چوتھی منزل – بروزِ منگل

۝۱« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَ لَةِ، وَخَيْرَ الدُّعَآءِ، وَخَيْرَ النَّجَاحِ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ، وَخَيْرَ الثَّوَابِ، وَخَيْرَ الْحَيَاةِ، وَخَيْرَ الْمَمَاتِ وَثَبِّتْنِیْ، وَثَقِّلْ مَوَازِيْنِیْ، وَحَقِّقْ اِيْمَانِیْ وَارْفَعْ دَرَجَتِیْ، وَتَقَبَّلْ صَلَاتِیْ، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِیْ، وَاَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰى مِنَ الْجَنَّةِ، اٰمِيْنَ».

« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهٗ، وَجَوَامِعَهٗ وَكَوَامِلَهٗ، وَاَوَّلَهٗ وَاٰخِرَهٗ، وَظَاهِرَهٗ وَبَاطِنَهٗ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلٰى مِنَ الْجَنَّةِ، اٰمِيْنَ».

 اَللّٰهُمَّ نَجِّنِیْ مِنَ النَّارِ، وَارْزُقْنِیْ مَغْفِرَةً بِالْلَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ مِنَ الْجَنَّةِ، اٰمِينَ».

« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ خَلَاصًا مِّنَ النَّارِ سَالِمًا، وَّاَنْ تُدْخِلَنِیَ الْجَنَّةَ اٰمِنًا. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا اٰتِیْ، وَخَيْرَمَا اَفْعَلُ، وَخَيْرَ مَا اَعْمَلُ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّةِ، اٰمِيْنَ. اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ اَنْ تَرْفَعَ ذِكْرِیْ، وَتَضَعَ وِزْرِیْ، وَتُصْلِحَ اَمْرِیْ، وَتُطَهِّرَ قَلْبِیْ، وَتُحَصِّنَ فَرْجِیْ، وَتُنَوِّرَلَی فِی قَبْرِیْ، وَتَغْفِرَ لِی ذَنْۢبِی، وَاَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّةِ ، اٰمِينَ».

« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ اَنْ تُبَارِكَ لِیْ فِیْ سَمْعِیْ، وَفِیْ بَصَرِیْ، وَفِی رُوحِی، وَفِیْ خَلْقِیْ، وَفِیْ خُلُقِیْ، وَفِیْ اَهْلِیْ، وَفِیْ مَالِیْ، وَفِیْ مَحْيَایَ، وَفِیْ مَمَاتِیْ، وَفِیْ عَمَلِیْ.

 اَللّٰهُمَّ وَتَقَبَّلْ حَسَنَاتِی، وَاَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّةِ، اٰمِيْن».[1]

اے اللہ! میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعا، بہترین کامیابی، بہترین عمل،(اعمال کا) بہترین بدلہ، بہترین زندگی اور بہترین موت کا طلبگار ہوں، مجھے ثابت قدم رکھ، میری نیکیوں کے پلڑوں کو بھاری کر دے، میرے ایمان کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دے، میرے درجات بلند فرما، میری نماز قبول فرما، میری خطا معاف کر دے، اور میں تجھ سے جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں۔

 اے اللہ! میں تجھ سے خیر کے آغاز، اس کے انجام، اس کے جامع کمالات، اس کے اول، اس کے ظاہر اور اس کے باطن کا سوال کرتا ہوں اور جنت میں اعلیٰ درجات مانگتا ہوں، آمین!

اے اللہ! مجھے جہنم سے نجات عطا فرما، مجھے رات دن مغفرت نصیب فرما، اور جنت میں پاکیزہ و پسندیدہ ٹھکانہ عطا فرما۔ آمین!

اے اللہ! میں تجھ سے جہنم سے سلامتی کے ساتھ خلاصی مانگتا ہوں، اور یہ سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے امن و عافیت کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔

 اے اللہ! میں تجھ سے  مانگتا ہوں بھلائی اپنے کردار، اور اپنے ہر فعل اور عمل کی  اور ان تمام چیزوں کی  جو پوشیدہ ہیں یا  ظاہر ہو چکی ہیں، اور میں جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں، آمین!

اے اللہ! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو میرا تذکرہ بلند کر دے، میرے گناہوں کابوجھ  (میری گردن سے)اتار دے، میرے کام سنوار دے، میرا دل پاک کر دے، میری شرمگاہ کو محفوظ فرما دے، میری قبر کوروشن کر دے، میرے گناہ بخش دے، اور میں تجھ سے جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں، آمین!

 اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری جان میں، میری سماعت میں، میری بصارت میں، میری روح میں، میری ساخت (شکل و صورت)میں، میرے اخلاق و عادات میں، میرے گھر والوں میں،میرے مال میں ، میری زندگی میں، میری موت میں اور میرے عمل میں برکت عطا فرما۔

اے اللہ ،میری نیکیاں قبول کر لے، اور میں تجھ سے جنت کے بلند درجات کا سوال کرتا ہوں۔ آمین!

————————————-

۝۲« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ اَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَیَّ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّیْ، وَانْقِطَاعِ عُمْرِیْ».[2]

اے اللہ! میرے بڑھاپے کے دنوں میں اور میری عمر کے آخری حصے میں میری روزی میں زیادہ سے زیادہ وسعت فرما۔

————————————-

۝۳«   يَا مَنْ لَّا تَرَاهُ الْعُيُوْنُ، وَلَا تُخَالِطُهُ الظُّنُوْنُ وَلَا يَصِفُهُ الْوَاصِفُوْنَ، وَلَا تُغَيِّرُهُ الْحَوَادِثُ، وَلَا يَخْشَى الدَّوَآئِرَ، يَعْلَمُ مَثَاقِيْلَ الْجِبَالِ، وَمَكَا-ٓئِيلَ الْبِحَارِ، وَعَدَدَ قَطْرِ الْاَمْطَارِ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْاَشْجَارِ، وَعَدَدَ مَا اَظْلَمَ عَلَيْهِ اللَّيْلُ وَاَشْرَقَ عَلَيْهِ النَّهَارُ، وَلَا تُوَارِیْ مِنْهُ سَمَا-ٓءٌ سَمَآءً، وَّلَا اَرْضُ اَرْضًا، وَلَا بَحْرٌ مَّا فِیْ قَعْرِهٖ، وَلَا جَبَلٌ مَّا فِی وَعْرِهِ، اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِیْ اٰخِرَهٗ، وَخَيْرَ عَمَلِی خَوَاتِيمَهٗ، وَخَيْرَ اَيَّامِیْ يَوْمَ اَلْقَاكَ فِيْهِ».[3]

اے وہ ذات جسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں، جسے خیالات پا ہی نہیں سکتے، اور نہ بیان کرنے والے اس کی حمد و ثنا بیان  کر سکتے ہیں، جسے حوادثِ زمانہ بدل نہیں سکتے، اور جسے گردشِ ایام کا کوئی اندیشہ نہیں۔

