
۱ «اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ، وَعَمَلِیْ مِنَ الرِّيَآءِ، وَلِسَانِیْ مِنَ الْكَذِبِ، وَعَيْنِیْ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَاِنَّكَ تَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ».[1]
اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو رِیا سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک کر دے، کیونکہ تو خیانت کرنے والی آنکھوں کو جانتا ہے (کیونکہ تجھ پر تو روشن ہیں آنکھوں کی چوریاں بھی) اور جو کچھ سینے (دل) چھپاتے ہیں (تو اسے بھی جانتا ہے)۔
————————————-
۲« اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِیْ عَيْنَيْنِ هَطَّالَتَيْنِ تَسْقِيَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدَّمْعِ مِنْ خَشْيَتِكَ، قَبْلَ اَنْ تَكُوْنَ الدُّمُوعُ دَمًا، وَّالْاَضْرَاسُ جَمْرًا».[2]
اے اللہ ! مجھے برسنے والی آنکھیں نصیب کر جو دل کو تیری خشیت (خوف) کی بنا پر بہتے ہوئے آنسوؤں سے سیراب کر دیں، اس سے پہلے کہ آنسو بہتے بہتے خون ہو جائیں اور ڈاڑھیں کنکروں کی طرح خشک ہو جائیں یا انگارے بن جائیں ۔
————————————-
۳«اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِیْ قُدْرَتِكَ، وَاَدْخِلْنِیْ فِیْ رَحْمَتِكَ، وَاقْضِ اَجَلِیْ فِیْ طَاعَتِكَ، وَاخْتِمْ لِیْ بِخَيْرِ عَمَلِیْ، وَاجْعَلْ ثَوَابَهُ الْجَنَّةَ».[3]
اے اللہ! مجھے اپنی قدرت سے عافیت عطا فرما اور مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے، اور میری زندگی اپنی طاعت و عبادت میں پوری کرا دے (یعنی میں زندگی کے آخری لمحہ تک تیری طاعت و عبادت کرتا رہوں) اور میرے بہترین عمل پر میرا خاتمہ فرما اور اس کے صلے میں مجھے جنت عطا فرما۔
————————————-
۴ «اَللّٰهُمَّ اَغْنِنِیْ بِالْعِلْمِ، وَزَيِّنِّیْ بِالْحِلْمِ، وَاَكْرِمْنِیْ بِالتَّقْوٰى، وَجَمِّلْنِیْ بِالْعَافِيَةِ».[4]
اے اللہ! علم دےکر مجھے غنی (وبے نیاز) کر دے، اور تحمل وبردباری کے (وصف کے) ساتھ مجھے سنوار دے، اور مجھے تقویٰ (جواب دہی کے احساس اور تقاضوں) کے ساتھ عزت دے ، اور مجھے امن وچین سے جمال دے۔
————————————-
۵ «اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ خَلِيْلٍ مَّاكِرٍ عَيْنَاهُ تَرَيَانِیْ وَقَلْبُهٗ يَرْعَانِیْۤ، اِنْ رَّاٰى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَاِنْ رَّاٰى سَيِّئَةً اَذَاعَهَا».[5]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں مکار و چال باز دوست سے جس کی آنکھیں تو مجھے دیکھتی ہوں اور اس کا قلب میری نگرانی کرتا ہو (عیب ڈھونڈتا ہو) ، اگر وہ بھلائی دیکھے تو اُسے دبا(چُھپا) دے اور برائی دیکھے تو اُس کا چرچا کرے۔
————————————-
۶ «اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ۤ اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُؤْسِ وَالتَّبَآؤُسِ».[6]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شدتِ فقر سے اور شدت ِمحتاجی سے ۔
————————————-
۷ «اَللّٰهُمَّ لَا يُدْرِكْنِیْ زَمَانٌ وَّلَا يُدْرِكُوْا زَمَانًا لَّا يُتَّبَعُ فِيْهِ الْعَلِيْمُ، وَلَا يُسْتَحْيٰى فِيْهِ مِنَ الْحَلِيْمِ، قُلُوْبُهُمْ قُلُوْبُ الْاَعَاجِمِ وَاَلْسِنَتُهُمْ اَلْسِنَةُ الْعَرَبِ».[7]
اے اللہ! مجھے وہ زمانہ نہ پائے ، اور نہ یہ لوگ اس زمانہ کو پائیں جس میں نہ صاحبِ علم کی پیروی کی جائے ، اور نہ صاحبِ حلم کا لحاظ کیا جائے ، اور اُن کے دل عجمیوں کے سے ہو جائیں، اور ان کی زبانیں اہلِ عرب کی سی رہ جائیں۔[8]
————————————-
۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَمِنْۢ بَوَارِ الْاَ يِّمِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ».[9]
اے اللہ!میں تیری پناہ لیتا ہوں قرض کی زیادتی، دشمن کے غلبے سے،اور بے نکاح/بے زوج رہ جانے کی خرابی اور نقصان سے[10] اور مسیح دجال کے فتنہ سے۔
————————————-
۹ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَآءِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ».[11]
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں( کہ تُو )عورتوں (یا میری خواہش ِ نفس ) کو میرے لیے آزمائش بنا دے (اور میں اس آزمائش میں پڑ کر کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھوں۔) اور میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔[12]
————————————-
۱۰ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَّنْ تُخْلِفَنِيْهِ، فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ، فَاَيَّمَا مُؤْمِنٍ اٰذَيْتُهٗۤ اَوْ شَتَمْتُهٗۤ اَوْجَلَدْتُّهُٓ اَوْ لَعَنْتُهٗ، فَاجْعَلْهَا لَهٗ صَلٰوةً وَّزَكٰوةً وَّقُرْبَةً تُقَرِّبُهٗ بِهَاۤ اِلَيْكَ».[13]
اے اللہ! میں تجھ سے وعدہ لیتا ہوں جسے تو ہرگز نہ توڑنا، کہ میں بھی آخر بشر ہی ہوں، سو جس کسی مسلمان کو میں تکلیف دوں، یا اسے برا بھلا کہوں یا اُسے ماروں پیٹوں، یا اُسے بددعا دوں، تو اس (سب) کو تو اس کے حق میں رحمت اور پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بنا دینا ، جس سے تو اُس کو مقرب بنا لے۔
————————————-
۱۱« اَللّٰهُمَّ اَنْتَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ، وَاَنْتَ تَوَفَّاهَا ، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَاۤ، اِنْ اَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا (بِمَا تَحْفَظُ بِهٖ عِبَادَكَ الصَّالِحِيْنَ) وَاِنْ اَمَتَّهَا فَاغْفِرْلَهَا (وَارْحَمْهَا)، اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ».[14]
