
خَاتِمَةٌ فِیْ اَلْفَاظِ الصَّلٰوةِ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَاَفْضَلُهَا مَا وَرَدَ عَقِيْبَ التَّشَهُّدِ:
آخر میں رسولِ کریم خاتم النبیین ﷺ پر درود و سلام کے چند صیغے لکھے
جا رہےہیں، ان میں سے افضل ترین درود ”درودِ ابراہیمی“ ہے جو نماز میں التحیات کے بعد پڑھا جاتا ہے۔
۱ «اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ، اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ».[1]
اے اللہ! تو اپنی رحمت سے سیدنامحمدﷺ اور آلِ سیدنامحمدﷺ کو اس طرح ڈھانپ دےجس طرح کہ تو نے سیدناابراہیم علیہ السلام اور گھرانۂ سیدناابراہیم علیہ السلام کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دیا تھا، بےشک تو لائقِ تعریف ہے ، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! سیدنامحمدﷺ اور آل ِسیدنامحمدﷺ پر خیرِ کثیر نازل فرما، جس طرح کہ تو نے سیدناابراہیم علیہ السلام اور کنبۂ سیدناابراہیم علیہ السلام پر خیر کثیر نازل فرمائی تھی، بےشک تو لائقِ تعریف ہے ، بزرگی والا ہے۔
————————————-
۲« اَللّٰهُمَّ وَتَرَحَّمْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰۤی اٰلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا تَرَحَّمْتَ عَلٰۤی اِبْرَاهِیْمَ وَعَلٰۤی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ وَتَحَنَّنْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰۤى اٰلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا تَحَنَّنْتَ عَلٰۤى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰۤى اٰلِ اِبْرَاهِيمَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ وَسَلِّمْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰۤى اٰلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا سلَّمْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰۤى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ».[2]
اے اللہ ! اور سیدنامحمدﷺ اور کنبۂ سیدنامحمدﷺ پر ایسی مہربانی فرما جیسی کہ تونے سیدناابراہیم علیہ السلام اور کنبۂ سیدناابراہیم علیہ السلام پر مہربانی فرمائی تھی ، بے شک تو لائقِ تعریف ہے، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ ! اور سیدنامحمدﷺ اور آلِ سیدنا محمدﷺ پر ایسی شفقت فرما جیسی کہ سیدناابراہیم علیہ السلام اور آلِ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر تو نے شفقت فرمائی تھی ،
بلا شبہ تو لائق تعریف ہے ، بزرگی والا ہے ، اے اللہ ! اور سیدنا محمدﷺ اور گھرانۂ سیدنامحمدﷺ پر خوب سلام نازل فرما ، جیسے کہ تو نے
سیدناابراہیم علیہ السلام اور آلِ سیدناابراہیم علیہ السلام پر سلام نازل فرمایا تھا ، بلا شبہ تو لائق ِتعریف ہے ، بزرگی والا ہے ۔
————————————-
۳« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاَزْوَاجِهٖ اُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَذُرِّيَّتِهٖ وَاَهْلِ بَيْتِهٖ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ، وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِهٖ وَاَهْلِ بَيْتِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ، كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ فِی الْعٰلَمِيْنَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ».[3]
اے اللہ ! نبی اُمّی سیدنا محمدﷺ اور ان کی بیبیوںؓ یعنی مؤمنین کی ماؤں کو اور آپ کی اولاد کو اور گھر والوں کو اپنی رحمت سے اسی طرح ڈھانپ دے جس طرح کہ تو نے سیدناابراہیم علیہ السلام اور آلِ سیدناابراہیم علیہ السلام کو ڈھانپ دیا تھا ، اور نبی اُمّی سیدنامحمدﷺ اور آلِ سیدنامحمدﷺ اور آپ کی بیبیوںؓ اور اہلِ خانہ اور اولاد پر خیر کثیر نازل فرما، جیسے کہ تو نے جہاں والوں میں سیدناابراہیم علیہ السلام اور آلِ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر خیر کثیر نازل فرمائی تھی ، بے شک تو لائق تعریف ہے ، بزرگی والا ہے ۔
————————————-
۴« اَللّٰهُمَّ اَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».[4]
اے اللہ ! تو ان کو روزِ قیامت میں اپنے پاس مقامِ ” قرب “ میں ٹھہرانا ۔
————————————-
۵« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلٰى سَيِّدِالْمُرْسَلِيْنَ وَاِمَامِ الْمُتَّقِيْنَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ ، مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ، اِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ، رَسُوْلِ الرَّحْمَةِ، اَللّٰهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا يَغْبِطُهٗ بِهِ الْاَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ».[5]
اے اللہ ! پیغمبروں کے سردار اور پرہیز گاروں کے پیشوا اور آخری پیغمبر سیدنا محمدﷺ یعنی نیکی کے امام اور بھلائی کے رہبر اور رحمت والے رسول ، تیرے بندے اور تیرے نبی کو اپنی رحمتیں اور مہربانیاں اور بڑی بھلائیاں مرحمت فرما، یا اللہ! ان کو حمد و ستائش کے ایسے منصب پر فائز فرما (مقام ِ محمود عطا فرما) کہ جس پر سارے اگلے پچھلے رشک کریں ۔
————————————-
۶« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ».[6]
یا اللہ ! تو سیدنامحمدﷺ اور آلِ سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتیں ، مہربانیاں اور بھلائیاں اس طرح عطا فرما جس طرح کہ تو نےسیدنا ابراہیم علیہ السلام اور آلِ سیدناابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائی تھیں ؛ بلا شبہ تو قابلِ تعریف ہے ، بزرگی والا ہے ۔
————————————-
۷« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ، وَّاَبْلِغْهُ الْوَسِيْلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ مِنَ الْجَنَّةِ۔ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِی الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهٗ، وَفِی الْمُقَرَّبِيْنَ مَوَدَّتَهٗ، وَفِی الْاَعْلَيْنَ ذِكْرَهٗ، وَالسَّلَامُ عَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهٗ».[7]
یا اللہ ! تو سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور جنت کے مقام ”قرب“ اور اس کے رتبۂ بلند تک ان کی رسائی نصیب فرما، یا اللہ ! تو اپنے برگزیدہ اور بلند رتبہ اور مقرب بندوں کے قلوب میں ان کی یاد اور محبت و مودت ڈال دے اور ان پر اللہ کی طرف سے سلامتی ، مہربانی اور بڑی بھلائی نازل ہو۔
————————————-
۸« اَللّٰهُمَّ دَاحِیَ الْمَدْحُوَّاتِ، وَبَارِئَ الْمَسْمُوْكَاتِ، وَجَبَّارَ الْقُلُوْبِ عَلٰى فِطْرَتِهَا شَقِيِّهَا وَسَعِيْدِهَا، اِجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِكَ، وَنَوَامِیَ بَرَكَاتِكَ، وَرَأْفَةَ تَحَنُّنِكَ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ، الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ، وَالْفَاتِحِ لِمَا اُغْلِقَ، وَالْمُعْلِنِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ، وَالدَّامِغِ لِجَيْشَاتِ الْاَبَاطِيْلِ، كَمَا حُمِّلَ، فَاضْطَلَعَ بِاَمْرِكَ لِطَاعَتِكَ مُسْتَوْفِزًا فِیْ مَرْضَاتِكَ بِغَيْرِ نَكِلٍ عَنْ قَدَمٍ، وَلَا وَهْنٍ فِیْ عَزْمٍ، وَاعِيًا لِّوَحْيِكَ، حَافِظًا لِّعَهْدِكَ، مَاضِيًا عَلٰى نَفَاذِ اَمْرِكَ، حَتّٰى اَوْرٰى قَبَسًا لِّقَابِسٍ، اٰلَاءُ اللّٰهِ تَصِلُ بِاَهْلِهٖ اَسْبَابَهٗ، بِهٖ هُدِيَتِ الْقُلُوْبُ بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ وَالْاِثْمِ، وَاَبْهَجَ مُوْضِحَاتِ الْاَعْلَامِ، وَمُنِيْرَاتِ الْاِسْلَامِ، وَنَائِرَاتِ الْاَحْكَامِ، فَهُوَ اَمِينُكَ الْمَأْمُوْنُ، وَخَازِنُ عِلْمِكَ الْمَخْزُوْنِ، وَشَهِيْدُكَ يَوْمَ الدِّيْنِ، وَبَعِيْثُكَ نِعْمَةً، وَرَسُوْلُكَ بِالْحَقِّ رَحْمَةً. اَللّٰهُمَّ افْسَحْ لَهٗ مَفْسَحًا فِیْ عَدْنِكَ، وَاجْزِهٖ مُضَاعَفَاتِ الْخَيْرِ مِنْ فَضْلِكَ، مُهَنَّئَاتٍ لَّهٗ غَيْرَ مُكَدِّرَاتٍ مِّنْ وُّفُوْرِ ثَوَابِكَ الْمَضْنُوْنِ، وَجَزِيْلِ عَطَائِكَ الْمَخْزُوْنِ. اَللّٰهُمَّ اَعْلِ عَلٰى بِنَاءِ الْبَانِيْنَ بِنَاءَهٗ، وَاَكْرِمْ مَّثْوَاهُ لَدَيْكَ وَنُزُلَهٗ، وَاَتْمِمْ لَهٗ نُوْرَهٗ، وَاجْزِهٖ مِنْ اِنْبِعَاثِكَ لَهٗ مَقْبُوْلَ الشَّهَادَةِ، وَمَرْضِیَّ الْمَقَالَةِ، ذَا مَنْطِقٍ عَدْلٍ، وَّخُطَّةٍ فَصْلٍ، وَّحُجَّةٍ وَّبُرْهَانٍ عَظِيمٍ، صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ».[8]
