دعا۔ مغزِ اطاعت و  روحِ بندگی

کتاب و سنت میں دعا کی اہمیت جا بہ جا بیان ہوئی ہے ﵻادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْﵺ (سورۃ غافر ، آیت⁦60⁩) کے الفاظِ  قرآنی پکار پکار کر دعوت دے رہیں کہ دعا مانگنا دراصل حکم ربی کی تعمیل ہے ، نیز دعا کے ساتھ  نص قرآنی میں ہی اجابت کے الفاظ اس بات کا اعلان ہیں کہ وہ رب قدیر اور مالک الملک نہ صرف دعاؤں کو سنتا ہے بلکہ قبولیت سے بھی نوازتا ہے ۔ گویا دعا مانگنا فقط نفسیاتی تسکین کا کوئی حربہ نہیں بلکہ  سچی شان بندگی اور طرزِ عبودیت کا مظہر ہے اور  اجابت رب تعالی کی بے حدو بے  حساب قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار۔ اسی طرح فضیلتِ دعا کے باب میں احادیث مبارکہ میں ”الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ“[1] اور ”الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ“[2] کے الفاظ ترغیب اور تذکیر و موعظت کے لیے کافی ہیں ۔ محدثین کرام رحمھم اللہ نے ہر دور میں اذکارِ مسنونہ اور اورادِ ماثورہ کی تالیف و تصنیف  اور ترویج و اشاعت کے ذریعے سے بندگانِ خدا کو اسلوب بندگی سے آشنا کیا ہے۔ ذوقی اعتبار سے  خاکسار  کو امام محمد بن محمد جزری شافعیؒ کی ”حِصْن حَصِین“، حضرت ملا علی قاریؒ کی ”الحِزبُ الاعظم“اور شیخ یوسف بن اسماعیل نبہانیؒ کی ”ریاض الجنۃ“ بہت پسند ہیں گو امام نووی ؒ     کی” الاذکار “، ابن السُنی  ؒ کی ”عمل الیوم واللیلہ“ اور ابن قیم الجوزیہ ؒ کی” الوابلُ الصیب” سے بھی استفادہ ہوتا رہتا ہے۔ اردو تراجم کے ساتھ مولانا تھانوی صاحبؒ کی ”مُناجات مقبول“ ، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانیؒ کی ” پیارے رسول   کی پیاری دعائیں“اور خرم مراد ؒ کی ”نالۂ نیم شب“ایمان افروز دعاؤں کے گلدستے ہیں۔ آداب دعا سے متعلق مولانا نقی علی خانؒ⁦(⁩والد ماجد حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلویؒ⁦)⁩کی ”احسن الوِعا“ دیکھنے کے لائق ہے۔

الحز ب الاعظم معروف محدث حضرت ملا علی قاریؒ  کی تالیف ہے جس میں قرآنی دعاؤں  اور   رسول کریم کی دعاؤں کی  مشہورکتابوں⁦(⁩حصنِ حصین، کتاب الاذکار، القول البدیع وغیرہ⁦)⁩سے  جمع آوری کی گئی ہے۔آپ  کا پورا نام علی بن سلطان محمد، ابو الحسن نور الدین، ہروی مکی حنفی ہے، آپ دسویں اور گیارھویں صدی ہجری کے نامور محدث، فقیہ، شارحِ حدیث، قاری اور کثیر التصانیف عالم تھے۔ آپ کی نسبت  ”ہروی“ ہرات سے تعلق کی بنا پر،”مکی“ مکہ مکرمہ میں سکونت و وفات کی وجہ سے، اور ”القاری“علمِ قراءت و کتابتِ قرآن سے خصوصی مناسبت کی بنا پر معروف ہوئی۔ آپ کی ولادت عام طور پر⁦930⁩ھ کے قریب بیان کی جاتی ہے، جبکہ وفات⁦1014⁩ھ/1606ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ملا علی قاریؒ فقہِ حنفی کے جلیل القدر متاخرین ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔ علمِ حدیث میں آپ کی خدمات خاص طور پر نمایاں ہیں؛ آپ کی مشہور تصنیف   مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح آج بھی حدیث کے طلبہ و اساتذہ کے لیے ایک اہم شرح کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ جمع الوسائل في شرح الشمائل، شرح الشفا، شرح مسند أبي حنيفة، شرح نخبة الفكر، الموضوعات الكبرى⁦/⁩الأسرار المرفوعة، منح الروض الأزهر في شرح الفقه الأكبر اور الحزب الأعظم والورد الأفخم آپ کی مشہور کتب ہیں۔

دعا  کے  آداب سے متعلق چند اہم نکات ذہن میں رکھنا ضروری ہیں⁦:

