آدابِ دعا

آدابِ دعا [1]میں سے بعض کو رُکن کا درجہ حاصل ہے اور بعض کو شرط کا اور ان کے علاوہ کچھ ایسے ہیں جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے(⁩مأمورات)⁩اور کچھ ایسے ہیں جن کے کرنے سے روکا گیا ہے(⁩منہیات)⁩اور یہ سب ملا کر تنتالیس⁦(43)⁩بنتے ہیں۔[2]

  1. کھانے، پینے، پہننے اور کمانے(⁩روزی کمانے کے ذرائع)⁩میں حرام سے بچنا۔[3]
  2. اللہ تعالی ٰ کے لیے اخلاص۔[4]
  3. دعا مانگنے سے پہلے کوئی نیک کام کرنا(⁩مثلاً صدقہ دینا یا نماز پڑھنا وغیرہ)⁩۔
  4. سختیوں اور مصیبتوں کے وقت اپنے نیک اعمال کو یاد کرنا(⁩اور ان کے واسطے سے دعا مانگنا)⁩۔[5]
  5. پاک صاف ہونا۔[6]
  6. وضو کرنا۔[7]
  7. قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ [8]
  8. (دعا سے پہلے)⁩نماز ِ(⁩حاجت)⁩پڑھنا۔[9]
  9. (دعا کے لیے)⁩دوزانو بیٹھنا۔[10]
  10. دعا سے پہلے اور بعد میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرنا۔ [11]
  11. اسی طرح(⁩دعا کے)⁩اول اور آخر میں رسول اللہ پر درود و سلام بھیجنا۔[12]
  12. دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا مانگنا۔[13]
  13. (سائل کی طرح)⁩دونوں ہاتھ اوپر اٹھانا۔[14]
  14. دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک اُٹھانا۔[15]
  15. دونوں ہاتھوں کو کھلا رکھنا۔
  16. (دعا کے وقت قولا اور عملاً)⁩اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان آداب و احترام کو اختیار کرنا۔
  17. (دعا مانگنے میں)⁩عاجزی اور انکسار اختیار کرنا۔
  18. گڑ گڑانا ۔ [16]
  19. دعا مانگنے کے وقت آسمان کی جانب نگاہ نہ اٹھانا ۔ [17]
  20. اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور اعلیٰ صفات کا واسطہ دے کر دعا مانگنا۔[18]
  21. دعا میں بہ تکلف قافیہ بندی سے اجتناب کرنا ۔ [19]
  22. دعا میں بالقصد نغمہ سرائی اور بہ تکلف خوش الحانی سے  اجتناب کرنا ۔
  23. انبیاء علیہم السلام کے وسیلہ سے دعا مانگنا۔[20]
  24. اللہ کے نیک بندوں(⁩اولیاء اللہ)⁩کے وسیلہ سے دعا مانگنا ۔[21]
  25. دعا میں آواز کو پست رکھنا(⁩نیچی آواز میں دعا مانگنا)⁩۔[22]
  26. اپنے گناہوں کا اقرار کرنا۔ [23]
  27. رسول اللہ سے جو دعائیں صحیح احادیث میں منقول ہیں انہی کو اختیار کرناکیوں کہ آپ نے کسی دوسرے کے بتلانے کی ضرورت ہی نہیں چھوڑی ۔[24]
  28. جامع(⁩تمام ضروریات و حوائج پر حاوی)⁩دعائیں اختیار کرنا۔[25]
  29. اپنی ذات سے دعا شروع کرے اور پھر اپنے ماں باپ اور تمام مومن بھائیوں کیلئے دعا کرے(⁩یعنی پہلے اپنے لیے ، پھر درجہ بدرجہ اوروں کیلئے دعا مانگے)⁩۔[26]
  30. اگر امام ہو تو تنہا اپنے لیے دعا نہ مانگنا بلکہ اپنے اور تمام مقتدیوں کے لیے دعا مانگے، مثلاً ” میری کی بجائے ”ہماری“ یا ”میں“ کے بجائے ”ہم“ کے الفاظ استعمال کرے۔ [27]
  31. پورے یقین کے ساتھ اور قطعی طور پر دعامانگنا کہ اللہ تعالیٰ دعا یقینا قبول کرتےہیں اور میں بغیر کسی تذبذب وتر ددکے دعا مانگتا ہوں۔[28]
  32. انتہائی رغبت و شوق کے ساتھ دعا مانگے(⁩بے دلی سے دعا نہ مانگے)⁩۔[29]
  33. (دل کی گہرائیوں)⁩سے پوری کوشش و محنت سے دعا مانگے اور دل دعا کی طرف پوری طرح متوجہ ہو اور اللہ سے حسن ظن رکھے۔[30]
  34. (ایک ہی مقصد کے لیے)⁩بار بار دعا مانگے۔ ایک ہی دعا کو بار بار مانگنے کا کم سے کم درجہ تین مرتبہ ہے(⁩یعنی ہر دعا کم سے کم تین مرتبہ مانگے)⁩۔[31]
  35. دعا میں  الحاح  و مبالغہ  کرے۔[32]
  36. کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔[33]
  37. جو چیز روز ازل سے ہو چکی ہے اس(⁩کے خلاف دعا)⁩نہ مانگے،(⁩مثلاً الہٰی تو مجھےعورت سے مرد یا مرد سے عورت بنادے)⁩۔[34]
  38. دعا میں حد سے تجاوز نہ کرے کہ کسی محال اور نا ممکن امر کی دعا مانگے۔[35]
  39. اللہ کی رحمت میں تنگی نہ کرے(⁩مثلاً الہٰی تو میری ہی مغفرت کر اور کسی کی نہ کر)⁩۔[36]
  40. اپنی تمام حاجتیں(⁩چھوٹی ہوں یا بڑی کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہوں)⁩اللہ سے مانگے۔ [37]
  41. دعا مانگنے والا اور سننے والا دونوں آمین کہیں۔[38]
  42. دعا سے فارغ ہو کر دونوں ہاتھ منہ پر پھیرے۔ [39]
  43. دعا کی قبولیت میں جلد بازی نہ کرے، مثلاً یوں نہ کہے⁦:⁩دعا پوری ہونے میں ہی نہیں آتی۔ یا میں نے دعا کی تھی قبول ہی نہیں ہوئی۔[40]