اے اللہ ! تو ہی نے میری جان کو پیدا کیا ہے، اور تو ہی اسے موت دے گا، تیرے ہی ہاتھ میں اس کا مرنا اور اس کا جینا ہے، تو اگر اسے زندہ رکھتا ہے تو اُس کی ایسی حفاظت کر جیسی کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، اور اگر تو اسے موت دیتا ہے، تو تُو اسے بخش دینا اور اس پر رحم کرنا۔ اے اللہ! میں تجھ سے عافیت و تندرستی کا سوالی ہوں۔
————————————-
۱۲ «اَللّٰهُمَّ حَصِّنْ فَرْجِیْ، وَيَسِّرْلِیْۤ اَمْرِیْ».[15]
اے اللہ! میری شرمگاہ کو محفوظ کر دے، اور مجھ پر میرے کام آسان کر دے ۔
————————————-
۱۳ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ تَمَامَ الْوُضُوْٓءِ، وَتَمَامَ الصَّلَاةِ، وَتَمَامَ رِضْوَانِكَ، وَتَمَامَ مَغْفِرَتِكَ».[16]
اے اللہ! میں تجھ سے کمال مانگتا ہوں: وضو (صفائی)میں ، اور نماز میں، اور تیری خوشنودی میں، اور تیری مغفرت میں ۔
————————————-
۱۴« اَللّٰهُمَّ اَعْطِنِیْ كِتَابِیْ بِيَمِيْنِیْ».[17]
اے اللہ! میرا نامۂ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں دینا۔
————————————-
۱۵« اَللّٰهُمَّ بَيِّضْ وَجْهِیْ يَوْمَ تَبْيَضُّ الْوُجُوْهُ».[18]
اے اللہ! جس دن نیکوں کے چہرے نورانی ہوں گے اس دن میرا چہرہ بھی نورانی کرنا ۔
————————————-
۱۶ «اَللّٰهُمَّ غَشِّنِیْ بِرَحْمَتِكَ، وَجَنِّبْنِیْ عَذَابَكَ».[19]
اے اللہ! مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور مجھے اپنے عذاب سے بچائے رکھنا
————————————-
۱۷ «اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْ قَدَمَیَّ يَوْمَ تَزِلُّ فِيْهِ الْاَقْدَامُ».[20]
اے اللہ! میرے قدم (اس دن) ثابت رکھنا جس دن کہ قدم ڈگمگانے لگیں گے ۔
————————————-
۱۸ «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مُفْلِحِيْنَ».[21]
اے اللہ! ہمیں فلاح یاب بنانا ۔
————————————-
۱۹« اَللّٰهُمَّ افْتَحْ اَقْفَالَ قُلُوْبِنَا بِذِكْرِكَ، وَاَتْمِمْ عَلَيْنَا نِعْمَتَكَ، وَاَسْبِغْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلِكَ، وَاجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ».[22]
اے اللہ! اپنے ذکر سے ہمارے دلوں کے قُفل کھول دے، اور ہم پر اپنی نعمت کو پورا کر، اور ہم پر اپنے فضل کو پورا کر، اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں سے کرلے ۔
————————————-
۲۰« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ اِبْلِيْسَ وَجُنُودِهٖ».[23]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ابلیس سے اور اس کے لشکر سے۔
————————————-
۲۱« اَللّٰهُمَّ اٰتِنِیْۤ اَفْضَلَ مَا تُؤْتِیْ عِبَادَكَ الصَّالِحِيْنَ».[24]
اے اللہ! مجھے وہ سب سے بڑھ کر دے جو تو اپنے نیک بندوں کو دیتا ہے۔
————————————-
۲۲ «اَللّٰهُمَّ (اِنِّی ْۤ) اَعُوْذُ بِكَ اَنْ تَصُدَّ عَنِّیْ وَجْهَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اَللّٰهُمَّ اَحْيِنِیْ مُسْلِمًا، وَّاَمِتْنِیْ مُسْلِمًا».[25]
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ قیامت کے دن تو اپنا رُخِ انور مجھ سے پھیر لے۔ اے اللہ! مجھے مسلمان ہی زندہ رکھ اور مسلمان ہی رکھ کر مجھے وفات دے ۔
————————————-
۲۳ «اَللّٰهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ، وَاَلْقِ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَاُنْزِلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ».[26]
اے اللہ! کافروں کو عذاب دے، اور ان کے دلوں میں ہیبت بٹھا دے، انکی بات میں اختلاف پیدا کر دےاور ان پر اپنا قہر و عذاب نازل کر ۔
————————————-
۲۴« اَللّٰهُمَّ عَذِّبِ الْكَفَرَةَ: اَهْلَ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ يَجْحَدُوْنَ آیَاتِكَ، وَيُكَذِّبُوْنَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ، وَيَتَعَدَّوْنَ حُدُوْدَكَ، وَيَدْعُوْنَ مَعَكَ اِلٰهًا اٰخَرَ ، لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ عَمَّا يَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا».[27]
اے اللہ! کافروں کو عذاب دے، چاہے وہ اہل کتاب ہوں یا مشرک، بہر حال جو بھی تیری آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور تیرے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں، اور تیری راہ سے (دوسروں کو) روکتے ہیں، اور تیری (مقرر کی ہوئی) حدوں سے تجاوز کرتے ہیں، اور تیرے ساتھ کسی اور معبود کو بھی پکارتے ہیں، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں ہے بجز تیرے، بابرکت ہے تُو،اور تُو ان تمام باتوں سے بہت بلندوبالا ہے جو یہ ظالم (مشرک لوگ ) تیرے بارے میں کہتے ہیں۔
————————————-
۲۵« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَاَصْلِحْهُمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَاَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ، وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَالْحِكْمَةَ، وَثَبِّتْهُمْ عَلٰى مِلَّةِ رَسُوْلِكَ، وَاَوْزِعْهُمْ اَنْ يَّشْكُرُوْا نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ، وَاَنْ يُّوْفُوْا بِعَهْدِكَ الَّذِیْ عَاهَدْتَّهُمْ عَلَيْهِ، وَانْصُرْهُمْ عَلٰی عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، اِلٰهَ الْحَقِّ، آمین!»
