تیسری منزل – بروزِ سوموار

۝۱« اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِیْ بِتَرْكِ الْمَعَاصِیْ اَبَدًا مَّا اَبْقَيْتَنِیْ، وَارْحَمْنِیْ اَنْ اَتَكَلَّفَ مَالَا يَعْنِيْنِیْ، وَارْزُقْنِیْ حُسْنَ النَّظَرِ فِیْ مَا يُرْضِيْكَ عَنِّیْ. اَللّٰهُمَّ بَدِيْعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، وَالْعِزَّةِ الَّتِیْ لَا تُرَامُ، اَسْأَلُكَ يَا اَللّٰهُ يَا رَحْمٰنُ بِجَلَالِكَ وَنُوْرِ وَجْهِكَ اَنْ تُلْزِمَ قَلْبِی حِفْظُ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِیْ، وَارْزُقْنِیْ اَنْ اَتْلُوْهُ عَلَی النَّحْوِ الَّذِیْ يُرْضِيْكَ عَنِّیْ. اَللّٰهُمَّ بَدِيْعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، ذَاالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، وَالْعِزَّةِ الَّتِیْ لَا تُرَامُ، اَسْأَلُكَ يَااَللّٰهُ يَارَحْمٰنُ بِجَلَالِكَ وَنُوْرِ وَجْهِكَ اَنْ تُنَوِّرَ بِكِتَابِكَ بَصَرِیْ، وَاَنْ تُطْلِقَ بِهٖ لِسَانِیْ، وَاَنْ تُفَرِّجَ بِهٖ عَنْ قَلْبِیْ، وَاَنْ تَشْرَحَ بِهٖ صَدْرِیْ، وَاَنْ تَسْتَعْمِلَ بِهٖ بَدَنِیْ، فَاِنَّهُ لَا يُعِيْنُنِیْ عَلَى الْحَقِّ غَيْرُكَ، وَلَا يُؤْتِيْهِ اِلَّا اَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْمِ».[1]

اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ جب تک تُو مجھے زندہ رکھ میں ہمیشہ گناہ چھوڑے رکھوں، اے اللہ! تُو مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ میں لا یعنی چیزوں اور بے فائدہ کاموں میں نہ پڑوں، جو چیزیں تیری رضا و خوشنودی کی ہیں انہیں پہچاننے کے لیے مجھے حسنِ نظر (اچھی نظر) دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، ذوالجلال والاکرام (رعب و داب والےاورعزت و بزرگی والے) ایسی عزت و مرتبت والے کہ جس عزت کو حاصل کرنے و پانے کا کوئی قصد و ارادہ ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے بڑی رحمت والے، میں تیرے جلال اور تیرے چہرۂ انور کے نورکے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب (قرآن پاک) کے حفظ کے ساتھ جوڑ دے، جیسے تو نے مجھے قرآن سکھایا ہے ویسے ہی میں اسے یاد و محفوظ رکھ سکوں، اور تو مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں اس کتاب کو اسی طریقے اور اسی ڈھنگ سے پڑھوں جو تجھے مجھ سے راضی و خوش کر دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، (جاہ) و جلال اور بزرگی والے اور ایسی عزت والے جس عزت کا کوئی ارادہ (تمنا اور خواہش) ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے رحمن، تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہ کو منور کر دے (مجھے کتابِ الہٰی کی معرفت حاصل ہو جائے)، اور میری زبان بھی اسی کے مطابق چلے، اور اسی کے ذریعہ میرے دل کا غم دور کر دے، اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے (میں ہر اچھی و بھلی بات کو سمجھنے لگوں) اور میرے سارے بدن کو اس پر عمل کرنے میں لگا دے کیونکہ میرے حق پر چلنے کے لیے تیرے سوا کوئی اور میری مدد نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کوئی تیرے سوا مجھے حق دے سکتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت صرف اللہ بلند و برترکی توفیق و مدد سے ہے۔

————————————-

۝۲« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَتُوْبُ اِلَيْكَ مِنَ الْمَعَاصِیْ لَا اَرْجِعُ اِلَيْهَا اَبَدًا».[2]

اے اللہ! میں گناہوں اور نافرمانیوں سے تیری بارگاہ میں توبہ کرتاہوں؛ ایسی پکی توبہ کہ آئندہ کبھی ان (گناہوں) کی طرف واپس نہ لوٹوں۔

————————————-

۝۳« اَللّٰهُمَّ مَغْفِرَتُكَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِیْ، وَرَحْمَتُكَ اَرْجٰى عِنْدِیْ مِنْ عَمَلِیْ».[3]

اے اللہ! تیری مغفرت و بخشش میرے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اور مجھے اپنے عمل سے بڑھ کر تیری رحمت کی زیادہ امید ہے۔