[1]  دعا کے یہ آداب حصنِ حصین⁦(⁩امام جزریؒ⁦)⁩سے لیے گئے ہیں اور تخریج  مختلف کتابوں سے کی گئی ہے۔

[2]  رُکن وہ امر  ہےجس پر دعا کے دعا ہونے نہ ہونے کا مدار ہو، جیسے اخلاص کہ اس کے بغیر دعا، دعا ہی نہیں ہوتی۔ شرط وہ چیز  ہےجس پر دعا کی قبولیت موقوف ہو کہ اگر وہ نہ پائی جائے تو دعا قبول ہی نہ ہو اگر چہ کتنے ہی اخلاص سے کی جائے۔ مثلاً محرمات(⁩حرام غذا، حرام لباس ، جرام روزی)⁩سے بچنا کہ اگردعا کرنے والا  اس شرط کی پاس داری نہ کرے تو دعا قبول نہ ہوگی۔ مأمورات وہ پسندیدہ امور اور پسندیدہ صورتیں ہیں(⁩یعنی مستحبات)⁩جو دعا کو زیادہ مؤثر اور قابل قبول بنادیتی ہیں،  مثلاً دعا میں دوزانو بیٹھنا یا قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھنا کہ یہ اللہ کی طرف توجہ اور ادب و احترام کی علامت ہیں مگر دعا کی قبولیت ان پر موقوف نہیں ہے۔ منہیات وہ ناپسندیدہ امور یا دعا کی وہ صورتیں ہیں⁦(⁩یعنی مکروہات⁦)⁩جو دعا کے مناسب یا اللہ تعالی کے شایانِ شان نہیں ہیں ، مثلاً اللہ کی رحمت میں تنگی کرنا کہ صرف مجھے بخش دے۔