اے اللہ تو مجھے بخش دے، اور تمام ایمان والوں اور ایمان والیوں کو، اور تمام اسلام والوں اور اسلام والیوں کو، اور انہیں سنوار دے، اور اُن کے آپس میں صلح کر دے، اور اُن کے دلوں میں الفت دے دے، اور ان کے دلوں میں حکمت اور ایمان رکھ دے، اور انہیں اپنے رسولﷺ کے دین پر ثابت رکھ، اور انہیں توفیق دے کہ جو نعمت تو نے انہیں نصیب کی ہے اس کا وہ شکر کرتے رہیں (اسکی قدردانی کریں)، اور جو عہد تو نے اُن سے لیا ہے اُسے وہ پورا کرتے رہیں، اور انہیں اپنے اور اُن کے دشمنوں پر غالب رکھ، اے معبود برحق [28]!۔
————————————-
۲۶« سُبْحَانَكَ لَاۤ اِلٰهَ غَيْرُكَ، اِغْفِرْلِیْ ذَنْۢبِیْ، وَاَصْلِحْ لِیْ عَمَلِیْ، اِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوْبَ لِمَنْ تَشَاءُ، وَاَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ يَا غَفَّارُ اغْفِرْلِیْ، يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَیَّ، يَا رَحْمٰنُ ارْحَمْنِیْ، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّیْ، يَارَءُوْفُ ارْءُفْ بِیْ، يَا رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ، وَطَوِّقْنِیْ حُسْنَ عِبَادَتِكَ، يَا رَبِّ اَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِهٖ، يَا رَبِّ افْتَحْ لِیْ بِخَيْرٍ وَاخْتِمْ لِیْ بِخَيْرٍ، وَّاٰتِنِیْ تَشَوُّقًا اِلٰى لِقَآئِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّآءَ مُضِرَّةٍ، وَّلَا فِتْنَةٍ مُّضِلَّةٍ، وَّقِنِیْ السَّيِّئَاتِ، وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ، وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ».[29]
(اے اللہ !)تُو پاک ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، میرے گناہ بخش دے، اور میرے عمل درست کر دے، بے شک تو ہی گناہ بخش دیتا ہے جس کے چاہتا ہے، اورتو ہی مغفرت کرنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے، اے بخشے والے! مجھے بخش دے، اے تو بہ قبول کرنے والے ! میری تو بہ قبول کر، اے بہت زیادہ رحم کرنے والے! مجھ پر رحم کر، اے معاف کرنے والے! مجھے معاف کر، اے مہربان ! مجھ پر مہربانی کر، اے پروردگار ! مجھے تو فیق دے کہ تو نے جو نعمت مجھے دی ہے اس کا شکر ادا کروں اور مجھے طاقت دے کہ تیری عبادت اچھی طرح کروں، اے پروردگار! میں تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں سب کی سب، اے پروردگار ! میرا آغاز خیر کے ساتھ کر، اور میرا خاتمہ خیر کے ساتھ کر ، اور مجھے بُرائیوں سے بچالے، اور جسے تو نے برائیوں سے اس دن بچا لیا بے شک تو نے اس پر رحم ہی کیا، اور یہی تو سب سے بڑی کامیابی ہے۔
————————————-
۲۷« اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهٗ، وَلَكَ الشُّكْرُ كُلُّهٗ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهٗ، وَلَكَ الْخَلْقُ كُلُّهٗ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهٗ، وَاِلَيْكَ يَرْجِعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ».[30]
اے اللہ! تیرے ہی لئے تعریف ہے سب کی سب،اور تیرے ہی لئے شکر ہے سب کا سب، اور تیرے ہی لئے ہے حکومت سب کی سب اور تیرے ہی لئے ہے مخلوق سب کی سب، تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے سب کی سب اور تیری ہی طرف امور رجوع ہوتے (لوٹ کر جاتے )ہیں سب کے سب۔
————————————-
۲۸« اَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهٖ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهٖ».[31]
اے اللہ! میں تجھ سے تمام بھلائیاں مانگتا ہوں ، اور میں ساری کی ساری برائیوں سےتیری پناہ میں آتا ہوں ۔
————————————-
۲۹« بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ غَيْرُهٗ، اَللّٰهُمَّ اَذْهِبْ عَنِّی الْهَمَّ وَالْحُزْنَ».[32]
اس اللہ کے نام (کی برکت) سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔اے اللہ! مجھ سے فکر و غم دور فرما دے۔
————————————-
۳۰« اَللّٰهُمَّ بِحَمْدِكَ انْصَرَفْتُ، وَبِذَنْۢبِی اعْتَرَفْتُ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اقْتَرَفْتُ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَآءِ، وَمِنْ عَذَابِ الْاٰخِرَةِ».[33]
اے اللہ! مجھ سے فکر و غم دور فرما دے، اے اللہ! میں تیری ہی حمد کے ساتھ چلتا پھرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں ۔اور جوجو کرتوت میرے ہیں ان سب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اےاللہ !میں تیری پناہ چاہتاہوں آزمائش کی سختی اور آخرت کے عذاب سے۔
————————————-
۳۱« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ عَمَلٍ يُّخْزِينِیْ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ صَاحِبِ يُّؤْذِينِیْ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ اَمَلٍ يُّلْهِيْنِیْ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ فَقْرٍ يُّنْسِينِیْ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ غِنًى يُّطْغِيْنِیْ».[34]
اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اُس عمل سے جو مجھے رسوا کرے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ہر ایسے ساتھی سے جو مجھے تکلیف دے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں، ہر ایسے منصوبے اور امیدسے جو مجھے غافل کر دے، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ہر ایسی مفلسی سے جو مجھے ہول میں ڈال دے( اور مجھے میرے فرائض بھلادے)، اور تیری پناہ میں آتا ہوں ہر ایسی دولت سے جو میرا دماغ چلا دے (اور مجھے سرکش بنا دے)۔
