محتاج ہوں |
| الْقَادِرُ | الْمُقْتَدِرُ | الْمُقَدِّمُ | الْمُؤَخِّرُ |
| قدرت والا | ہر چیز پر قدرت رکھنے والا | آگے بڑھانے والا | پیچھے ہٹانے والا |
| الْأَوَّلُ | الْاٰخِرُ | الظَّاهِرُ | الْبَاطِنُ |
| سب سے پہلا | سب سے پچھلا (جس کے بعد کوئی نہ ہو) | ظاہر، آشکارا | مخفی |
| الْوَالِیْ | الْمُتَعَالِیْ | الْبَرُّ | التَّوَّابُ |
| ہر چیز کا ذمہ دار | مخلوق کی صفات سے برتر | نیک سلوک کرنیوالا | متوجہ ہونے والا، توبہ قبول کرنیوالا |
| الْمُنْتَقِمُ | الْعَفُوُّ | الرَّؤُوْفُ | مَالِكُ الْمُلْكِ |
| بدلہ لینے والا | معاف کرنیوالا | بہت نرمی کرنیوالا | ساری سلطنت کا مالک |
| ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِكْرَامِ | الْمُقْسِطُ | الْجَامِعُ | الْغَنِیُّ |
| بزرگی اور بخشش والا | بڑا انصاف کرنیوالا | سب کو جمع کرنیوالا | سب سے بےنیاز |
| الْمُغْنِیْ | الْمَانِعُ | الضَّارُّ | النَّافِعُ |
| دوسروں کو غنی بنانیوالا | روکنے والا | نقصان پہنچانے والا | نفع پہنچانے والا |
| النُّورُ | الْهَادِیْ | الْبَدِيْعُ | الْبَاقِیْ |
| روشن | ہدایت دینے والا | نئی ایجاد کرنیوالا | ہمیشہ رہنے والا |
| الْوَارِثُ | الرَّشِيْدُ | الصَّبُوْرُ | |
| سب کا وارث | نیک راہ بتانے والا | سب سے بڑھ کر صبر کرنیوالا | |
(وَ) اسْمُ اللّٰهِ الْاَعْظَمُ الَّذِیْ اِذَا دُعِیَ بِهٖ اَجَابَ، وَاِذَا سُئِلَ بِهٖ اَعْطىٰ ﴿لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ﴾.[53]
اللہ تعالیٰ کا وہ اسمِ اعظم کہ جب اس کے ذریعے سے دعا کی جائے تو وہ قبول ہی فرمائے اور جب اس کے وسیلے سے مانگا جائے تو ضرور عطا فرمائے، یہ ہے : ( اے اللہ)، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقیناً میں ہی قصور وار ہوں!
————————————-
۶۷ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ بِاَنِّیْ اَشْهَدُ اَنَّكَ اَنْتَ اللهُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ[54]
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس لیے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اللہ ہے۔تیرے سوا کوئی الہ نہیں ہے اور عبادت کے لائق تیرے سوا کوئی نہیں۔ تو یکتا وتنہا ہے اور تو سب سے بے نیاز ہے لیکن سب تیرے محتاج ہیں ، نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ تو کسی کی اولاد۔ اورتیرے جوڑ اور برابر کا ہے ہی کوئی نہیں۔
————————————-
۶۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ بِاَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا ٓ اَنْتَ (وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ) الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِيْعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، يَا حَیُّ يَا قَيُّوْمُ».[55]
اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری تعریفوں کا مستحق تُو ہی ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں،تُو یکتا ہے اور تیرا ساجھی کوئی نہیں، تُو ہی بڑا مشفق ہے، منعم ہے، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے بزرگی اور بخشش والے، اے سدا زندہ رہنے والے، اے سب کو تھامنے والے!
————————————-
۶۹« يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ».[56]
اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے! (مجھ پر رحم فرما) ۔
————————————-
۷۰« سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَلِیِّ الْاَعْلَى الْوَهَّابِ».[57]
میں اپنے بلندوبرتر اور بے مانگے دینے والے رب کی پاکی بیان کرتا ہوں ۔
————————————-
۷۱ « اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ».[58]
میں مخلوق کے شر سے اللہ کے کامل ترین کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ۔
————————————-
۷۲« بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ، وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ».[59]
اس اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جس کے نام کے ہوتے ہوئے آسمان و زمین کی کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
————————————-
۷۳« اَصْبَحْنَا وَاَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلیٰ كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرٌ؛ رَبِّ اَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِیْ هٰذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهٗ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّمَا فِیْ هٰذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهٗ . رَبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوْٓءِ الْكِبَرِ؛ رَبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ».[60]
ہم نے اوربادشاہت نے اس حال میں صبح کی کہ ساری بادشاہی اسی کی تھی۔ اورتمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؛ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہی ہے، اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔
اے میرے رب! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی اور اس کے بعد آنے والے وقت کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس دن کے شر سے اور اس کے بعد آنے والے وقت کےشر سے۔
اے میرے رب! میں سستی (کاہلی) اور سخت بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اے میرے رب! میں آگ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتاہوں۔
————————————-
۷۴ «اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَیْءٍ وَّمَلِيْكَهٗ، اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ) اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهٖ، وَاَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْٓءًا اَوْ اَجُرَّهٗ اِلٰی مُسْلِمٍ».[61]
اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے، ہر چیز کے پروردگار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں؛ تو یکتا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔
میں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے شرک و فریب سے تیری پناہ مانگتا ہوں؛ اور اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں خودکوئی برائی کر بیٹھوں، یا کسی مسلمان تک اس برائی کو پہنچانے کا سبب بن جاؤں۔
————————————-
۷۵ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَصْبَحْتُ، اُشْهِدُكَ وَاُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيْعَ خَلْقِكَ اَنَّكَ اَنْتَ اللّٰهُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا-ٓ اَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ».[62]
اے اللہ! میں نے صبح اس حال میں اور اس یقین کے ساتھ کی ہے کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں، اور تیرے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کو، تیرے بقیہ تمام فرشتوں کو، اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں؛ اور بے شک محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔
————————————-
۷۶ «اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ الْعَفْوَوَالْعَافِيَةَ فِیْ دِينِیْ وَدُنْيَایَ وَاَهْلِیْ وَمَالِیْ، اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ وَاٰمِنْ رَّوْعَاتِیْ، اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْۢ بَيْنِ يَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ يَّمِيْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ، وَاَعُوْذُ بِعَظَمَتِكَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ».[63]
اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کرتاہوں،اے اللہ! میں تجھ سے عافیت و خیریت کا طلبگار ہوں۔ اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل و عیال اور اپنے مال میں۔[64] الہٰی! میرے عیوب پر پردہ پوشی فرما دے اور مجھے خوف و ہراس (کی چیزوں) سے امن میں رکھ اور میرے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں اور اوپر سے حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کی پناہ لیتا ہوں کہ میں نیچے سے ہلاک کیا جاؤں (کہ کوئی آفت آسمان سے بھی نہ آئے اور زمین کے کسی ناگہانی عذاب سے بھی پناہ حاصل ہو)۔
————————————-
۷۷ «رَضِيْنَا بِاللّٰهِ رَبًّا، وَّ بِالْاِسْلَامِ دِيْنًا، وَّبِمُحَمَّدٍ (صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) رَسُوْلًا وَّنَبِيًّا».[65]
(ہم دل و جان سے اقرار کرتے ہیں کہ ) ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور حضرت محمد ﷺ کے رسول اور نبی ہونے پر راضی ہیں۔
————————————-
۷۸« اَللّٰهُمَّ مَا اَصْبَحَ بِیْ مِنْ نِّعْمَةٍ اَوْ بِاَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ ».[66]
اے اللہ! آج صبح مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی نعمت ہوئی ہے، وہ صرف تیری ہی طرف سے ہے؛ تو یکتا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں؛ پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں اور شکر بھی تیرے ہی واسطےہے۔
————————————-
۷۹ «اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِی بَدَنِیْ، اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ، اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ؛ لَا اِلٰهَ اِلَّا ٓ اَنْتَ. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛ لَا اِلٰهَ اِلَّا ٓ اَنْتَ».[67]
اے اللہ! میرے بدن میں مجھے عافیت عطا فرما۔ اے اللہ! میری سماعت میں مجھے عافیت عطا فرما۔ اے اللہ! میری بصارت میں مجھے عافیت عطا فرما۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اے اللہ! میں کفر اور فقر (محتاجی) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
————————————-
۸۰« سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ، (لَاحَوْلَ وَ) لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ، مَا شَآءَ اللّٰهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیءٍ قَدِيرٌ، وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیءٍ عِلْمًا».[68]
اللہ پاک ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ اللہ ہی کی توفیق اور مددکے بغیر نہ برائی سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت۔ جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے، اور جو وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، اور یقیناً اللہ نے ہر چیز کو اپنے علم سے گھیر رکھا ہے۔
————————————-
۸۱« يَا حَیُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ، اَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ كُلَّهٗ، وَلَا تَكِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَيْنٍ».[69]
یَاحَیُّ یَاقَیُّومُ ! ( اےسدا رہنے والے، اے سب کو تھامنے والے) میں تجھ سے تیری ہی رحمت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں، میرے سارے معاملات سنوار دے، اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد مت فرما۔
————————————-
۸۲ «اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ، وَاَ نَا عَبْدُكَ، وَاَ نَا عَلٰى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ. اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، اَبُوْٓءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ، وَاَبُوْٓءُ لَكَ بِذَنْۢبِیْ، فَاغْفِرْ لِیْ فَاِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ». (سید الاستغفار)