[3] سنن ترمذی⁦(2989)⁩، رسول اللہ ﷺ  نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے(⁩میرے رب⁦!⁩اے میرے رب!)⁩اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس  کا پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے۔ پھر اس کی دعا کیوں کر قبول ہو گی۔

[4] سورۃ غافر⁦(40:14)⁩،﴿فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ﴾ یعنی  اللہ کی بندگی کرو، خالص اسی کے بندے بن کر۔

[5] سنن ابوداؤد⁦(3387)⁩، کچھ لوگوں پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کی تھی جس کی برکت سے چٹان ہٹ گئی تھی۔

[6] سنن ابوداؤد⁦(17)⁩، رسولِ پاک ﷺ نے فرمایا⁦:⁩مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اللہ کا ذکر بغیر پاکی کے کروں۔

[7] صحیح بخاری⁦(4323)⁩، حضرت ابوعامرؓ کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے قبل آپ ﷺ  نے وضوفرمایا۔

[8] سنن ترمذی⁦(556)⁩، رسول اللہ ﷺ بارش طلب کرنے کے لیے لوگوں کو ساتھ لے کر باہر نکلے، آپ ﷺ نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی، جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی، اپنی چادر پلٹی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دعا کی۔

[9] سنن ابوداؤد⁦(1521)⁩، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے۔

[10]مسند ابوعوانہ، مشکاۃ المصابیح⁦(1519)⁩، جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھتے اور دعا فرماتے۔

[11] سنن ابوداؤد⁦(1481)⁩، رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ پر درود(⁩نماز)⁩بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا“، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے“۔

[12] سنن ابوداؤد(1481)

[13]سنن ابوداؤد(1486) ”جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو۔“

[14] سنن ابوداؤد⁦(1488)⁩تمہارا ربّ بہت حیا والا، کریم ہے؛ جب بندہ اس کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ اس بات سے حیا فرماتا ہے کہ انہیں خالی لوٹا دے۔معجم الاوسط طبرانی⁦(2892)⁩میں حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی روایت ہے  میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفہ میں دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ(⁩دعا کے لیے)⁩سینے تک اٹھائے، جیسے مسکین کھانا مانگتا ہے۔”

[15] سنن ابوداؤد⁦(1489)⁩، عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ۔

[16] سنن ابن ماجہ⁦(1266)⁩، رسول اللہ ﷺ عاجزی کے ساتھ سادہ لباس میں، خشوع خضوع کے ساتھ، آہستہ رفتار سے، گڑگڑاتے ہوئے  نماز استسقاء(⁩عید گاہ کی طرف)⁩روانہ ہوئے۔

[17] سنن ابوداؤد⁦(5094)⁩میں ام المؤمنین ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ انکے گھر سے نکل کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے ایک دعا پڑھا کرتے تھے، اسی طرح وضو کے بعد کی دعا آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے پڑھنے کا حکم ہے۔تاہم  نماز کے اندر دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا منع ہے۔ صحیح مسلم اور اسی طرح صحیح بخاری میں الفاظ ہیں: “لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔(⁩صحیح بخاری: 750)

[18] ابن حبان⁦(972)⁩دعا نمبر⁦35⁩، دوسری منزل ”اَللّٰهُمَّ اِنِّی عَبْدُكَ،(⁩وَ)⁩ابْنُ عَبْدِكَ،(⁩وَ)⁩ابْنُ اَمَتِكَ؛ نَاصِيَتِیْ بِيَدِكَ، مَاضٍ فِیَّ حُكْمُكَ…“

[19] صحیح بخاری⁦(6337)⁩، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی نصیحت مروی ہے کہ”فَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَاجْتَنِبْهُ “یعنی

”دعا میں قافیہ بندی کو دیکھو تو اس سے بچو“؛ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہؓ کو اسی سے اجتناب کرتے پایا۔