یا اللہ ! اے بچھی ہوئی زمینوں کے بچھانے والے، اے بلند آسمانوں کے پیدا کرنے والے، اور اسے پیدائشی نیک و بد ( دونوں طرح کے ) قلوب کے حاکم ، تو اپنی باعزت رحمتیں اور ترقی پذیر بھلائیاں اور کامل شفقتیں عطا فرما، اپنے بندے اور اپنے رسول سیدنامحمدﷺ کو جو چلی آرہی نبوت کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے والے (خاتم النبیین) اور مقفل سعادتوں کو کھولنے والے اور سچائی کے ساتھ دین حق کا اعلان کرنے والے اور باطل لشکروں کی اس طرح سرکوبی کرنے والے ہیں جس طرح کہ آپﷺ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی ، سو وہ تیرے حسب حکم تیری اطاعت کے لیے، تیری رضا جوئی میں مستعدی دکھاتے ہوئے قدم ڈگمگائے بغیر اور ہمت و حوصلہ میں سستی دکھائے بغیر، تیرے فرمان کی پاسداری کرتے ہوئے اور تیرے عہد و پیمان کی حفاظت کرتے ہوئے، اور تیرے حکم کو نافذ کرتے ہوئے کمر بستہ ہو گئے ، تا آں کہ انھوں نے طالبِ روشنی (ہدایت) کے لیے مشعل روشن کر دی۔ طالبینِ نور کو منور راستوں پر اللہ ہی کی نعمتیں پہنچایا کرتی ہیں۔ آپﷺ کی وجہ سے ہی بے دین، گنہگار دلوں کو ہدایت ملی ، اور آپﷺ ہی کی وجہ سے اللہ نے کھلے دلائل اور اسلامی انوار اور منور احکام کو ظاہر فرمایا، سو آپﷺ تیرے لائقِ اعتبار امین ہیں، اور تیرے ذخیرۂ علم کے خزانچی ہیں، اور آپﷺ ہی روزِ قیامت میں امت کے احوال بتانے والے ہیں، اور آپﷺ از راہ ِکرم تیرے فرستادہ نبی ہیں اور ازراہِ عنایت تیرے سچے رسول ہیں۔ الہٰی ! ان کے لیے اپنی دائمی جنت میں ان کی کشادہ رہائش گاہ کو مزید کشادگی دے اور تو ان کو اپنے فضل سے اضافہ شدہ بھلائیاں یعنی اپنا مخصوص ثواب وافر اور اپنا بڑا ذخیرہ بخشش مرحمت فرما، دراں حالیکہ وہ ان کے لیے باعث خوش گواری ہو اور باعث ناگواری نہ ہو، یا اللہ ! تمام عمارت سازوں کی عمارتوں کے بالمقابل آپﷺ کے محل کو بلندی عطا فرما، اور اپنے یہاں ان کی اقامت و ضیافت کا باعزت انتظام فرمانا ، اور ان کے لیے ان کے نور کو مکمل فرما۔ اور آپ کو میدان محشر میں قابلِ اعتبار گواہ، خوش گفتار(آپﷺ کا ہر قول تیری رضامندی کے مطابق ہو)، راست گو حق و باطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کرنے والے، اور صاحبِ دلائل کی حیثیت سے فائز المقام بنا کر اعزاز بخش۔
————————————-
۹« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا سَامِعِيْنَ مُطِيْعِيْنَ، وَاَوْلِيَآءَ مُخْلِصِيْنَ، وَرُفَقَآءَ مُصَاحِبِيْنَ. اَللّٰهُمَّ اَبْلِغْهُ مِنَّا السَّلَامَ، وَارْدُدْ عَلَيْنَا مِنْهُ السَّلَامَ».[9]
اے اللہ ! ہمیں تیرے احکام کا سننے والا اور ماننے والا اور بے لاگ فرماں بردار اور لائقِ صحبت رفیق بنالے، اے اللہ ! آں حضرتﷺ کو ہمارا سلام پہنچا، اور ہمیں بھی آپﷺ کا جوابی سلام پہنچا۔
————————————-
۱۰ «اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ عَدَدَ مَنْ صَلّٰى عَلَيْهِ مِنْ خَلْقِكَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ كَمَا يَنْۢبَغِیْ لَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَيْهِ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ كَمَاۤ اَمَرْتَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَيْهِ».[10]
یا اللہ! پیغمبر سیدنامحمدﷺ پر درود بھیجنے والی تیری مخلوق کی تعداد کے حساب سے ان پر رحمت نازل فرما ، اور پیغمبر سیدنامحمدﷺ پر اسی طرح اپنی رحمتیں نازل فرما جس طرح کہ ہمارے لیے دعائے رحمت کرنا مناسب ہو ، اور تو پیغمبر سیدنامحمدﷺ پر اس طرح رحمتیں اتار جیسا کہ تو نے ہمیں ان کے لیے دعائے رحمت کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔
————————————-
۱۱« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ حَتّٰى لَا يَبْقٰی مِنْ صَلَوَاتِكَ شَیْءٌ، وَّبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ حَتّٰى لَا يَبْقٰى مِنْۢ بَرَكَاتِكَ شَیْءٌ، وَّسَلِّمْ عَلٰى مُحَمَّدٍ حَتّٰى لَا يَبْقٰی مِنْ سَلَامِكَ شَیْءٌ، (وَارْحَمْ مُحَمَّدًا حَتّٰى لَا يَبْقٰى مِنْ رَّحْمَتِكَ شَیْءٌ)».[11]
الہٰی! تو سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمت سے اس قدر ڈھانپ لے کہ تیری (دی جانے والی ) رحمتوں میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے، اور سیدنا محمدﷺ کو اتنی بھلائیوں سے نواز کہ تیری ( دی جانے والی ) بھلائیوں میں کچھ بھی باقی نہ رہے، اور سیدنا محمدﷺ پر اتنا سلام نازل فرما کہ تیرے (اتارے جانے والے ) سلاموں میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے، اور سیدنا محمدﷺ پر اتنی مہربانیاں فرما کہ تیری ( کی جانے والی ) مہربانیوں میں سے کچھ بھی باقی نہ بچے۔
————————————-
۱۲ «جَزَى اللهُ عَنَّا مُحَمَّدًا (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) بِمَا هُوَ اَهْلُهٗ».[12]
یا اللہ !ہماری جانب سے سیدنا محمدﷺ کو ان کی شایانِ شان جزا اوربدلہ عطا فرما۔
————————————-
۱۳« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى رُوْحِ مُحَمَّدٍ فِیْ الْاَرْوَاحِ، وَصَلِّ عَلٰى جَسَدِ مُحَمَّدٍ فِیْ الْاَجْسَادِ، وَصَلِّ عَلٰى قَبْرِ مُحَمَّدٍ فِیْ الْقُبُورِ».[13]
اے اللہ ! تمام روحوں میں سے روحِ سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اور تمام اجسام میں سے جسدِ سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے، اور تمام قبروں میں سے روضئہ سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے۔
————————————-
۱۴ ﴿اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ، يَااَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا.﴾ لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ رَبِّیْ وَسَعْدَيْكَ! صَلَوَاتُ اللهِ الْبَرِّ الرَّحِيْمِ، وَالْمَلٰٓئِكَةِ الْمُقَرَّبِيْنَ، وَالنَّبِيِّيْنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ، وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ، وَمَا سَبَّحَ لَكَ مِنْ شَیْءٍ يَّا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ، عَلٰى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، وَسَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، وَاِمَامِ الْمُتَّقِيْنَ، وَرَسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، الشَّاهِدِ الْبَشِيْرِ، الدَّاعِیْ اِلَيْكَ بِاِذْنِكَ، السِّرَاجِ الْمُنِيْرِ، وَعَلَيْهِ السَّلَامُ.[14]