جوپہاڑوں کے وزن، سمندروں کے پیمانوں، بارش کے قطروں کی تعداد، درختوں کے پتوں کی گنتی، اور ہر اُس چیز کو جانتا ہے جس پر رات کی تاریکی چھاتی ہے اور دن روشنی ڈالتا ہے۔ نہ کوئی آسمان دوسرے آسمان کو اُس سے چھپا سکتا ہے، نہ کوئی زمین دوسری زمین کو؛ نہ سمندر اپنی تہ میں موجود چیز کو اُس سے پوشیدہ رکھ سکتا ہے، اور نہ پہاڑ اپنی دشوار گزار گھاٹیوں میں موجود چیز کو اُس سے اوجھل کر سکتا ہے۔میری عمر کے آخری حصے کو میری زندگی کا بہترین حصہ کرنا، اور میرے آخری عمل میری زندگی کے بہترین عمل ہوں اور میرا سب سے اچھا دن وہ ہو جو تیرے حضور میں حاضری (اور تیری طرف لوٹنے) کا دن ہو۔

————————————-

 ۝۴« يَا وَلِیَّ الْاِسْلَامِ وَاَهْلِهٖ ثَبِّتْنِیْ بِهٖ حَتّٰى اَلْقَاكَ».[4]

 اے اسلام اور اہلِ اسلام کے مددگار ! مجھے اسلام پر ثابت قدم رکھ یہاں تک کہ میں تجھ سے مِل جاؤں۔

————————————-

۝۵« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ غِنَایَ وَغِنَا مَوْلَایَ».[5]

اے اللہ! میں تجھ سے  طلب کرتا ہوں اپنی اور اپنے متعلقین کی سیر چشمی(اور دنیا سے بے نیازی)۔

————————————-

۝۶« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی، وَارْحَمْنِی ، وَاَدْخِلْنِیَ الْجَنَّةَ».[6]

اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے جنت میں داخل فرما۔

————————————-

۝۷« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ صَبُوْرًا، وَّاجْعَلْنِی شَكُورًا، وَاجْعَلْنِیْ فِی عَيْنِی صَغِيْرًا، وَّفِیْ اَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيْرًا».[7]

اے اللہ!  (مصیبت آ جانے پر) مجھے خوب سہنے والا (اور صبر کرنے والا) بنا، اور مجھے بڑا احسان شناس بنا ( شکر کرنے والا بنا) اور مجھے میری اپنی نظر میں چھوٹا لیکن لوگوں کی نظروں میں بڑا بنا دے ۔

————————————-

۝۸«  اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ عِلْمًا نَّافِعًا، وَّعَمَلًا  مُّتَقَبَّلًا، وَرِزْقًا (حَلَالًا) طَيِّبًا».[8]

اے اللہ! میں تجھ سے  نفع بخش علم،مقبول عمل  اور پاکیزہ و حلال روزی کا سوال کرتا ہوں ۔

————————————-

۝۹« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْۢبِیْ، وَاَسْتَهْدِيْكَ لِمَرَاشِدِ اَمْرِیْ، وَاَسْتَجِيْرُكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ، وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ فَتُبْ عَلَیَّ، اِنَّكَ اَنْتَ رَبِّیْ. اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ رَغْبَتِیْۤ اِلَيْكَ، وَاجْعَلْ غِنَایَ فِیْ صَدْرِیْ، وَبَارِكْ لِیْ فِيْمَا رَزَقْتَنِیْ، وَتَقَبَّلْ مِنِّیْۤ، اِنَّكَ اَنْتَ رَبِّیْ».[9]

اے اللہ! میں اپنے گناہوں کی معافی تجھ ہی سے مانگتا ہوں، اپنے معاملات میں درست(اور کامیابی والی) راہوں کے لیے تجھ ہی سے ہدایت چاہتا ہوں، اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اور(اپنے گناہوں سے نادم ہو کر) تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں؛ پس میری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی میرا پروردگار ہے۔

اے اللہ! میریے دل کی رغبت اپنی ذاتِ پاک کی طرف کر دے، میرے سینے میں قناعت اور بے نیازی پیدا فرما، جو رزق تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور میری دعا و بندگی کو قبول فرما؛ بے شک تو ہی میرا رب ہے۔

————————————-

۝۱۰«  يَا مَنْ اَظْهَرَ الْجَمِيْلَ، وَسَتَرَ عَلَىَّ الْقَبِيْحِ، يَا مَنْ لَّا يُؤَاخِذُ بِالْجَرِيْرَةِ، وَلَا يَهْتِكُ السِّتْرَ، يَا عَظِيْمَ الْعَفْوِ، يَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ، يَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ،

يَا بَاسِطَ الْيَدَيْنِ بِالرَّحْمَةِ، يَا صَاحِبَ كُلِّ نَجْوٰى»،

« يَا مُنْتَهٰى كُلِّ شَكْوٰى يَا كَرِيْمَ الصَّفْحِ، يَا عَظِيْمَ الْمَنِّ، يَا مُبْدِئَ النِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقَاقِهَا، يَا رَبَّنَا، وَيَا سَيِّدَنَا، وَيَا مَوْلَانَا، وَيَا غَايَةَ رَغْبَتِنَا، اَسْأَلُكَ

يَا اللّٰهُ اَنْ لَّا تَشْوِیَ خَلْقِیْ بِالنَّارِ».[10]

اے وہ ذات جس نے (میری) خوبیاں سب پر ظاہر فرمادیں اورمیری برائیوں پر پردہ ڈالا؛ اے وہ ذات جو خطاؤں پر فوراً گرفت نہیں فرماتی اور پردہ چاک نہیں کرتی؛ اے بڑے معاف فرمانے والے، اے سب سے بہتر درگزر فرمانے والے، اے بڑی مغفرت والے، اے رحمت کرنےکے لیے دونوں ہاتھوں کو پھیلانے والے، اے ہر سرگوشی کے سننے والے، اے ہر شکایت کی آخری پناہ، اے کریمانہ چشم پوشی فرمانے والے، اے عظیم احسان والے، اے وہ ذات جو بندوں کے مستحق ہونے سے پہلے ہی نعمتوں کی ابتدا فرماتی ہے؛ اے ہمارے رب، اے ہمارے سردار، اے ہمارے مولا، اے ہماری رغبتوں  اور خواہشوں کی آخری منزل! اے اللہ! میں تجھ سے بس یہ سوال کرتا ہوں کہ میرے جسم کو آگ میں نہ جلانا۔

————————————-

۝۱۱ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ؛ فَاِنَّهٗ لَا يَمْلِكُهَا-ۤ اِلَّا اَنْتَ».[11]

اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں؛ کیونکہ تیرے سوا کوئی بھی اس فضل و رحمت کا مالک نہیں۔

————————————-

۝۱۲« اَللّٰهُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ».[12]

اے اللہ! تو نے میری صورت اچھی بنائی، پس میری سیرت (اخلاق) بھی اچھے کردے ۔

————————————-

۝۱۳« رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَاهْدِنِی السَّبِيْلَ الْاَقْوَمَ».[13]

اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے سب سے سیدھےاور درست راستے کی ہدایت عطا فرما ۔