————————————-
۳۲« اَللّٰهُمَّ اِلٰهِیْ، وَاِلٰهَ اِبْرَاهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ، وَاِلٰهَ جِبْرَئِیْلَ وَمِيكَا ٓئِيْلَ وَاِسْرَافِيْلَ، اَسْأَلُكَ اَنْ تَسْتَجِيْبَ دَعْوَتِیْ فَاَنَا مُضْطَرٌّ، وَّتَعْصِمَنِیْ فِیْ دِيْنِیْ فَاِنِّیْ مُبْتَلًی، وَّتَنَالَنِیْ بِرَحْمَتِكَ فَاِنِّیْ مُذْنِبٌ، وَّتَنْفِیَ عَنِّی الْفَقْرَ فَاِنِّیْ مُتَمَسْكِنٌ».[35]
اے اللہ! میرے معبود! اور ابراہیمؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ کے معبود! اور جبرائیلؑ اور میکائیلؑ اور اسرافیلؑ کے معبود! میں تجھ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ میری عرض قبول کر لے کہ میں بے قرار و پریشان حال ہوں، اور تو مجھے میرے دین کے باب میں محفوظ رکھ کہ میں بلا میں پڑا ہوا ہوں، اور اپنی رحمت میرے شاملِ حال رکھنا کہ میں گنہگار ہوں، اور مجھ سے محتاجی دور رکھنا کہ میں بے کس ہوں ۔
————————————-
۳۳«اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّآئِلِيْنَ عَلَيْكَ، فَاِنَّ لِلسَّائِلِ عَلَيْكَ حَقًّا، اَيَّمَا عَبْدٍ اَوْ اَمَةٍ مِّنْ اَهْلِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَقَبَّلْتَ دَعْوَتَهُمْ وَاسْتَجَبْتَ دُعَآءَهُمْ، اَنْ تُشْرِكَنَا فِیْ صَالِحِ مَا يَدْعُوْنَكَ (فِيْهِ)، وَاَنْ تُشْرِكَهُمْ فِیْ صَالِحِ مَا نَدْعُوْكَ (فِيْهِ)، وَاَنْ تُعَافِيَنَا وَاِيَّاهُمْ، وَاَنْ تَقَبَّلَ مِنَّا وَمِنْهُمْ، وَاَنْ تَجَاوَزَ عَنَّا وَعَنْهُمْ، فَاِنَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ، وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ».[36]
اے اللہ! میں تجھ سے مانگنے والوں کے حق کے وسیلے سے مانگتا ہوں ( کیونکہ بے شک سائلوں کا تجھ پر حق ہے جسے تو نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اوپر قائم کر لیا ہے) کہ خشکی اور تری کے جس کسی بھی بندے یا بندی کی دُعا تو نے قبول کی ہو، تو ہمیں ان اچھی دعاؤں میں شریک کر دے جو وہ تجھ سے مانگیں، اور تو انہیں اُن اچھی دعاؤں میں شریک کر دے جو ہم تجھ سے مانگیں، اور یہ کہ تو ہمیں اور انہیں عافیت دے، اور تو ہماری اور اُن کی دعائیں قبول کر، اور یہ کہ تو ہم سے اور اُن سے درگزر کر، بے شک ہم ایمان لائے اُس پر جو تو نے اُتارا ہے، اور ہم نے رسولﷺ کی پیروی کی ، پس ہمیں بھی شہادت و گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
————————————-
۳۴«اَللّٰهُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِيلَةَ، وَاجْعَلْ فِی الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهٗ، وَفِی الْاَعْلَيْنَ دَرَجَتَهٗ، وَفِی الْمُقَرَّبِيْنَ ذِكْرَهٗ».[37]
اے اللہ! حضرت محمدﷺ کو مقامِ وسیلہ عنایت کر، اور آپﷺ کی محبوبیت برگزیدہ لوگوں میں کر دے اور آپﷺ کا مرتبہ عالی لوگوں میں، اور آپﷺ کا ذکر اہل تقرب میں کر دے ۔
————————————-
۳۵« اَللّٰهُمَّ اهْدِنِیْ مِنْ عِنْدِكَ، وَاَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِكَ، وَاَسْبِغْ عَلَیَّ مِنْ رَّحْمَتِكَ، وَاَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْۢ بَرَكَاتِكَ».[38]
اے اللہ! مجھے اپنے ہاں سے ہدایت نصیب کر اور مجھے اپنے فضل و کرم سے مستفید کر اور مجھ پر اپنی رحمت کامل کر، اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل کر ۔
————————————-
۳۶« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ، وَارْحَمْنِیْ، وَتُبْ عَلَیَّ، اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ».[39]
اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر، اور میری تو بہ قبول کر ، تو ہی بڑا تو بہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم والا ہے ۔
————————————-
۳۷« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ تَوْفِيْقَ اَهْلِ الْهُدٰى، وَاَعْمَالَ اَهْلِ الْيَقِيْنِ، وَمُنَاصَحَةَ اَهْلِ التَّوْبَةِ، وَعَزْمَ اَهْلِ الصَّبْرِ، وَجِدَّ اَهْلِ الْخَشْيَةِ، وَطَلَبَ اَهْلِ الرَّغْبَةِ، وَتَعَبُّدَ اَهْلِ الْوَرَ عِ، وَعِرْفَانَ اَهْلِ الْعِلْمِ حَتّٰى اَلْقَاكَ، اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ مَخَافَةً تَحْجُزُنِیْ عَنْ مَّعَاصِيْكَ، حَتّٰى اَعْمَلَ بِطَاعَتِكَ عَمَلًا اَسْتَحِقُّ بِهٖ رِضَاكَ، وَحَتَّى اُنَاصِحَكَ بِالتَّوْبَةِ خَوْفًا مِّنْكَ، وَحَتّٰی اُخْلِصَ لَكَ النَّصِيْحَةَ حَيَآءً مِّنْكَ، وَحَتّٰىۤ اَتَوَكَّلَ عَلَيْكَ فِیْ الْاُمُوْرِ كُلِّهَا، وَحُسْنَ ظَنٍّ ۢ بِكَ، سُبْحَانَ خَالِقِ النُّوْرِ».[40]
اے اللہ! میں تجھ سے توفیق مانگتا ہوں اہلِ ہدایت کی سی، اور عمل اہلِ یقین کے سے، اور اخلاص اہلِ توبہ کا سا، اور ہمت اہلِ صبر کی سی ، اور کوشش ومجاہدہ اہلِ خوف کی سی ، اور طلب اہلِ شوق کی سی ، اور عبادت اہلِ تقوی کی سی ، اور معرفت اہلِ علم کی سی ، تا آں کہ میں تجھ سے آ ملوں۔
اے اللہ! میں تجھ سے وہ خوف مانگتا ہوں جو مجھے تیری نافرمانیوں سے روک دے، تاکہ میں تیری طاعت کے ایسے عمل کروں جن سے میں تیری خوشنودی کا مستحق ہو جاؤں ، اور تاکہ میں تجھ سے ڈر کر تیرے سامنے خالص توبہ کروں، اور تا کہ تجھ سے شرما کر تیری مخلصانہ عبادت کروں، اور تا کہ کُل کاموں میں تجھ پر بھروسہ کروں، اور تیرے ساتھ گمانِ نیک کا سوالی ہوں،[41] پاک ہے اے نور کے پیدا کرنے والے!۔
————————————-