اللہ اور اس کے فرشتے رسولﷺ پر رحمت بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو تم بھی ان کے لیے دعائے رحمت کرو اور خوب خوب سلام بھیجو، اے اللہ ، اے میرے پروردگار میں تیری خدمت میں بار بار حاضر ہوں اورمیں تیرا فرمانبردار ہوں ۔ مہربان و نیکو کار اللہ اور اس کے مقرب فرشتوں اور انبیاء علیھم السلام اور صدیقین اور شہدا اور صالحین اور اے رب العالمین تیری تسبیح خوانی کرنے والی تمام اشیا کی رحمتیں سیدنامحمد بن عبداللہﷺ پر نازل ہوں جو آخری پیغمبر اور سردارِ انبیا اور پیشوائے اتقیا اور رسول رب العالمین اور خوشخبری سنانے والے گواہ اور (اے اللہ ) تیرے حسب ِحکم تیری بندگی کی جانب مخلوق کو بلانے والے روشن چراغ ہیں، اور آپﷺ پر ضرور سلام نازل ہو۔
————————————-
۱۵ «اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ شَفَاعَةَ مُحَمَّدِنِ الْكُبْرٰى، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ الْعُلْيَا، وَاَعْطِهِ سُؤْلَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰی، كَمَا اٰتَيْتَ اِبْرَاهِيْمَ وَمُوسٰى».[15]
اے الہٰی !سیدنا محمدﷺ کی بڑی سفارش کو منظور فرمالینا، اور ان کے بلند ترین رتبے کو مزید رفعت دینا ، اور دنیا و آخرت میں ان کی مراد پوری فرمانا جس طرح تو نےسیدنا ابراہیم و موسیٰ علیھم السلام کی مرادپوری فرمائی تھی ۔
————————————-
۱۶« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مُحَمَّدًا مِّنْ اَكْرَمِ عِبَادِكَ عَلَيْكَ (كَرَامَةً)، وَّمِنْ اَرْفَعِهِمْ عِنْدَكَ دَرَجَةً، وَّ(مِنْ) اَعْظَمِهِمْ عِنْدَكَ خَطَرًا، وَّ(مِنْ) اَمْكَنِهِمْ عِنْدَكَ شَفَاعَةً، اَللّٰهُمَّ اَتْبِعْهُ مِنْ اُمَّتِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ مَا تَقَرُّ بِهٖ عَيْنُهٗ، وَاجْزِهٖ عَنَّا خَيْرَ مَا جَزَيْتَ نَبِيًّا عَنْ اُمَّتِهٖ، وَاجْزِ الْاَنْۢبِيَاءَ كُلَّهُمْ خَيْرًا، وَّسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ».[16]
اے اللہ!سیدنا محمدﷺ کو اپنے بندوں میں بہ لحاظ ِاعزازو اکرام کے معزز ترین اور سب میں بہ لحاظِ مرتبہ کے بلند ترین اور سب میں بہ لحاظِ قدر و منزلت کے عظیم ترین اور سب میں بہ لحاظِ شفاعت کے اپنا منظور ِنظر بنا دے۔ الہٰی ! ان کی امت و ذریت میں سے اتنی بڑی مقدار میں ان کا پیروکار بنادے جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور ہماری جانب سے ان کو وہ بہترین صلہ مرحمت فرما جو تو نے کسی نبی کو اس کی امت کی جانب سے دیا ہو۔ اور تمام انبیاء کو بہتر بدلہ عطا فرما۔ اور پیغمبروں کو بڑی سلامتی پہنچے اور ساری حمد و ثنا رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔
————————————-
۱۷« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ، وَّاَصْحَابِهٖ وَاَوْلَادِهٖ وَاَهْلِ بَيْتِهٖ وَذُرِّيَّتِهٖ، وَمُحِبِّيْهٖ وَاَتْبَاعِهٖ وَاَشْيَاعِهٖ، وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ اَجْمَعِينَ، يَااَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ!»[17]
اے اللہ اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے ! تو سیدنامحمدﷺ اورآلِ محمدﷺ اور ان کے اصحاب اور ان کی اولاد اور اہل خانہ اور ان کی مبارک نسل اور ان کے چاہنے والوں اور ان کے پیروکاروں اور ان کے اعوان و انصار اور ان تمام کے ساتھ ہم کو بھی اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
————————————-
۱۸« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ مِّلْأَ الدُّنْيَا وَمِلْأَالْاٰخِرَةِ، وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ مِّلْأَ الدُّنْيَا وَمِلْأَ الْاٰخِرَةِ، وَارْحَمْ مُّحَمَّدًا مِّلْأَ الدُّنْيَا وَمِلْأَ الْاٰخِرَةِ، وَسَلِّمْ عَلٰى مُحَمَّدٍ مِّلْأَ الدُّنْيَا وَمِلْأَ الْاٰخِرَةِ».[18]
اے اللہ !سیدنا محمدﷺ پر دنیا و آخرت کے بھراؤ کے بقدر رحمتیں نازل فرما ، اور سیدنا محمدﷺ پر دنیا و آخرت کے بھراؤ کے بہ قدر بھلائیاں نازل فرما، اور سیدنا محمدﷺ پر دنیا و آخرت کے بھراؤ کے بہ قدر مہربانیاں نازل فرما ، اور سیدنا محمدﷺ پر دنیا و آخرت کے بھراؤ کے بہ قدر سلام نازل فرما ۔
————————————-
۱۹ «اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ يَا اَللّٰهُ، يَا رَحْمٰنُ، يَا رَحِيْمُ،
يَا جَارَ الْمُسْتَجِيْرِيْنَ، يَا اَمَانَ الْخَائِفِيْنَ، يَا عِمَادَ مَنْ لَّا عِمَادَ لَهٗ، يَاسَنَدَ مَنْ لَّا سَنَدَ لَهٗ، يَاذُخْرَ مَنْ لَّاذُخْرَ لَهٗ، يَا حِرْزَ الضُّعَفَآءِ ، يَا كَنْزَ الْفُقَرَآءِ، يَا عَظِيْمَ الرَّجَآءِ ، يَا مُنْقِذَ الْهَلْكٰی ، يَا مُنْجِیَ الْغَرْقَیٰ، يَا مُحْسِنُ، يَا مُجْمِلُ، يَا مُنْعِمُ، يَا مُفْضِلُ، يَا عَزِيزُ، يَا جَبَّارُ، يَا مُنِيرُ، اَنْتَ الَّذِیْ سَجَدَ لَكَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَضَوْءُالنَّهَارِ، وَشُعَاعُ الشَّمْسِ، وَنُوْرُ الْقَمَرِ، وَحَفِيْفُ الشَّجَرِ، وَدَوِیُّ الْمَآءِ، يَا اَللّٰهُ اَنْتَ اللّٰهُ لَا شَرِيْكَ لَكَ، اَسْأَلُكَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ».[19]
یا اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ! اے بڑے مہربان، اے نہایت رحم والے، اے پناہ گزینوں کی پناہ گاہ، اے خوفزدوں کی امن گاہ، اے بے سہاروں کے سہارے، اے بے آسراؤں کے آسرا، اے بے مایوں کے ذخیرے، اے ناتوانوں کی حفاظت گاہ، اے حاجتمندوں کے خزانے ، اے بڑی آرزوگاہ، اے قریب الہلاکت لوگوں کے نجات دہندہ، اے ڈوبتوں کے بچانے والے، اے نیکوکار اور محسن، اے کرم فرما، اے ولیٔ نعمت، اے فیاض، اے زبردست، اے صاحب تسلّط ، اے خوبصورت ، تو ہی وہ عظیم ذات ہے جس کے سامنے رات کی تاریکی اور دن کا اجالا اور سورج کی ضیاء اور چاند کا چاند نی اور درختوں کی سرسراہٹ اور پانی کی گھڑ گھڑاہٹ سجدہ ریز ہے، اے اللہ! تو ہی اللہ ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں، میری تجھ سے یہ التجا ہے کہ تو اپنے بندے اور اپنے رسول سیدنا محمدﷺ اور آلِ سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
————————————-
۲۰« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ، وَفِی الْمَلَأِ الْاَعْلٰی اِلٰی يَوْمِ الدِّيْنِ».[20]
اے اللہ ! سیدنامحمدﷺ اور آلِ سیدنا محمدﷺ کو روز قیامت اگلوں اور پچھلوں میں اور رفیع المرتبت دربار کے فرشتوں میں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ۔
————————————-
۲۱« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ (وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ) كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰى لَهٗ».[21]
یا اللہ ! سیدنامحمدﷺ اور آلِ سیدنا محمدﷺ کو ایسی رحمتوں سے ڈھانپ لے جن سے تو انھیں ڈھانپنا چاہے اور پسند فرمائے۔
————————————-
۲۲« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ، صَلٰوةً تَكُوْنُ لَكَ رِضَآءً، وَّ لِحَقِّهٖ اَدَاءً، وَّاَعْطِهِ الْوَسِيْلَةَ وَالْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ الَّذِیْ وَعَدْتَّهٗ، وَاجْزِهٖ عَنَّا مَا هُوَ اَهْلُهٗ، وَاجْزِهٖ عَنَّا اَفْضَلَ مَا جَزَيْتَ نَبِيًّا عَنْ قَوْمِہٖ وَرَسُوْلاً عَنْ اُمَّتِهٖ، وَصَلِّ عَلٰى جَمِيعِ اِخْوَانِهٖ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّالِحِينَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ!»[22]