اے اللہ! تو ہی میرا پروردگار ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے ساتھ کیے گئے (یومِ میثاق کے)عہد اور اپنےوعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر (اور برے نتائج)سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں؛ پس مجھے بخش دے، کیونکہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔[70]
————————————-
۸۳« اَللّٰهُمَّ اَنْتَ اَحَقُّ مَنْ ذُكِرَ، وَاَحَقُّ مَنْ عُبِدَ، وَاَنْصَرُ مَنِ ابْتُغِیَ، وَاَرْءَفُ مَنْ مَّلَكَ، وَاَجْوَدُ مَنْ سُئِلَ ، وَاَوْسَعُ مَنْ اَعْطٰى»؛
« اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الْمَلِكُ لَا شَرِيْكَ لَكَ، وَالْفَرْدُ لَا نِدَّ لَكَ، كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَكَ، لَنْ تُطَاعَ اِلَّا بِاِذْنِكَ، وَلَنْ تُعْصٰى اِلَّا بِعِلْمِكَ، تُطَاعُ فَتَشْكُرُ، وَتُعْصٰى فَتَغْفِرُ؛ اَقْرَبُ شَهِيْدٍ، وَّاَدْنٰی حَفِيظٍ، حُلْتَ دُونَ النُّفُوسِ، وَاَخَذْتَ بِالنَّوَاصِیْ، وَكَتَبْتَ الْاٰثَارَ، وَنَسَخْتَ الْاٰجَالَ اَلْقُلُوْبُ لَكَ مُفْضِيَةٌ، وَالسِّرُّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ، اَلْحَلَالُ مَا اَحْلَلْتَ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمْتَ، وَالدِّينُ مَا شَرَعْتَ، وَالْاَمْرُ مَا قَضَيْتَ، وَالْخَلْقُ خَلْقُكَ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ، وَاَنْتَ اللهُ الرَّءُوْفُ الرَّحِيمُ اَسْأَلُكَ بِنُوْرِ وَجْهِكَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ، وَبِكُلِّ حَقٍّ هُوَ لَكَ، وَبِحَقِّ السَّآئِلِيْنَ عَلَيْكَ، اَنْ تُقِيْلَنِیْ فِیْ هٰذِهِ الْغَدَاةِ اَوْ فِیْ هٰذِهِ الْعَشِيَّةِ، وَاَنْ تُجِيْرَنِیْ مِنَ النَّارِ بِقُدْرَتِكَ».[71]
اے اللہ! تو ہی سب سے زیادہ حق دار ہے کہ (تجھے یاد کیا جائے اور)تیرا ذکر کیا جائے، اور تو ہی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ تیری عبادت کی جائے۔ اور وہ تمام جن سے مدد طلب کی جاتی ہے تُو ان سب سے بڑھ کر مددگار ہے، تمام اقتدار رکھنے والوں (مالکوں) میں سب سے زیادہ مہربان (اور نرمی کرنے والا) تُوہے،اور جن سے مانگا جاتا ہے تُو ان سب سے زیادہ سخی ہے، اور عطا فرمانے والوں میں سب سے زیادہ وسعت والا اور کشادہ دست تو ہے۔
اے اللہ! تُو ہی بادشاہ ہے، تیرا کوئی شریک نہیں؛ تُو یکتا ہے، تیرا کوئی مِثل اورہمسر نہیں۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے تیرے وجہِ کریم کے ( صرف تیری ذاتِ پاک کو فنا نہیں ہے)۔ تیرے اذن اور توفیق کے بغیر تیری اطاعت نہیں کی جا سکتی، اور تیری کامل آگاہی کے بغیر تیری نافرمانی بھی نہیں ہو سکتی۔ تیری اطاعت کی جاتی ہے تو تُو قدر فرماتا ہے، اور تیری نافرمانی کی جاتی ہے تو تُو درگزر کرتے ہوئے بخش دیتا ہے۔
تُو سب سے قریب گواہ اور سب سے نزدیک نگہبان ہے۔ تُو نفسوں کے احوال پر پوری قدرت رکھتا ہے، پیشانیاں تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں ( تمام لوگ تیرے ہی قبضے میں ہیں)،تُو نے (لوگوں کے)اعمال کو (لوحِ محفوظ) میں لکھ دیا ہے اور عمروں کی مدتیں مقرر فرما دی ہیں۔ دل تیرے سامنے بے پردہ ہیں، اور سب بھید تیرے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ حلال وہی ہے جسے تُو نے حلال فرمایا، حرام وہی ہے جسے تُو نے حرام فرمایا، دین وہی ہے جو تُو نے مقرر فرمایا، اور حُکم وہی ہے جو تُو نے فیصلہ فرمایا۔ سب مخلوق تیری ہی مخلوق ہے، اور سب بندے تیرے ہی بندے اور غلام ہیں، اور تُو وہ اللہ ہے، جو نہایت شفیق، نہایت مہربان ہے۔
میں تجھ سے تیرے چہرۂ انور کے اس نُور کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جس سے آسمان اور زمین روشن ہوئے، اور ہر اُس حق کے واسطے سے جو تیرا ساری مخلوق پر ہے (یعنی حقِ عبادت)، اور مانگنےوالوں کے اُس حق کے واسطے سے جو تُو نے اپنے فضل سے اپنے اوپر لازم فرمالیا ہے، کہ تُومجھے اس صبح یا اس شام میں معاف فرما دے، اور اپنی قدرت سے مجھے جہنم کی آگ سے پناہ عطا فرما۔
————————————-
۸۴« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ».[72]
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر و پریشانی اور غم سے؛ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی اور سستی سے؛ میں تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی اورکنجوسی سے؛ اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبے اور لوگوں کے دباؤ اور قہر و تسلط سے۔
————————————-
۸۵ «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِیْ يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَاِلَيْكَ. اَللّٰهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ اَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلْفٍ اَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَّذْرٍ، فَمَشِیْئَتُکَ بَيْنَ يَدَیْ ذٰلِكَ كُلِّهٖ، مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَا يَكُوْنُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِكَ، اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرٌ».
«اَللّٰهُمَّ مَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلٰى مَنْ صَلَّيْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَّعْنٍ فَعَلٰی مَنْ لَّعَنْتَ، اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ، تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِيْنَ».
«اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ الرِّضَآءَ بَعْدَ الْقَضَآءِ ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ اِلٰی وَجْهِكَ، وَشَوْقًا اِلٰی لِقَا-ٓئِكَ فِی غَيْرِ ضَرَّا-ٓءَ مُّضِرَّةٍ وَّلَا فِتْنَةٍ مُّضِلَّةٍ. وَّاَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ، اَوْ اَعْتَدِیَ اَوْ يُعْتَدٰى عَلَیَّ، اَوْ اَكْسِبَ خَطِيْئَةً اَوْذَنْۢبًا لَّا تَغْفِرُهٗ».
«اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، فَاِنِّیْ اَعْهَدُ اِلَیْكَ فِی هٰذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاُشْهِدُكَ وَكَفٰی بِكَ شَهِيْدًا، اَنِّیْ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ، لَكَ الْمُلْكُ وَلَكَ الْحَمْدُ، وَاَنْتَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرٌ»؛
«وَّاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ، وَاَشْهَدُ اَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ، وَّلِقَآ ئَكَ حَقٌّ، وَّالسَّاعَةُ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا، وَاَ نَّكَ تَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ، وَاَنَّكَ اِنْ تَكِلْنِیْ اِلٰى نَفْسِیْ تَكِلْنِیْ اِلٰی ضَعْفٍ وَّعَوْرَةٍ وَّذَنْۢبٍ وَّخَطِيْئَةٍ، وَّاَنِّیْ لَا اَثِقُ اِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاغْفِرْ لِیْ ذُنُوبِیْ كُلَّهَا، اِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ، وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ».[73]
حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیری خدمت و اطاعت میں ہمہ وقت حاضر ہوں؛ تیری بارگاہ میں بار بار حاضر ہوں، اور تیری فرمانبرداری کے لیے مستعد ہوں۔ ہر بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیری ہی طرف لوٹنے والی ہے۔
اے اللہ! میں نے جو بھی بات کہی ہو، جو بھی قسم کھائی ہو، یا جو بھی نذر مانی ہو، ان سب پر تیرا اردہ مقدم ہے (اور تیری مشیت حاوی ہے)۔ جو تُو چاہے وہی ہوتا ہے، اور جو تُو نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی کوئی طاقت و قوت تیرے بغیر نہیں؛ بے شک تُو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
اے اللہ! میری جو دعا ہو، وہ اسی کے حق میں ہو جسےتُو نے دعا کا مستحق سمجھا ہو؛ اور میری جو لعنت ہو، وہ اسی پر پڑے جسےتُو نے لعنت کے لائق سمجھا ہو۔ تُو دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے؛ مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے، اور مجھےاپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے (اور ان میں شامل فرما دے)۔
اور میں تجھ سے تیری قضاء (حکم ِ تکوینی) پر رضا مند رہنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، میں کسی سے زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں ایسی خطا یا ایسا گناہ کما بیٹھوں جسے تُو معاف نہ فرمائے۔
اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے، غیب و شہادت کے جاننے والے، جلال و اکرام کے مالک! میں اس دنیاوی زندگی میں تیرے حضور یہ عہد کرتا ہوں، اور تجھے گواہ بناتا ہوں، اور گواہی کے لیے تُو ہی کافی ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تُو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں؛ بادشاہی تیری ہے، تعریفیں ساری تیرے ہی لیے ہیں، اور تُو ہر چیز پر قادر ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں، اور تُو قبروں والوں کو دوبارہ اٹھائے گا۔
اور اگر تُو نےمجھے میرے نفس کے حوالے کر دیا تو تُو مجھے کمزوری، عیب، گناہ اور خطا کے حوالے کر دے گا؛ اور مجھے تیری رحمت کے سوا کسی چیز پر بھروسا نہیں ۔ پس میرے تمام گناہ معاف فرما، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ میری توبہ قبول فرما؛ بے شک تُو ہی بہت توبہ قبول فرمانے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
————————————-
۸۶ « اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ صِحَّةً فِیْ اِيْمَانٍ، وَّاِيْمَانًا فِیْ حُسْنِ خُلُقٍ، وَّنَجَاةً يَّتْبَعُهَا فَلَاحٌ، وَّرَحْمَةً مِّنْكَ وَعَافِيَةً، وَّمَغْفِرَةً مِّنْكَ وَرِضْوَانًا»۔[74]
اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں صحت و تندرستی ایمان کے ساتھ، اور ایمان حسنِ اخلاق کے ساتھ اور سوال کرتا ہوں تجھ سے مقاصد میں کامیابی کا آخرت کی فلاح کے ساتھ اور سائل ہوں تجھ سے تیری رحمت اور عافیت کا اور تیری مغفرت اور رضامندی (و خوشنودی) کا۔
————————————-
۸۷ « اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ وَبِكَلِمَاتِكَ التَّآمَّةِ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ اٰخِذٌ ۢبِنَاصِيَتِهٖ. اَللّٰهُمَّ اَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ».
« اَللّٰهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ؛ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِكَ».[75]
اے اللہ! میں تیرے کریم چہرے (بزرگ ذات) اور تیرے کامل کلمات کے وسیلے سے ہر اُس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اے اللہ! تو ہی قرض کے بوجھ اور گناہ کے وبال کو دور فرماتا ہے۔اے اللہ! تیرا لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوتا، تیرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا، اور کسی صاحبِ دولت و مرتبہ کو تیری گرفت کے مقابلے میں اس کی دولت و حیثیت کوئی نفع نہیں دے سکتی۔تُو پاک ہے، اور تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔
————————————-
۸۸ « لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ لَا شَرِيكَ لَكَ سُبْحٰنَكَ. اَللّٰهُمَّ اَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْۢبِیْ، وَاَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ. اَللّٰهُمَّ زِدْنِیْ عِلْمًا، وَّلَا تُزِغْ قَلْبِیْ بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنِیْ، وَهَبْ لِی مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً، اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ».[76]
کوئی معبود نہیں ہے سوائے تیرے، کوئی تیرا شریک نہیں ہے، پاک ہے تُو اے اللہ! میں تجھ سے اپنے ہر گناہ کی معافی چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا طلب گار ہوں ۔اے اللہ! مجھے علم میں بڑھا، اور جب تُو نے مجھے ہدایت عطا فرما دی ہے تو اب میرے دل کو بھٹکنے نہ دینا، اور مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت عطا فرما؛ بے شک تُو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے۔
————————————-
۸۹« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْۢبِیْ، وَوَسِّعْ لِیْ فَی دَارِیْ، بَارِكْ لَیْ فِیْ رِزْقِیْ».[77]
اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما، میرے گھر میں کُشادگی (امن و سکون) عطا فرما، اور جو رزق تُو نے مجھے دیا ہے، اس میں برکت عطا فرما ۔
————————————-
۹۰ «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ، وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنِ».[78]
اے اللہ! مجھے کثرت سے توبہ کرنے والوں میں شامل فرما، اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے بنا دے۔
————————————-
۹۱ «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْاَرْضِ، ورَبَّ الْعَرِْشِ الْعَظِيْمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شیْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰى، ومُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْفُرْقَانِ، اَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَیْءٍ اَنْتَ اٰخِذٌ ۢبِنَاصِيَتِہٖ.اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَیْءٌ، وَّاَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَیْءٌ، وَّاَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَیْءٌ، وَّاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُوْنَكَ شَیْءٌ، اِقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ».[79]
اے اللہ! اے آسمانوں کے رب، زمین کے رب، عرشِ عظیم کے رب، ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! اے دانے اور گٹھلی کو چیر کر اُگانے والے، تورات، انجیل اور فرقان نازل فرمانے والے! میں ہر اُس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضۂ قدرت میں ہے۔
اے اللہ! تو ہی اوّل ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں؛ تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں؛ تُو ہی ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں؛ اور تُو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ/قریب تر کوئی چیز نہیں۔ ہمارا قرض ادا فرما دے اور ہمیں فقر و محتاجی سے بے نیاز فرما دے۔
————————————-
۹۲ «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا اَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْاَرْضِيْنَ وَمَا اَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِيْنِ وَمَا اَضَلَّتْ؛ كُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ شَرِّ خَلْقِكَ اَجْمَعِينَ، اَنْ يَّفْرُطَ عَلَیَّ اَحَدٌ مِّنْهُمْ اَوْ اَنْ يَّطْغٰی؛ عَزَّ جَارُكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ»۔[80]
اے اللہ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ان سب کے رب! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ (زمینیں)بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچانے کے لیے میرا نگہبان بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کر سکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، کیونکہ محفوظ اور باعزت تو تیراپناہ دیا ہوا ہی ہے ، اور تیری ثنا (و تعریف) بڑھ چڑھ کر ہو۔
————————————-
۹۳ « اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، اَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، اَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، اَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، اَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَّلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَّقَوْلُكَ حَقٌّ، وَّالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَّالنَّارُحَقُّ، وَّالنَّبِيُّوْنَ حَقٌّ،
وَّمُحَمَّدُ ( ﷺ ) رَسُولُ اللّٰهِ حَقٌّ، وَّالسَّاعَةُ حَقٌّ».
اَللّٰهُمَّ لَكَ اَسْلَمْتُ، وَبِكَ اٰمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَاِلَيْكَ اَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَاِلَيْكَ حَاكَمْتُ، وَاَنْتَ رَبُّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ، فَاغْفِرْلِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ، وَمَا اَسْرَفْتُ، وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهٖ مِنِّی؛ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ»-.[81]
اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ مخلوق ان میں آباد ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ تُو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ مخلوق ان میں بستی ہے، سب کا بادشاہ ہے۔ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ تُو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب کا نور ہے۔
تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ دراصل موجود تُو ہی ہے، تیرا وعدہ حق ہے (اور ٹل نہیں سکتا)، تیری ملاقات حق ہے، تیرا فرمان برحق ہے، جنت واقعی موجودہے، دوزخ بھی واقعی موجودہے، تمام انبیاء برحق ہیں،
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ برحق پیغمبرہیں، اور قیامت حق ہے (اور ضرور آنی ہے)۔
اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سرِ تسلیم خم کیا، تجھ ہی پر ایمان لایا، تجھ ہی پر بھروسا کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی نام پر حجت قائم کی، اور تیرے ہی حکم کو فیصلہ کن مانا۔ تُوہمارا رب ہے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
پس میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف فرما دے؛ جو کچھ میں نے حد سے بڑھ کر کیا، اور جو کچھ تُو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، وہ بھی معاف فرما دے۔ تُوہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اور نیکی کی توفیق اور گناہ سے بچنے کی طاقت اللہ ہی کی مدد سے ہے۔
————————————-
۹۴ « اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ، وَارْحَمْنِیْ، وَعَافِنِیْ، وَاهْدِنِیْ، وَارْزُقْنِیْ، وَاجْبُرْنِیْ، وَارْفَعْنِیْ».[82]
اے اللہ! تُو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر، اور مجھے چین و عافیت دے، اور مجھے ہدایت دے، اور مجھے روزی دے، اور میرے نقصان کو پورا کر دے، اور مجھے بلندی دے۔
————————————-
۹۵ « رَبِّ اِنِّیْ لِمَا اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ».[83]
اے میرے پروردگار ! جو خیر بھی تُو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا محتاج ہوں۔
————————————-
۹۶« اَللّٰهُمَّ رَبَّ جِبْرَئِيْلَ وَمِيكَائِيْلَ وَاِسْرَافِيْلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ، اِهْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِكَ، اِنَّكَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ».[84]
اے اللہ! جبرائیلؑ، میکائیل ؑاور اسرافیل ؑکے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کرتے تھے تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے تو ہی اپنے حکم سے مجھے ان میں سے جو حق ہے اس پر چلا، بے شک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے ۔
[1] الفاتحہ امّ القرآن ہے، اس میں ہر بیماری سے شفا ہے۔بخاری، نسائی، بیہقی۔بہ حوالہ مشكاۃالمصابيح (2170)
[2] حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قوم نے گائے ذبح کرنے کے حکم پر تمسخر کا شبہہ کیا؛ آپؑ نے جہالت سے پناہ مانگی۔
[3] قبولیت اعمال کے لیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے قبولیت و توبہ کی دعا۔
[4] بخاری و مسلم۔ حضور ﷺ کی اکثر یہی دعا ہوتی۔صحیح بخاری(6389)
[5] یہ دعا حضرت داؤد علیہ السلام کی ہے۔طالوت کے لشکر کی جالوت کے مقابلے میں صبر و ثبات کی دعا
[6] صحیح مسلم (8523)
[7] یہ وہ قیمتی دعا ہے جس کے ہر جملے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے قبول کی۔ صحیح مسلم(8523)
[8] رسول اللّٰہ ﷺ اکثر یہ دعا : ”یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ“ کرکے پھر یہ دعا کرتے۔ (مسند احمد: 27111)، الفتح الربانی(5653)(ابن جریروابن ابی حاتم)
[9] راسخین فی العلم اور اہلِ دانش کی دعا۔ حضورنبی کریمﷺ نے فرمایا: جب کسی کی کوئی چیز گُم ہو جائے وہ یہ آیت پڑ ھے۔
[10] متقی بندوں کی دعا جو اللّٰہ تعالٰی کو پسند ہے۔
[11] اس آیت میں اللّٰہ تعالٰی کا اسمِ اعظم ہے اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتاہے۔ (تفسیر ابن کثیرؒ)
[12] حضرت زکریّاؑ اس وقت تک بے اولاد تھے۔ مریمؑ کی عبادت اور انکے پاس کھانے پینے کا سامان دیکھ کر فطرةً ان کے دل میں یہ تمنّا پیدا ہوئی کہ کاش ، اللہ انہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا کرے، اور یہ دیکھ کر کہ اللہ کس طرح اپنی قدرت سے اس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے، انہیں یہ اُمید ہوئی کہ اللہ چاہے، تو اس بڑھاپے میں بھی ان کو اولاد دے سکتا ہے۔
[13] یہ حواریینِ عیسیٰ علیہ السلام کا قرآنی قول ہے۔
[14] انبیاء کے ساتھ جہاد کرنے والے ربانیوں کی دعا
[15] اہلِ عقل و دانش جو کھڑے، بیٹھے، لیٹے اللّٰہ کا ذکر کرتے ہیں ان کی دعا۔
[16] مکہ مکرمہ کے دبا کر کے رکھے گئے لوگوں نے ظالموں سےنجات کی دعا کی تھی جو قبول ہوئی۔
[17] حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے ان سے تقاضا کیا کہ آسمان سے بھرا دسترخوان اتروائیں، اس پر آپ ؑنے یہ دعا فرمائی۔
[18] ایمان والوں کی دعا۔
[19] اعراف اور اصحاب اعراف:جنت و دوزخ کے درمیان ہونے کی وجہ سےان لوگوں کی حالت خوف و رجاء کے بیچ میں ہو گی ادھر دیکھیں گے تو امید کریں گے اور ادھر نظر پڑے گی تو خدا سے ڈر کر پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان دوزخیوں کے زمرہ میں شامل نہ کیجئے۔
[20] حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا۔
[21] حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا۔
[22] آدم و حوّا علیہ السلام کی دعا۔
[23] حضرت شعیب علیہ السلام کی دعا۔
[24] فرعون کے جادوگروں نے اسلام لانے پر فرعون کی طرف سےکیے جانے والے ابتلا پر یہ دعا کی۔
[25] بچھڑے کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا
[26] یہ جواب ان نوجوانوں کا تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو ئے تھے۔