————————————-

۝۱۴« اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّبِیِّ مُحَمَّدٍ (ﷺ) اِغْفِرْلِیْ ذَنْۢبِی، وَاَذْهِبْ (عَنِّیْ) غَيْظَ قَلْبِیْ، وَاَجِرْنِیْ مِنْ مُّضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَاۤ اَحْيَيْتَنَا». [14]

اے اللہ! نبی محمد کے رب! میرےگناہ بخش دے،اور میرے دل کی کھولن (الجھن و بے چینی) دور کردے اور جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمیں گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچائے رکھ ۔

————————————-

۝۱۵« اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِیْ طَيِّبًا، وَاسْتَعْمِلْنِی طَيِّبًا».[15]

اے اللہ! مجھے پاکیزہ، حلال اور بابرکت رزق عطا فرما، اور مجھے اچھے کاموں میں لگائے رکھ۔

————————————-

۝۱۶« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ  اَسْأَلُكَ مِنْ فُجَآءَةِ الْخَيْرِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ فُجَآءَةِ الشَّرِّ».[16]

اے اللہ! میں تجھ سے غیر متوقع بھلائی مانگتا ہوں ، اور ناگہانی (آفت و ) برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔

————————————-

۝۱۷« اَللّٰهُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، وَاِلَيْكَ يَعُوْدُ السَّلَامُ؛ اَسْأَلُكَ يَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، اَنْ تَسْتَجِيْبَ لَنَا دَعْوَتَنَا، وَاَنْ تُعْطِيَنَا رَغْبَتَنَا، وَاَنْ تُغْنِيَنَا عَمَّنْ اَغْنَيْتَهٗ عَنَّا مِنْ خَلْقِكَ». [17]

اے اللہ! تو سراپا سلامتی ہے،  اور تجھی سے سلامتی کی ابتدا ہے، اور ہر سلامتی تیری ہی طرف لوٹتی ہے۔ اے صاحبِ عزت وجلال! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تو ہمارے حق میں ہماری دعا قبول فرما، ہماری خواہشیں   اور حاجات پوری فرما، اور اپنی مخلوق میں سے جن لوگوں کو تو نے ہم سے بے نیاز کر دیا ہے، ہمیں بھی اپنے فضل سے اُن سے بے نیاز فرما دے۔

————————————-

۝۱۸« رَبِّ قِنِیْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ».[18]

اے میرے رب! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لینا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے (یا جمع) کرے گا۔

————————————-

۝۱۹ « اَللّٰهُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِیْ».

اے اللہ!تُو ہی میرے لیے پسندفرما اور تُو ہی جو بہتر ہو وہ مجھے چھانٹ کر دے دے۔[19]

————————————-

۝۲۰« اَللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً، وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ».[20]

اے اللہ! اے ہمارے  پروردگار ! ہمیں اس دنیا میں بھی کامیابی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

————————————-

۝۲۱« بِسْمِ اللّٰهِ عَلٰى نَفْسِیْ وَمَالِیْ وَدِينِیْ، اَللّٰهُمَّ اَرْضِنِیْ بِقَضَآئِكَ، وَبَارِكْ لِیْ فِيْمَا قُدِّرَلِیْ، حَتّٰی لَاۤ اُحِبَّ تَعْجِيْلَ مَاۤ اَخَّرْتَ وَلَا تَاْخِيْرَ مَا عَجَّلْتَ».[21]

اللہ کے پاک نام  کی برکتیں میری جان، مال اور دین پر ہوں،  اے اللہ! مجھے اپنی مشیت پر راضی رکھ، اور جو کچھ میرے لئے مقدر کر دیا گیا ہے اس میں مجھے برکت دے تا کہ جس چیز میں تونے دیر رکھی ہے اُس کے لئے میں جلدی نہ کروں، اور جس چیز کا جلد ملنا تو نے مقدر رکھا ہے، اس میں میں دیر نہ چاہوں۔

————————————-

۝۲۲« اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ اِلَّا عَيْشُ الْاٰخِرَةِ».[22]

اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے (اور  آخرت کے فائدہ کے علاوہ اور کوئی فائدہ نہیں)۔

————————————-

۝۲۳« اَللّٰهُمَّ اَحْيِنِیْ مِسْكِيْنًا، وَّاَمِتْنِیْ مِسْكِيْنًا، وَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ».[23]

اے اللہ! مجھے خاکسار  اور  متواضع مزاج بنا کر زندہ رکھ، اور خاکساری ہی کی حالت میں موت لا  (متواضع مزاج لوگوں کی معیت ورفاقت میں ہی موت دے)، اور خاکساروں ہی میں مجھے اُٹھا (اورروز ِقیامت میرا حشر  متواضع مزاج لوگوں ہی کے ساتھ کر)۔

————————————-

۝۲۴« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوْا، وَاِذَا اَسَاۤءُوا اسْتَغْفَرُوْا».[24]

اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو جب کوئی نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اور جب کوئی برائی کرتے ہیں تو مغفرت چاہنے لگتے ہیں۔

————————————-

۝۲۵« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْ اَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِكَ تَهْدِیْ بِهَا قَلْبِیْ، وَتَجْمَعُ بِهَاۤ اَمْرِیْ، وَتَلُمُّ بِهَا شَعْثِیْ، وَتُصْلِحُ بِهَا دِيْنِیْ، وَتَقْضِیْ بِهَا دَيْنِیْ، وَتَحْفَظُ بِهَا غَآئِبِیْ، وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِیْ، وَتُبَيِّضُ بِهَا وَجْهِیْ، وَتُزَكِّیْ بِهَا عَمَلِیْ، وَتُلْهِمُنِیْ بِهَا رُشْدِیْ، وَتَرُدُّ بِهَا-ۤ اُلْفَتِیْ، وَتَعْصِمُنِیْ بِهَا مِنْ كُلِّ سُوْٓءٍ».

« اَللّٰهُمَّ اَعْطِنِیْۤ اِيْمَانًا لَّا يَرْتَدُّ، وَيَقِيْنًا لَّيْسَ بَعْدَهٗ كُفْرٌ، وَّرَحْمَةً اَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ».

« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ الْفَوْزَ فِی الْقَضَآءِ، وَنُزُلَ الشُّهَدَآءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَآءِ، وَمُرَافَقَةَ الْاَ نْۢبِيَآءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الْاَعْدَآءِ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَآءِ».

« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِیْ وَاِنْ قَصُرَ رَأْیِیْ وَضَعُفَ عَمَلِیْ، اِفْتَقَرْتُ اِلٰی رَحْمَتِكَ، فَاَسْأَلُكَ يَا قَاضِیَ الْاُمُوْرِ، وَيَا شَافِیَ الصُّدُوْرِ، كَمَا تُجِيْرُ بَيْنَ الْبُحُوْرِ اَنْ  تُجِيْرَنِیْ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُوْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ».