یا اللہ ! سیدنامحمدﷺ اور آلِ سیدنامحمدﷺ کو ایسی رحمتوں سے ڈھانپ لے جو تجھے پسند ہوں اور جن سے ان کا حق ادا ہو جائے۔ اور انھیں جنت کے مقام قرب ، رتبۂ بلند اور اس مقام ِحمد و ستائش پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔ اور انھیں ہماری جانب سے ان کی شایانِ شان بدلہ عطا فرما، اور انھیں ہماری طرف سے وہ بہتر صلہ مرحمت فرما جو تو نے کسی پیغمبر کو اس کی قوم کی طرف سے اور کسی رسول کو اس کی امت کی طرف سے مرحمت فرمایا ہو۔ اور اے تمام مہربانوں سے بڑھ کر مہربان !تو ان کے سب بھائیوں: پیغمبروں اور نیکوکاروں کو بھی اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے۔
————————————-
۲۳« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی الْاَوَّلِيْنَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی الْاٰخِرِيْنَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی النَّبِيِّيْنَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی الْمُرْسَلِيْنَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی الْمَلَأِ الْاَعْلٰی اِلٰى يَوْمِ الدِّينِ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ حَتّٰی تَرْضٰى، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ بَعْدَ الرِّضَا، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ اَبَدًا اَبَدًا. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا اَمَرْتَ بِالصَّلٰوةِ عَلَيْهِ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ اَنْ یُّصَلّٰی عَلَيْهِ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا اَرَدْتَّ اَنْ یُّصَلّٰی عَلَيْهِ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَدَدَ خَلْقِكَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ رِضَا نَفْسِكَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ زِنَةَ عَرْشِكَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ مِّدَادَ كَلِمَاتِكَ الَّتِیْ لَا تَنْفَدُ. اَللّٰهُمَّ وَاَعْطِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِيلَةَ، وَالْفَضْلَ وَالْفَضِيلَةَ، وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ. اَللّٰهُمَّ عَظِّمْ بُرْهَانَهٗ، وَاَفْلِجْ حُجَّتَهٗ، وَاَبْلِغْهُ مَاْمُوْلَهٗ فِیْ اَهْلِ بَيْتِهٖ وَاُمَّتِهٖ. اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ وَرَأْفَتَكَ وَرَحْمَتَكَ عَلٰى مُحَمَّدٍ حَبِيْبِكَ وَصَفِيِّكَ، وَعَلٰى اَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنَ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ بِاَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ عَلٰى اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ، وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا مِّثْلَ ذٰلِكَ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی اللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ فِی الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰی. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدِنِ الصَّلَاةَ التَّآمَّةَ، وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدِنِ الْبَرَكَةَ التَّآمَّةَ، وَسَلِّمْ عَلٰى مُحَمَّدِنِ السَّلَامَ التَّآمَّ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ اِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُوْلِ الرَّحْمَةِ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ اَبَدَ الْاٰبِدِيْنَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ دَهْرَ الدَّاهِرِيْنَ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الْعَرَبِیِّ الْقُرَشِیِّ الْهَاشِمِیِّ الْاَ بْطَحِیِّ التِّهَامِیِّ الْمَكَّیِّ، صَاحِبِ التَّاجِ وَالْهِرَاوَةِ، وَالْجِهَادِ وَالْكَرَامَةِ، وَالْمَغْنَمِ وَالْمَقْسَمِ، صَاحِبِ الْخَيْرِ وَالْمَيْرِ، صَاحِبِ السَّرَايَا وَالْعَطَايَا، وَالْاٰيَاتِ الْمُعْجِزَاتِ، وَالْعَلَامَاتِ الْبَاهِرَاتِ، وَالْمَقَامِ الْمَشْهُودِ، وَالْحَوْضِ الْمَوْرُوْدِ، وَالشَّفَاعَةِ وَالسُّجُوْدِ لِلرَّبِّ الْمَحْمُوْدِ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ ۢبِعَدَدِ مَنْ صَلّٰى عَلَيْهِ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ ۢبِعَدَدِ مَنْ لَّمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ».[23]
اے اللہ ! روز قیامت تک کے تمام اگلوں میں سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے ، اور تمام پچھلوں میں سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اور تمام انبیا ءمیں سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے ، اور تمام رسولوں میں سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اور اللہ کے بلند دربار کے فرشتوں میں سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اے اللہ ! سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے اس قدر ڈھانپ لے کہ تو راضی ہو جائے ، اور راضی ہو جانے بعد بھی سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اور سیدنا محمدﷺ کو ہمیشہ ہمیشہ رحمتوں سے ڈھانپے رکھنا ۔ اے اللہ ! سیدنا محمدﷺ پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جیسا کہ تو نے ہمیں ان کے لیے دعائے رحمت کرنے کا مامور بنایا ہے، اور سیدنا محمدﷺ پر ایسی رحمتیں نازل فرما جیسی تو ان پر نازل فرمانا پسند کرے، اورسیدنا محمدﷺ پر ایسی رحمتیں نازل فرما جیسی تو ان پر نازل کرنے کا ارادہ فرمائے ، اے اللہ ! سیدنا محمدﷺ پر اپنی مخلوق کی تعداد کی بہ قدر رحمتیں نازل فرما، اور سیدنا محمدﷺ پر اپنے جی کی چاہت کی بہ قدر رحمتیں نازل فرما، اورسیدنا محمدﷺ پر اپنے عرش کے وزن کی بہ قدر رحمتیں نازل فرما، اورسیدنا محمدﷺ پر تیرے ختم نہ ہونے والے کلمات کی روشنائی کی بہ قدر رحمتیں نازل فرما، اے اللہ ! سیدنا محمدﷺ کو اپنا مقامِ قرب اور احسان اور بزرگی اور بلند رتبہ عطا فرما، الہٰی ! ان کی نبوت کی دلیل اور حجت کو عظمت و غلبہ عطا فرما، اور ان کے اہل بیت اور ان کی امت کے بارے میں ان کی امید برلا ، الہٰی ! تو اپنے محبوب و برگزیدہ (نبی) سیدنا محمدﷺ اور ان کے پاک و صاف اہل خانہ کو اپنی رحمتوں ، بھلائیوں ، شفقتوں اور مہربانیوں سے نواز ۔ الہٰی ! سیدنا محمدﷺ پر وہ بہترین رحمتیں نازل فرما جو تیری مخلوق میں سے کسی پر بھی نازل فرمائی ہوں، اور سیدنا محمدﷺ پر اسی طرح کی بھلائیاں بھی نازل فرما، اور سیدنا محمدﷺ پر اسی طرح کی مہربانیاں نازل فرما، اور سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے جب بھی (دن پر) رات چھا جائے اور سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے جب بھی دن روشن ہو جائے، اور سیدنا محمدﷺ کو دنیا و آخرت میں اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اے اللہ! سیدنا محمدﷺ پر اپنی کامل رحمتیں نازل فرما، اور سیدنا محمدﷺ پر تمام بھلائیاں نازل فرما، اورسیدنا محمدﷺ پر خوب خوب سلام اتار ۔اے اللہ ! بھلائی کے پیشوا اور بھلائی کے مقتدا اور رسولِ رحمتﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، الہٰی سیدنا محمدﷺ کو ہمیشہ ہمیشہ اپنی رحمت سے ڈھانپے رکھ، اور سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمت سے دائماً ابداً ڈھانپے رکھ، یا اللہ! اُمِّی، عربی، قریشی، ہاشمی، بطحائی ، حجازی، مکی، تاج دار، عصا دار، مجاہد، شریف، مالکِ غنیمت، تقسیم کار، غلہ رسد اور خیرات کے بانٹنے والے، فوجی دستوں والے، اور داد و دہش والے، مافوق العادت دلائل والے، اور واضح علامتوں والے، اور متمکن مقام تقرب، ساقیٔ حوض کوثر ، سفارش کرنے والے، اور ستودہ صفات پروردگار کے آگے سجدہ ریز، پیغمبر : سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اے اللہ ! سیدنا محمدﷺ پر ان لوگوں کی بہ قدر رحمت نازل فرما جنھوں نے آپ کے لیے دعائے رحمت کی ، اور سیدنا محمدﷺ پر ان لوگوں کی بہ قدر بھی رحمتیں نازل فرما جنھوں نے آپ کے لیے دعائے رحمت نہ کی ۔