۳۸« اَللّٰهُمَّ لَا تُهْلِكْنَا فُجَآءَةً، وَّلَا تَاْخُذْنَا بَغْتَةً، وَّلَا تُغْفِلْنَا عَنْ حَقٍّ وَّلَا وَصِيَّةٍ».[42]
اے اللہ! ہمیں ناگہاں ہلاک نہ کرنا ، اور نہ ہمیں اچانک پکڑنا ، اور نہ ہمیں کسی حق کی ادائیگی اور وصیت کرنے سے غفلت میں رکھنا۔
————————————-
۳۹« اَللّٰهُمَّ اٰنِسْ وَحْشَتِیْ فِیْ قَبْرِیْ».[43]
اے اللہ ! میری قبر میں وحشت کی جگہ اُنس پیدا کر دینا ۔
————————————-
۴۰ «اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِیْ بِالْقُرْاٰنِ الْعَظِيْمِ، وَاجْعَلْهُ لِیْۤ اِمَامًا وَّنُوْرًا وَّهُدًى وَّرَحْمَةً، اَللّٰهُمَّ ذَكِّرْنِیْ مِنْهُ مَا نَسِيْتُ، وَعَلِّمْنِیْ مِنْهُ مَا جَهِلْتُ، وَارْزُقْنِیْ تِلَاوَتَهٗ اٰنَآءَ اللَّيْلِ وَاٰنَآءَ النَّهَارِ، وَاجْعَلْهُ لِیْ حُجَّةً يَّارَبَّ الْعَالَمِيْنَ».[44]
اے اللہ! مجھ پر قرآنِ عظیم کے طفیل میں رحم کرنا ، اور اسے میرے حق میں رہبر اور نور اور ہدایت اور رحمت بنا دینا، اے اللہ! میں اس میں سے جو کچھ بھول گیا ہوں وہ مجھے یاد کرا دے، اور اس میں سے جو کچھ میں نہ جانتا ہوں وہ مجھےسکھا دے اور مجھے اس کی تلاوت دن اور رات کے اوقات میں نصیب کر، اور اسے میرے لئے حُجت بنادے، اے پروردگار عالم ۔
————————————-
۴۱« اَللّٰهُمَّ اَنَا عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ اَمَتِكَ، نَاصِيَتِیْ بِيَدِكَ، اَتَقَلَّبُ فِیْ قَبْضَتِكَ، وَاُصَدِّقُ بِلِقَآئِكَ، وَاُوْمِنُ بِوَعْدِكَ، اَمَرْتَنِیْ فَعَصَيْتُ، وَنَهَيْتَنِیْ فَاَبَيْتُ، هٰذَا مَكَانُ الْعَآئِذِ بِكَ مِنَ النَّارِ، لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحَانَكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْۤ، اِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ».[45]
اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں اور بیٹا ہوں تیرے بندے اور بندی کا ، ہمہ تن تیری ہی مٹھی میں ہوں، تیرے قبضہ میں چلتا پھرتا ہوں ، تیرے ہی ملنے کی تصدیق کرتا ہوں، اور تیرے وعدہ پر یقین رکھتا ہوں، تو نے مجھے حکم دیا، لیکن میں نے نافرمانی کی ، اور تو نے مجھے (گناہ سے)روکا تو میں نے اس کا ارتکاب کیا، یہ جگہ دوزخ سے پناہ لینے کی تیرے ذریعہ سے ہے(یہ عاجزانہ حیثیت ہے جہنم سے تیری پناہ چاہنے والے کی)، کوئی معبود نہیں ہے سوائے تیرے، تُو پاک ہے، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا (اور اپنا برا کیا)، تو مجھے بخش دے، بے شک کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا بجز تیرے۔
————————————-
۴۲« اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، وَاِلَيْكَ الْمُشْتَكٰى، وَبِكَ الْمُسْتَغَاثُ، وَاَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ».[46]
اے اللہ ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، اور تجھ ہی سے میں شکایت کر رہا ہوں اور تجھی سے ہی فریاد ہے ، اور تجھ سے ہی مدد چاہتا ہوں اور برائیوں سے حفاظت اور بھلائیوں اور نیکیوں کی قدرت صرف اللہ سے ملا کرتی ہے۔
————————————-
۴۳« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ بِمُحَمَّدٍ (ﷺ) نَّبِيِّكَ، وَاِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِكَ، وَمُوسٰى نَجِيِّكَ، وَعِيسٰى رُوْحِكَ وَكَلِمَتِكَ، وَبِكَلَامِ مُوسٰى، وَاِنْجِيْلِ عِيْسٰى، وَزَبُوْرِ دَاوٗدَ، وَفُرْقَانِ مُحَمَّدٍ (ﷺ)، وَبِكُلِّ وَحْیٍ اَوْحَيْتَهٗۤ، اَوْ قَضَآءٍ قَضَيْتَهٗ، اَوْسَآئِلٍ اَعْطَيْتَهٗ، اَوْ فَقِيْرٍ اَغْنَيْتَهٗ، اَوْ غَنِیٍّ اَفْقَرْتَهٗ، اَوْ ضَآلٍّ هَدَيْتَهٗ، وَاَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِیْۤ اَنْزَلْتَهٗ عَلٰى مُوسٰى، وَاَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَهٗ عَلَى الْاَرْضِ فَاسْتَقَرَّتْ، وَعَلَى السَّمَاوَاتِ فَاسْتَقَلَّتْ، وَعَلَى الْجِبَالِ فَرَسَتْ، وَاَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذِی اسْتَقَرَّ بِهٖ عَرْشُكَ، وَاَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الْمُطَهَّرِ الْمُنَزَّلِ فِیْ كِتَابِكَ مِنْ لَّدُنْكَ، وَبِاسْمِكَ الَّذِیْ وَضَعْتَهٗ عَلَى النَّهَارِ فَاسْتَنَارَ، وَعَلَى اللَّيْلِ فَاَظْلَمَ، وَبِعَظَمَتِكَ وَكِبْرِيَآئِكَ، وَبِنُوْرِ وَجْهِكَ اَنْ تَرْزُقَنِیَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ، وَتُخْلِطَهٗ بِلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ، وَتَسْتَعْمِلَ بِهٖ جَسَدِیْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، فَاِنَّهٗ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِكَ».[47]
اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں بطفیلِ حضرت محمدﷺ کے جو تیرے نبی ہیں، اور بطفیلِ ابراہیم علیہ السلام کے جو تیرے خلیل ہیں اور اور بطفیلِ موسیٰ علیہ السلام کے جو تیرے کلیم ہیں (جو تجھ سے ہم کلام ہوئے)، اور بطفیلِ عیسٰی علیہ السلام کے جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں (تیرے کلمۂ کُن سے پیدا ہونے والے)، اور بطفیلِ کلامِ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے، اور انجیلِ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے، اور زبورِ حضرت داؤد علیہ السلام کے، اور فرقانِ حضرت محمدﷺ کے، اوربطفیلِ ہر وحی کے جسے تو نے بھیجا ہو یا ہر حکم ِ(تکوینی) کے جسے تو نے جاری کیا ہو، اور بطفیلِ ہر سائل کے جس کو تو نےتونگر کر دیا ہو اور ہر اس نیازمند کے جسے تو نے (اپنے سوا