« اَللّٰهُمَّ مَا قَصُرَ عَنْهُ رَأْیِیْ وَضَعُفَ عَنْهُ عَمَلِیْ، وَلَمْ تَبْلُغْهُ مُنْيَتِیْ وَمَسْاَلَتِیْ مِنْ خَيْرٍ وَّعَدْتَّهٗۤ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ اَوْ خَيْرٍ اَنْتَ مُعْطِيهِ اَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، فَاِنِّیْ اَرْغَبُ اِلَيْكَ فِيْهِ وَاَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. اَللّٰهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيْدِ، وَالْاَمْرِ الرَّشِيْدِ اَسْأَلُكَ الْاَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيْدِ، وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ مَعَ الْمُقَرَّبِيْنَ الشُّهُودِ الرُّكَّعِ السُّجُودِ الْمُوْفِيْنَ بِالْعُهُوْدِ؛ اِنَّكَ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ، اِنَّكَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ. اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِيْنَ مُهْتَدِيْنَ ، غَيْرَ ضَآلِّيْنَ وَلَا مُضِلِّيْنَ، سِلْمًا لِّاَوْلِيَآئِكَ، وَحَرْبًا لِّاَعْدَآئِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ مَنْ اَحَبَّكَ، وَنُعَادِیْ بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ مِنْ خَلْقِكَ».

« اَللّٰهُمَّ هٰذَا الدُّعَآءُ وَعَلَيْكَ الْاِجَابَةُ، وَهٰذَا الْجَهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ».

« اَللّٰهُمَّ اجْعَل لِّیْ نُورًا فِیْ قَلْبِیْ، وَنُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ ، وَنُوْرًا مِّنْۢ بَيْنِ يَدَیَّ وَنُوْرًا مِّنْ خَلْفِیْ، وَنُوْرًا عَنْ يَّمِيْنِیْ، وَنُوْرًا عَنْ شِمَالِیْ، وَنُوْرًا مِّنْ فَوْقِیْ، وَنُوْرًا مِّنْ تَحْتِیْ، وَنُوْرًا فِیْ سَمْعِیْ، وَنُوْرًا فِیْ بَصَرِیْ وَنُوْرًا فِیْ شَعْرِیْ، وَنُوْرًا فِیْ بَشَرِیْ، وَنُوْرًا فِیْ لَحْمِیْ، وَنُوْرًا فِیْ دَمِیْ، وَنُوْرًا فِیْ مُخِّیْ، وَنُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ».

« اَللّٰهُمَّ اَعْظِمْ لِیْ نُورًا، وَّاَعْطِنِیْ نُورًا، وَّاجْعَلْ لِّیْ نُورًا، وَّزِدْنِیْ نُورًا، وَّزِدْنِیْ نُوْرًا، وَّزِدْنِیْ نُوْرًا».

« سُبْحَانَ الَّذِیْ تَعَطَّفَ بِالْعِزِّ وَقَالَ بِهٖ، سُبْحَانَ الَّذِیْ لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهٖ، سُبْحَانَ الَّذِیْ لَا يَنْۢبَغِی التَّسْبِيْحُ اِلَّا لَهٗ، سُبْحَانَ مَنْ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍۢ بِعِلْمِهٖ، سُبْحَانَ ذِی الْفَضْلِ وَالطَّوْلِ، سُبْحَانَ ذِی الْمَنِّ وَالنِّعَمِ،سُبْحَانَ ذِی الْمَجْدِ وَالْكَرَمِ، سُبْحَانَ ذِی الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ».[25]

اے اللہ! میں تجھ سے تیری خالص رحمت کی درخواست کرتا ہوں، جس سے تو میرے دل کو ہدایت کر دے، اور اس سے میرے کاموں کو جمعیت دے (اور میرے نیک ارادوں کو پختگی بخشے)، اور اس سے میری ابتری کو درست کر دے اور اس سے میرے دین کو سنوار دے اور اس سے میرے قرض  ادا کر دے، اور اس سے میری نظر سے غائب چیزوں کی نگہبانی کر، اور اس سے میری پیشِ نظر (اور موجود) چیزوں کو بلندی عطا کر، اور اس سے میرا چہرہ نورانی کر دے، اور اس سے میرا عمل پاکیزہ کر دے، اور اس سے رُشد و ہدایت میرے دل میں ڈال دے، اور اس سے میرے حالِ مالوف کو لوٹا دے  (اور میری الفت و محبت نیکیوں کی جانب پھیر دے)، اور اس کے واسطے سے مجھے ہر برائی سے بچائے رکھ۔

اے اللہ ! مجھے ایسا ایمان دے جو پھر نہ پھرے،[26] اور ایسا یقین کہ اس کے بعد کفر نہ ہو، اور ایسی رحمت کہ اس کے ذریعہ سے میں دنیا اور آخرت میں تیرے ہاں کی عزت کا شرف پالوں۔

 اے اللہ! میں تجھ سے طلب کرتا ہوں امورِ تکوینی میں کامیابی، اور شہیدوں کی سی مہمانی، اور سعیدوں کا ساعیش (نیک بختوں جیسی زندگی)، اور انبیاء علیہم السلام کی رفاقت اور دشمنوں پر فتح ، بے شک تو ہی دُعاؤں کا سننے والا ہے۔

اے اللہ! میں اپنی خواہش تیرے ہی حوالہ کرتا ہوں، گو میری سمجھ کوتاہی کرے اور میرا عمل ضعیف رہے، میں محتاج ہوں تیری رحمت کا ،تو اے سب کاموں کے پورا کرنے والے اور اے دلوں کے شفا دینے والے! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح تُو نے(میٹھے اور کھارے) سمندروں کے درمیان فاصلہ رکھا ہے، تُو مجھے بھی دوزخ کے عذاب سے، اور جزع فزع (بوقتِ موت واویلے ) سے، اور فتنۂ قبور سے فاصلے پر رکھ۔

اے اللہ! جو بھلائی بھی ایسی ہو کہ اس تک پہنچنے سے میری سمجھ قاصر رہ گئی ہو، اور میرا عمل وہاں تک نہ ساتھ دے سکا ہو، اور اس تک میری آرزو اور میرے سوال کی رسائی نہ ہو، اور تو نے اُس بھلائی کا وعدہ اپنی مخلوق میں سے کسی سے بھی کیا ہو یا جو ایسی بھلائی ہو کہ تو اپنے بندوں میں سے کسی کو بھی وہ دینے والا ہو، تو میں تجھ سے اس کی خواہش ، اور تجھ سے تیری رحمت کے واسطہ سے طلب کرتا ہوں ، اے تمام جہانوں کے پروردگار !