————————————-
۲۴ «اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ بِنُوْرِهِ الظُّلَمُ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الْمَبْعُوْثِ رَحْمَةً لِّكُلِّ الْاُمَمِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الْمُخْتَارِ لِلسِّيَادَةِ وَالرِّسَالَةِ قَبْلَ خَلْقِ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الْمَوْصُوْفِ بِاَفْضَلِ الْاَخْلَاقِ وَالشِّيَمِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الْمَخْصُوْصِ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَخَوَاصِّ الْحِكَمِ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الَّذِیْ كَانَ لَا تُنْتَهَكُ فِیْ مَجَالِسِهِ الْحُرَمُ، وَلَا يُغْضٰی عَنْ مَّنْ ظَلَمَ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الَّذِیْ كَانَ اِذَا مَشٰى تُظِلُّهُ الْغَمَامَةُ حَيْثُ مَا يَمَّمَ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الَّذِیْ انْشَقَّ لَهُ الْقَمَرُ، وَكَلَّمَهُ الْحَجَرُ وَاَقَرَّ بِرِسَالَتِهٖ وَصَمَّمَ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الَّذِیْ اَثْنٰى عَلَيْهِ رَبُّ الْعِزَّةِ رِضًا فِیْ سَالِفِ الْقِدَمِ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ الَّذِیْ صَلّٰى عَلَيْهِ رَبُّنَا فِیْ مُحْكَمِ كِتَابِهٖ، وَاَمَرَ اَنْ يُّصَلّٰی عَلَيْهِ وَيُسَلَّمَ. صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَاَزْوَاجِهٖ مَا انْهَلَّتِ الدِّيَمُ، وَمَا جُرَّتْ عَلَى الْمُذْنِبِيْنَ اَذْيَالُ الْكَرَمِ، وَسَلَّمَ تَسْلِيْمًا وَّشَرَّفَ وَكَرَّمَ».[24]
اے اللہ !سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے جن کے نور کی وجہ سے تاریک راتیں جگمگا اٹھیں، یا اللہ ! ہمارے پیشوا سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے جو تمام امتوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، یا اللہ ! ہمارے سردار سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے جن کا سرداری اور پیغام رسانی کے لیے تخلیقِ لوح و قلم سے پہلے ہی انتخاب ہو چکا تھا، اے اللہ ! ہمارے آقا سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے جو بہترین اخلاق و عادات سے متصف ہیں ۔ یا اللہ ہمارے آقا سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے جو مختصر اور جامع کلام اور خاص الخاص حکمتوں کے ساتھ مختص ہیں، یا اللہ ! سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے جن کی مجلسوں میں کسی کی آبروریزی نہیں ہوتی تھی، اور ظلم کرنے والے سے چشم پوشی نہیں کی جاتی تھی ، یا اللہ ! ہمارے سردار سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے جن پر ابر سایہ فگن رہتا تھا جہاں جہاں آپ تشریف لے جاتے، یا اللہ ! ہمارے سردار سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے جن ( کی نبوت کی تصدیق) کے لیے چاند بھی دو ٹکڑے ہو گیا تھا، اور جن سے سنگریزوں نے بھی شرف ہم کلامی حاصل کیا تھا اور جن کی نبوت کا پختہ اعتراف کیا تھا، اے اللہ ! تو ہمارے آقا سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے جن کی رب العزت نے دیرینہ زمانے میں خوش ہو کر تعریف و توصیف بیان فرمائی ۔ اے اللہ ! ہمارے پیشوا سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے جن پر ہمارے رب نے اپنی کتاب محکم میں رحمت نازل فرمائی اور ہمیں بھی ان کے لیے دعائے رحمت و سلام کا حکم فرمایا۔ یا اللہ ان کو، ان کی آل کو، اور ان کے صحابہ اور ان کی ازواج کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپے رکھ جب تک کہ بارشیں برستی رہیں اور جب تک کہ خطا کاروں پر دامن عفو و کرم پھیلا رہے اور انھیں بھر پور سلام اور اعزاز و اکرام سے نواز ۔
————————————-
۲۵« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدِنِ السَّابِقِ لِلْخَلْقِ نُورُهٗ، وَالرَّحْمَةِ لِلْعَالَمِيْنَ ظُهُورُهٗ، عَدَدَ مَنْ مَّضٰى مِنْ خَلْقِكَ وَمَنْۢ بَقِیَ، وَمَنْ سَعِدَ مِنْهُمْ وَمَنْ شَقِیَ، صَلَاةً تَسْتَغْرِقُ الْعَدَّ، وَتُحِيْطُ بِالْحَدِّ، صَلَاةً لَّا غَايَةَ لَهَا وَلَا انْتِهَاءَ، وَلَا اَمَدَ لَهَا وَلَا انْقِضَآءَ، صَلَاةً دَائِمَةًۢ بِدَوَامِكَ، وَعَلٰى اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ كَذٰلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى ذٰلِكَ».[25]
اے اللہ ! ہمارے ایسے آقا سیدنامحمدﷺ پر جن کا نور سب سے پہلے پیدا کیا گیا اور جن کا وجود سارے جہانوں کے لیے باعث رحمت ہوا تیری سابقہ اور باقی مخلوق اور نیک و بد مخلوق کی گنتی کی بہ قدر ایسی رحمت نازل فرما جو ساری گنتیوں پر حاوی اور تمام حدود کو محیط ہو، وہ ایسی رحمت ہو جس کی نہ کوئی غایت ہو نہ کوئی انتہا ہو اور نہ کوئی حد ہو اور نہ کوئی اختتام ہو ۔ ایسی رحمت جو تیرے دوام کے ساتھ ساتھ باقی رہنے والی ہو اور ان کے آل واصحاب کے لیے بھی ، (ہماری) یہی دعا ہے اور اس بات پر ہم اللہ کی ثنا خوانی کر رہے ہیں ۔
————————————-
۲۶« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ».[26]
اے اللہ اپنے بندے اور پیغمبر سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور مومن مردوں اور عورتوں اور مسلمان مردوں اور عورتوں کو بھی اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
————————————-
۲۷« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ، وَّهَبْ لَنَا اَللّٰهُمَّ مِنْ رِّزْقِكَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ مَا تَصُوْنُ بِهٖ وُجُوْهَنَا عَنِ التَّعَرُّضِ اِلٰى اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ. وَاجْعَلْ لَّنَا اَللّٰهُمَّ اِلَيْهِ طَرِيْقًا سَهْلًا مِّنْ غَيْرِ تَعَبٍ وَّلَا نَصَبٍ وَّلَا مِنَّةٍ وَّلَا تَبِعَةٍ. وَّجَنِّبْنَا اللّٰهُمَّ الْحَرَامَ حَيْثُ كَانَ وَاَيْنَ كَانَ وَعِنْدَ مَنْ كَانَ. وَحُلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ اَهْلِهٖ، وَاقْبِضْ عَنَّا اَيْدِيَهُمْ، وَاصْرِفْ عَنَّا قُلُوبَهُمْ حَتّٰى لَا نَتَقَلَّبَ اِلَّا فِيْمَا يُرْضِيْكَ، وَلَا نَسْتَعِيْنَ بِنِعْمَتِكَ اِلَّا عَلٰى مَا تُحِبُّ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ!»[27]
اے اللہ سیدنامحمدﷺ اور آل ِ سیدنامحمدﷺ پر اپنی رحمت نازل فرما اور ہمیں اے اللہ اپنی ایسی جائز پاکیزہ اور خیر کثیر والی روزی مرحمت فرما جس کی وجہ سے تو اپنی مخلوق میں سے کسی کے سامنے دست سوال پھیلانے سے ہماری عزتوں کی حفاظت فرمائے ، اور اے اللہ ہمارے لیے حصول رزق کا ایک ایسا آسان راستہ بنادے جس میں ہمیں نہ کوئی مشقت پہنچے اور نہ کوئی تھکان اور نہ کوئی ہم پر احسان جتائے اور نہ کوئی ضرر پہنچائے ، اور اے اللہ ہمیں حرام روزی سے بچا خواہ وہ جیسی بھی ہو اور جہاں کہیں ہو اور جس کسی کے پاس ہو اور تو ہمارے اور حرام رزق والوں کے درمیان حائل ہو جا اور ہم ( پر حرام روزی خرچ کرنے ) سے ان کے ہاتھوں کو روک لے، اور ہم سے ان کے دلوں کو پھیر دے تاکہ ہم صرف تیری مرضیات پر چلیں اور تیری نعمت خرچ کر کے تیری پسند کے کاموں میں ہی مدد چاہیں ۔ اے تمام مہربانوں سے بڑھ کر مہربان !
