
۱ «اَللّٰهُمَّ يَا كَبِیْرُ، يَا سَمِيْعُ، يَا بَصِيْرُ، يَا مَنْ لَّا شَرِيْكَ لَهٗ وَلَا وَزِيْرَ لَهٗ، وَيَا خَالِقَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الْمُنِيْرِ، وَيَاعِصْمَةَ الْبَآئِسِ الْخَآئِفِ الْمُسْتَجِيْرِ، وَيَارَازِقَ الطَّفْلِ الصَّغِيْرِ، وَيَا جَابِرَ الْعَظْمِ الْكَسِيْرِ، اَدْعُوْكَ دُعَآءَ الْبَآئِسِ الْفَقِيْرِ، كَدُعَآءِ الْمُضْطَرِّ الضَّرِيْرِ، اَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ، وَبِمَفَاتِيْحِ الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ، وَبِالْاَسْمَآءِ الثَّمَانِيَةِ الْمَكْتُوْبَةِ عَلٰى قَرْنِ الشَّمْسِ، اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِيعَ قَلْبِیْ، وَجَلَآءَ حُزْنِیْ[1]؛ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا( یہاں جو مانگنا چاہے، مانگے)»۔[2]
اے اللہ ، اے بڑائی والے! اے سب کچھ سننے والے! اے سب کچھ دیکھنے والے! اے وہ کہ جس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ مشیر ! اے آفتاب و ماہتابِ روشن کے پیدا کرنے والے اور اے مصیبت زدہ ، ترساں و پناہ جُو کے پناہ دینے والے اور اے ننھے بچے کی روزی پہنچانے والے! اور اے ٹوٹی ہوئی ہڈی کے جوڑنے والے! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں مصیبت زدہ محتاج کی سی درخواست، بے قرار آفت زدہ کی سی درخواست، میں عزتوں کی جائے قرار یعنی تیرے عرش اور اور تیری کتاب کی کلید ہائے رحمت ، اوررُخِ آفتاب پر لکھے ہوئےآٹھ ناموں کے وسیلے سے یہ التجاکرتا ہوں[3]، کہ قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے غموں کے ازالے کا سبب بنا دے۔
اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں فلاں فلاں چیز عطا کر۔
————————————-
۲ «يَا مُوْنِسَ كُلِّ وَحِيْدٍ، وَيَا صَاحِبَ كُلِّ فَرِيْدٍ، وَّيَا قَرِيبًا غَيْرَ بَعِيْدٍ، وَّيَا شَاهِدًا غَيْرَ غَآئِبٍ، وَّيَا غَالِبًا غَيْرَ مَغْلُوْبٍ، يَاحَیُّ يَاقَيُّوْمُ، يَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ» [4]!
اے غم گُسار ہر اکیلے کے اور اے رفیق ہر تنہا کے اور اے ایسے قریب جوکبھی دُور نہ ہو! اور اے ایسے حاضرو موجود جو کبھی غائب نہ ہو! اور اے ایسے غالب جو کبھی مغلوب نہ ہو! اور یا حی ّیا قیوم! (اے زندہ و جاوید، اے سب کو تھامنے والے) اور اے بزرگی اور عظمت کے مالک!
————————————-
۳ «يَا نُوْرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، يَا زَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، يَا جَبَّارَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، يَا عِمَادَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، يَابَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، يَا قَيَّامَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ، يَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِيْنَ، وَمُنْتَهَى الْعَآئِذِيْنَ، وَالْمُفَرِّجَ عَنِ الْمَكْرُوْبِيْنَ، وَالْمُرَوِّحَ عَنِ الْمَغْمُوْمِيْنَ، وَمُجِيْبَ دُعَآءِ الْمُضْطَرِّيْنَ، وَيَا كَاشِفَ الْكُرَبِ، يَاۤاِلٰهَ الْعَالَمِيْنَ، وَيَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ، مَنْزُوْلٌ ۢبِكَ كُلُّ حَاجَةٍ».[5]
اے زمین و آسمان کے نور! اور اے زمین و آسمان کی زینت! اے زمین و آسمان کے حاکم! اور اے زمین و آسمان کے تھامنے والے اور اے زمین و آسمان کے موجد (اور اسے بے نمونہ بنانے والے)! اور اے زمین و آسمان کے قائم رکھنے والے اور اے بزرگی اور عظمت والے! اے فریادیوں کے دادرس! اور پناہ مانگنے والوں کی آخری دوڑ(پناہ گاہ) !
اور اے بے چینوں اور پریشان حالوں کے مشکل کُشا، اور غمزدوں کے راحت دینے والے اور بے قراروں کی دعا قبول کرنے اور اے صاحبِ کرب کو شفا دینے والے ! اے جہانوں کے معبود (الٰہ العالمین) ! اور اے مہربانوں کے مہربان (ارحم الراحمین)، تیرے ہی سامنے میری ہر حاجت پیش ہے۔
————————————-
۴« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ مَّوْتِ الْهَمِّ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ مَّوْتِ الْغَمِّ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ؛ فَاِنَّهٗ بِئْسَ الضَّجِيْعُ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ؛ فَاِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ».[6]
اے اللہ! میں تجھ سے فکر و اندیشہ کے باعث ہونے والی موت سے پناہ مانگتا ہوں، اور رنج و غم کے باعث ہونے والی موت سے بھی پناہ مانگتا ہوں اور بھوک سے کہ وہ بُری ہم خواب ہے، اور خیانت سے کیونکہ یہ بُری خصلت ہے ۔
————————————-
۵ «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ سَرِيْرَتِیْ خَيْرًا مِّنْ عَلَانِيَتِیْ، وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِیْ صَالِحَةً، اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِی النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْاَهْلِ وَالْوَلَدِ، غَيْرَ ضَآلٍّ وَّلَا مُضِلٍّ».[7]
اے اللہ ! میرے باطنی احوال کو میرے ظاہری احوال سے بہتر بنا، اور میرے ظاہری احوال بھی درست فرما دے، اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، ان اچھی چیزوں کا، جو تو لوگوں کو دیتا ہے، مال، بیوی اور بچے میں سے، جو نہ خود گمراہ ہوں، اور نہ دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہوں (میں بھی تجھ سے ان چیزوں کا سوالی و طلب گار ہوں)۔
————————————-
۶ «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِيْنَ، الْغُرِّ الْمُحَجَّلِيْنَ، الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِيْنَ».[8]