ا-     دعا مانگنا اللہ کے حکم پر عمل کرنا ہے کیونکہ وہ خود کہتا ہے کہ مجھے پکارو اور میں تمھاری پکار سنوں گا۔ ﵻادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْﵺ (سورۃ غافر ، آیت60⁩)، اسی طرح ﵻقُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْﵺ (سورۃ فرقان، آیت77)⁦ ⁩کے الفاظ سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ  اے حبیب فرما دیجیے کہ اگر دعا اور التجا نہ  ہوتی   تو میرا رب تمھاری مطلق پروا نہ کرتا۔ مسند بزار⁦(3134)⁩کی روایت ہے کہ رسول اللہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جو کسی تکلیف میں گرفتار تھی، تو آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ کیا یہ لوگ﴿⁩آرام وراحت﴾⁩کے زمانے میں اللہ سے عافیت نہیں مانگا کرتے تھے۔ اسی طرح ادب المفرد⁦(1042)⁩میں آپکا فرمان نقل ہوا   ہے کہ (⁩أَعْجَزَ ‌النَّاسِ مَنْ عَجَزَ بِالدُّعَاءِ) ⁩یعنی انسانوں میں سب سے عاجز اور بے بس وہ ہے جو دعا نہیں کرپاتا۔

ب۔     رسول کریمﷺ  نے قبولیتِ دعا کے بارے میں فرمایا ہے کہ: ”جو بھی اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا مانگتا ہےتو اللہ اس کی دعا قبول کرتا ہے (⁦ یعنی دعا کی قبولیت تو یقینی ہے⁦(⁩،یہ دعا یا تو دنیا ہی میں قبول ہو کر اپنا اثر ظاہر کر دیتی ہے یا یہ دعا اس کے نیک اعمال میں شامل ہو کر آخرت کے لیے ذخیرہ بن جاتی ہے، یا مانگی ہوئی دعا کے مطابق اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ مانگی گئی دعا کا تعلق کسی گناہ کے کام سے نہ ہو، نہ ہی قطع رحمی کے سلسلہ میں ہو اور نہ ہی جلد بازی سے کام لیا گیا ہو“، صحابہؓ نے پوچھا⁦:⁩اللہ کے رسول⁦!⁩جلد بازی سے کام لینے کا کیا مطلب ہے؟ آپنے فرمایا ”وہ یہ کہنے لگے کہ میں نے اپنے رب سے دعا کی لیکن اللہ نے میری دعا قبول نہیں کی۔”

(ترمذي: M3604)

⁩ج۔     دعا میں درود شریف کا اہتمام بھی کرنا چاہیے، یہ دعا کے آداب میں سے ہے، اس سے دعا میں تاثیر  پیدا ہو تی اور وہ قبولیت کے زیادہ قریب ہوجاتی ہے۔حضرت عمرفاروقؓ نے فرمایا⁦:⁩بے شک دعا آسمان اور زمین کے درمیان موقوف رہتی ہے، اس میں سے کچھ بھی آسمان کی طرف بلند نہیں ہوتا جب تک تم اپنے نبی پر درود نہ بھیجو۔ (ترمذي: 486) ⁩اگر دعا⁦﴿⁩یاروزانہ کی منزل⁦ ﴾⁩کے  شروع اور آخر دونوں میں درود شریف پڑھا جائے تو زیادہ بہتر ہے، ورنہ دعا یا منزل میں کسی بھی موقع پر﴿⁩اول، آخر یا درمیان میں﴾ ⁩پڑھ لیا جائے۔ درود شریف ایک مستقل دعا اور عبادت ہے اور برکات کا خزینہ، لہذا کثرت سے پڑھنے کا معمول بھی رکھنا چاہیے۔ الحزب الاعظم کی آخری منزل⁦﴿⁩ساتویں﴾ ⁩مخلتف صیغوں پر مشتمل درود و سلام سے مزین ہے کم ازکم ہر جمعہ کو یہ منزل پڑھنے کا معمول بنا لیا جائے تو دنیا و آخرت کی خیر کثیر ہاتھ آئے اور بارگاہ رسالت مآب سے قرب و تعلق کی پختگی نصیب ہو۔

د۔     دعا اور وظیفہ جیسے قرب الٰہی ، آخرت کی اعلا منازل ، جنت الفردوس کے حصول کے لیے کرنا مطلوب ہے دنیوی امور کے لیے بھی مقصود ، حتی کہ جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو دعا کی ترغیب خود سنت سے ثابت ہے لہذا مومن کے لیے جائز چیزوں کی دعا اور وظیفہ دونوں درست ہیں  ایک  اہم پہلو جو آج کل بہت نظر انداز ہوتا ہے وہ وظائف پر اصرار اور دعا سے غفلت کا ہے ، مشائخ نے کہا ہے کہ چونکہ وظائف سے اپنے اعمال اور کارکردگی پر شان تحکم پیدا ہوتی ہے جو عبدیت کے منافی ہے لہذا دعا جو بندگی کا مغزو جوہر ہے اسے ہی ترجیح دینی چاہیےتاہم کسی خاص دعا کا بطور وظیفہ پڑھنا  غلط نہیں⁦-⁩گو وظیفہ کے لیے باقاعدہ اجازت لینے سے عمل میں یک گونہ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔

ر۔     زیر تدوین  مجموعہ⁦”⁩الحزب الاعظم⁦”⁩ادعیہ ٔ قرآنیہ اور مسنون و ماثور دعاؤں پر مشتمل ہے ایک سے ایک بڑھ  کر دعا اس مجمو عہ میں شامل  ہے تاہم قارئین  کے ذوق کے لیے ایک خاص دعا کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ حضرت ملا علی قاری نے  منزل چہارم ﴿⁦ بروز منگل)[3] میں نبی کریم کی میدانِ عرفات کی دعا نقل کی ہے۔ دعا کیا ہے؟  آقائے دوجہاں ، سید المرسلین ، شفیع المذنبین، سیدنا احمد  مجتبیٰ محمد مصطفیٰ کی بندگی کا کمال نمونہ، سطر سطر رقت طاری کرنے والی ، لفظ لفظ پگھلا دینے والا ۔ بارگاہ رب العزت میں عجز و تذلل کی عجب کیفیت ہے اور وہ بھی لولاک لما خلقت الافلاک کی حامل ذات پاک سے ۔ اللہ اللہ ، کیا شان بندگی ہے۔ ذرا تصور فرمائیے کہ جو رب روزِ قیامت ﵻلِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ⁦-⁩لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِﵺ⁦(سورۃ غافر، آیت16) ⁩کے الفاظ ذہن میں لائیے اور نفسا نفسی کی کیفیت سوچیے ⁦)⁩بھی اپنے پیارے حبیب کی مناجات پر ”یَا مُحَمَّدُ⁦!⁩ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ“[4] کی صدائے دل نواز سے در ِاجابت وا کرتا ہے اس ذوالجلال والاکرام نے میدان عرفات کی اس دعا کے جواب میں اپنے عبد مکرم کو کن کن انعامات سے نوازا ہوگا عقل دنگ ہے اور زبان گنگ۔ سبحان ذی الملک و الملکوت!

اس ساری تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ دعاؤں کی نسبت آنحضرت کی طرف ہے لہذا آپ ان کے الفاظ کا خوب خیال رکھیں ، ان کے معانی پر پورا غور کریں اور ان کے مضامین پر عمل پیرا ہوں، تاکہ برکت و سعادت آپ کا مقدر ٹھہرے ۔

ز۔     مسنون دعاؤں کی عظمت و قدر کے حوالہ سے  یہاں حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ  کا ایک اقتباس نقل کرنا  بے جا نہ  ہوگا ۔ آپ اپنی معرکہ آرا تصنیف احیاء علوم الدین⁦(⁩مترجم، جلد اول، باب ذکر اور دعاؤں کی تفصیل، ص ۴۸۳ ، مکتبہ رحمانیہ لاہور⁦)⁩میں آیۂ قرآنیہ  ﵻ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ﵺ﴿الاعراف، 55﴾ ⁩کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ معتدین کے معنی ”تکلف کرنیوالے“ ہیں اور بہتر یہ ہے کہ ادعیہ  ماثورہ کے سوا کچھ نہ مانگے اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ دعا مانگنے میں حد سے تجاوز کر  جائے اور ایسی چیز مانگ لے جو مقتضائے مصلحت نہ ہو۔ آج کل پرتکلف اور لمبی لمبی دعاؤں کا چلن عام ہے کچھ علما و مشائخ تو اس حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں تاہم امام غزالیؒ نے  احیا  ء العلوم  کے مذکورہ باب میں ہی سلف صالحین کے عمل سے دلیل پکڑتے ہوئےکہا ہے  کہ علما اور ابدال⁦﴿⁩اولیاء اللہ کا ایک عالی مقام طبقہ⁦﴾⁩کوئی دعا سات جملوں سے زیادہ نہیں بڑھاتے تھے اور اس کا مشاہدہ سورہ بقرہ کا آخر ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی دعا کسی جگہ اس سے زیادہ نہیں بتائی۔

امید واثق ہے کہ  الحزب الاعظم کی یہ  جدید طباعت، ترجمہ و توضیح، اشارات و تعبیرات اور ترتیب و تدوین نہ صرف  پڑھنے والوں کی ذوقی لطافت کا سامان کرے گی  بلکہ  ان مسنون اذکار کی بدولت وہ رب تعالیٰ کے قرب کی لذتوں سے آشنا ہوں گےاور  اتباع سنت کی برکات سے بھی  بہرہ مند،  ان شاء اللہ⁦!⁩

دعا ہے ربِ کریم ہماری اس کاوش کو قبول فرمائے، دینِ اسلام پر استقامت نصیب فرمائے اور خاتمہ بالخیر  نصیب ہو۔ آمین بجاہ سید المرسلین!

 العبد الضعیف سراج الدین امجد کان اللہ لہ

۲۸ ذوالحجہ ۱۴۴۷ ھ⁦/⁩۱۴ جون ۲۰۲۶


[1] سنن ترمذی(2969)

[2] سنن ترمذی(3371)

[3] دعا نمبر⁦28⁩، ”اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِیْ ، وَتَرٰى مَكَانِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِيَتِیْ…. “معجم صغیر(696)

[4] صحیح بخاری⁦(7510)⁩،  اے محمد⁦!⁩اپنا سر اٹھائیے،آپ  جو کہیں گے وہ سنا جائے گا، جو مانگیں گے وہ عطا کیا جائے گا، جو شفاعت کریں گے وہ قبول کی جائے گی۔