————————————-
۲۸ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ بِاَفْضَلِ مَسْاَلَتِكَ، وَبِاَحَبِّ اَسْمَائِكَ اِلَيْكَ وَاَكْرَمِهَا عَلَيْكَ، وَبِمَا مَنَنْتَ بِهٖ عَلَيْنَا بِمُحَمَّدٍ نَّبِيِّنَا (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) وَاسْتَنْقَذْتَنَا بِهٖ مِنَ الضَّلَالَةِ، وَاَمَرْتَنَا بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، وَجَعَلْتَ صَلَاتَنَا عَلَيْهِ دَرَجَةً وَّكَفَّارَةً وَّلُطْفًا وَّمَنًّا مِّنْ عَطَائِكَ، فَاَدْعُوْكَ تَعْظِيْمًا لِّاَمْرِكَ، وَاتَّبَاعًا لِّوَصِيَّتِكَ، وَتَنْجِيْزًا لِّمَوْعِدِكَ بِمَا يَجِبُ لِنَبِيِّنَا (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) عَلَيْنَا فِیْ اَدَاۤءِ حَقِهٖ قِبَلَنَا، وَاَمَرْتَ الْعِبَادَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَرِيْضَةَنِ افْتَرَضْتَهَا عَلَيْهِمْ، فَنَسْأَلُكَ بِجَلَالِ وَجْهِكَ وَنُوْرِ عَظَمَتِكَ: اَنْ تُصَلِّیَ اَنْتَ وَمَلَائِكَتُكَ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ، وَنَبِيِّكَ وَصَفِيِّكَ، اَفْضَلَ مَا صَلَّيْتَ بِهٖ عَلٰى اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ، اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ. اَللّٰهُمَّ ارْفَعْ دَرَجَتَهٗ، وَاَكْرِمْ مَّقَامَهٗ، وَثَقِّلْ مِيْزَانَهٗ، وَاَجْزِلْ ثَوَابَهٗ، وَاَفْلِجْ حُجَّتَهٗ، وَاَظْهِرْ مِلَّتَهٗ، وَاَضِئْ نُوْرَهٗ، وَاَدِمْ كَرَامَتَهٗ مِنْ ذُرِّيَّتِهٖ وَاَهْلِ بَيْتِهٖ مَا تَقَرُّبِهٖ عَيْنُهٗ، وَعَظِّمْهُ فِی النَّبِيِّيْنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا قَبْلَهٗ. اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مُحَمَّدًا اَكْثَرَ النَّبِيِّينَ تَبَعًا، وَّاَكْثَرَهُمْ اَزْرًا، وَاَفْضَلَهُمْ كَرَامَةً وَّنُوْرًا، وَّاَعْلَاهُمْ دَرَجَةً، وَّاَفْسَحَهُمْ فِیْ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا، وَّاَزْيَدَهُمْ ثَوَابًا، وَاَقْرَبَهُمْ مَّجْلِسًا، وَّاَثْبَتَهُمْ مَّقَامًا، وَّاَصْوَبَهُمْ كَلَامًا، وَّاَنْجَحَهُمْ مَّسْاَلَةً، وَّاَوْفَرَهُمْ لَدَيْكَ نَصِيْبًا، وَّاَقْوَاهُمْ فِيْمَا عِنْدَكَ رَغْبَةً، وَّاَنْزِلْهُ فِیْ اَعْلٰی غُرَفِ الْفِرْدَوْسِ مِنَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰى. اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مُحَمَّدًا اَصْدَقَ قَائِلٍ، وَّاَنْجَحَ سَائِلٍ، وَّاَوَّلَ شَافِعٍ، وَّاَفْضَلَ مُشَفَّعٍ، وَّشَفِّعْهُ فِیْ اُمَّتِهٖ شَفَاعَةً يَغْبِطُهٗ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ، وَاِذَا مَيَّزْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ لِفَصْلِ الْقَضَآءِ فَاجْعَلْ مُحَمَّدًا فِی الْاَصْدَقِيْنَ قِيْلًا، وَ(فِیْ الْاَحْسَنِينَ عَمَلًا، وَّفِی الْمَهْدِيِّيْنَ سَبِيْلًا. اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ نَبِيَّنَا لَنَا فَرَطًا، وَحَوْضَہٗ لَنَا مَوْرِدًا. اَللّٰهُمَّ احْشُرْنَا فِیْ زُمْرَتِهٖ، وَاسْتَعْمِلْنَا بِسُنَّتِهٖ، وَتَوَفَّنَا عَلٰى مِلَّتِهٖ، وَاجْعَلْنَا فِیْ زُمْرَتِهٖ وَحِزْبِهٖ. اَللّٰهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهٗ كَمَاۤ اٰمَنَّا بِهٖ وَلَمْ نَرَهٗ، وَلَا تُفَرِّقُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهٗ حَتّٰی تُدْخِلَنَا مُدْخَلَهٗ، وَتَجْعَلَنَا مِنْ رُّفَقَائِهٖ مَعَ النَّبِيِّيْنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۤءِ وَالصَّالِحِيْنَ، وَحَسُنَ اُولٰۤئِكَ رَفِيْقًا. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ نُّوْرِ الْهُدٰى، وَالْقَائِدِ اِلَى الْخَيْرِ، وَالدَّاعِیْ اِلَى الرُّشْدِ، نَبِیِّ الرَّحْمَةِ، وَاِمَامِ الْمُتَّقِيْنَ، وَرَسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، كَمَا بَلَّغَ رِسَالَاتِكَ، وَتَلَا اٰيَاتِكَ، وَنَصَحَ لِعِبَادِكَ، وَاَقَامَ حُدُوْدَكَ، وَوَفّٰی بِعَهْدِكَ، وَاَنْفَذَ حُكْمَكَ، وَاَمَرَ بِطَاعَتِكَ، وَنَهٰى عَنْ مَّعَاصِيْكَ، وَوَالٰی وَلِيَّكَ الَّذِیْ تُحِبُّ اَنْ تُوَالِيَهٗ، وَعَادٰى عَدُوَّكَ الَّذِیْ تُحِبُّ اَنْ تُعَادِيَهٗ، وَصَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّسَلَّمَ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى جَسَدِ مُحَمَّدٍ فِی الْاَجْسَادِ، وَعَلٰى رُوْحِهٖ فِی الْاَرْوَاحِ، وَعَلٰى مَوْقِفِهٖ فِیْ الْمَوَاقِفِ، وَعَلٰى مَشْهَدِهٖ فِی الْمَشَاهِدِ، وَعَلٰى ذِكْرِهٖ اِذَا ذُكِرَ، صَلٰوةً مِّنَّا عَلٰى نَبِيِّنَا. اَللّٰهُمَّ اَبْلِغْهُ مِنَّا السَّلَامَ كُلَّمَا ذُكِرَ، وَالسَّلَامُ عَلَى النَّبِیِّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهٗ. اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مَلٰۤئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِيْنَ، وَعَلٰى اَنْۢبِيَائِكَ الْمُطَهَّرِيْنَ، وَعَلٰى رُسُلِكَ الْمُرْسَلِيْنَ، وَعَلٰى حَمَلَةِ عَرْشِكَ اَجْمَعِيْنَ، وَعَلٰى جِبْرِيْلَ وَمِيْكَائِيْلَ وَاِسْرَافِيْلَ وَمَلَكِ الْمَوْتِ وَرِضْوَانَ وَمَالِكٍ، وَّصَلِّ عَلَى الْكِرَامِ الْكَاتِبِيْنَ، وَعَلٰى اَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَفْضَلَ مَا اٰتَيْتَ اَحَدًا مِّنْ اَهْلِ بُيُوْتِ الْمُرْسَلِيْنَ. وَاجْزِ اَصْحَابَ نَبِيِّكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَفْضَلَ مَا جَزَيْتَ اَحَدًا مِّنْ اَصْحَابِ الْمُرْسَلِينَ. اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، الْاَحْيَآءِ مِنْهُمْ وَالْاَمْوَاتِ،﴿ وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ، وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا، رَبَّنَا اِنَّكَ رَؤُوْفٌ رَّحِيْمٌ﴾.[28]
اے اللہ میں تجھ سے التجا کرتا ہوں تجھ سے کی جانے والی بہترین دعا کے وسیلے اور تیری نظر میں اپنے پسندیدہ ترین اور افضل ترین نام مبارک