اے اللہ! ہمیں(اپنے ان) منتخب بندوں میں سے کر لے جن کے چہرے اور اعضاء روشن ہوں گے، اور جو مقبول مہمان ہوں گے ۔
————————————-
۷ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ اَنْ اُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِهٖ، وَاَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَاۤ اَعْلَمُ بِهٖ».[9]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ تیرے ساتھ کچھ بھی جانتے بوجھتے شریک کروں اور تجھ سے اُس گناہ( اورشرک) کی معافی بھی چاہتا ہوں جو لاعلمی میں ہوا ہو۔
————————————-
۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيْمِ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ».[10]
اے اللہ! میں تیری کریم ذات اور تیرے باعظمت نام کے صدقے میں کفر اور محتاجی سے پناہ مانگتا ہوں ۔
————————————-
۹« اَللّٰهُمَّ قِنِیْ شَرَّنَفْسِیْ، وَاعْزِمْ لِیْ عَلٰۤى اَرْشَدِ اَمْرِیْ».[11]
اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور سب سے زیادہ بھلائی والے کام پر پختگی عطا فرما۔
————————————-
۱۰« اَللّٰهُمَّ لَا تَكِلْنِیْۤ اِلى نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَّلَا تَنْزِ عْ مِنِّیْ صَالِحَ مَاۤ اَعْطَیْتَنِیْ؛ فَاِنَّهٗ لَا نَازِ عَ لِمَاۤ اَعْطَيْتَ، وَلَا يَعْصِمُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ».[12]
اے اللہ ! مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر ، اور جو بھی اچھی چیزیں تو نے مجھے دی ہیں، وہ مجھ سے واپس نہ لینا کیونکہ جو تُو عطا کرے اسکا چھیننے والا کوئی نہیں اور نہ کسی مالدار کا مال و دولت اسے تجھ سے بچا سکتا ہے۔
————————————-
۱۱« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ غِنَى الْاَهْلِ وَالْمَوْلٰى، وَاَعُوْذُ بِكَ اَنْ يَّدْعُوَ عَلَیَّ رَحِمٌ قَطَعْتُهَا».[13]
اے اللہ!میں تجھ سے اپنے اہل و عیال کی مالداری مانگتا ہوں اور تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ مجھے کوئی رشتہ دار بددعا دے جس کی میں نے حق تلفی کی ہو۔[14]
————————————-
۱۲« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ نَفْسًۢابِكَ مُطْمَئِنَّةً تُؤْمِنُ بِلِقَآئِكَ، وَتَرْضٰى بِقَضَآئِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَآئِكَ».[15]
اے اللہ! میں تجھ سے ایسا نفس مانگتا ہوں جو تجھ پر اطمینان رکھے، اور تجھ سے ملاقات کا یقین رکھے، اور تیری مشیت پر راضی رہے، اور تیری عطا پر قانع ہو۔(یعنی تیری طرف سےاسے جو کچھ ملے وہ اس پر قناعت رکھے )۔
————————————-
۱۳« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَنْ يَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِهٖ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَيْنِ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَّمْشِیْ عَلٰى اَرْبَعٍ».[16]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اُس حیوان کے شر سے جو پیٹ کے بل چلتا ہے اور اُس حیوان کے شر سے جو دو پیروں سے چلتا ہے، اور اُس حیوان کے شر سے جو چار پیروں سے چلتا ہے۔[17]
————————————-
۱۴ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنِ امْرَاَةٍ تُشَيِّبُنِیْ قَبْلَ الْمَشِيْبِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَّلَدٍ يَّكُوْنُ عَلَیَّ وَبَالًا، وَّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ مَّالٍ يَّكُوْنُ عَلَیَّ عَذَابًا، وَّاَعُوْذُ بِكَ مِنْ صَاحِبِ خَدِيْعَةٍ اِنْ رَّاٰى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَاِنْ رَّاٰى سَيِّئَةً اَفْشَاهَا».
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس شریکِ حیات[18] سے جو مجھے بڑھاپے سے قبل ہی بوڑھا کر دے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ایسی اولاد سے جو میرے لیے وبالِ جان بن جائے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے مال سے جو میرے حق میں عذاب ہو جائے۔اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دغا باز دوست سے جو نیکی دیکھے تو اس کو دبا دے اور برائی دیکھے تو اس کو لوگوں میں کہتا پھرے۔
————————————-
۱۵ «اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِيَتِیْ فَاقْبَلْ مَعْذِرَتِیْ، وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَعْطِنِیْ سُؤْلِیْ، وَتَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ، اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ اِيْمَانًا يُّبَاشِرُ قَلْبِیْ، وَيَقِيْنًا صَادِقًا حَتّٰى اَعْلَمَ اَنَّهٗ لَا يُصِيْبُنِیْ اِلَّا مَا كَتَبْتَ لِیْ، وَرِضًۢا بِمَا قَسَمْتَ لِیْ، اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ».[19]
اے اللہ ! تومیرے باطن اور ظاہر کو جانتا ہے پس میری معذرت قبول فرما اور تو میری ضرورت جانتاہے، تومجھے میری حاجت کی چیز عطا فرما دے اور تو جانتا ہےجو کچھ میرے دل میں ہے، پس میرے گناہ بخش دے۔
اے اللہ ! میں تجھ سے وہ ایمان مانگتا ہوں جو میرے دل میں پیوست ہو جائے، اور وہ پختہ یقین کہ جس سے میں سمجھ لوں کہ مجھ تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی ، مگر وہی جو تو میرے لئے لکھ چکا ہے، اور اس چیز پر رضا مندی جو تو نے معاش میں سے میرے حصہ میں کردی ہے۔بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا اور ہر کام کر سکتا ہے۔
————————————-