————————————-

۝۴« اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ».[4]

اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور تو معافی کو پسند کرتا ہے پس مجھے بھی معاف فرمادے۔

————————————-

۝۵ «اَللّٰهُمَّ اكْفِنِیْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ».[5]

اے اللہ مجھے اپنا حلال رزق عطا فرما کر حرام روزی سے بچالے اور مجھے اپنے فضل وکرم کے ذریعہ اپنے ماسوا سے مستغنی وبے نیاز کردے ۔

————————————-

۝۶« اَللّٰهُمَّ فَارِجَ الْهَمَّ، كَاشِفَ الْغَمِّ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّيْنَ، رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَرَحِيْمَهُمَا، اَنْتَ تَرْحَمُنِیْ، فَارْحَمْنِیْ بِرَحْمَةٍ تُغْنِيْنِیْ بِهَا عَنْ رَّحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ».[6]

اے اللہ ! فکر کے دور کرنے والے، غم کے زائل کرنے والے، بے قراروں کی دعا کے قبول کرنے والے، دنیا کے رحمٰن ورحیم! ، مجھ پر تو ہی رحم کرے گا ، تو میرے اوپر ایسی رحمت کر کہ تو اس کی بنا پر مجھے اپنے سواہر ایک سے بےنیاز کر دے۔

————————————-

۝۷ «اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، اِنِّیْ اَعْهَدُ اِلَيْكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، اَنِّی اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ، وَاَنَّ مُحَمَّدًا (ﷺ) عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ؛ فَلَا تَكِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ، فَاِنَّكَ اِنْ تَكِلْنِیْ اِلٰى نَفْسِیْ تُقَرِّبْنِیْ مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِیْ مِنَ الْخَيْرِ؛ وَاِنِّیْ لَا اَثِقُ اِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِّیْ عِنْدَكَ عَهْدًا تُوْفِيْنِيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادُ».[7]

اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پروردگار، غیب اور ظاہر کے جاننے والے! میں اس دنیوی زندگی میں تیرے حضور یہ عہد کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اور محمد تیرے بندے اور رسول ہیں۔ پس مجھے میرے نفس کے سپرد نہ فرما؛ کیونکہ اگر تو نےمجھے میرے نفس کے حوالے کر دیا تو گویا تونے مجھے شر کے قریب اور خیر سے دور کر دیا۔ میں صرف تیری رحمت ہی پر اعتماد رکھتا ہوں۔ پس میرے لیے اپنے پاس سے ایسا عہد مقرر فرما جسے تو قیامت کے دن میرے حق میں پورا فرمائے؛ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

————————————-

۝۸ «اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ الَّذِی لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَيُّوْمُ، وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ».[8]

میں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اسی کے سامنے توبہ کرتا ہوں جس کے سوا  کوئی معبود برحق نہیں، وہ ہمیشہ  خود زندہ رہنے والا ہے اور ساری مخلوق کی ہستی کو قائم رکھنے والا ہے۔

————————————-

۝۹« رَبِّ اغْفِرْ لِیْ، وَتُبْ عَلَیَّ، اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ».[9]

اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

————————————-

۝۱۰« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنٰى وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ».[10]

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی و بے بسی، سستی وکاہلی، بزدلی، انتہائی بڑھاپے سے، قرض کے بوجھ اور گناہ سے۔
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے، آگ کی آزمائش سے، قبر کی آزمائش سے، قبر کے عذاب سے، مال داری کی آزمائش کے شر سے، اور فقر و محتاجی کی آزمائش کے شر سے۔

————————————-

۝۱۱« وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالْعَيْلَةِ وَالذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْكُفْرِ وَالْفُسُوْقِ وَالشِّقَاقِ وَالسُّمْعَةِ وَالرِّيَآءِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ وَالْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَسَیِّءِ الْاَسْقَامِ».[11]

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سخت دلی سے اور غفلت سے اور تنگ دستی سے اور ذلت سےاور بیچارگی سے اور کفر سےاور فسق سے اور ضِدّا ضِدّی (بحث و تکرار)سے اور لوگوں کے سنا وے سے اور دکھاوے سے اور بہرہ پن سے اور گونگے پن سے اور جنون سے اور جذام سے اور بری(لاعلاج) بیماریوں سے۔

————————————-

۝۱۲« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِعِزَّتِكَ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَنْ تُضِلَّنِیْ، اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لَا يَمُوْتُ وَالْجِنُّ وَالْاِنْسُ يَمُوْتُوْنَ».[12]

اے اللہ! میں تیری عزّت و غلبہ کی پناہ لیتا ہوں،تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اس بات سے کہ تُو مجھے گمراہی میں پڑنے دے۔ تُو ہی وہ ہمیشہ زندہ ہے جسے موت نہیں آسکتی، جبکہ جنّ اور انسان سب مرجائیں گے۔