[27] حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کے بعد بے علمی کے سوال سے پناہ مانگی۔
[28] حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا
[29] حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا
[30] والدین کے لیے ان الفاظ میں دعا مانگنے کا حکم ہے۔
[31] ہجرتِ مدینہ کے موقع پر آپ ﷺ کو یہ دعا سکھائی گئی۔
[32] اصحابِ کہف کی دعا
[33] حضرت موسی ٰ علیہ السلام کی دعا
[34] علم کی ترقی کے لیے رسول اللہ ﷺ کی دعا
[35] حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری سے شفایابی اور آزمائش سے پناہ کی دعا
[36] حضرت یونس علیہ السلام کی دعا، سنن ترمذی(3505)، رسول اللہﷺ نے فرمایا:ذوالنون (یونس علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران یہی دعا کی تھی کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔
[37] حضرت زکریاعلیہ السلام کی حصولِ اولاد کے لیے دعا
[38] رسول کریمﷺ کی غزوات میں دعا
[39] سواری سے اترنے کی دعا، حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی سے بابرکت اتارنے کی دعا سکھائی گئی۔
[40] عذابِ موعود کے مشاہدہ کے وقت ظالموں میں شامل نہ کیے جانے کی دعا
[41] حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا
[42] حضرت لوط علیہ السلام نے قوم کی بدکاریوں سے اپنے گھر والوں کی نجات مانگی۔
[43] حضرت نوح علیہ السلام کی دعا
[44] حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی بات سن کر نعمتِ الٰہی پر شکر کی دعا کی۔
[45] حضرت موسیٰ علیہ السلام کا استغفار
[46] حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے قتل کے منصوبہ کی خبر ملی؛ مصر سے نکلتے ہوئے دعا کی۔
[47] مدین میں بے سروسامانی کے حال میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی خیر کے محتاج ہونے کا اظہار کیا۔
[48] حضرت لُوط علیہ السلام نے مفسد قوم کے مقابلے میں مدد مانگی۔
[49] حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم و وطن چھوڑنے کے بعد صالح اولاد مانگی۔
[50] آیت کے پہلے حصے میں ذکر ہے کہ ایک شخص چالیس سال کی عمر میں پہنچ کر یہ دعا کرتا ہے ، اس سے استدلال کرتے ہوئے علماءنے کہا ہے کہ اس عمر کے بعد انسان کو یہ دعا کثرت سے پڑھتے رہنا چاہئے۔
[51] سنن ابو داؤد (5082)رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ اگر تم صبح و شام سورۃ اخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس تین تین دفعہ پڑھ لو تو ہر شر سے محفوظ رہوگے۔
[52] سنن ترمذی(3507)
[53] مستدرک حاکم( 1865)
حضرت سعد بن مالکؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کے بارے میں رہنمائی نہ کروں کہ اس کے ساتھ جب دعا مانگی جائے تو قبول کی جاتی ہے ، جب اس کے ساتھ سوال کیا جائے تو پورا کیا جاتا ہے ۔ یہ وہ دعا ہے جو حضرت یونس علیہ السلام نے مانگی تھی ، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اندھیریوں میں تین مرتبہ یہ دعا مانگی تھی :
﴿لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ ، اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن﴾ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ،کیا یہ حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے یا تمام مؤمنوں کے لیے ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سُنا :﴿وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ ، وَکَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْن ﴾ (اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں.(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ یہ دعا مانگے اور اسی بیماری میں اس کا انتقال ہو جائے تو اس کو شہید کے برابر اجر دیا جاتا ہے اور اگر اس بیماری سے شفایاب ہو جائے تو اس کے تمام گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے ۔
[54] سنن ابوداؤد(1493)، سنن ترمذي(3475)،سنن ابن ماجه (3857)
سیدنا بریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا۔۔۔۔۔
(تو) رسول اللہﷺ نے فرمایا ” اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم مبارک کے ذریعہ سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ طلب کیا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جاتی ہے تو اسے قبول فرماتا ہے۔
[55] ابن حبان (126:2)، سنن ابوداؤد(1495)، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) اس نے یہ دعا مانگی ،یہ سن کر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم (عظیم نام) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے“۔
” اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ”اسم ِ أعظم“ ان دو آیتوں میں موجود ہے ۔ ایک﴿وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ﴾اور دوسری آل عمران کی ابتدائی آیت
﴿الم اللهُ لَا اِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوم﴾۔ سنن ابوداؤد (1496)، سنن ترمذی(3475) میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ”اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ بِأَنِّیْ أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا أَحَدٌ“دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی ہے اس نے وہ دعا قبول کی ہے، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی ہے اس نے دی ہے۔ سنن نسائی(1301) کی روایت ہے کہ انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ (مسجد میں) بیٹھا ہوا تھا، اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا، اور تشہد سے فارغ ہو گیا، تو اس نے دعا کی، اور اپنی دعا میں اس نے کہا: ”اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ , لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ“، اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے، ہمیشہ زندہ و باقی رہنے والے!، میں تجھی سے مانگتا ہوں۔ یہ سنا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ سے کہا: ”تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے تو اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے جس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ مانگا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے“
شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے (حجة الله البالغة ،باب الاذکار )میں احادیث کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے درج ذیل اسماء کو ”اسمِ أعظم “ کہا ہے:
۔اَنْتَ اللهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُوْلَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ،
۔لَكَ الْحَمْدُ، لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ، الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِيْعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، يَا حَیُّ يَا قَيُّوْمُ
[56] مستدرک حاکم (1995)، رسول اللہ ﷺ کا ایک شخص پر گزر ہوا وہ کہہ رہا تھا :’’ یاارحم الرحمین ‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا : تو دعا مانگ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ تیری طرف متوجہ ہے ۔
[57] مستدرک حاکم (1835)، نبی اکرم ﷺ اپنی دعا ان الفاظ سے شروع فرمایا کرتے تھے ۔
[58] سنن ترمذی (3437)، جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔
[59] سنن ترمذی (3388)
[60] صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار،(2723)
[61] سنن ابوداؤد (5067)۔سنن ترمذی(3392)، نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو صبح و شام اور رات کو سوتے وقت پڑھنے کی تلقین فرمائی۔
[62] سنن ابوداؤد (5078)۔ صحیح مسلم، صبح وشام کے اذکار، یہ دعاحضرت انس ؓسے مروی ہے؛ اسے چار بار کہنے والے کے لیے جہنم سے آزادی کی بشارت ہے۔
[63] سنن ابو داؤد (5074)، سنن ابن ماجه (3871)۔ روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی صبح و شام اس دعا کو ترک نہیں فرماتے تھے۔
[64] حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات مانگو، پھر وہ دوسرے روز حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا، اللہ کے رسولﷺ! کون سی دعا افضل ہے؟ تو آپ ﷺ نے اسی طرح فرمایا، پھر تیسرے روز آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اسے پھر ویسے ہی فرمایا، اور فرمایا: ”جب تجھے دنیا و آخرت میں عافیت و معافات (تمام ظاہری وباطنی آفات ومصائب اور رنج وآلام سے سلامتی) مل گئی تو تُو کامیاب ہو گیا۔(ترمذی: 3512)
[65] صحیح بخاری (93)، سنن ابوداؤد (5072) رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شخص یہ صبح و شام کہے تو اللہ نے یہ اپنے ذمے لے لیا ہے کہ روزِ قیامت اسکو ضرور خوش کر دیگا۔
[66] سنن ابوداؤد (5073) نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی تو اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کے وقت ایسا ہی کہا تو اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔
نوٹ: شام کے وقت اسی دعا میں مَا أَصْبَحَ کی جگہ مَا أَمْسَى پڑھا جائے گا۔
[67] یہ تین دفعہ پڑھیں۔ سنن ابوداؤد (5090)، یہ دعائیں صبح و شام کے اذکار میں سے ہیں۔
[68] سنن ابوداؤد (5075)، روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی صاحب زادی کو یہ کلمات صبح کے وقت پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے۔
[69] سنن الكبرىٰ للنسائي (10405)، مستدرک حاکم (2000 {1/545})، معجم صغير (444)، مسند بزار (6368)، عمل اليوم والليلة لابن السني (570).
[70] صحیح بخاری (6306) حدیث کے الفاظ میں اسے ”سید الاستغفار“یعنی استغفار کا سب سے افضل جامع کلمہ کہا گیا ہے۔اسی روایت میں یہ فضیلت بھی مذکور ہے کہ جو شخص اسے دن میں یقین کے ساتھ پڑھے اور شام سے پہلے وفات پا جائے، یا رات میں یقین کے ساتھ پڑھے اور صبح سے پہلے وفات پا جائے، وہ اہلِ جنت میں سے ہوگا۔
[71] معجم کبیر طبرانی (8027)
[72] سنن ابوداؤد (1555) : تفکرات کے دور ہونے اور قرض کی ادائیگی کے لیے صبح و شام، ابوامامہؓ کو تعلیم کی گئی۔
الهمّ آنے والی پریشانی کے اندیشے کو، اور الحزن گزرے ہوئے نقصان یا تکلیف کے غم کو کہتے ہیں۔ غلبة الدينسے مراد قرض کا ایسا بوجھ ہے جو آدمی کو مغلوب کر دے، اور قهر الرجال سے مراد لوگوں کا دباؤ، ظلم، تسلط یا ایسی مغلوبیت ہے جس سے انسان دل شکستہ ہو جائے۔
[73] مسند احمد (21666)، المعجم الکبیر للطبرانی: 4803، 4932، الدعاء للطبرانی: 320/321، الدعوات الکبیر للبیہقی: 42/43، اور مستدرک حاکم: 1900
[74] الدعوات الكبير (225)، و(3656)،مستدرک حاکم(1919) {1/523}، الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير (2461)، السنن الكبرى للنسائي (9849 و10404) ، حضرت سلمان فارسی ؓ کو یہ دعا تعلیم فرمائی۔
[75] سنن ابوداؤد (5052) : نبی کریم ﷺ رات کو سوتے وقت یہ دعا مانگتے۔
[76] سنن ابوداؤد (5061): نبی کریم ﷺ جب نیند سے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔
[77] السنن الكبرى للنسائي (9908)، عمل اليوم والليلة للنسائي (80)، عمل اليوم والليلة لابن السني (28)، الدعاء للطبراني (656)، مصنف ابن أبي شيبہ(3050، 30004)، مسند ابو يعلىٰ الموصلي (7236)، وذكر في مسند أحمد (19575) «أَصْلِحْ لِیْ دِيْنِیْ» مكان «اغْفِرْ لِیْ ذَنْۢبِیْ». وفي مصنف ابن أبي شيبہ(29865) «وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي»، عن أبي موسى الاشعري.
[78] مسلم (234)، وأبو داود (169)، والترمذي (55) واللفظ له، والنسائي (148)، وابن ماجه (470)، وأحمد (121)
جامع ترمذی میں حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر کلمۂ شہادت پڑھے اور یہ دعا کہے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
[79] صحیح مسلم (6889)؛ ترمذی (3481)
[80] سنن ترمذی(3532)
[81] سنن ابن ماجه (1355) صحیح بخاري (7499)، صحیح مسلم (769)
[82] سنن ابوداؤد (850) : نبی کریم ﷺ رات کو سوتے وقت یہ دعا مانگتے۔
[83] سورۃ القصص(28:24)، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا
[84] صحیح مسلم (1811)