۱۶ «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَآئِمًا مَّعَ دَوَامِكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا مَّعَ خُلُودِكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَّا مُنْتَهٰى لَهٗ دُوْنَ مَشِيْئَتِكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَآئِمًا لَّا يُرِيْدُ قَآئِلُهٗ اِلَّا رِضَاكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا عِنْدَ كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ وَّتَنَفُّسِ كُلِّ نَفَسٍ».[20]
اے اللہ! حمد تیرے ہی لئے ہے، ایسی حمد کہ تیری ہمیشگی کے ساتھ وہ بھی ہمیشہ رہے، اور تیرے ہی لئے حمد ہے ایسی حمد کہ تیرے دوام کے ساتھ وہ بھی دائم رہے۔ اور تیرے ہی لئے حمد ہے ایسی حمد کہ اُس کی انتہا تیری مشیت کے اِدھر نہیں (ایسی تعریف کہ جس کا تیری مرضی کے بغیر اختتام ہی نہ ہو)، اور تیرے ہی لئے حمد ہے ایسی حمد کہ اس کے قائل(یعنی حمد کرنیوالا) کا مقصود تمام تر تیری ہی خوشنودی ہے، اور تیرے ہی لئے حمد ہے، ایسی حمد جو ہر پلک جھپکانے اور سانس لینےکے ساتھ ہو ۔
————————————-
۱۷« اَللّٰهُمَّ اَقْبِلْ بِقَلْبِیْ اِلٰی دِيْنِكَ، وَاحْفَظْ مَنْ وَّرَآ ئَنَا بِرَحْمَتِكَ».[21]
اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین کی طرف متوجہ کر دے، اور ہماری حفاظت اِدھر اُدھر سے رکھ اپنی رحمت کے ساتھ (اور ہماری پسِ پشت چیزوں کی حفاظت فرما) ۔
————————————-
۱۸ «اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِیْ اَنْ اَزِلَّ، وَاهْدِنِیْ اَنْ اَضِلَّ۔ اَللّٰهُمَّ كَمَا حُلْتَ بَيْنِیْ وَبَيْنَ قَلْبِیْ، فَحُلْ بَيْنِیْ وَبَيْنَ الشَّيْطَانِ وَعَمَلِهٖ».[22]
اے اللہ! مجھے دین پر ایسا ثابت قدم رکھ کہ پھسل نہ پاؤں، اور مجھے ایسی ہدایت دےکہ گمراہ نہ ہونے پاؤں، اے اللہ! تُو جس طرح میرے اور میرے دل کے درمیان حائل ہے اسی طرح مجھ میں اور شیطان اور اُس کےکاموں [وسوسوں اور رخنہ اندازیوں ] میں حائل ہوجا۔
————————————-
۱۹ «اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ فَضْلِكَ، وَلَا تَحْرِمْنَا رِزْقَكَ، وَبَارِكْ لَنَا فِیْ مَا رَزَقْتَنَا، وَاجْعَلْ غِنَانَا فِی ْ اَنْفُسِنَا، وَاجْعَلْ رَغْبَتَنَا فِيْمَا عِنْدَكَ».[23]
اے اللہ! ہمیں اپنا فضل نصیب کر اور ہمیں اپنے رزق سے محروم نہ رکھ، اور جو رزق تو نے ہمیں دیا ہے اس میں برکت دے اور ہمارے دلوں کو غنی کردے اور جو کچھ تیرے پاس ہے اس کی طرف ہمیں رغبت دے دے۔
————————————-
۲۰« اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ خَلَّاقٌ عَظِيمٌ، اِنَّكَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ، اِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ، اِنَّكَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ الْبَرُّ الْجَوَّادُ الْكَرِيْمُ، اِغْفِرْلِیْ، وَارْحَمْنِیْ، وَعَافِنِیْ، وَارْزُقْنِیْ، وَاسْتُرْنِیْ، وَاجْبُرْنِیْ، وَارْفَعْنِیْ، وَاهْدِنِیْ وَلَا تُضِلَّنِیْ، وَاَدْخِلْنِیَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ!»[24]
اے اللہ! تو خالقِ اعظم ہے، تو سب کچھ سنتا، سب کچھ جانتا ہے، تو غفور ہے، تو رحیم ہے، تو ہی عرشِ عظیم کا مالک ہے، اے اللہ! تو محسن ہے، صاحبِ جُود ہے، صاحبِ کرم ہے، تُو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر، اور مجھے چین و عافیت دے، اور مجھے روزی دے، اور میری پردہ پوشی کر، اور میرے نقصان کو پورا کر دے (اور میری شکستہ حالی کو درست کر)، اور مجھے ترقی وبلندی دے، اور میری رہبری ورہنمائی کر، اور مجھے گمراہ نہ ہونےدے، اور مجھے جنت میں اپنی رحمت سے داخل کر دے، اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحیم !(یااَرْحَمَ الرَّاحِمِین)۔
————————————-
۲۱ «اِلَيْكَ رَبِّ فَحَبِّبْنِیْ، وَفِیْ نَفْسِیْ لَكَ رَبِّ فَذَلِّلْنِیْ، وَفِی ْ اَعْيُنِ النَّاسِ فَعَظِّمْنِیْ، وَمِنْ سَیِّءِ الْاَخْلَاقِ فَجَنِّبْنِیْ».[25]
اے میرے پروردگار ! مجھے اپنا محبوب بنا لے، اور میرے دل میں اپنے مقابلہ میں فرمانبرداری ڈال دے (اور مجھے میری اپنی نظروں میں چھوٹا دکھا)، اور لوگوں کی نظر میں مجھے بڑا اور معزز کر دے، اور بُرے اخلاق سے مجھے بچا دے۔
————————————-
۲۲ «اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ سَاَلْتَنَا مِنْ اَنْفُسِنَا مَالَا نَمْلِكُهٗ اِلَّا بِكَ؛ فَاَعْطِنَا مِنْهَا مَا يُرْضِيْكَ عَنَّا».[26]
اے اللہ! تو نے ہماری ذات سے اُن اعمال کو طلب کیا ہے جن پر ہم کوئی اختیار بغیر تیری توفیق کے نہیں رکھتے تو تُو ہمیں ان میں سے اس عمل کی توفیق دے دے، جو تجھے ہم سے رضا مند کر دے۔
————————————-
۲۳« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ اِيْمَانًا دَآئِمًا، وَاَسْأَلُكَ قَلْبًا خَاشِعًا، وَّاَسْأَلُكَ يَقِيْنًا صَادِقًا، وَّاَسْأَلُكَ دِيْنًا قَيِّمًا، وَّاَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ مِنْ كُلِّ بَلِيَّةٍ، وَّاَسْأَلُكَ دَوَامَ الْعَافِيَةِ، وَاَسْأَلُكَ الشُّكْرَ عَلَى الْعَافِيَةِ، وَاَسْأَلُكَ الْغِنٰى عَنِ النَّاسِ».[27]
اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ہمیشہ رہنے والا ایمان ، اور تجھ سے مانگتا ہوں خشوع والا دل (جس میں تیری ہیبت اور خوف ہو)، اور تجھ سے مانگتاہوں پختہ اور سچا یقین، اور تجھ سے مانگتاہوں دینِ مستقیم ، اور تجھ سے مانگتا ہوں ہر بلا و مصیبت سے امن، اور تجھ سے مانگتا ہوں امن کا دوام (دائمی عافیت)، اور تجھ سے مانگتا ہوں امن (اور صحت و عافیت )پر شکر (کی توفیق) ، اور تجھ سے مانگتا ہوں مخلوق سے بے نیازی۔
————————————-
۲۴ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْۢ بَطَرِ الْغِنٰى، وَمَذَلَّةِ الْفَقْرِ، يَا مَنْ وَّعَدَ فَوَفٰی، وَاَوْعَدَ فَعَفَا ، اِغْفِرْ لِمَنْ ظَلَمَ وَاَسَآءَ، يَا مَنْ يَّسُرُّهٗ طَاعَتِیْ، وَلَا تَضُرُّهٗ مَعْصِيَتِیْ، هَبْ لِیْ مَا يَسُرُّكَ، وَاغْفِرْ لِیْ مَا لَا يَضُرُّكَ».[28]