————————————-

۝۱۳« اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَآءِ، وَدَرْكِ الشَّقَآءِ، وَسُوْٓءِ الْقَضَآءِ، وَشَمَاتَةِ الْاَعْدَآءِ».[13]

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں عاجز کر دینے والی آزمائش سے، بدبختی کے آ لینے سے، انسان کے حق میں برا ثابت ہونے والے فیصلے سے (بری تقدیر)، اور اپنی تکلیف پر دشمنوں کے خوش ہونے سے۔

————————————-

۝۱۴« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَلِمْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ اَعْلَمْ».[14]

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں  اور اس چیز کی برائی سے جو مجھے معلوم ہے اور اُس چیز کی برائی سے جو مجھے معلوم نہیں۔

————————————-

۝۱۵« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ اَعْمَلْ».[15]

اے اللہ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس کام کی برائی سے جو میں نے کیا اور اس کام کی برائی سے جسے میں نے نہیں کیا۔

————————————-

۝۱۶« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَآءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيْعِ سَخَطِكَ».[16]

اے اللہ! میں پناہ طلب کرتا ہوں  تیری نعمتوں کے زوال سے، تیری عطا کردہ عافیت (اور صحت) کے چلے جانےسے، تیرے ناگہانی عذاب (اور مصیبت )سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی و غصہ سے۔

————————————-

۝۱۷« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِیْ، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِیْ، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِیْ، وَمِنْ شَرِّ مَنِیِّیْ».[17]

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر (بری باتوں کے سننے) سے، اپنی آنکھ کے شر (بری باتوں کے دیکھنے) سے، اپنی زبان کے شر (بری باتوں کے کہنے اور بولنے) سے، اپنے دل کے شر (بری باتوں کے ذہن میں لانے)سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر(بے جا اور ناجائز شہوت رانی) سے۔

————————————-

۝۱۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّیْ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ، وَاَعُوْذُ بِكَ اَنْ يَّتَخَبَّطَنِیَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ اَنْ اَمُوْتَ فِیْ سَبِيْلِكَ مُدْبِرًا، وَّاَعُوْذُ بِكَ مَنْ اَنْ اَمُوْتَ لَدِيْغًا».[18]

اے اللہ! ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، (دیوار یا کسی اور چیز کے نیچے) دب جانے سے ، اونچائی سے گر پڑنے سے، ڈوب جانے سے ، جل جانے سے ،اور بہت زیادہ بڑھاپے سے[19]، اور اس بات سے کہ شیطان موت کے وقت مجھے بہکا دے (اور گڑبڑ میں ڈال دے)، اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری موت تیرے راستہ (یعنی جہاد) میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے آئے، اور اس بات سے کہ کسی موذی جانور کے ڈس لینے سے میری موت ہو۔۔

————————————-

۝۱۹« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ مُّنْكَرَاتِ الْاَخْلَاقِ وَالْاَعْمَالِ وَالْاَهْوَآءِ وَالْاَدْوَآءِ».[20]

اے اللہ! میں تجھ سے بری عادتوں (بدخُلقی)، بُرے کاموں(بدعملی)، بری یا نفسانی  خواہشوں اور (ہر طرح کی )بیماریوں   سے پناہ مانگتا ہوں ۔

————————————-

۝۲۰« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ ﷺ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ ﷺ، وَاَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ (الْعَلِیِّ الْعَظِيْمِ)».[21]

 اے اللہ ہم تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتے ہیں جس کاتیرے نبی  سیدنامحمد نے سوال کیا اور ہر اس چیز سے پناہ مانگتے ہیں جس سے تیرے نبی سیدنامحمد نے پناہ مانگی، تو ہی مدد گار ہے، تو ہی خیر و شر پہنچانے  والا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی ہمت بھی صرف اللہ بلند وبرتر ہی کی طرف سے ہے۔

————————————-

۝۲۱« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوْٓءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ؛ فَاِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ، وَمِنَ الْجُوعِ؛ فَاِنَّهٗ بِئْسَ الضَّجِيْعُ، وَمِنَ الْخِيَانَةِ؛ فَاِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ».[22]

اے اللہ! میں پناہ طلب کرتا ہوں  مستقل قیام گاہ میں بُرے پڑوسی سے اس لئے کہ سفر کا ساتھی تو چل ہی دیتا ہے(لیکن مستقل اور  آباد گھر کا ہمسایہ مستقل اذیت کا باعث ہوتا ہے) اور بھوک سے کہ وہ بری ہم بستر ہے، اور خیانت سے کہ وہ بری ہم راز ہے ۔