اے اللّٰہ!مضبوط رسی (طاقت) والے اور سچے حکم والے !میں تجھ سے خوف والے دن (روزِ قیامت)  امن و اطمینان کی اور  آخرت میں (تیرے) ان مقرب لوگوں کی معیت میں جنت کی درخواست کرتا ہوں ،جو (حق کی) گواہی دینے والے (حاضر باش ہیں) ،بڑے رکوع کرنے والے (ذمہ داری پوری کرنے والے)، بڑے سجدے کرنے والے (اطاعت گزار) اور (تیرے اورتیرے بندوں کے ساتھ کئے گئے) معاہدوں اور اقراروں کو پورا کرنے والے ہیں، بے شک تو بڑا مہربان ہے، بڑا شفیق ہے، اور تو جو چاہے کر سکتا ہے۔

اے اللہ! ہمیں ایسا راہ نمااور  راه یاب بنا دے جونہ خودبے راہ ہوں اور نہ دوسروں کو بھٹکانے والے ہوں، اورجو تیرے دوستوں کے ساتھ صلح و آشتی کا، اور تیرے دشمنوں کے ساتھ جنگ و جدل کا معاملہ کرنے والے ہوں، ہم تیری مخلوق میں سے اسی کو دوست رکھیں جو تجھے دوست رکھتا ہو، اور دشمن رکھیں اُسے جو تیرا نا فرمان ہو۔

اے اللہ! دعا تو یہ ہے اور قبول کرنا تیرا کام ہے،(یہ  توہماری) کوشش  ہے مگربھروسہ تیرے ہی اوپر ہے۔

اے اللہ ! نور کر دے میرے دل میں، اور نور کر دے میری  قبر میں، اور میرے سامنے نور، اور میرے پیچھے نور، میرے دائیں نور، میرے بائیں نور، میرے اوپر نور، میرے نیچے نور، اور نور کردے میری شنوائی (سماعت) میں، اور نور کردے میری بینائی (بصارت) میں، اور میرے روئیں روئیں میں نور، اور  میرے پوست میں نور،  اور نور کر دے میرے گوشت میں، اور نور کر دے میرے خون میں، اور نور کر دے  میری ہڈیوں کے گودے میں اور میری ہڈی ہڈی میں نور کردے۔ اے اللہ، میرے نور کو مزید بڑھادے، مجھے نور عطا فرما، میرے لیے نور مقرر فرما، میرے نور میں اضافہ فرما، میرے نور میں اضافہ فرما، میرے نور میں اضافہ فرما۔

پاک ہے وہ ذات جس کی چادر    عزت و کبریائی ہے اور وہ اسے محبوب ہے، اور پاک ہے وہ ذات کہ  بزرگی جس کا لباس ہے اور بزرگی جس کی بخشش ہے، پاک ہے  وہ ذات کہ ہر عیب سے پاکی صرف اسی کے شایانِ شان ہے(اور جس کے علاوہ کسی کی پاکی بیان کرنا روا نہیں)۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پاک ہےوہ ذات جو بڑے  فضل اور وسعتِ عطا والی ہے، پاک ہے وہ ذات جو بڑے  احسان اور انعام کی مالک ہے، پاک ہےوہ ذات جو بڑے شرف وکرم والی ہے اورپاک ہے  وہ ذات جو بڑے جلال و اکرام والی ہے۔

————————————-

۝۲۶« اَللّٰهُمَّ لَا تَكِلْنِیْ اِلٰى نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَّلَا تَنْزِعْ مِنِّیْ صَالِحَ مَاۤ اَعْطَيْتَنِیْ».[27]

اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے حوالہ ایک پلک بھر کے لئے بھی نہ کر، اور جو بھی اچھی چیزیں تو نے مجھے دی ہیں، وہ مجھ سے واپس نہ لے  ۔

————————————-

۝۲۷« اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ لَسْتَ بِاِلٰهِ نِ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبٍّ يَّبِيْدُ ذِكْرُهُ ابْتَدَعْنَاهُ، وَلَا عَلَيْكَ شُرَكَآءُ يَقْضُوْنَ مَعَكَ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ مِنْ اِلٰهٍ نَّلْجَاُ اِلَيْهِ وَنَذَرُكَ، وَلَاۤ اَعَانَكَ عَلٰى خَلْقِنَا اَحَدٌ فَنُشْرِكَهٗ فِيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، فَنَسْأَلُكَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، اِغْفِرْلِیْ».[28]

اے اللہ ! تُو ایسا خدا تو نہیں ہے جسے ہم نے گھڑ لیا ہو، اور نہ ایسا پروردگار جس کا ذکر ناپائیدار ہے کہ ہم نے اُسے اختراع کر لیا ہو، اور نہ تیرے اور ساتھی ہیں جو حکم میں تیرے شریک ہیں، اور نہ تجھ سے پہلے ہی ہمارا کوئی خدا تھا، جس سے ہم پناہ حاصل کرتے رہے ہوں، اور تجھ کو چھوڑ دیتے ہوں، اور نہ کسی نے ہمارے پیدا کرنے میں تیری مدد کی ہے کہ ہم اُس کو تیرے ساتھ شریک سمجھیں، تُو بابرکت ہے، اور تُو برتر ہے، پس ہم تجھ سے، اے وہ کہ سوا تیرے کوئی معبود نہیں، درخواست کرتے ہیں کہ تُو مجھے بخش دے۔

————————————-

۝۲۸« اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ تَسْمَعُ كَلَامِیْ ، وَتَرٰى مَكَانِیْ وَتَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَانِيَتِیْ ، لَا يَخْفٰی عَلَيْكَ شَیْءٌ مِّنْ اَمْرِیْ ، (وَ) اَنَا الْبَآئِسُ الْفَقِيْرُ الْمُسْتَغِيْثُ الْمُسْتَجِيْرُ الْوَجِلُ الْمُشْفِقُ الْمُقِرُّ الْمُعْتَرِفُ بِذَنْۢبِیْ ، اَسْأَلُكَ مَسْاَلَةَ الْمِسْكِينِ، وَاَبْتَهِلُ اِلَيْكَ ابْتِهَالَ الْمُذْنِبِ الذَّلِيْلِ، وَاَدْعُوْكَ دُعَآءَ الْخَآئِفِ الضَّرِيْرِ، ( وَدُعَآءَ ) مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَتُهٗ، (وَفَاضَتْ لَكَ عَبْرَتُهٗ)، وَذَلَّ (لَكَ) جِسْمُهٗ، وَرَغِمَ (لَكَ) اَنْفُهٗ، اَللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِیْ بِدُعَآئِكَ شَقِيًّا، وَّكُنْ بِیْ رَءُوْفًا رَّحِيْمًا، يَّا خَيْرَ الْمَسْئُوْلِيْنَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِيْنَ».[29]

اے اللہ! تو میری بات سنتا ہے اور میں جہاں جس حال میں ہوں تو اس کو دیکھتا ہے، اور میرے ظاہر و باطن سے تو باخبر ہے، تجھ سے میری کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں۔ میں دُکھی ہوں، محتاج ہوں، فریادی ہوں، پناہ جُو ہوں، ترساں ہوں، ہراساں ہوں، اپنے گناہوں کا اقراری ہوں۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں جیسے کوئی عاجز مسکین بندہ سوال کرتا ہے۔ تیرے آگے گڑگڑاتا ہوں جیسے گناہ گار ذلیل و خوار گڑگڑاتا ہے۔ اور تجھ سے دعا کرتا ہوں جیسے کوئی خوف زدہ آفت رسیدہ دعا کرتا ہے۔ اور اس بندے کی طرح مانگتا ہوں جس کی گردن تیرے سامنے جھکی ہوئی ہو اور آنسو بہہ رہے ہوں اور تن بدن سے وہ تیرے آگے فروتنی کیے ہوئے ہو اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا ہو۔ اے اللہ! تو مجھے اپنے سے دعا مانگنے میں ناکام و نامراد نہ رکھ (مجھے خالی ہاتھ واپس نہ کر)اور میرے حق میں بڑا مہربان اور رحیم ہوجا۔ اے ان سب سے بہتر و برتر جن سے مانگنے والے مانگتے ہیں اور جو مانگنے والوں کو دیتے ہیں ۔