سب سے) بے نیاز کر دیا ہو، اور بطفیلِ ہر تونگر کے جس کو تو نے محتاج کر دیا ہو، اور ہر گمراہ کے جسے تو نے ہدایت دے دی ہو، اور میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں بطفیل تیرے اُس نام کے جس کو تو نے زمین پر رکھا اور وہ ٹھہر گئی، اور آسمانوں پر رکھا تو وہ قرار پکڑ گئے ، اور پہاڑوں پر رکھا تو وہ جم گئے، اور درخواست کرتا ہوں میں تجھ سے بطفیل اس نام کے جس سے تیرا عرش ٹھہرا ہوا ہے، اور درخواست کرتا ہوں میں تجھ سے بطفیل اُس نام کے کہ وہ پاک ہے اور ستھرا ہے، اور تیری کتاب میں تیرے پاس سے نازل ہوا ہے، اور بطفیل تیرے اُس نام کے جسے تو نے دن پر رکھا تو وہ روشن ہو گیا اور رات پر رکھا تو وہ اندھیری ہو گئی، اور بطفیل تیری عظمت اور تیری بڑائی کے، اور بطفیل تیرے نورِ ذات کے، کہ تو مجھے قرآنِ عظیم نصیب کرے، اور اسے میرے گوشت میں اور میرے خون میں اور میری شنوائی میں اور میری بینائی میں پیوست کردے، اور اپنی قدرت اور قوت سےاس پر میرے جسم کو عمل پیرا بنادے ، بے شک نہ کوئی بچاؤ (معصیت سے)ہے، سو حقیقت بات یہ ہےکہ بغیر تیری توفیق کے نہ ہم گناہوں سے بچ سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں نیکی کرنے پر کوئی قوت حاصل ہے۔
————————————-
۴۴« بِسْمِ اللّٰهِ ذِی الشَّأْنِ، عَظِيْمِ الْبُرْهَانِ، شَدِيدِ السُّلْطَانِ، مَاشَآءَاللهُ كَانَ، اَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ».[48]
اللہ کے نام کے ساتھ (یہ دن اور رات شروع کرتا ہوں) جو بڑی شان والا ہے، عظیم برہان والا ہے (بہت مضبوط دلیل والا)، بڑے دبدبے والا ہے، جو چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔
————————————-
۴۵« اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِیْ فِی الْمَوْتِ، وَفِيْمَا بَعْدَ الْمَوْتِ». [49]
(25 مرتبہ)
اے اللہ! میری موت کو میرے حق میں بابرکت بنا دے، اور موت کے بعد پیش آنے والے تمام احوال کو بھی میرے لیے بابرکت فرما دے۔
————————————-
۴۶« اَللّٰهُمَّ لَا تُؤْمِنَّا مَكْرَكَ، وَلَا تُنْسِنَا ذِكْرَكَ، وَلَا تَهْتِكْ عَنَّا سِتْرَكَ، وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْغَافِلِيْنَ».[50]
اے اللہ! تو ہمیں اپنی خفیہ گرفت کی طرف سے بے فکر نہ کردے اور نہ ہمیں اپنی یاد سے غافل ہونے دے، اور ہماری پردہ دری نہ کر (اپنی عیب پوشی کا پردہ ہمارے اوپر سے چاک نہ کر)، اورہمیں غافلوں میں سے نہ کر ۔
————————————-
۴۷« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ ضِيْقِ الدُّنْيَا، وَضِيْقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ».[51]
اے اللہ! میں دنیا کی تنگی، گھٹن اور دشواری سے، اور قیامت کے دن کی تنگی اور سختی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
————————————-
۴۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ تَعْجِيْلَ عَافِيَتِكَ، وَدَفْعَ بَلَآئِكَ، وَخُرُوْجًا مِّنَ الدُّنْيَا اِلٰى رَحْمَتِكَ».[52]
اے اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں عافیتِ عاجل کی (یعنی ہمیشہ عافیت میں رہوں)، اور دفعِ بلا کی، اور دنیا سے تیری رحمت کی جانب منتقل ہونے کی ۔
————————————-
۴۹« يَا مَنْ يَّكْفِیْ عَنْ كُلِّ اَحَدٍ، وَّلَا يَكْفِیْ مِنْهُ اَحَدٌ ، يَّاۤاَحَدَ مَنْ لَّاۤ اَحَدَ لَهٗ، يَاسَنَدَ مَنْ لَّا سَنَدَ لَهٗ، اِنْقَطَعَ الرَّجَآءُ اِلَّا مِنْكَ، نَجِّنِیْ مِمَّآ اَنَا فِيْهِ، وَاَعِنِّیْ عَلٰى مَاۤ اَنَا عَلَيْهِ مِمَّا قَدْ نَزَلَ بِیْ، بِجَاهِ وَجْهِكَ الْكَرِيْمِ، وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ (ﷺ) عَلَيْكَ. اٰمِين!»[53]
اے وہ جو ہر کسی سے بے نیاز بنا دے اور اس سے کوئی بھی بے نیاز نہ ہوسکے، اے وہ یکتا جس کا کوئی دوسرا شریک نہیں، اے بے سہاروں کے سہارا، بجز تیرے ہر ایک سے امید ختم ہو چکی ہے ،اپنی ذاتِ پاک کا صدقہ اور حضرت محمدﷺ کے اس حق کے طفیل میں جو تجھ پر ہے مجھے اس مصیبت سے رہائی دے جس میں میں گرفتار ہوں، اور اس مشکل میں ، جو مجھ پر آن پڑی ہے، میری نصرت فرما، آمین۔
————————————-
۵۰ «اَللّٰهُمَّ احْرُسْنِیْ بِعَيْنِكَ الَّتِیْ لَا تَنَامُ، وَاكْنُفْنِیْ بِرُكْنِكَ الَّذِیْ لَا يُرَامُ، وَارْحَمْنِیْ بِقُدْرَتِكَ عَلَیَّ فَلَاۤ اَهْلِكَ، وَاَنْتَ رَجَآئِیْ، فَكَمْ مِنْ نِّعْمَةٍ اَنْعَمْتَ بِهَا عَلَیَّ قَلَّ لَكَ بِهَا شُكْرِیْ، وَكَمْ مِنْۢ بَلِيَّةِنِابْتَلَيْتَنِیْ بِهَا، قَلَّ لَكَ بِهَا صَبْرِیْ، فَيَا مَنْ قَلَّ عِنْدَ نِعْمَتِهٖ شُكْرِیْ فَلَمْ يَحْرِمْنِیْ، وَيَا مَنْ قَلَّ عِنْدَ بَلِيَّتِهٖ صَبْرِیْ فَلَمْ يَخْذُلْنِیْ، وَيَا مَنْ رَّاٰنِیْ عَلَى الْخَطَايَا فَلَمْ يَفْضَحْنِیْ، يَاذَا الْمَعْرُوْفِ الَّذِیْ لَا يَنْقَضِیْۤ اَبَدًا، وَيَا ذَا النَّعْمَآءِ الَّتِیْ لَا تُحْصٰۤى اَبَدًا، اَسْأَلُكَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰى مُحَمَّدٍ (ﷺ) وَعَلٰۤى اٰلِ مُحَمَّدٍ ( ﷺ)، وَّبِكَ اَدْرَاُ فِیْ نُحُوْرِ الْاَعْدَآءِ وَالْجَبَابِرَةِ،»
«اَللّٰهُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰى دِينِیْ بِالدُّنْيَا، وَعَلٰۤى اٰخِرَتِیْ بِالتَّقْوٰى، وَاحْفَظْنِیْ فِيْمَا غِبْتُ عَنْهُ، وَلَا تَكِلْنِیْ اِلٰى نَفْسِیْ فِيْمَا حَضَرْتُهٗ، يَا مَنْ لَّا تَضُرُّهُ الذُّنُوْبُ، وَلَا تَنْقُصُهُ الْمَغْفِرَةُ، هَبْ لِیْ مَا لَا يَنْقُصُكَ، وَاغْفِرْ لِیْ مَالَا يَضُرُّكَ، اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ.»