————————————-

۝۲۲« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ، وَقَلْبٍ لَّا يَخْشَعُ، وَدُعَآءٍ لَّا يُسْمَعُ، وَنَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ، وَمِنْ هٰؤُلَآءِ الْاَرْبَعِ».[23]

اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش اور مفید نہ ہو، ایسے دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو،ایسی دعا سے جو (اللہ کے یہاں) قبول نہ ہو اور  ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو[24]، اور ان چاروں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

————————————-

۝۲۳« اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِكَ اَنْ نَّرْجِعَ عَلٰى اَعْقَابِنَا، اَوْنُفْتَنَ عَنْ دِيْنِنَا».[25]

اے اللہ! میں پناہ طلب کرتا ہوں  اس سے کہ ہم پچھلے پیروں لوٹ جائیں یا فتنہ میں پڑ کر دین سے الگ ہو جائیں ۔

————————————-

۝۲۴« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ يَّوْمِ السُّوْٓءِ، وَمِنْ لَّيْلَةِ السُّوْٓءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوْٓءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْٓءِ، وَمِنْ جَارِ السُّوْٓءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ».[26]

اے اللہ! میں پناہ طلب کرتا ہوں  اور بُرے دن سے اور بُری رات سے اور بُری گھڑی سے اور بُرے ساتھی  سے  اور مستقل قیام گاہ میں بُرے پڑوسی سے ۔

————————————-

۝۲۵« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْٓءِ الْاَخْلَاقِ».[27]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، ضِدّا ضِدّی(بحث و تکرار)سے، اور نفاق سے، اور بُرے اخلاق سے۔

————————————-

۝۲۶« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ جِدِّیْ وَهَزْلِیْ، وَخَطَئِیْ وَعَمَدِیْ، وَكُلُّ ذٰلِكَ عِنْدِیْ».[28]

 اے اللہ! میرے وہ سب کام جو (تجھے پسند نہ آئے ہوں) میں نے سنجیدگی سے کیے ہوں یا مزاحاً کیے ہوں، بھول چوک سے کیے ہوں یا جان بوجھ کر کیے ہوں اور یہ سب مجھ سے ہوئے ہوں، ان کومعاف کردے۔

————————————-

۝۲۷« اَللّٰهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا  عَلٰى طَاعَتِك».[29]

اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ! ہمارے دل اپنی طاعت کی طرف پھیر دے۔

————————————-

۝۲۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ الْهُدٰى وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰى».[30]

اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور (دل کا) غنا

(سیر چشمی) مانگتا ہوں۔

————————————-

۝۲۹« رَبِّ اَعِنِّیْ وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، وَانْصُرْنِیْ وَلَا تَنْصُرْ عَلَیَّ، وَامْكُرْ لِیْ وَلَا تَمْكُرْ عَلَیَّ، وَاهْدِنِی الْهُدٰى وَيَسِّرِ الْهُدٰى لِی، وَانْصُرْنِی عَلٰى مَنْۢ بَغٰی عَلَیَّ . رَبِّ اجْعَلْنِیْ لَكَ ذَكَّارًا، لَّكَ شَكَّارًا، لَّكَ رَهَّابًا، لَّكَ مِطْوَاعًا، لَّكَ مُخْبِتًا، اِلَيْكَ اَوَّاهًا مُّنِيْبًا. رَبِّ تَقَبَّلْ  تَوْبَتِیْ، وَاغْسِلْ حَوْبَتِیْ، وَاَجِبْ دَعْوَتِیْ، وَثَبِّتْ حُجَّتِیْ، وَسَدِّدْ لِسَانِیْ، وَاهْدِ قَلْبِیْ، وَاسْلُلْ سَخِيْمَةَ صَدْرِیْ».[31]

اے میرے پروردگار!میری مدد فرمااور میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، مجھے کامیاب کراورمیرے دشمن کو مجھ پر کامیاب نہ کر، میرے لیے خفیہ تدبیر فرمااورمیرے مخالف کے لیےتدبیر نہ فرما،مجھے ہدایت دےاورمیرے لیے ہدایت کا راستہ آسان کردے، اور جوشخص مجھ پر ظلم کرےاس کے مقابلے میں میری مددکر۔اے میرے رب!     مجھے اپنا شکرگزار، اپنی  یاد کرنے والا، اپنے سے ڈرنے والا، اپنا فرمانبردار، اپنی طرف گڑگڑانے والا(متوجہ ہونےوالا) بنادے۔اے میرے پروردگار!میری توبہ قبول کرلے، میرے گناہ دھو ڈال،میری دعا قبول فرما، میری حُجت مضبوط کردے،میری زبان کوسیدھا رکھ، میرے دل کو راہِ راست پرلگا اورمیرے سینےکی کُدُورَت اور کینہ نکال دے۔