اے اللہ! میں مالداری پر اکڑنے اور افلاس کی ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔اے وہ ذات کہ جس نے وعدہ فرمایا تو پورا کیا اور دھمکایا(اور عذاب کا کہا) تو درگزر کیا(اور بخش دیا)، بخش دے اس شخص کو جس نے ظلم کیا اور بُرا عمل کر لیا ہے، اے وہ ذات کہ جسے میری فرماں برداری خوش کردیتی ہے اور میری نافرمانی اسکا کچھ بگاڑتی نہیں، جو (بات یا عمل) تجھے خوش کرے مجھے وہ عطا فرمادے اور جو بات تیرا کچھ بگاڑتی نہیں تو وہ مجھے معاف فرما دے۔
————————————-
۲۵ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّكِّ فِی الْحَقِّ بَعْدَ الْيَقِيْنِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ يَوْمِ الدِّيْنِ».[29]
اے اللہ! میں حق بات میں یقین حاصل ہونے اور دل جم جانے کے بعد شک پیدا ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور شیطانِ مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور روزِ جزا کے شر اور اسکی سختیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
————————————-
۲۶ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْ اَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تُبْتُ اِلَيْكَ مِنْهُ ثُمَّ عُدْتُّ فِيْهِ، وَاَسْتَغْفِرُكَ لِمَا اَعْطَيْتُكَ مِنْ نَّفْسِیْ ثُمَّ لَمْ اُوْفِ لَكَ بِهٖ، وَاَسْتَغْفِرُكَ لِلنِّعَمِ الَّتِیْ تَقَوَّيْتُ بِهَا عَلٰى مَعْصِيَتِكَ، وَاَسْتَغْفِرُكَ لِكُلِّ خَيْرٍ اَرَدْتُّ بِهٖ وَجْهَكَ فَخَالَطَنِیْ فِيْهِ مَا لَيْسَ لَكَ. اَللّٰهُمَّ لَا تُخْزِنِیْ فَاِنَّكَ بِیْ عَالِمٌ، وَّلَا تُعَذِّبْنِیْ فَاِنَّكَ عَلَیَّ قَادِرٌ».[30]
اے اللہ! میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اس گناہ کی جس سے میں نے تو بہ کی ہو اور پھر لوٹ کر اس کو کیا ہو، اور تجھ سے معافی چاہتا ہوں اُس عہد کی جو میں نے اپنی جانب سے دیا ہو اور پھر اس کو وفا نہ کیا ہو، اور تجھ سے معافی چاہتا ہوں اُن نعمتوں کے بارہ میں جن سے میں نے قوت حاصل کر کے اسے تیری نافرمانی میں لگایا، اور تجھ سے معافی چاہتا ہوں اُس نیکی کے بارہ میں کہ میں نے اس کو خالِصَتاً تیرے لئے کرنا چاہا پھر اُس میں اُن چیزوں کی آمیزش کر لی جو صرف تیرے لئے نہ تھیں (یعنی ریا و نمود وغیرہ)، اے اللہ! مجھے رسوا نہ کرنا ، بے شک تو مجھے خوب جانتا ہے، اور مجھ پر عذاب نہ کرنا، بے شک تو مجھ پر ہر طرح قدرت رکھتا ہے۔
————————————-
۲۷« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تَوَكَّلَ عَلَيْكَ فَكَفَيْتَهٗ، وَاسْتَهْدَاكَ فَهَدَيْتَهٗ، وَاسْتَنْصَرَكَ فَنَصَرْتَهٗ».[31]
اے اللہ! مجھے ان میں کر دے جنہوں نے جب تجھ پر توکل و بھروسہ کیا تو تُو اُن کے لئے کافی ہو گیا، اور انہوں نے تجھ سے ہدایت چاہی تو تُو نے انہیں ہدایت دے دی اور انہوں نے تجھ سے مدد چاہی تو تُو نے انہیں مدد دے دی ۔
————————————-
۲۸ «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِیْ خَشْيَتَكَ وَذِكْرَكَ، وَاجْعَلْ هِمَّتِیْ وَهَوَایَ فِيْمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰى، اَللّٰهُمَّ وَمَا ابْتَلَيْتَنِیْ بِهٖ مِنْ رَّخَآءٍ وَّشِدَّةٍ فَمَسِّكْنِیْ بِسُنَّةِ الْحَقِّ وَشَرِيْعَةِ الْاِسْلَامِ».[32]
اے اللہ! میرے دل کے وسوسوں اور خیالاتِ بدکو اپنی خشیت اور اپنی یاد سے بدل دے، اور میرے شوق اور ہمت کی چیز وہی کر دے جسے تُو اچھا سمجھتا ہو اور پسند کرتا ہو، اے اللہ! تو میرا امتحان نرمی یا سختی (خوش حالی یا تنگ دستی)، غرض جس چیز سے بھی کرے، تو مجھے طریقِ حق اور اسلام کی راہ پر جمائے رکھ ۔
————————————-
۲۹ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ فِی الْاَشْيَآءِ كُلِّهَا، وَالشُّكْرَ لَكَ عَلَيْهَا حَتّٰی تَرْضٰى، وَبَعْدَ الرِّضَا وَالْخِيَرَةَ فِیْ جَمِيْعِ مَا يَكُوْنُ فِيْهِ الْخِيَرَةُ، وَبِجَمِيْعِ مَيْسُوْرِ الْاُمُورِ كُلِّهَا لَا بِمَعْسُوْرِهَا يَا كَرِيمُ!»[33]
اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں جملہ اشیاء میں نعمت کے پورے ہونے (کمالِ نعمت) کی ، اور اُن پر تیرے شکر کی توفیق پانے کی یہاں تک کہ تُو راضی وخوش ہو جائے ، اور بعد خوش ہو جانے کے، میرے لئے انتخاب کردے تمام ایسی چیزوں میں جن میں انتخاب ہوتا ہے اور انتخاب بھی سب ہی آسان کاموں کا، نہ کہ دشوار کاموں کا، اے کریم!۔
————————————-
۳۰ «اَللّٰهُمَّ فَالِقَ الْاِصْبَاحِ، وَجَاعِلَ اللَّيْلِ سَكَنًا، وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ، اِقْضِ عَنِّی الدَّيْنَ، وَاَغْنِنِیْ مِنَ الْفَقْرِ، وَقَوِّنِیْ عَلَى الْجِهَادِ فِیْ سَبِيْلِكَ».[34]
اے اللہ ! صبح کے نکالنے والے اور رات کو آرام کا وقت بنانے والے، اور سورج اور چاند کو وقت کا مقیاس بنانے والے،میرا قرض ادا کردے اور مجھے محتاجی سے غنی اور بےنیاز کردے اور مجھے اپنی راہ میں جہاد کی قوت دے ۔
————————————-
۳۱« اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ فِیْ بَلَآئِكَ وَصَنِيْعِكَ اِلٰى خَلْقِكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ فِیْ بَلَآئِكَ وَصَنِيْعِكَ اِلٰۤی اَهْلِ بُيُؤْتِنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ فِیْ بَلَآئِكَ وَصَنِيْعِكَ اِلٰۤی اَنْفُسِنَا خَآصَّةً، وَّلَكَ الْحَمْدُ بِمَا هَدَيْتَنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ بِمَا اَكْرَمْتَنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ بِمَا سَتَرْتَنَا، وَلَكَ الْحَمْدُ بِالْقُرْاٰنِ، وَلَكَ الْحَمْدُ بِالْاَهْلِ وَالْمَالِ، وَلَكَ الْحَمْدُ بِالْمُعَافَاةِ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَتّٰی تَرْضٰى، وَلَكَ الْحَمْدُ اِذَا رَضِيْتَ يَاۤ اَهْلَ التَّقْوٰى وَاَهْلَ الْمَغْفِرَةِ».[35]