 (يَا خَيْرَ الْمَسْئُوْلِيْنَ وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِيْنَ)

————————————-

۝۲۹« اَللّٰهُمَّ اِلَيْكَ اَشْكُوْ ضَعْفَ قُوَّتِیْ، وَقِلَّةَ حِيْلَتِیْ، وَهَوَانِیْ عَلَى النَّاسِ، يَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ، اِلٰى مَنْ تَكِلُنِیْۤ، اِلٰى عَدُوٍّ يَّتَجَهَّمُنِیْۤ ،اَمْ اِلٰی قَرِيبٍ مَّلَّكْتَهٗ اَمْرِیْۤ، اِنْ لَّمْ تَكُنْ سَاخِطًا عَلَیَّ فَلَاۤ اُبَالِیْ، غَيْرَ اَنَّ عَافِيَتَكَ اَوْسَعُ لِیْ، اَعُوْذُ بِنُورِ وَجْهِكَ  الْكَرِيْمِ الَّذِیْۤ اَضَآءَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَاَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلُحَ عَلَيْهِ اَمْرُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ، اَنْ تُحِلَّ عَلَیَّ غَضَبَكَ، وَتُنْزِلَ عَلَیَّ سَخَطَكَ، وَلَكَ الْعُتْبٰی حَتّٰى تَرْضٰى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِكَ».[30]

اے اللہ! میں تجھ سے شکوہ کرتا ہوں اپنے ضعفِ قوت کا ، اور اپنی کم سامانی کا، اور لوگوں کی نظر میں اپنی کم وقعتی کا ، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے! تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ آیا کسی دشمن کے جو مجھے دبائے؟ یا کسی دوست کے قبضہ میں میرے سب کام دے رہا ہے؟ تو اگر مجھ سے ناخوش نہ ہو تو مجھے ان (میں سے کسی چیز) کی پرواہ نہیں ہے، پھر بھی تیر ادیا ہوا امن (عافیت و تندرستی)ہی میرے لیے زیادہ گنجایش رکھتا ہے۔

میں تیری ذاتِ گرامی کے نور کی پناہ میں آتا ہوں جس نے آسمانوں کو روشن کر رکھا ہے، اور اس سے ظلمتیں چمک اُٹھی ہیں، اور اس سے دنیا و آخرت کے کام درست ہیں۔

میں پناہ چاہتا ہوں اس امر سے کہ تو مجھ پر اپنا غصہ اُتارے، اور تو مجھ پر اپنی نا خوشی نازل کرے، اور حق ہے کہ تجھے ہی منایا جائے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے، اور نہ کوئی بچاؤ (گناہ) سے ہے، اور نہ کوئی طاقت (عبادت کی) ہے، مگر تیری ہی مدد سے۔( گناہوں سے حفاظت اور نیکیوں کی طاقت صرف تُو ہی دینے والا ہے۔)

————————————-

۝۳۰« اَللّٰهُمَّ وَاقِيَةً كَوَاقِيَةِ الْوَلِيدِ».[31]

اے اللہ! میں نگہبانی چاہتا ہوں (نومولود) بچے کی سی نگہبانی ۔

————————————-

۝۳۱« اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْأَلُكَ قُلُوْبًا اَوَّاهَةً مُّخْبِتَةً مُّنِيْبَةً فِیْ سَبِيْلِكَ».[32]

اے اللہ! ہم تجھ سے ایسے دل مانگتے ہیں جو بہت تَأثر قبول کرنے والے ہوں (آہ و زاری کرنے والے ہوں)، بہت عاجزی کرنے والے ہوں،  تیری راہ میں بہت رجوع کرنے والے ہوں ۔

————————————-

۝۳۲« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَسْأَلُكَ اِيْمَانًا يُّبَاشِرُ قَلْبِیْ وَيَقِيْنًا صَادِقًا حَتّٰیۤ اَعْلَمَ اَنَّهٗ لَا يُصِيْبُنِیْ اِلَّا مَا كَتَبْتَ لِیْ، وَرِضًا مِّنَ الْمَعِيْشَةِ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ».[33]

اے اللہ ! میں تجھ سے وہ ایمان مانگتا ہوں جو میرے دل میں پیوست ہو جائے، اور وہ پختہ یقین کہ جس سے میں سمجھ لوں کہ مجھ تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی ، مگر وہی جو تو میرے لئے لکھ چکا ہے، اور اس چیز پر رضا مندی جو تو نے معاش میں سے میرے حصہ میں کردی ہے۔

————————————-

۝۳۳« اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِیْ تَقُوْلُ وَخَيْرًا مِّمَّا نَقُوْلُ. اَللّٰهُمَّ لَكَ صَلَاتِیْ وَنُسُكِیْ، وَمَحْيَایَ وَمَمَاتِیْ، وَاِلَيْكَ مَاٰبِیْ، وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِیْ. اَللّٰهُمَّ اِنِّی ْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ، وَشَتَاتِ الْاَمْرِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ۤ اَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَجِیْٓءُ بِهِ الرِّيَاحُ،

وَ اَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِیْٓءُ بِهِ الرِّيَاحُ».[34]

اے اللہ! تیرے واسطے کل تعریفیں ہیں، جیسی کہ تو  خود اپنی تعریف فرماتا ہے، اور اس سےکہیں  بڑھ کر جوتیری تعریف  ہم کر سکتے  ہیں ۔

اے اللہ تیرے ہی لئے ہے میری نماز اور میری عبادت، اور میرا جینا اور میرا مرنا، اور تیری ہی طرف ہے میرار جوع ، اور تیرا ہی ہے جو کچھ میں چھوڑ جاؤں گا ۔

اے اللہ میں عذاب قبر سے،  دل کے وسوسوں سے، اور معاملات کی پراگندگی (و پریشانی)  سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

اے اللہ! میں تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں ان چیزوں کی جنہیں ہوائیں لاتی ہیں۔اور اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جسے ہوائیں لے کر آتی ہیں۔

————————————-

۝۳۴« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ اُعَظِّمُ شُكْرَكَ، وَاُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَاَتَّبِعُ نَصِيْحَتَكَ، وَاَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ».[35]

اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا بہت زیادہ شکر کروں، تیرا بہت زیادہ ذکر کروں، تیری نصیحت کی بہت اتباع کروں اور تیرے احکام کو بہت زیادہ یاد  رکھوں ۔

————————————-

۝۳۵« اَللّٰهُمَّ اِنَّ قُلُوْبَنَا (وَنَوَاصِيَنَا ) وَجَوَارِحَنَا بِيَدِكَ، لَمْ تُمَلِّكْنَا مِنْهَا شَيْئًا، فَاِذَا فَعَلْتَ ذٰلِكَ بِنَا فَكُنْ اَنْتَ وَلِيَّنَا، (وَاهْدِنَا اِلٰی سَوَآءِ السَّبِيلِ)».[36]