————————————-

۝۳۰ «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَنَا، وَارْحَمْنَا، وَارْضَ عَنَّا، وَتَقَبَّلْ مِنَّا، وَاَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ، وَاَصْلِحْ لَنَا شَأْ نَنَا كُلَّهٗ».[32]

اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہو جا، ہماری عبادت قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، اور جہنم سے بچا، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے۔

————————————-

۝۳۱« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ، وَاَسْأَلُكَ عَزِيْمَةَ الرُّشْدِ، وَاَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَاَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا، وَّقَلْبًا سَلِيْمًا، (وَّخُلُقًا مُّسْتَقِيْمًا). وَّاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَاَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَاَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ؛ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ».[33]

اے اللہ! میں تجھ سے  (دین و دنیا میں درست) معاملے پر ثابت قدمی کی توفیق مانگتا ہوں، میں تجھ سے نیکی و بھلائی کی پختگی چاہتا ہوں (اور اعلیٰ صلاحیت کا طلبگار ہوں)، میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنی نعمت کے شکریہ کی توفیق دے، اپنی  عبادت  عمدہ طریقے سےکرنے کی توفیق دے، میں تجھ سے لسانِ صادق (سچی زبان)، قلبِ سلیم (بے روگ دل) اور اخلاقِ صحیح کا طالب ہوں، اس خیر کا بھی میں تجھ سے طلب گار ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کی جنہیں تو جانتا ہے کیونکہ تو بیشک ساری پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔

————————————-

۝۳۲« اَللّٰهُمَّ اَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِنَا، وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِیْ اَسْمَاعِنَا، وَاَبْصَارِنَا، وَقُلُوْبِنَا، وَاَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا، اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِيْنَ لِنِعْمَتِكَ، مُثْنِيْنَ بِهَا قَابِلِيْهَا، وَاَتِمَّهَا عَلَيْنَا».[34]

اے اللہ! تو ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کر دے، اور ہمارے آپس کے تعلقات کو درست فرما دے، اور سلامتی کی راہوں کی جانب ہماری رہنمائی کر دے اور ہمیں تاریکیوں سے نجات دے کر روشنی عطا کر دے،ہماری  آنکھوں، دلوں اور ہمارے ازواج اور بچوں میں برکت عطا کر دے، اور ہماری توبہ قبول فرما لے، تُو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے، اور ہمیں اپنی نعمتوں کا قدردان، ان پر شکر گزار و ثنا خواں  اور ان نعمتوں کے قابل بنا، اور اے اللہ! ان نعمتوں کو ہمارے اوپر کامل کر دے۔

————————————-

۝۳۳« اَللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهٖ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيْكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهٖ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِيْنِ مَا تُهَوِّنُ بِهٖ عَلَيْنَا مَصَآئِبَ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا اَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلٰى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلٰى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِیْ دِيْنِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا اَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَّا يَرْحَمُنَا».[35]

اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کی خیر کو ہمارے بعد باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ اس سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما،  اور ہمارے دین میں ہمارے لئے مصیبت نہ ڈال، اور دنیا کو ہمارا مقصودِ اعظم نہ بنا دے (اور نہ ہی دنیا کے معاملات کو ہماری سب سے بڑی پریشانی بننے دے)، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا (کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو)،اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم  کرے نہ ترس کھائے۔

————————————-

۝۳۴« اَللّٰهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَاَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَاَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَاٰثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَاَرْضِنَا عَنْكَ وَارْضَ عَنَّا».[36]

اے اللہ! ہمیں زیادہ دے، ہمیں دینے میں کمی نہ کر، ہمیں عزت (وآبرو) دے، ہمیں ذلیل و رسوا نہ کر، ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز، اپنی نوازشات سے ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں (اوروں) پر فضیلت دے، اور دوسروں کو ہم پر فضیلت و تفوّق نہ دے، اور ہمیں راضی و خوش کر دے اور ہم سے راضی و خوش ہو جا ۔

————————————-

۝۳۵« اَللّٰهُمَّ اَلْهِمْنِیْ رُشْدِیْ، وَاَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ».[37]

اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔

————————————-

۝۳۶« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِيْنِ، وَاَنْ تَغْفِرَ لِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِیْ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ يُبَلِّغُنِیْ حُبَّكَ».[38]

اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے، منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے ، اور مساکین سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تُو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے۔

————————————-

۝۳۷« اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَاَهْلِیْ وَمِنَ الْمَآءِ الْبَارِدِ».[39]

اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت  (یعنی دنیا کی تمام نعمتوں) سے بھی زیادہ کر دے۔