(اسم اعظم ) کے وسیلے سے اور اس احسان کے وسیلے سے جو ہمارے پیغمبر سیدنامحمدﷺ کی صورت میں تو نے ہم پر اتارا اور ان کے ذریعہ سے تو نے ہمیں گمراہی سے بچایا، اور ان کے لیے تو نے ہمیں دعائے رحمت کرنے کا حکم دیا اور ان پر بھیجے جانے والے درود کو تو نے از راہِ کرم ہمارے لیے ترقئ درجات اور کفارۂ سیأت اور اپنے الطاف و احسانات کے نزول کا ذریعہ بنایا ہو میں تیرے فرمان کی تعظیم کی خاطر اور تیرے تاکیدی حکم کی متابعت کی خاطر اور ہمارے ذمہ میں واجب شدہ ہمارے پیغمبرﷺ کے حقوق کی ادائیگی کے تجھ سے کیے گئے وعدے کے ایفا کی خاطر اور بندوں کو آپﷺ پر درود و رحمت بھیجنے کے تیرے حکم وجوبی کی خاطر تجھے پکارتا ہوں، اور تیری ذات کی عظمت اور تیری بڑائی کے نور کے وسیلے سے تجھ سے یہ التجا کرتا ہوں کہ تو اور تیرے فرشتے، تیرے برگزیدہ بندے، رسول اور نبی سیدنامحمدﷺ کو اپنی ایسی رحمتوں سے ڈھانپ لے جن سے تو نے اپنی کسی مخلوق کو ڈھانپا ہو، بلاشبہ تو قابل تعریف ہے، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! ان کا درجہ بلند فرما، اور ان کا مرتبہ بزرگ بنا، اور ان کی حسنات وزنی فرما، اور ان کا ثواب بڑھا، اور ان کی حجت ظاہر فرما، اور ان کی ملت کو غالب فرما، اور ان کا نور چمکا دے، اور ان کی بزرگی دائمی بنا اور ان کی آل و اولاد کی ایسی نیکیوں کے ذریعہ ان کا اعزاز قائم دائم رکھ جن کی وجہ سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ، اور ان سے پہلے ہو چکے انبیا ءکے بالمقابل انھیں بڑائی عطا فرما، اے اللہ ! دیگر انبیاء کی نسبت سیدنا محمدﷺ کو زیادہ متبعین اور زیادہ معاونین والا بنا، اور ان کی بنسبت زیادہ اعزاز و نور والا، اور زیادہ بلند درجہ والا ، اور جنت میں وسیع و عریض محل والا ، اور زیادہ اجر و ثواب والا ، اور زیادہ تقرُّبِ مکانی والا ، اور زیادہ پائیدار رہنے والا اور زیادہ درست کلام والا اور زیادہ مقبول دعا والا اور اپنے پاس انتہائی نصیبہ ور بنا، اور تیرے پاس موجود نعمتوں کا زیادہ اشتیاق رکھنے والا بنادے، اور انھیں گھنی چھاؤں والی رفیع المرتبت جنت کے بالا خانوں کا مہمان بنا،۔ اے اللہ ! سیدنامحمدﷺ کو تمام سچ بولنے والوں میں زیادہ سچا، اور تمام دعا کرنے والوں میں زیادہ بامراد اور(روز قیامت) سب سے پہلا شفاعت کنندہ اور جن کی شفاعت اس دن قبول کی جائے گی ان میں سے سب سے افضل بنا، اور اپنی امت کے بارے میں کی گئی ان کی شفاعت کو سارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے رشک کا باعث بنا، اور جس روز مقدمات فیصل کرنے کے لیے تو اپنے نیک و بد بندوں کو جدا جدا کر دے گا تو اس روز سیدنا محمدﷺ کو سب سے زیادہ صادقُ القول اور تمام نیکوکاروں کے بمقابلہ زیادہ نیک اور تمام راہ یابوں کے بمقابلہ زیادہ راہ یاب بنانا، اے اللہ ہمارے پیغمبر ﷺکو ہمارے لیے پیشرو ( حوض کوثر پر پہلے پہنچنے والا ) بنا، اور ان کے حوض کوثر کو ہماری سیرابی کا گھاٹ بنا ، اے اللہ ! ان کے گروہ میں ہمارا حشر فرما، اور ہمیں ان کی سنتوں کا متبع بنا، اور ہمیں ان کے طریقوں پر وفات دینا، اور ہمیں ان کی جماعت و گروہ میں شامل رکھنا ، یا اللہ ہمیں اور انھیں یکجا کر دے اس لیے کہ ہم ان پر انھیں دیکھے بغیر ہی ایمان لائے اور ہمارے اور ان کے درمیان تفریق نہ کرنا تا وقتیکہ تو ہمیں ان کی جنت میں پہنچا نہ دے اور تا وقتیکہ ہمیں ان کے رفقا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کے زمرے میں شامل نہ فرمالے اور ان کی رفاقت کیا ہی خوب ہوگی ۔ اے اللہ ! ہدایت کے نور اور بھلائی کے رہبر اور ہدایت کی طرف بلانے والے، رحمت والے پیغمبر اور پرہیز گاروں کے پیشوا ، رب العالمین کے پیغامبر:سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اس لیے کہ انھوں نے تیرے پیغامات پہنچائے اور تیری آیات کی تلاوت کی اور تیرے بندوں کی خیر خواہی فرمائی اور تیری حدود اور تعزیرات قائم فرمائی اور تیرا عہد و پیمان پورا فرمایا اور تیرا حکم نافذ کیا اور تیری اطاعت کا حکم دیا ، اور تیری نافرمانیوں سے منع فرمایا، اور تیرے اس ولی سے سچی محبت فرمائی ، جس کی موالات سے تو خوش ہو اور تیرے اس دشمن کو دشمن سمجھا جس سے دشمنی کرنے کو تو نے پسند کیا ، اور یا اللہ سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے اور سلام پہنچا، یا اللہ تمام اجسام کے بمقابلہ آپﷺ کے جسد مبارک پر اور تمام ارواح کے بمقابلہ آپﷺ کی روح اقدس پر اور تمام جائے قیاموں میں آپﷺ کی جائے قیام پر اور تمام اجتماعات میں آپﷺ کے اجتماع پر، اور آپﷺ کے ذکر پر جب کبھی آپﷺ کی یاد کی جائے رحمت نازل فرما، ہماری جانب سے ہمارے پیغمبرﷺ کو اپنی بڑی رحمت سے ڈھانپ لے، اے اللہ ! جب کبھی ان کا ذکر ہو، تو ہماری طرف سے انہیں سلام پہنچا۔ اور ساری سلامتیاں اور اللہ کی رحمتیں اور ان کی برکتیں نبیﷺ کو پہنچیں۔ اے اللہ اپنے مقرب فرشتوں اور اپنے پاکیزہ پیغمبروں اور اپنے انبیاء و مرسلین اور تمام حاملین عرش ملائکہ اور جبرئیلؑ اور میکائیلؑ اور اسرافیلؑ اور ملک الموت اور رضوان یعنی داروغۂ جنت اور مالک یعنی داروغۂ جہنم کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے، اور کراماً کاتبین اور تیرے نبیﷺ کے گھرانے پر وہ بہترین رحمتیں نازل فرما جو تو نے انبیاء کے گھرانوں میں سے کسی گھرانے پر نازل فرمائی ہو، اور تیرے نبیﷺ کے صحابہ کو اس صلہ سے بہتر صلہ عطا فرما جو تو نے کسی پیغمبر کے اصحاب کو عطا فرمایا ہو، اے اللہ ! تمام زندہ و مردہ مومن مردوں اور عورتوں اور مسلمان مردوں اور عورتوں کو اور ہم سے پہلے ایمان لانے والے بھائیوں کو بخش دے۔ اور ہمارے دلوں میں مؤمنین کے بارے میں کوئی خفگی اور کینہ نہ لا۔ اے ہمارے پروردگار بلا شبہ تو بڑا مشفق ہے نہایت رحم والا ہے۔
————————————-
۲۹ « اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَنَبِيِّكَ وَرَسُوْلِكَ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ، وَعَلٰى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلِّمْ».[29]