اے اللہ! ہمارے دل اور ہم خود سرتاپا اور ہمارے اعضاء تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو نے ہمیں اُن میں سے کسی چیز پر بھی اختیارِ (کامل) نہیں دیا ہے، پس جب تو نے ہمارے ساتھ یہ کیا ہے تو تُو ہی ہمارا مددگار رہنا، اور ہمیں سیدھی راہ دکھائے رکھنا۔

————————————-

۝۳۶« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ اَحَبَّ الْاَشْيَآءِ اِلَیَّ، وَاجْعَلْ خَشْيَتَكَ اَخْوَفَ الْاَشْيَآءِ عِنْدِیْ، وَاقْطَعْ عَنِّیْ حَاجَاتِ الدُّنْيَا بِالشَّوْقِ اِلٰی لِقَائِكَ، وَاِذَاۤ اَقْرَرْتَ اَعْيُنَ اَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ دُنْيَاهُمْ، فَاَقْرِرْ عَيْنِیْ مِنْ عِبَادَتِكَ».[37]

اے اللہ! اپنی محبت کو میرے لیے ہر چیز کی محبت سے بڑھا دے ، مجھ میں اپنا خوف ہر چیز کے خوف سے زیادہ کر دے ، دنیا کی ہر طلب پر اپنی ملاقات کا شوق غالب کر دے اور جب تو د نیا والوں کو ان کی دنیا سے ٹھنڈک دے تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک اپنی عبادت میں رکھ دے۔

————————————-

۝۳۷« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْاَعْمَيَيْنِ، السَّيْلِ وَالْبَعِيْرِ الصَّؤُوْلِ».[38]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں دو اندھی برائیوں سے، یعنی سیلاب اور حملہ آور اونٹ سے ۔

————————————-

۝۳۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ۤ اَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ وَالْاَمَانَةَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ وَالرِّضَا بِالْقَدْرِ».[39]

اے اللہ! میں تجھ سے صحت کا سوال کرتا ہوں، پاک دامنی، امانت اور حسنِ اخلاق کی التجا کرتا ہوں، اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوالی ہوں ۔

————————————-

۝۳۹« اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا، وَّلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا».[40]

اے اللہ! تیرے ہی لئے ہر تعریف ہے شکر کے ساتھ اور تیرا ہی حصہ ہے فضل و کرم کے ساتھ احسان کرنا ۔(تو شکرانے کے طور پر تمام تعریفوں کا مستحق تجھے سمجھتا ہوں اور احسان مندی کے طور پر تمام انعامات تیرے ساتھ خاص کرتا ہوں)۔

————————————-

۝۴۰« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ۤ اَسْأَلُكَ التَّوْفِيقَ لِمَحَآبِكَ مِنَ الْاَعْمَالِ، وَصِدْقَ الْتَوَكُّلِ عَلَيْكَ، وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ».[41]

اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تُو مجھے توفیق دے ان اعمال کی جو تجھے محبوب ہیں، اور عطا فرما مجھے سچا توکل، اور تیری ذاتِ پاک کے ساتھ نیک گمان رکھنے کی طلب رکھتاہوں  ۔

————————————-

۝۴۱« اَللّٰهُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِیْ لِذِكْرِكَ، وَارْزُقْنِیْ طَاعَتَكَ، وَطَاعَةَ رَسُولِكَ، وَعَمَلًۢا بِكِتَابِكَ».[42]

اے اللہ! میرے دل کے کان اپنے ذکر کے لئے کھول دے اور مجھے اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری نصیب کر اور اپنی کتاب (قرآن) پر عمل نصیب فرما ۔

————————————-

۝۴۲« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْۤ اَخْشَاكَ كَاَنِّی ْۤ اَرٰاكَ  اَبَدًا حَتّٰىۤ اَلْقَاكَ، وَاَسْعِدْنِیْ بِتَقْوَاكَ، وَلَا تُشْقِنِیْ بِمَعْصِيَتِكَ، وَخِرْلِیْ فِیْ قَضَآئِكَ، وَبَارِكْ لِیْ فِیْ قَدْرِكَ، حَتّٰىۤ لَاۤ اُحِبَّ تَعْجِيْلَ مَاۤ اَخَّرْتَ، وَلَا تَاْخِيْرَ مَا عَجَّلْتَ، وَاجْعَلْ غِنَآیَ فِیْ نَفْسِیْ».[43]

اے اللہ! میرا حال ایسا کر دے کہ تیرے حضور میں حاضر ہونے تک (یعنی مرتے دم تک) تیرے قہر و جلال سے میں ہر وقت اس طرح ترساں و لرزاں رہوں کہ گویا ہر دم تجھے دیکھ رہا ہوں، اور اپنے خوف و تقویٰ کی دولت نصیب فرما کر مجھے خوش بخت کر دے، اور ایسا نہ ہو کہ تیری نافرمانی کر کے میں بدبختی میں مبتلا ہو جاؤں۔میرے لیے اپنے فیصلے میں(توخود ہی) پسند فرما لے اور مجھے اس میں برکت عطا فرماتا کہ جس چیز کو تو مؤخر فرما دے میں اس کی جلدی  نہ کروں، اور جس چیز کو تو جلد فرما دے میں اس کے مؤخر ہونے کو پسند نہ کروں۔ اور میرے دل  میں مخلوق سے بے نیازی کی صفت  رکھ دے۔

————————————-

۝۴۳«اَللّٰهُمَّ الْطُفْ بِیْ فِیْ تَيْسِيْرِ كُلِّ عَسِيْرٍ، فَاِنَّ تَيْسِيْرَ كُلِّ عَسِيْرٍ عَلَيْكَ يَسِيْرٌ، وَّاَسْأَلُكَ الْيُسْرَ وَالْمُعَافَاةَ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ».[44]

اے اللہ! میری ہر دشواری کو آسان فرما کر مجھ پہ مہربانی فرما، ساری دشواریوں اور مشکلوں کو آسان کرنا تیرے لئے بالکل آسان ہے۔ اور میں تجھ سے دنیا اور آخرت(دونوں) میں سہولت و آسانی اور کامل عافیت کا سوالی ہوں۔

————————————-

۝۴۴ «اَللّٰهُمَّ اعْفُ عَنِّیْ ، فَاِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيْمٌ».[45]

اے اللہ ! مجھ سے درگزر کر، تُو تو بڑا معاف کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے  ۔


[1] مستدرک حاکم (1911)

[2] مستدرک حاکم (1987)، عمر کے آخری حصے میں وسعتِ رزق کی دعا

[3] المعجم الاوسط (9448)نبی کریم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اپنی نماز میں ان الفاظ سے دعا مانگ رہا تھا،
آپﷺ  نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس کو کچھ سونا عطا کیا اور فرمایا کہ تم نے عمدہ طریقے سے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی۔

[4] المعجم الاوسط (661)