اے اللہ! ساری تعریفوں کا مستحق تُو ہی ہے چاہے اپنی مخلوق پر تو نے انعام کیا ہو یا کوئی بلایامصیبت اتاری ہو، ساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں چاہے تو نے ہمارے گھر والوں پر کوئی انعام کیا ہو یا کوئی بلایامصیبت اتاری ہو، ساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں چاہے تو نے خاص ہم پر کوئی انعام کیا ہو یا کوئی بلایامصیبت اتاری ہو، اورساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں کیونکہ تو نے ہمیں ہدایت دی، اورساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں کیونکہ تو نے ہمیں عزت دی، اورساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں کیونکہ تو نے ہماری پردہ پوشی کی ، اورساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں قرآن کے عطا کرنے پر، اورساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں ہمیں اہل و عیال اور مال عطا کرنےپر، اورساری تعریفیں تیرے لیے خاص ہیں ہم سے درگزر کرنے پر (اور ہمیں عافیت و تندرستی عطا کرنے پر)، اور ہم تیری ہی تعریف کرتے ہیں یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے جبکہ تو راضی و خوش ہو جائے ، اے وہ ذات کہ جس سے ڈرنا چاہئے ، اور اے وہ کہ تُو ہی مغفرت کر سکتا ہے۔
————————————–
۳۲« اَللّٰهُمَّ وَفِّقْنِیْ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَالْفِعْلِ وَالنِّيَّةِ وَالْهُدٰى، اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيرٌ».[36]
اے اللہ! مجھے اس چیز کی توفیق دے جسے تو اچھا سمجھے، خواہ وہ قول ہو یا عمل یا فعل یا نیت یا طریق (ہدایت اور نیکی کی)، بے شک تُو ہی ہر چیز پر قادر ہے ۔
————————————-
۳۳« اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، (اَللّٰهُمَّ)اكْفِنِیْ كُلَّ مُهِمٍّ مِّنْ حَيْثُ شِئْتَ، وَمِنْ اَيْنَ شِئْتَ».[37]
اے اللہ!سات آسمانوں اور عظمت والے عرش کے رب، (اے اللہ!) ہر مشکل میں میرے لیے کافی ہو جا (اور میری حفاظت فرما)، جس طرح بھی تو چاہے اور جہاں سے بھی تو چاہے۔
————————————-
۳۴« حَسْبِیَ اللّٰهُ لِدِيْنِیْ، حَسْبِیَ اللّٰهُ لِمَاۤ اَهَمَّنِیْ، حَسْبِیَ اللّٰهُ لِمَنْۢ بَغٰی عَلَیَّ، حَسْبِیَ اللهُ لِمَنْ حَسَدَنِیْ، حَسْبِیَ اللّٰهُ لِمَنْ كَادَنِیْ بِسُوْٓءٍ، حَسْبِیَ اللّٰهُ عِنْدَ الْمَوْتِ، حَسْبِیَ اللهُ عِنْدَ الْمَسْاَلَةِ فِی الْقَبْرِ، حَسْبِیَ اللّٰهُ عِنْدَ الْمِيزَانِ، حَسْبِیَ اللهُ عِنْدَ الصِّرَاطِ، حَسْبِیَ اللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ (وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ)».[38]
کافی ہے مجھے اللہ میرے دین کے لئے، کافی ہے مجھے اللہ میری فکروں(اورپریشان کن امور ) کے لیے، کافی ہے مجھے اللہ اُس شخص کے مقابلہ کے لیےجو مجھ پر زیادتی کرے، کافی ہے مجھے اللہ اُس شخص کے لئے جو مجھ سے حسد کرتا ہو، کافی ہے مجھے اللہ اُس شخص کے لیے جو مجھے برائی کے ساتھ دھو کا دیتا ہے (اور میرے خلاف بری سازش کرتا ہے)، کافی ہےمجھے اللہ موت کے وقت، کافی ہے مجھے اللہ سوالِ قبر کے وقت ، کافی ہےمجھے اللہ میزان (حشر)کے پاس، کافی ہے مجھے اللہ پلِ صراط ( محشر)کے پاس، کافی ہے مجھے اللہ کہ کوئی معبود نہیں ہے سوا اُس کے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔
————————————-
۳۵« اَللّٰهُمَّ حَبِّبِ الْمَوْتَ اِلٰی مَنْ يَّعْلَمُ اَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُوْلُكَ».[39]
اے اللہ! موت کو ہر اس شخص کے نزدیک محبوب بنا دے جسے یہ یقین ہو کہ سیدنامحمدﷺ تیرے رسول ہیں۔
————————————-
۳۶« اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ رَبُّ عَظِيْمٌ لَّا يَسَعُكَ شَیْءٌ مِّمَّا خَلَقْتَ، وَاَنْتَ تَرٰی وَلَا تُرٰى، وَاَنْتَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰى، وَاِنَّ لَكَ الْاٰخِرَةَ وَالْاُوْلٰى، وَلَكَ الْمَمَاتُ وَالْمَحْيَا، وَاِلَيْكَ الْمُنْتَهٰى وَالرُّجْعٰى، نَعُوْذُبِكَ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى».[40]
ے اللہ! بے شک تو عظیم پروردگار ہے؛ تیری پیدا کی ہوئی کوئی چیز تجھے اپنے احاطے میں نہیں لے سکتی۔ تو سب کو دیکھتا ہے اور خود تجھے دیکھا نہیں جاتا، اور تُو برتر ترین مقامِ نظر و نگرانی پر ہے۔ یقیناً آخرت بھی تیری ہے اور دنیا بھی تیری، موت بھی تیرے اختیار میں ہے اور زندگی بھی تیرے اختیار میں؛ انتہا بھی تیری ہی طرف ہے اور واپسی بھی تیری ہی طرف۔ ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس بات سے کہ ہم ذلیل اور رسوا کیے جائیں۔
————————————-
۳۷« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ ثَوَابَ الشَّاكِرِيْنَ، وَنُزَلَ الْمُقَرَّبِيْنَ، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّيْنَ، وَيَقِيْنَ الصِّدِّيْقِيْنَ، وَذِلَّةَ الْمُتَّقِيْنَ، وَاِخْبَاتَ الْمُوْقِنِيْنَ، حَتّٰى تَوَفَّانِیْ عَلٰى ذٰلِكَ يَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ».[41]
اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اجر شکر گزاروں کا سا، اور مہمانداری مقربین کی سی ، اور رفاقت انبیاء علیہم السلام کی، اور اعتقاد و یقین صدیقوں کا سا، اور خاکساری اہل تقویٰ کی سی، اور خشوع اہلِ یقین کا سا، یہاں تک کہ تو اسی حال پر مجھے اُٹھالے، اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحیم !۔(یااَرْحَمَ الرَّاحِمِین)۔