«اَسْأَلُكَ فَرَجًا قَرِيْبًا، وَّصَبْرًا جَمِيْلًا، وَّرِزْقًا وَّاسِعًا، وَّالْعَافِيَةَ مِنْ جَمِيْعِ الْبَلَآءِ، وَاَسْأَلُكَ تَمَامَ الْعَافِيَةِ، وَاَسْأَلُكَ دَوَامَ الْعَافِيَةِ، وَاَسْأَلُكَ الشُّكْرَ عَلَى الْعَافِيَةِ، وَاَسْأَلُكَ الْغِنٰى عَنِ النَّاسِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْمِ».[54]
اے اللہ! میری نگہبانی کر اپنی اُس آنکھ سے جو کبھی سوتی نہیں، اور مجھے اپنی اس قوت و حفاظت کی آڑ میں لے لے جس کے پاس کوئی نہیں پھٹک سکتا، اور اپنے اختیار سے مجھ پر اس قدر رحم کر کہ میں تباہی سے بچ جاؤں ، اور تو ہی میری امیدوں کا مرکزہے، کتنی ہی نعمتیں تو نے مجھے دیں، اور میرا اُن کے لئے شکر کم ہی رہا، اور کتنی مصیبتیں ہیں جن میں تو نے مجھے مبتلا کیا، اور میرا صبر ان پر کم ہی رہا، پس اے وہ ذات کہ جس کی نعمتوں کی کامل شکر گزاری نہ ہونے کے باوجود اس نے مجھے محروم نہ رکھا، اور اے وہ ذات کہ اس کی آزمائشوں پر پوری طرح صبر نہ کرنے کے باوجود اس نے میرا ساتھ نہ چھوڑا، اور اے وہ ذات کہ جس نےمجھے گنا ہوں پر دیکھا، پھر بھی مجھے ذلیل و رسوا نہ کیا۔
اے ایسے احسان والے جس کا احسان کبھی ختم نہ ہو ! اور اے ایسے نعمتوں والے کہ جس کی نعمتیں کبھی شمار نہ ہوسکیں ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ پر اور حضرت محمدﷺ کی آل پر رحمتِ کامل نازل کر،[55] میں تیرے ہی زور پر بھڑ جاتا ہوں دشمنوں اور زور آوروں کے مقابلہ میں ۔
اے اللہ! میرے دین پر مددگار دنیا کو بنا دے، اور میری آخرت پر مددگار تقویٰ کو کر دے، اور میری غیر موجودگی میں میرے معاملات کی نگرانی فرما اور میری موجودگی میں ہونے والے معاملات میں تو مجھے میرے نفس کے حوالہ نہ کر، اے وہ ذات کہ نہ اسے گناہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور نہ اُس کے ہاں(گناہ گاروں کی) مغفرت کوئی کمی کرتی ہے، مجھے وہ چیز (مغفرت عطا کر)دے جو تیرے ہاں کمی نہیں کرتی ، معاف کر دے مجھے وہ چیز (گناہ)کہ تجھے نقصان نہیں پہنچاتی ، بے شک تُو ہی بڑا دینے والا ہے، میں درخواست کرتا ہوں تجھ سے فوری کشائش کی ، اور صبرِ جمیل کی ، اور رزقِ وسیع کی ، اور جملہ بلاؤں سے امن کی ، اور میں مانگتا ہوں تجھ سے پورا چین و عافیت، اور مانگتا ہوں تجھ سے اس چین و عافیت کا دوام، اور مانگتا ہوں تجھ سے اس چین پر توفیقِ شکر ، اور مانگتا ہوں تجھ سے مخلوق کی طرف سے بے احتیاجی اور بے نیازی ۔
گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ بزرگ و برتر کی طرف سے ہے ۔
————————————-
۵۱« يَا رَبِّ ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ».[56]
اے میرے رب، اے میرے پروردگار، اے میرے پالنہار!
————————————-
[1] کنز العمال (3660)
[2] کنز العمال (3661)
[3] کنز العمال (3662)
[4] کنز العمال (3663)
[5] کنز العمال (3666)
[6] معجم الصحابة للبغوي (2080)
[7] مسند أحمد (22879)، مستدرک حاکم (8557)
[8] ایک اور حدیث میں قلوبُ الأعاجم سے مراد حُبِ دنیا لی گئی ہے (سلسله احاديث صحيحه: 3777)، جہاں تک عربوں کی سی زبانوں” (ألسنتُهم ألسنةُ العرب) کا تعلق ہے اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ لوگ ظاہری طور پر مذہبی گفتگو کریں لیکن ان کے دل نفاق سے بھرے ہوں، واللہ اعلم۔ علامہ منّاوی ؒنے “فَیضُ القَدیر” میں ان دو الفاظ کی شرح یوں کی ہے: ”دل اخلاقِ خیر سے دور، ریا و نفاق سے بھرے؛ زبانیں عربی یعنی متشدِّق، متفصِّح، متفیهق“۔ متشدق وہ شخص ہے جو عمدہ گفتگو کے لئے باچھوں کو موڑ کر یعنی تصنع سے بات کرے۔
[9] المعجم الاوسط (2142)
[10] عام طور پر اسکا ترجمہ بیوہ عورت کی بربادی (اس شخص کی خرابیٔ حال جو اپنے شوہر یا بیوی کی وفات کے بعد زوج یا زوجہ سے محروم ہو جائے) سے کیا جاتا ہے لیکن ہمارے خیال میں بوار الایم کا مطلب بے زوج رہ جانے کی بربادی اور نقصان ہے اور اس دعا سے مراد کسی عورت یا بے زوج شخص کی تحقیر نہیں، بلکہ اُس معاشرتی، نفسیاتی، دینی یا عفت و کفالت سے متعلق نقصان سے پناہ ہے جو نکاح کا مناسب بندوبست نہ ہونے سے پیدا ہوسکتا ہے۔
[11] کنز العمال (3687)
[12] اس دعا میں استعمال کردہ لفظ ’فتنہ‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے مختلف مفاہیم ہیں جن میں سے ایک آزمائش یا امتحان ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :
﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴾( 15 64:)
’تمہارے مال اوراولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں۔ اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے۔
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے :
﴿وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةًؕ ﴾( 21:35 )
’ اور ہم اچھے اور بُرے حالات (سختی اور آسودگی)میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔
اسی طرح قرآن سورۃ زمر کی آیت 49 میں کہتا ہے کہ نعمتیں اور متاعِ دنیا تو دراصل آزمائش ہیں۔ لیکن انسان سمجھتا ہے کہ اسے سب کچھ علم کی بنا پر دیا گیاہے۔ ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍؕ-بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ﴾
اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک اور حدیث میں فرمایا :
إنَّ لكلِّ أُمَّةٍ فتنةً وإنَّ فتنةَ أُمَّتي المالُ ( ترمذی : 2336 )
’کہ ہر امت کے لیے ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔‘
اللہ اور اللہ کے رسولﷺ جن معنوں میں کسی کو فتنہ کہہ رہے ہیں وہ آزمائش اور امتحان کے ہیں کہ اس دنیا میں مال، اولاد، زوج (یعنی عورت کے لیے اسکا شوہر، مرد کے لیے اسکی بیوی)، اقتدار اور شہرت وغیرہ فتنہ ہیں کسی بھی مرد اور عورت کے لئے۔ کیونکہ یہ چیزیں انسان کو اس کا ربّ بھلا سکتی ہیں، اسکے دین سے غافل کرسکتی ہیں۔ لہٰذا تنبیہ کے طور پر انسان کو بتلایا گیا ہے۔ فتنۂ نسا ءکا ایک مطلب خواہشِ نفس یا جنسی خواہش بھی ہوسکتا ہے کہ میری خواہشِ نفس میرے لیے آزمائش نہ بن جائے، اس لیے یہ دعا دونوں، یعنی مرد اور عورت، کے لیے اہم ہے۔ واللہ اعلم
[13] صحيح مسلم (90-2601) مسند أحمد (9074)
[14] صحیح مسلم(2712)، رات کو سونے کے وقت کی دعا
[15] مسند الفردوس (8830)، مصنف ابن أبي شيبہ(15135 و29656)
[16]المسند الحارث (78 و469)، وضو شروع کرتے وقت
[17]المسند الفردوس (8830) ، ہاتھ دھوتے وقت
[18] کتاب الاذکار للنووی (65)، چہرہ دھوتے وقت
[19] كنز العمال (26990)، سر کا مسح کرتے وقت
[20] كنز العمال (26992)، پاؤں دھوتے وقت
[21] عمل اليوم والليلة لابن السني (92)، كنز العمال (17960)، رسول اللہﷺ مؤذن سے حی علی الفلاح سن کر یہ کہتے
[22] عمل اليوم والليلة (100)، مسند الفردوس 1/484 (1978)، جب مؤذن اذان شروع کرے تو یہ دعا پڑھی جائے۔
[23] عمل اليوم والليلة (155)، مسجد سے نکلتے وقت کی دعا، شیطان کچھ ضرر نہ پہنچا سکے گا۔
[24] مستدرک حاکم (2402)، صف میں شامل ہوتے وقت
[25] المعجم الکبیر (7048)، نوافل میں تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے ایک
[26] مصنف عبد الرزاق (4968)، قنوت نازلہ کا یک حصہ
[27] الدعاء للطبراني (750)، قنوت نازلہ کا یک حصہ
[28] مصنف عبد الرزاق (4968 و4982)، قنوت نازلہ کا یک حصہ
[29] معجم الكبير (9799) مجمع الزوائد (2862 و3394) ، کسی حاجت کے وقت نماز میں تشہد کے بعد یہ دعا پڑھی جائے۔
[30] مسند احمد (396)، اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء، نفل نماز میں مانگنے کی عظیم دعا
[31] کنزالعمال (22546)
[32] مسند الفردوس (2132)، جامع صغیر (6741)، حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نماز سے فارغ ہوکر دائیں ہاتھ کو سر پر رکھ کر یہ دعا پڑھتے۔
[33] مسند الفردوس (1956)
[34] مجمع الزوائد (16973)، وعمل اليوم والليلة لابن السني (120)، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جو بھی فرض نماز پڑھائی اس کے بعد آپﷺ نے ہماری طرف اپنا چہرۂ انور پھیر کر یہ دعا پڑھی ہے۔
[35] كنز العمال (3476)، مسند الفردوس (1970)، رسول کریمﷺ فرض نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر یہ دعا پڑھتے تھے۔
[36] كنز العمال (4977)
[37] كنز العمال (21015 اور 3479)، فرض نماز کے بعد اس نماز کو مانگنے سے بروزِ قیامت نبی کریمﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔
[38] مسند الفردوس (1911)، جامع الأحاديث للسيوطي (9135)، كنزالعمال (3520)، نماز فجر کے بعد اس دعا کو تین دفعہ مانگنے سے اللہ برص، جذام، فالج، اور اندھے پن سے نجات عطا فرماتے ہیں۔
[39] مسند أحمد (5354)، مسند الفردوس (3241)، المعجم الكبير (13532)
[40] مسند الفردوس (1841)، معجم الاوسط(2318)، صلوۃ التسبیح میں تشہد کے بعد سلام سے پہلے کی دعا
[41] اللہ کے ساتھ خوش گمانی کا حکم دیا گیا ہے۔سنن ترمذی (2388) میں ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے۔“
[42] المعجم الاوسط (7572)، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (3226) ، نبی کریمﷺ کی عیدین کی دعا کا ایک حصہ
[43] كنز العمال (2784)، ختم قرآن کی دعا
[44] تخريج أحاديث الإحياء للعراقي(694/2)، ختم قرآن کی دعا
[45] مسند أحمد (4318)، المعجم الكبير (10198) اور مسند الفردوس (1895)
[46] مسند الفردوس (1807): حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا بنی اسرائیل کے ساتھ دریا پار کرتے ہوئے۔
[47] الدعا للطبراني (1449) نحوه، رواه أبو الشيخ في كتاب الثواب كما في تخريج أحاديث الإحياء للعراقي 1/1314
[48] کنز العمال (3862)، جو شخص دن کے شروع میں اور رات کے شروع میں یہ دعا پڑھے اللہ پاک اس کو ابلیس اور اس کے لشکر سے محفوظ رکھیں گے۔
[49] مجمع الزوائد (5/304)، المعجم الاوسط (7676)، اس دعا کو روزانہ 25 دفعہ پڑھنے والے کو موت پر شہادت کا درجہ ملتا ہے۔
[50] مسند الفردوس (2017)
[51] سنن ابوداؤد (5085)، شریق ہوزنی کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓکے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ
رسول اللہ ﷺ جب رات میں نیند سے جاگتے تو پہلے کیا کرتے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، اَللهُ اكبر کہتے، دس بار الحمد الله کہتے، دس بار سبحان الله وبحمده کہتے، دس بار سبحان الملك القدوس کہتے، اور دس بار استغفر الله کہتے، اور دس بار لا إله إلا الله کہتے، پھر دس بار یہ دعاکہتے، پھر نماز شروع کرتے۔
[52] صحيح ابن حبان (918)، المعجم الاوسط (969)، مستدرک حاکم(1917 1/703)
[53] مسند الفردوس (1282)۔ نبی کریم ﷺ کے ’حقوق موہوبہ‘ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے وعدوں کے ذریعے لازم فرما دیا—خصوصاً مقامِ محمود/شفاعت (17:79)، نصرت و غلبہ(48:1)، حفاظت(5:67)، اعلاءِ ذِکر(94:4)، کوثر یا حوض ِ کوثر(108:1)، وغیرہ
[54] مسند الفردوس (8317)، كنز العمال (3441)، مسند الفردوس (1913 و1832)، القول البدیع (437)،
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کو کوئی ضرورت یا پریشانی لاحق ہوتی تو آپﷺ اس دعا کو پڑھتے۔
[55] رسول ِ کریم ﷺ سے پوچھا گیا: آلِ محمدﷺ کون ہیں؟ فرمایا: ہر متقی(شخص) ،اور پھر آپﷺ نے فرمایا: (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ) (مجمع الزوائد: 17946)]
[56] حلیۃ الاولیاء (313)، تفسير ابن أبي حاتم (4668)2 /844