————————————-

۝۳۸« اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِیْ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ یَّنْفَعُنِیْ حُبُّهٗ عِنْدَكَ، اَللّٰهُمَّ فَكَمَا رَزَقْتَنِیْ مِمَّا اُحِبُّ، فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِّیْ فِيْمَا تُحِبُّ؛ اَللّٰهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّیْ مِمَّا اُحِبُّ، فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِّیْ فِيْمَا تُحِبُّ».[40]

اے اللہ!  تُو مجھے اپنی محبت نصیب کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جس طرح تُو نے مجھے میری پسندیدہ نعمتوں سے نوازا ہے اسی طرح ان نعمتوں کواپنے پسندیدہ کاموں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے۔ اے اللہ!میری پسندیدہ چیزوں میں سے جو کچھ تو نے مجھ سے روک رکھا ہے (اور عطا نہیں کیا)، ان کے خیال سے میرا دل خالی کرکے اپنی پسند کے کاموں میں مجھے مشغول کر دے۔(اور اگر مجھے وہ نعمتیں حاصل نہ ہوں تو میرے دل کو فارغ رکھ تاکہ میں ان سے بے پرواہ ہو جاؤں میرا دل ان میں نہ لگا رہے)۔

————————————-

۝۳۹« يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰى دِيْنِكَ».[41]

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر (مضبوط اور) ثابت قدم رکھ ۔

————————————-

۝۴۰« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ اِيْمَانًا لَّا يَرْتَدُّ، وَنَعِيْمًا لَّا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ فِیْ اَعْلٰی دَرَجَةِ الْجَنَّةِ، جَنَّةِ الْخُلْدِ».[42]

اے اللہ! میں تجھ سے سوالی ہوں:  ایسے ایمان کا جس میں کبھی ارتداد نہ آئے (جو کبھی نہ پھرے)، ایسی نعمتوں کا  جو کبھی فنانہ ہوں، اور جنت ِ خُلد (جنت کا اعلیٰ  ترین مقام) میں تیرے نبی حضرت محمد کی رفاقت کا۔

————————————-

 ۝۴۱« اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِیْ بِمَا عَلَّمْتَنِیْ، وَعَلِّمْنِیْ مَا يَنْفَعُنِیْ، وَزِدْنِیْ عِلْمًا، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ، وَّاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ حَالِ اَهْلِ النَّارِ».[43]

اے اللہ! تو نے جو علم مجھے دیا ہے اس سے مجھے نفع دے اور مجھے وہ علم (سکھا) دے جو  کارآمد  اور فائدہ مند ہو ۔اور مجھے علم میں بڑھا،اے  اللہ! تیرا ہر حال میں شکر ہے، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔

————————————-

۝۴۲« اَللّٰهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، اَحْيِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَيٰوةَ خَيْرًا لِّیْ، وَتَوَفَّنِیْ اِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِّی وَاَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِی الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْاِخْلَاصِ فِی الرِّضَا وَالْغَضَبِ، ( وَاَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰی) وَاَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَّا يَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَّا تَنْقَطِعُ، وَاَسْأَلُكَ الرِّضَا بِالْقَضَآءِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ اِلٰی وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ اِلٰی لِقَآئِكَ. وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ ضَرَّآءَ مُضِرَّةٍ، وَّفِتْنَةٍ مُّضِلَّةٍ. اَللّٰهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْاِيْمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُّهْتَدِيْنَ».[44]

اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ  مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک تُو جانے کہ زندگی میرے لیے باعثِ خیر ہے، اور مجھے موت دیدینا جب تُو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور (ظاہر و باطن) دونوں حالتوں میں تیرے ڈرکا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمۂ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور فقیری و امیری میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضا (حکم ِ تکوینی) پر رضا مند رہنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہمیں ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہمیں راہ نما اور ہدایت یافتہ بنا دے!

————————————-

۝۴۳« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهٖ: عَاجِلِهٖ وَاٰجِلِهٖ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ؛ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهٖ : عَاجِلِهٖ وَاٰجِلِهٖ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ.  اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ اِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ؛ وَّاَعُوْذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ اِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ؛ وَّاَسْأَلُكَ اَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَآءٍ قَضَيْتَہٗ لِیْ خَيْرًا، وَّاَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِیْ مِنْ اَمْرٍ اَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهٗ رَشَدًا».[45]