————————————-
۳۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ بِنِعْمَتِكَ السَّابِقَةِ عَلَیَّ، وَبَلَآئِكَ الْحَسَنِ الَّذِی ابْتَلَيْتَنِیْ بِهٖ، وَفَضْلِكَ الَّذِیْ فَضَّلْتَ عَلَیَّ؛ اَنْ تُدْخِلَنِیَ الْجَنَّةَ بِمَنِّكَ وَفَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ».[42]
اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، ان نعمتوں کے صدقے سے جو پہلے مجھ پر ہو چکی ہیں۔ اور اس اچھی آزمائش کے وسیلے سے جس سے تُو نے میرا امتحان کیا ہو، اور بہ واسطہ اس فضل کے جو تو نے مجھ پر کیا ہے، یہ کہ مجھے اپنے احسان اور فضل و رحمت سے جنت میں داخل کرنا ۔
————————————-
۳۹« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَرِيْمِ، وَاَمْرِكَ الْعَظِيْمِ، اَنْ تُجِيْرَنِیْ مِنَ النَّارِ وَالْكُفْرِ وَالْفَقْرِ».[43]
اے اللہ! میں تجھ سے تیری کریم ذات اور باعظمت حکم کے وسیلے سےسوال کرتاہوں کہ مجھے آگ، کُفر (اور ناشکری)اور تنگدستی ومحتاجی سے بچا لینا۔
————————————-
۴۰« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ مَّوْتِ الْفُجَآءَةِ، وَمِنْ لَّدْغَةِ الْحَيَّةِ، وَمِنَ السَّبُعِ، وَمِنَ الْغَرَقِ، وَمِنَ الْحَرَقِ، وَمِنْ اَنْ اَخِرَّ عَلٰى شَیْءٍ، وَّمِنَ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ».[44]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں موتِ نا گہانی سے، اور سانپ کے کاٹنے سے، اور درندے سے، اور ڈوبنے سے، اور جل جانے سے، اور اس سے کہ کسی چیز پرگِر پڑوں اور میدانِ جہاد سے مفرور ہو کر مارے جانے سے ۔
————————————-
۴۱ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ اِيْمَانًا دَآئِمًا، وَهُدًى قَيِّمًا، وَّعِلْمًا نَّافِعًا».[45]
اے اللہ! میں تجھ سے طلب گار ہوں ایمانِ دائم، ہدایتِ محکم اور علم ِنفع بخش کا۔
————————————-
۴۲« اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْ لِّفَاجِرٍعِنْدِیْ نِعْمَةً اُ كَافِيْهِ بِهَا فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ».[46]
اے اللہ! کسی بدکار کا مجھ پر احسان نہ ہونے دے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس کا معاوضہ ادا کرنا پڑے ۔
————————————-
۴۳« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْۢبِیْ، وَوَسِّعْ لِیْ خُلُقِیْ، وَطَيِّبْ لِیْ كَسْبِیْ، وَقَنِعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ، وَلَا تُذْهِبْ طَلَبِیْۤ اِلٰی شَیْءٍ صَرَفْتَهٗ عَنِّیْ».
اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے، اور میرے اخلاق کو وسیع ودرست کر دے اور میری آمدنی کو حلال و پاکیزہ رکھ، اور جو کچھ تو نے مجھے دے رکھا ہے بس اس پر مجھے قانع کر دے، اور اُس چیز کی طرف میری طلب ہی کو نہ لے جا جو تو نے مجھ سے ہٹالی ہو (اور وہ چیز مجھے دینا مقصود نہ ہو)۔[47]
————————————-
۴۴« اَللهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ، اَللّٰهُ اَكْبَرُ؛ بِسْمِ اللهِ عَلٰى نَفْسِیْ وَدِيْنِیْ، بِسْمِ اللّٰهِ عَلٰى اَهْلِیْ وَمَالِیْ، بِسْمِ اللّٰهِ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ اَعْطَانِیْ رَبِّیْ بِسْمِ اللّٰهِ خَيْرِ الْاَسْمَآءِ، بِسْمِ اللّٰهِ رَبِّ الْاَرْضِ وَالسَّمَآءِ، بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاۤءٌ، بِسْمِ اللّٰهِ افْتَتَحْتُ، وَعَلَى اللهِ تَوَكَّلْتُ اَللّٰهُ اَللّٰهُ رَبِّیْ لَا اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا؛ اَسْأَلُكَ اَللّٰهُمَّ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِكَ الَّذِیْ لَا يُعْطِيْهِ غَيْرُكَ، عَزَّجَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَا ؤُكَ، وَلَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، اِجْعَلْنِیْ فِیْ عِيَاذِكَ وَجِوَارِكَ مِنْ كُلِّ سُوْٓءٍ وَّمِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْتَجِيْرُكَ مِنْ جَمِيْعِ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْتَ، وَاَحْتَرِسُ بِكَ مِنْهُنَّ، وَاُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَیَّ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اللّٰهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ﴾ مِنْ اَمَامِیْ، وَمِنْ خَلْفِیْ، وَعَنْ يَّمِيْنِیْ، وَعَنْ شِمَالِیْ، وَمِنْ فَوْقِیْ، وَمِنْ تَحْتِیْ».[48]
اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے، اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے،اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے۔
اللہ کے نام کی برکت ہومیرے دین وجان پر ،اللہ کے نام کی برکت ہومیرے اہل وعیال اور مال پر ، اللہ کے نام کی برکت ہوہر اس چیز پر جو میرے پروردگار نے مجھے عطا کی، اللہ تعالیٰ کے نام سے جو سب ناموں سے بہتر ہے، اللہ کے نام سے جو زمین وآسمان کا رب ہے، اللہ کے نام سے جس کی برکت سے کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی، اللہ ہی کے نام کی برکت سے میں نے شروع کیا اور اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اللہ ہی اللہ میرا پروردگار ہے میں کسی کو بھی اسکا شریک نہیں سمجھتا ، اے اللہ، میں تیرے انعام کے وسیلے سے تجھ سے وہ بھلائی مانگتاہوں جو تیرے سوا کوئی دے نہیں سکتا، تیرا پناہ بڑی عزت والی ہے (اور تیرا پناہ دیا ہوا بڑا زور آور ہے) اور تیری حمدوثنا بڑی شاندار ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے ہر برائی اور شیطانِ مردود سے اپنی پناہ اور حمایت میں لے لے۔