[20] حضرت عثمان بن حنیفؓ کی روایت ہےکہ ایک نابینا صحابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔اورعرض کیا⁦:⁩یا رسول اللہ ﷺ⁦!⁩میرے لیے اللہ سے عافیت کی دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ  نے فرمایا⁦:⁩چاہو تو دعا کر دوں، اور چاہو تو صبر کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس نے عرض کیا⁦:⁩دعا فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے اسے وضو اچھی طرح کرنے اور یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا۔
(اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هٰذِہٖ لِتُقْضٰى لِي، اللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ۔)

(اے اللہ⁦!⁩میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد ﷺ، جو نبیِ رحمت ہیں، ان کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ اے محمد ﷺ⁦!⁩میں آپ کے وسیلے سے اپنی اس حاجت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ میری حاجت پوری کر دی جائے۔ اے اللہ⁦!⁩میرے حق میں آپ ﷺ کی شفاعت قبول فرما۔⁦)(⁩سنن ترمذی:3578)⁩، اسے امام جزریؒ نے دعائے حاجت کے ذیل میں لکھا ہے۔

حضرت عثمان بن حنیفؓ سے ایک دوسرا واقعہ بھی منقول ہے کہ انہوں نے حضرت عثمانؓ  کے دورِ خلافت میں ایک حاجت مند شخص کو یہی دعا سکھائی۔⁦)⁩معجم صغیر طبرانی:250)

[21] صحیح بخاری⁦(1010)⁩، حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں⁦:⁩جب کبھی حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں قحط پڑتا تو حضرت عمرؓ حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کہتے تھے کہ اے اللہ⁦!⁩پہلے ہم تیرے پاس اپنے نبی کریم ﷺ کا وسیلہ لایا کرتے تھے۔ تو، تو پانی برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں تو، تو ہم پر پانی برسا۔ حضرت انس ؓ نے کہا کہ چنانچہ بارش خوب ہی برسی۔

صحابہ و تابعین کے عمل میں حضرت معاویہؓ کا واقعہ بھی آتا ہے کہ انہوں نے قحط کے موقع پر نیک تابعی حضرت یزید بن الاسود الجرشیؒ کے وسیلہ سے استسقاء کیا۔امام ناصر الدین البانیؒ نے إرواء الغليل میں اس اثر کو صحیح کہا ہے اور پنی ہی کتاب(⁩التوسل أنواعه وأحكامه)⁩میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ دمشق میں قحط پڑا تو حضرت معاویہؓ نے استسقاء کے لیے انہیں بلایا اور دعا میں فرمایا: “اے اللہ⁦!⁩ہم آج اپنے بہترین اور افضل آدمی، یزید بن الاسود، کے وسیلہ سے تجھ سے شفاعت⁦/⁩دعا چاہتے ہیں۔” پھر یزیدؒ نے ہاتھ اٹھائے، لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے، اور بارش ہوئی۔ ۔ امام ابن تیمیہؒ(⁩كتاب قاعدة جليلة في التوسل والوسيلة) ⁩نے لکھا ہے کہ حضرت معاویہؓ نے صحابہ و تابعین کی موجودگی میں یزید بن الاسودؒ کے ساتھ اسی طرح توسل کیا جیسے حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ کے ساتھ کیا تھا۔

[22] صحیح بخاری⁦(6610)⁩،حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے اور جب بھی ہم کسی بلندی پر چڑھتے یا کسی نشیبی علاقہ میں اترتے تو تکبیر بلند آواز سے کہتے۔  پھر نبی کریم ﷺ ہمارے قریب آئے اور فرمایا ”اے لوگو⁦!⁩اپنے آپ پر رحم کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکارتے بلکہ تم اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔“ اس کے علاوہ سورۃ اعراف⁦(07:55)⁩میں بھی حکم ہے کہ ـ[⁩تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی]⁩۔

[23] سنن ترمذی(3531)

[24] سنن ابوداؤد(5090)

[25] سنن ابوداؤد⁦(1482)⁩ام المؤمنین حضرت  عائشہ  صدیقہ ؓ  کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جامع دعائیں پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔

[26] سنن ترمذی⁦(3385)⁩، جب رسول اللہ ﷺ کسی کو یاد کر کے اس کے لیے دعا کرتے، تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے پھر اس کے لیے۔

[27] سنن ابوداؤد⁦(90)⁩،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ  امام کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا کرے۔

[28] صحیح بخاری⁦(7477)⁩،  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”کوئی شخص اس طرح دعا نہ کرے کہ اے اللہ⁦!⁩اگر تو چاہے تو میری مغفرت کر، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے روزی دے، بلکہ پختگی(⁩اور یقین)⁩کے ساتھ سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس پر جبر کرنے والا نہیں۔

[29] صحیح مسلم⁦(6812)⁩،  رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یہ نہ کہے⁦:⁩اے اللہ⁦!⁩اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ وہ پختگی اور اصرار سے سوال کرے اور بڑی رغبت کا اظہار کرے، کیونکہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔

[30] سنن ترمذی⁦(3479)⁩،  رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا: ”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور⁦(⁩اچھی طرح⁦)⁩جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔

[31] سنن ابوداؤد⁦(1524)⁩،  رسول اللہ ﷺ کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔صحیح مسلم⁦(4649)⁩آپ ﷺ جب کوئی دعا کرتے تھے تو تین مرتبہ دہراتے اور آپ ﷺ اگر کچھ مانگتے تو تین بار مانگتے تھے۔اسکے علاوہ کچھ دعائیں چارچار دفعہ، پانچ پانچ دفعہ اور سات سات دفعہ بھی رسولِ کریم ﷺ  نے مانگی ہیں۔

[32] مسند شھاب⁦(1069)⁩، رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا: ”بے شک اللہ دعا میں الحاح وزاری کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔”إِنَّ اللّٰہَ يُحِبُّ الْمُلِحِّينَ فِي الدُّعَاءِ“

[33] صحیح مسلم⁦(6936)⁩، رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور قبولیت کے معاملے میں جلد بازی نہ کرے، اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے۔

[34] صحیح مسلم⁦(6770)⁩، ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ ؓ نے یہ دعا کی⁦:⁩اے اللہ⁦!⁩مجھے اپنے خاوند رسول اللہ ﷺ، اپنے والد حضرت ابوسفیان ؓ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ ؓ(⁩کی زندگیوں)⁩سے مستفید فرما⁦!⁩تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں، سوال کیا ہے۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا۔

[35] سورۃ اعراف کی آیت⁦55⁩﴿إِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں  کہ فِي الدُّعَاءِ وَلَا فِي غَيْرِهِ یعنی اللہ تعالیٰ دعا میں بھی حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، اور دوسرے امور میں بھی حد سے تجاوز پسند نہیں۔(⁩تفسیر طبری)

[36] سنن ابوداؤد⁦(380)⁩، ایک اعرابی مسجد میں آیا، اس وقت رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی پھر کہا: ”اے اللہ⁦!⁩مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا“، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا۔“

[37] سنن ترمذی⁦(M3604)⁩، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اپنی ساری حاجتیں اور ضرورتیں اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ اگر ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ ہی سے مانگے“۔جامع صغیر⁦(4692)⁩کی روایت ہے کہ اللہ سے ہر چیز مانگو، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ بھی؛ کیونکہ اگر اللہ اسے آسان نہ کرے تو وہ آسان نہیں ہو سکتا۔

[38] صحیح مسلم⁦(920)⁩،  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب قاری ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ کہے اور جو اس کے پیچھے ہے وہ(⁩بھی) ”آمِينَ“ کہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کی کہی ہوئی(⁩آمین)⁩کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“

[39] سنن ابوداؤد⁦(1492)⁩،  نبی اکرم ﷺ جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔

[40] سنن ترمذی⁦(3387)⁩،  نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ مچائے(⁩جلدی یہ ہے کہ)⁩وہ کہنے لگتا ہے⁦:⁩میں نے دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی۔