[5] مسند احمد (15327)، کفایت، قناعت اور غیراللہ کی محتاجی سے بے نیازی کی دعا

[6] المعجم الکبیر (6670)، سائب بن یزیدؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ آدمی کے لیے یہ دعا کرنا کافی ہے۔

[7] مسند البزار (4439)

[8] مسند احمد (26160)، ام المؤمنین ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم جب صبح کی نماز پڑھتے تو یہ دعا مانگا کرتے۔

[9] مصنف ابن ابی شیبہ (29268 اور 28933)، حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ان الفاظ سے دعا مانگا کرتے تھے۔

[10] مستدرک حاکم (2021)، عرش کے خزانوں میں سے چند کلمات، جن سے اللہ نے اپنے حبیب کا اکرام کیا۔

[11] معجم کبیر (10379)، حصول ِ رزق اور اللہ کے فضل کی طلب کے لیے دعا

[12] مسند احمد (3813)، ام المؤمنین ام سلمہؓ کہتی  ہیں کہ رسول اللہ عموماً یہ دعا مانگا کرتے تھے۔

[13] مسند احمد (26685)

[14] مسند احمد (26576)، ام سلمہ ؓنے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئے، تو آپﷺ  نے یہ دعا سکھائی۔

[15] جامع صغیر (5049)، نبی کریم نے فرمایا کہ جبرئیل ؑجب بھی میرے پاس تشریف لائے انہوں نے دو دعائیں مانگنے کا کہا: رزقِ حلال اور عملِ صالح

[16] مسند أبو يعلى (3371)، جامع صغیر (6563)

[17] معجم اوسط (3206)

[18] سنن ابن ماجہ (3877)، رسول اللہ جب سونے لگتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو تکیہ بناتے اوریہ دعا کرتے۔

[19] سنن ترمذی (3516)، استخارہ کی دعا۔

حضرت ابوبکرصدیقؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم جب کسی کام کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا کرتے۔ استخارہ کرنا گویا اللہ سے طلبِ خیر کرنا اورمشورہ طلب کرنا ہے۔یہ استخارہ کی مختصر ترین دعا ہے، اسکے علاوہ  سنن ترمذی کی حدیث نمبر 480 میں یہ استخارہ کی بڑی دعا روایت ہوئی ہے: جابر بن عبداللہ ؓ  کہتے ہیں کہ رسول اللہہمیں ہر معاملے میں استخارہ کرنااسی طرح سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ آپ فرماتے: ”تم میں سے کوئی شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت پڑھے، پھر کہے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أقدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أعلَمُ وَأَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اَللّٰهُمَّ إِنَّ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِّی فِی دِينِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَةِ أَمْرِی – أوْقَالَ فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِهِ – فَاقْدُرْهُ لِی وَيَسِّرْهُ لِی ثُمَّ بَارِكْ لِی فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِی فِی دِينِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَةِ أَمْرِی – أَوْ قَالَ فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِهٖ – فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِی عَنْهُ وَاقَدُرْ لِیَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِی بِهٖ»  ”اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تیری طاقت کے ذریعے تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم والا ہے اور میں لا علم ہوں، تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے، اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے (یا آپ نے فرمایا: یا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے) بہتر ہے، تو اسے تو میرے لیے آسان بنا دے اور مجھے اس میں برکت عطا فرما، اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے (یا  آپ نےفرمایا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے )میرے لیے برا ہے تو اسے تو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے وہ جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“ آپنے فرمایا: ”اور اپنی حاجت کا نام لے“ لفظ ((هَذَا الْأَمْرَ)) ”اِس کام“ کی جگہ اپنی ضرورت کا نام لیں

[20] صحيح بخاري (6389)، نبی کریم کی اکثر یہی دعا ہوتی تھی۔

[21] الطبراني في ((الدعاء)) (410)، وابن السني في ((عمل اليوم والليلة)) (350)، والديلمي في ((الفردوس)) (6346)

رسول کریم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو معاش کی تنگی ہو تو وہ گھر سے نکلتے ہوئے یہ دعا پڑھے۔

[22]  صحيح بخاري (2961)،غزوۂ  خندق کے موقع پر مہاجرین و انصار کی مشقت دیکھ کر آپ نے فرمایا۔

[23] سنن ابن ماجه (4126)، ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ مسکینوں اور فقیروں سے محبت کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ کو اپنی دعا میں یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔

[24] سنن ابن ماجه (3820)۔ مسند احمد (22166) میں روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ سے دریافت کیا، ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تیری نیکی تجھے خوش کر دے اور تیری برائی (تیرا گناہ) تجھے غمگین کر دے تو، تُو مومن ہے۔ “ اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! تو گناہ کیا ہے؟ آپنے فرمایا: جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکے (وہی گناہ ہے)تو اسے چھوڑ دو۔

[25] سنن ترمذی (3419)، المعجم الاوسط (3696)، کنز العمال (4988)،حضرت  عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم کو ایک رات نماز (تہجد) سے فارغ ہو کر  یہ دعاپڑھتے ہوئے سنا۔

[26] کہ میں اس پر قائم رہوں اور اس میں کوئی ارتداد نہ ہو۔

[27] حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 8/367، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 10/181 (17409)، مسند الفردوس (2008)۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔

[28] مجمع الزاوئد (17428)، نبی کریم اس طرح دعا مانگا کرتے تھے اور فرماتے کہ حضرت داؤد علیہ السلام بھی ایسے ہی دعا مانگتے تھے۔

[29] الدعاء للطبراني (877) المعجم الصغير (696)۔ رسول اللہ کی یومِ عرفہ کی دعا

[30] المعجم الكبير (181)، الدعاء للطبراني (1036)۔ رسول اللہ کی سفرِ طائف سے واپسی پر دعا

[31] مسند الفردوس (2005)، الدعاء للطبراني (1446)

[32] مستدرک حاکم(1957 {1/534})

[33] کنز العمال (3657)

[34] سنن ترمذی(3520)، کنز العمال (3637)، شعب الایمان(3560 اور 3779)، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے  یوم ِ عرفہ کو زوال کے بعد اکثر یہ دعا کی۔

[35] سنن ترمذی (3604)، مسند أحمد (8087 و10182)، حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دعا  ہےجسے میں نے رسول اللہ سے (سن کر) یاد کیا ہے اسے میں نے پھر پڑھنا نہیں چھوڑا۔

[36] الترغيب والترهيب 4/589، حلية الأولياء 8/367، کنز العمال (3644)

[37] کنز العمال(3648)

[38] مجمع الزوائد  (17183)عرب میں نا گہانی مصیبت کے لیے بطور مثال کے ان دو چیزوں کا نام لیا جاتا تھا کیونکہ دونوں جدھر کا رخ کرلیں، ان کا  رکنا محال ہوتا ہے۔

[39] الأدب المفرد (307)

[40] المعجم الکبیر (316)

[41] کنزالعمال(3654)

[42] المعجم الاوسط (1286)

[43] المعجم الاوسط (5982)

[44] المعجم الاوسط (1250)۔ رسول اللہ نے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کو حبشہ روانہ فرماتے وقت یہ کلمات سکھائے۔

[45] المعجم الاوسط (7746)