اے اللہ! میں تیری تمام مخلوق سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور ان سے تیری حفاظت میں آتا ہوں اوراس (سورۂ اخلاص) کو اپنا پیش خیمہ بناتا ہوں:
اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔کہو، وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد، اور اس کے برابر کا کوئی ہے ہی نہیں۔ بس یہی کہتا ہوں (اور اس سورۃ کو اپنے لیے حفاظتی ڈھال بناتا ہوں) اپنے سامنے اور پیچھے سے بھی، اپنے دائیں اور بائیں سے بھی، اپنے اوپر اور نیچےسے بھی۔
————————————-
۴۵« خَلَقْتَ رَبَّنَا فَسَوَّيْتَ، وَقَدَّرْتَ رَبَّنَا فَقَضَيْتَ، وَعَلٰى عَرْشِكَ اسْتَوَيْتَ، وَاَمَتَّ فَاَحْيَيْتَ، وَاَطْعَمْتَ فَاَشْبَعْتَ، وَاَسْقَيْتَ فَاَرْوَيْتَ، وَحَمَلْتَ فِیْ بَرِّكَ وَبَحْرِكَ عَلٰى فُلْكِكَ وَعَلٰى دَوَآبِّكَ وَعَلٰۤی اَنْعَامِكَ؛ فَاجْعَلْ لِّیْ عِنْدَكَ وَلِيْجَةً، وَّاجْعَلْ لِّیْ عِنْدَكَ زُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ، وَّاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ يَّخَافُ مَقَامَكَ وَوَعِيْدَكَ وَيَرْجُوْ لِقَآئَكَ، وَاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ يَّتُوْبُ اِلَيْكَ تَوْبَةً نَّصُوْحًا ؛ وَّاَسْأَلُكَ عَمَلًا مُّتَقَبَّلًا، وَّعِلْمًا نَّجِيْحًا، وَّسَعْيًا مَّشْكُوْرًا، وَّتِجَارَةً لَّنْ تَبُورَ».[49]
اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں کمال پر پیدا کیا۔ تو نے ہماری تقدیر لکھی اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کیا، اپنی شان کے مناسب عرش پر تجلی فرمائی تو نے ہی مارا اور پھر تو نے ہی زندہ کیا، تو نے ہی کھلایا تو شکم سیر کر دیا اور پلایا تو سیراب کیا۔ تو نے ہی خشکی اور تری میں اپنی کشتیوں، چوپاؤں اور اپنے دوسرے جانوروں پر ہمیں سوار کیا، پس مجھے اب اپنے دربار میں بھیدی اور درباری بنالے (اور میرے لئے اپنے ہاں دخل پیدا کر دے کہ میں تجھ سے جو بات کروں تو اسے قبول فرمالے) اور میرے لئے اپنے ہاں تقرب اور حسنِ مراجعت پیدا کر دے (کہ میرا انجام اچھا ہو)، اور مجھے اُن لوگوں میں سے کر دے جو تیرے سامنے کھڑے ہونے سے اور تیری وعید سے ڈرتے ہیں، اور تیرے دیدار کی تمنا رکھتے ہیں، اور مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو تیری طرف توجہ خالص کے ساتھ رجوع کرتے ہیں، اور تجھ سے سوالی ہوں عملِ مقبول کا ، اور علمِ کارآمد کا ، اور سعیِ مشکور کا (ایسی کوشش جس کی قدر کی جائے) اور تجارتِ کامیاب کا(وہ تجارت جس میں خسارہ ہو ہی نہ سکے) ۔
————————————-
۴۶« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اُشْهِدُكَ بِمَا شَهِدْتَّ بِهٖ عَلٰى نَفْسِكَ، وَشَهِدَتْ بِهٖ مَلَائِكَتُكَ وَاَنْۢبِيَاؤُكَ وَاُولُوا الْعِلْمِ، وَمَنْ لَّمْ يَشْهَدْ بِمَا شَهِدْتَّ بِهٖ فَاكْتُبْ شَهَادَتِیْ مَكَانَ شَهَادَتِهٖ؛ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ!»[50]
اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات کا جس کی تو نے اپنی ذاتِ پاک پر شہادت دی ہے اور جس کی شہادت تیرے سب فرشتوں، انبیاء اور اہلِ علم نے دی ہے (یعنی توحید پر) اور جس نے (بھی) اس بات کی شہادت نہیں دی جس کی تو نے شہادت(گواہی) دی ہے اسکی گواہی کے بدلے میں بھی تو میری گواہی لکھ لے، تو سراسر سلامتی ہے تیرا ہی نام سلام ہے اور اور تجھی سے سلامتی کی ابتدا ہے توبڑی برکت والا ہے، اے صاحب ِعزت و جلال! ۔
————————————-
۴۷« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ فِكَاكَ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ».[51]
اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ دوزخ سے میری جاں بخشی کر دی جائے ۔
————————————-
۴۸« اَللّٰهُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ، وَسَكَرَاتِ الْمَوْتِ».[52]
اے اللہ! تو موت کی سختیوں پر اور جان کنی کی تکلیف پر میری مدد فرما ۔
————————————-
۴۹« (اٰخِرُدُعَآئِهٖ ﷺ) اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِيْقِ الْاَعْلٰی».[53]
(نبی کریمﷺ کی آخری دعا یہ تھی) اے اللہ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر مہربان ہوجا، اور مجھے اعلیٰ رفیقوں (ان میں فرشتے، انبیاء اور ابرار و صالحین شامل ہیں) کے ساتھ جاملا ۔
————————————-
۵۰ ﴿سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾[54]
پاک ہے تیرا رب، تمام عزتوں کا مالک ، ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں ۔اور سلام ہو تمام رسولوں پر، اور کُل حمد اور تمام شکر اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔
[1] مستدرک حاکم (1920) 1/509، مسند ابو يعلىٰ (5276)، معجم الكبير (10198)
[2] اور کچھ نہ ذہن میں ہو تو یہ پڑھ لے:﴿ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْآخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
[3] احادیث میں یہ نام متعین نہیں کیے گئے تاہم امام عبدالوہاب شعرانیؒ نے اپنی کتاب ’الیواقیت والجواہر‘ میں “المبحث السادس عشر: في حضرات الأسماء الثمانية” کے تحت انہی آٹھ اسماء کو بنیاد بنا کر ان کے ”متعلَّقات“و معانی پر گفتگو ہے۔ ان کے خیال میں ’حضرات الاسماء الثمانية‘ یہ ہیں: الحي، العالِم، القادر، المريد، السميع، البصير، المتكلِّم، الباقي۔ اسکے علاوہ مولانا محمد یونس جونپوریؒ نے اپنی کتاب ’الیواقیت الغالیہ‘ کی جلد اول میں مولانا سراج الحق مچھلی شہری ثم الٰہ آبادیؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کے خیال میں آٹھ نام یہ ہیں: المتكلِّم، الحي، العليم، القدير، المريد، الخالق، السميع، البصير۔ تاہم اوپر کی دونوں فہرستیں تعیینی دلیل نہیں رکھتیں اور صرف اہلِ تصوف کے ظن اور گمان پر مبنی ہیں۔ واللہ اعلم