اے اللہ! میں تجھ سے ہر طرح کی بھلائی طلب کرتا ہوں۔ جلدی وصول ہونے والی ہو یا دیر سے ملنے والی، وہ بھی جسے میں جانتا ہوں اور وہ بھی جسے میں نہیں جانتا ۔اورمیں تجھ سے ہر طرح کی برائی اور شر سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ جلدی وصول ہونے والی ہو یا دیر سے ملنے والی، وہ بھی جسے میں جانتا ہوں اور وہ بھی جسے میں نہیں جانتا ۔اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کے قریب کرنے والے قول و عمل کا سوال کرتا ہوں ۔ اور میں تجھ سے دوزخ اور اس سے قریب کرنے والے قول و عمل سے پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنے ہر حکمِ تکوینی کو میرے حق میں بہتر بنا دے اور میں تجھ سے سے یہ مانگتا ہوں کہ جو کچھ تو میرے حق میں جاری کرے،اس کے انجام کو سعادت بنادے ۔

————————————-

۝۴۴« اَللّٰهُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُورِ كُلِّهَا، وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَةِ».[46]

اے اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام بخیر فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔

————————————-

۝۴۵« اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَائِمًا، وَّاحْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ رَاقِدًا، وَّلَا تُشْمِتْ بِیْ عَدُوًّا وَّلَا حَاسِدًا. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَزَآئِنُهٗ بِيَدِكَ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ خَزَآئِنُهٗ بِيَدِكَ ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اَنْتَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهٖ».[47]

اے اللہ ! اٹھتے ، بیٹھتے اور سوتے ، ( جاگتے ہر حالت میں ) اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور میری مصیبت پر دشمنوں اور حاسدوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دے ۔ اور اے اللہ ! میں تجھ سے سب بھلائیاں مانگتا ہوں جن کے خزانے تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں۔اور تیری پناہ مانگتا ہوں ان تمام برائیوں اور شرور سے  جن کے خزانے تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں۔اور تیری پناہ لیتا ہوں (ہر)اس چیز کے شر سے بھی جس کی پیشانی کو تو نے پکڑ رکھا ہے (یعنی جو تیرے قبضۂ قدرت میں ہے)۔

————————————-

۝۴۶« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ عِيْشَةً نَّقِيَّةً، وَّمِيْتَةً سَوِيَّةً، وَّمَرَدًّا غَيْرَ مَخْزِیٍّ وَّلَا فَاضِحٍ».[48]

اے اللہ! بے شک میں تجھ سے صاف ستھری زندگی، (ڈھنگ والی )آسان موت اور تیرے دربار میں ایسی عاقبت و واپسی کا سوال کرتا ہوں جس میں کوئی ذلت ورسوائی نہ ہو ۔

————————————-

۝۴۷« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِیْ رِضَاكَ ضَعْفِی، وَخُذْ اِلَى الْخَيْرِ بِنَاصِيَتِیْ، وَاجْعَلِ الْاِسْلَامَ مُنْتَهٰى رِضَائِیْ.  اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ ضَعِيفٌ فَقَوِّنِیْ، وَاِنِّیْ ذَلِيْلٌ فَاَعِزَّنِیْ، وَاِنِّیْ فَقِيرٌ فَارْزُقْنِیْ».[49]

اے میرے اللہ! میں تیرا ایک کمزور بندہ ہوں تو اپنی رضاطلبی کی راہ میں میری کمزوری کو قوت سے بدل دے اور میری پیشانی پکڑ کے میرا رُخ خیر کی طرف کر دے، اور اسلام کو میرا منتہائے رضا بنا دے،اے اللہ، میں کمزور ہوں تو مجھے قوی بنا دے۔ میں ذلت و پستی کے حال میں ہوں تو مجھے عزت بخش دے، اور میں فقیر و نادار ہوں تو مجھے میری ضرویات عطا فرما دے۔


[1] سنن ترمذی (3570)، حفظِ قرآن کی دعا، عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے پاس تھے کہ اسی دوران علیؓ آپکے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہنے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپنے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے پہر کا وقت ایسا وقت ہوتا ہے جس میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں، اور دعا اس وقت مقبول ہوتی ہے، میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا تھا: ﴿سوف أستغفر لكم ربي﴾یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، آنے والی جمعہ کی رات میں، اگر نہ اٹھ سکو تو درمیان پہر میں اٹھ جاؤ، اور اگر درمیانی حصے (پہر) میں نہ اٹھ سکو تو پہلے پہر ہی میں اٹھ جاؤ اور چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حم دخان اور تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تبارک (سورہ مُلک) پڑھو، پھر جب تشہد سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اچھے ڈھنگ سے اللہ کی ثنابیان کرو، اور مجھ پر صلاۃ (درود) بھیجو، اور اچھے ڈھنگ سے بھیجو اور سارے نبیوں پرصلاۃ (درود) بھیجو اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرو، اور ان مومن بھائیوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، جو تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں، پھر یہ سب کر چکنے کے بعد یہ دعا پڑھو:

[2] مستدرک حاکم (1899)، توبہ کی دعا

[3] مستدرک حاکم (1994)، توبہ کی دعا

[4] سنن ترمذی (3513)، شبِ قدر کی دعا

[5] سنن ترمذی (3563)، قرض کی ادائیگی کی مجرب دعا چاہے قرض پہاڑ برابر ہو۔

[6] مستدرك حاكم 1/515 (1941)، الدعاءطبراني (1041)

مستدرک حاکم (1941)کی ہی روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ دعا اپنے اصحاب کو سکھایا کرتے تھے، اور کسی پر پہاڑ کے برابر سونا بھی قرض ہوگا تو اس کے پڑھنے کی برکت سے ادا ہوجا ئے گا۔

[7] مسند احمد (3916)،عہد نامہ:  رسول کریمﷺ  نے فرمایا: جو شخص یہ دعا پڑھ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائیں گے کہ ”میرے بندے نے مجھ سے ایک عہد کر رکھا ہے، اسے پورا کرو“، چنانچہ اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

[8] سنن ابوداؤد (1517) رسول اللہ نے فرمایا:جس نے یہ کلمہ کہا تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو۔

[9] سنن ابوداؤد (1516)،حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ کے سو بار یہ کلمہ کہنے کو شمار کرتے تھے۔

[10] الحصن الاعظم (ص 315)، صحیح بخاری (2823 اور 6368)

[11]مستدرک حاکم(1944)

[12] صحیح مسلم (2717)، مشکوٰۃ المصابیح (2463)

[13] صحيح بخاري (6347) و(6616)، مسند أبويعلىٰ الموصلي (6632)، صحيح ابن حبان (1014)

[14] سنن ابو داؤد (1550)

[15] صحيح مسلم (65-2716)، سنن ابو داؤد (1550)

[16] صحيح مسلم (96-2739)، السنن الكبرى للنسائي (7955)، الدعاء للطبراني (1337)

[17] سنن ابو داؤد (1551)،سنن ترمذی(3492)

[18] سنن ابو داؤد (1552)

[19] جوعقل، قوت اور عبادت کی کیفیت کو متاثر کر دے۔

[20] سنن ترمذي (3591)

[21] سنن ترمذی (3521)

[22] مستدرک حاکم (1951 اور 1957)

[23] مصنف ابن ابی شیبہ (29736)

[24] اور جو تیرے دئیے ہوئے مال پر قناعت نہ کرے۔

[25] صحيح بخاري (6593)

[26] معجم کبیر (810)

[27] سنن ابو داؤد (1546)، سنن نسائي (5473)، السنن الكبرى (7906)

[28] صحیح مسلم (2719)

[29] صحيح مسلم (17-2654)

[30] صحيح مسلم (72-2721)، سنن ترمذی (3489)، سنن ابن ماجه (3832)

[31] سنن ترمذی (3551)

[32] سنن ابن ماجه (3836)

[33] سنن ترمذی (3407)، مصنف ابن أبي شيبہ(29971)

[34] سنن ابو داؤد (969)

[35] سنن ترمذی (3502)، نبی کریم مجلس سے اٹھتے وقت اکثر اپنے اصحاب کے لیے یہ دعا فرماتے۔

[36] حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ  نبی کریم پر وحی نازل ہوئی اس کے بعد آپ نے یہ دعا فرمائی اور پھر سورہ مومنون کی پہلی دس آیات مکمل تلاوت فرمائیں۔  (سنن ترمذی:3173)، السنن الکبریٰ ، نسائی (1443)

[37] سنن ترمذی(3483)

[38] سنن ترمذی(3235)

[39] سنن ترمذی(3490)، حضرت داؤد علیہ السلام کی دعا جو رسول کریم کو بہت پسند تھی، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ يُبَلِّغُنِیْ حُبَّكَ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَاَهْلِی وَمِنَ الْمَآءِ الْبَارِدِ

[40] سنن ترمذی(3491)

[41] سنن ترمذی(2140)،  رسول اللہ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے

[42] مستدرک حاکم (1952)، نسائی سنن کبریٰ(10639)، حضرت عبدا للہ بن مسعود ؓ کی دعائے تہجد جس پر رسول اللہﷺ  نے فرمایا: مانگو، تمہیں عطا کیا جائے گا۔

[43] سنن ترمذی(3599)، علم نافع کی دعا

[44] سنن نسائی (1306 اور 1307)

[45] سنن ابن ماجہ (3846) اور مستدرک حاکم (1914)، مسند احمد (25137)، رسول اللہﷺ  نے حضرت عائشہؓ کو یہ دعا سکھائی۔

[46] مستدرک حاکم (6508)، اس دعا کا معمول رکھنے والا موت تک آفات و بلا سے محفوظ رہے گا۔

[47] مستدرک حاکم (1924) اور ابن حبان (930)

[48] مستدرک حاکم (1986)

[49] مستدرک حاکم (1931)