اے اللہ ! اپنے بندے اور نبی اور رسول اور اُمّی پیغمبر سیدنا محمدﷺ اور ان کی آل و اولاد اور صحابہ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے اور ان پر خوب سلام بھیج ۔
————————————-
۳۰« اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كُلَّمَا ذَكَرَهُ الذَّاكِرُوْنَ، وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كُلَّمَا غَفَلَ عَنْ ذِكْرِهِ الْغَافِلُوْنَ».[30]
اے اللہ ! سیدنا محمدﷺ کو جب کبھی یاد کرنے والے یاد کریں تو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور سیدنا محمدﷺ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے جب کبھی ان کی یاد سے غافل لوگ غافل رہیں ۔
————————————-
۳۱ «اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ اٰمَنَ بِكَ وَبِكِتَابِكَ، وَاَعْطِهٖ اَفْضَلَ رَحْمَتِكَ، وَاٰتِهِ الشَّرَفَ عَلٰى خَلْقِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاجْزِهٖ خَيْرَ الْجَزَآءِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهٗ».[31]
اے اللہ ! تجھ پر اور تیری کتاب پر ایمان لانے والے نبی اُمّی اور اپنے بندے اور اپنے رسول سیدنامحمدﷺ کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے اور انھیں اپنی بہترین رحمت عطا فرما، اور انھیں روز قیامت میں اپنی مخلوق پر بڑائی عطا فرما، اور انھیں بہترین صلہ دے اور ان پر ہر طرح کی سلامتی پہنچے اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں بھی۔
————————————-
۳۲ ﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ [الصافات، 182 – 180 : 37][32]
پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں ، اور سلام ہو تمام رسولوں پر(کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اہلِ دنیا کی طرف پہنچایا)،اور ساری تعریفیں (اور شکر) تمام جہانوں کے پروردگار اللہ ہی کے لیے ہیں۔
[1] صحیح بخاری (3190)
[2] کنز العمال (3991)، القول البدیع (ص 107)
[3] سننابو داؤد (982)، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ اسے پورا پیمانہ بھر کر دیا جائے تو وہ ہم اہلِ بیت پر جب درود بھیجے تو یہ کہے:
[4] مسند أحمد (16991)، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:”جو شخص محمدﷺ پر درود بھیجے اور یوں کہے: اے اللہ قیامت کے دن اپنے یہاں انہیں باعزت مقام عطاء فرما، تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گی۔“
[5] سنن ابن ماجہ (906)، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہﷺ پہ درود (صلاۃ) بھیجو تو اچھی طرح یعنی اچھے الفاظ میں درود بھیجو۔ اور پھر یہ الفاظ تعلیم فرمائے۔
[6] مسند احمد (22988)، مصنف ابن ابی شیبہ۔ آیت﴿ اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ ….﴾نازل ہونے پر صحابہ ؓ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ ہم پر کس طرح درود بھیجیں؟ تو حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہو۔
[7] القول البدیع، ص 106
[8] کنز العمال (3989)، القول البدیع (ص 118)، حضرت علی ؓ درود شریف کے یہ الفاظ تعلیم کیا کرتے تھے۔
[9] مصنف ابن ابی شیبہ (7:82)، القول البدیع (ص 121)
[10] کنز العمال (3981)، تمام مخلوقات کے برابر درود پڑھنے کا اجر
[11] کنزالعمال (4004)،یہ درود پڑھنے والے شخص کو نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کی گلیوں میں ملائکہ کا ہجوم اس قدر بڑھ گیا کہ قریب تھا وہ میرے اور تمہارے درمیان حائل ہوجاتے۔ پھراسے فرمایا : تم پل صراط پر پہنچوگے تو تمہارا چہرہ چودھویں رات کے چاند سے زیادہ چمکتا ہوگا
[12] کنز العمال (3900)، اس درود کے پڑھنے والے شخص کے لیے ثواب لکھنے والے 70فرشتے ایک ہزار دن تک اس کے لیے ثواب لکھتے رہیں گے۔
[13] الدر المنظم، القول البدیع، ص 116، خواب میں رسولِ پاکﷺ کی زیارت اور روزِ قیامت آپﷺ کی شفاعت کا سبب
[14] شفا ،قاضی عیاض، القول البدیع ص 121
[15] مصنّف عبد الرزاق (2:211)، القول البدیع ص 122، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ یہ درود بھیجتے تھے۔
[16] القول البدیع ص 122
[17] القول البدیع ص 122، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ یہ درود بھیجتے تھے۔
[18] القول البدیع، ص 123، حضرت معروف کرخی ؒ یہ درود بھیجتے تھے۔
[19] القول البدیع، ص 123۔ پریشان حال یہ دعا کرے۔
[20] القول البدیع، ص 124، ان الفاظ کے ساتھ درود پڑھنے والے صحابی کا آپﷺ نے اکرام فرمایا اور اسے اپنے قریب بٹھایا۔
[21] القول البدیع، ص 125، جوشخص سات جمعوں تک ہر جمعہ کو سات مرتبہ یہ درود پڑھنے کا اہتمام کرے تو اس کے لیے آپﷺ کی شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔
[22] القول البدیع، ص 125
[23] حضرت امام زین العابدین ؒ ان الفاظ میں درود شریف پڑھتے تھے۔ القول البدیع، ص 127
[24] القول البدیع، ص 129۔ یہ درود علامہ فاکہانی ؒ پڑھتے تھے۔
[25] القول البدیع، ص 130، دس ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنے کا اجر
[26] مسند ابی یعلی، ص 306۔ القول البدیع، ص269، صدقہ کرنے کے برابر اجر
[27] القول البدیع، ص272 ۔ علامہ ابو عبد الله قسطلانی ؒ نے خواب میں رسول اللہﷺ سے معاش کی تنگی عرض کی تو
آپﷺ نے فرمایا: یہ درود پڑھا کرو۔اس کے علاوہ رسول کریمﷺ نے معاش کی تنگی کی صورت میں فرمایا کہ جب کوئی شخص گھر میں داخل ہو تو سلام کرے (اور اگر کوئی گھر میں موجود نہ ہو تو نبی کریمﷺ پر سلام بھیجے) اور ایک دفعہ سورہ اخلاص پڑھے۔
[28] القول البدیع، ص 360۔حضرت علی بن عبداللہ بن عباس ؓ نمازِ تہجد سے فارغ ہو کر حمد و ثنا کے بعد یہ درود پڑھتے تھے۔
[29] القول البدیع، ص378، ص382۔ دار قطنی۔
[30] القول البدیع، ص466، درود امام شافعیؒ اور سبب نجات
[31] امام شافعیؒ یہ درود شریف پڑھاکرتے تھے۔
[32] طبرانی، در منثور، تفسیر بغوی، ابن ابی حاتم مجلس سے اٹھنے کے وقت پڑھنے والے کا اجر بڑی ترازو میں تولا جائیگا۔
حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو ہر نماز کے بعد تین مرتبہ یہ پڑھے گا بھر پور ثواب پائے گا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے۔