[4] کنزالعمال (5103)
[5] المعجم الاوسط (145)، مجمع الزوائد (17397)، اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ترین اسماء جن کے وسیلے سے مانگا جائے۔
[6] سنن أبو داود (1547)، سنن نسائي (5468)، سنن ابن ماجه (3354)، مسندالبزار (8534)
[7] سنن الترمذی (3586)، نبی کریمﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو یہ دعا تعلیم فرمائی۔
[8] مسند أحمد (15554و 17832)، الوفد المتقبلین سے وہ لوگ مراد ہیں جو روز قیامت بطورِ وفد اپنے نبی کی معیت میں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ الغر المحجلین سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعضائے وضو چمکتے ہوں گے۔
[9] مسند ابو يعلىٰ (54 و 55)، الادب المفرد (716)، عمل اليوم واللیلۃ (286)، شرکِ اصغر یعنی ریاکاری سے نجات کے لیے
[10] جامع صغیر (1542)
[11] مسند احمد (19992)
[12] حلية الأولياء 8/367، مجمع الزوائد 10/181 (17409)
[13] المعجم الكبير للطبراني (4849)، معجم الشيوخ (407)، حضرت زید بن ثابت ؓ رات کو بستر پر لیٹتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے۔
[14] عزیزوں کو ان کے حقوقِ عزیز داری ادا نہ کرنا اسلام میں ایک سخت جرم اور قبیح معصیت ہے۔
[15] شعب الإيمان (4079) 6/226، مسند الفردوس (1303)، والمعجم الأوسط (5538)
[16] المعجم الأوسط للطبراني (9304) نحوه، مسند الفردوس (1869)، کنز العمال(3790)
[17] یعنی رینگنے والے جانوروں، اور دو پائے اور چوپائے ہر قسم کے جانوروں کے شر سے
[18] المعجم الاوسط (6180) والدعاء للطبراني (1339) نحوه، وذكر في مسند الفردوس (1880)
شریکِ حیات (یعنی شوہر کے لیے بیوی اور بیوی کے لیے شوہر)
[19] مسند البزار (5387)، المعجم الأوسط (5974)، حضرت آدم علیہ السلام کو بیت اللہ کے سامنے یہ دعا سکھائی گئی تھی۔
[20] المعجم الأوسط (5538)، کنز العمال(3854)، جبرئیلؑ نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ اللہ کی عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کلمات کے ساتھ دعا مانگیں۔
[21] مسند ابو يعلىٰ (3472)، الأحاديث المختارة(1682 )
[22] الإصابة في تمييز الصحابة (6667)، أسد الغابة (3228)، جامع المسانید والسنن (1095)
[23] مسند الفردوس (1972) {1/482}، مصنف ابن أبي شيبہ(30010)
[24] مسند الفردوس (1800)، کنز العمال (5111)
[25] مسند الفردوس (1727). كنز العمال (5087)، اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کی مسنون دعا
[26] جامع صغیر (1459)، كنز العمال (3625، 3782)،
[27] كنز العمال (5055)، حضرت ابوذرؓ غفاری کی دعا، آپ اسے دو دفعہ روزانہ پڑھا کرتے تھے، جبرائیلؑ نے اس دعا کی فضیلت رسول اللہﷺ کے سامنے یہ بیان فرمائی کہ اسے پڑھنے والے امتی کے گناہ معاف ہوتے ہیں، فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور جنت کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔
[29] کنز العمال (3817)
[30] كنز العمال (5126 و5127) جامع الأحاديث (16759)، حضرت خضر علیہ السلام کا استغفار
[31] مسند الفردوس (1924)، ابن أبي الدنيا في التوكل (4) {1/137}
[32] مسند الفردوس (1930) {1/474}
[33] كنز العمال (5034)، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی دعا
[34] موطأ مالك (495) مصنف ابن أبي شيبہ (29803)، قرض کی ادائی کے لیے رسول کریمﷺ کی دعا
[35] الدعاء للطبراني (1725)، كنز العمال (5100)، اہلِ قبا کے لیے نبی کریمﷺ کی دعا
[36] مسند الفردوس (1916)، جامع الأحاديث (4324)، كنز العمال (3797)
[37] کنز العمال (3433)،ان کلمات کے کہنے والے کا رنج و غم اللہ زائل فرما دیتا ہے۔ اصحاب الاخدود کے قصے میں اس مومن لڑکے کی دعا یہ تھی: اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ: اے اللہ!جس طرح تو چاہے مجھے ان کے شر سے بچا۔(صحیح مسلم: 3005)
[38] كنز العمال (3558)، ان دس کلمات کو نمازِفجر کے بعد پڑھنے والے کے لیے اللہ کافی ہوجاتا ہے اور اس کا بدلہ عطافرماتا ہے۔
[39] جامع صغیر (1474)، حضرت ابو مالک الاشعریؓ کی دعا
[40] کنزالعمال (3782)، حضرت ابوہریرہؓ کی دعا
[41] مسند الفردوس (1839) كنز العمال (4945)، نبی کریمﷺ کی ملتزم پر دعا
[42] المعجم الكبير للطبراني (8917) ، مسند الفردوس (1849)، کنز العمال (3784)، حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی دعا، کچھ نسخوں میں بِنِعْمَتِكَ السَّابِغَةِ بھی ہے۔
[43] کنز العمال (3785)، حضرت ابوبکرصدیقؓ کی دعا
[44] معجم الأوسط (173)، مسند احمد (6594 و17818)كنز العمال (3786) ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی دعا
[45] مصنف ابن أبي شيبہ(31001) [30364]، کنز العمال (3789)
[46] كنز العمال (3810)، مسند الفردوس (2011)
[47] کنز العمال (5061)، حضرت علیؓ کہتے ہیں مجھے رسول اللہﷺ نے فرمایا : میں تجھے پانچ ہزار بکریاں دیدوں یا پانچ کلمات سکھا دوں، جن سے تمہارا دین اور تمہاری دنیا صحیح ہوجائے۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہﷺ ! پانچ ہزار بکریاں بھی بہت ہیں لیکن آپ مجھے وہ کلمات سکھا دیجیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : یہ دعا پڑھا کرو۔
[48] کنزالعمال (3850)، یہ دعا دعائے انسؓ کے نام سے مشہور ہے۔
[49] كنز العمال (3855)، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ اس طرح دعا مانگا کرتے تھے۔
[50] کنز العمال(4966)، حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا رسول کریمﷺ کا معمول تھا۔
[51] کنز العمال(4966)
[52] سنن ترمذی(978)
[53] صحیح بخاری (4440 و5674)، صحيح مسلم (85-2444)
[54] سورہ الصافات (180:182)
