دوسری منزل – بروزِ اتوار

۝۱«اَللّٰهُمَّ اهْدِنِیْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِیْ فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِی فِيْمَا اَعْطَيْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَاِنَّكَ تَقْضِیْ وَلَا يُقْضٰى عَلَيْكَ، اِنَّهٗ لَا يَذِلُّ مَنْ وَّالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ (نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوْبُ اِلَيْكَ) وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ».[1]

اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرے میں شامل فرما جنھیں تُو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما دے جنھیں تُو  نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تُو  نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں مجھے بھی شامل کر کے اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تُو  نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت نازل فرما اور جس برائی کا تُو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ۔ یقیناً فیصلہ تُو  ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تُو  والی وکارساز ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔اور جس کا تُو  دشمن ہو وہ عزت پا نہیں سکتا۔ اے ہمارے آقا۔ ہمارے پروردگار! تُو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور تجھ سے ہی توبہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلاۃ  ہونبی کریم پر  (اور اللہ اپنے پیغمبر کو اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے)۔[2]

————————————-

 ۝۲« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِی وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَاَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ، وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَانْصُرْهُمْ عَلٰى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ. اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الْكَفَرَةَ الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ، وَيُكَذِّبُوْنَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُوْنَ اَوْلِيَائَكَ اَللّٰهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَزَلْزِلْ اَقْدَامَهُمْ، وَاَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ».[3]

اے اللہ! مجھے، اور سب ایمان والے مسلمان مرد وں اور عورتوں کو بخش دے، ان کے دلوں میں محبت و الفت ڈال دےاور انکے آپس کے معاملات درست فرما دے، اور اپنے اور انکے دشمنوں کے مقابلے میں انکی مدد فرما۔ اے اللہ، ان کافروں پر لعنت فرما جو تیری راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور تیرے رسولوں کو جُھٹلاتے  ہیں اور تیرے نیک بندوں سے جنگ کرتے ہیں۔ اے اللہ، انکے منصوبوں میں تُو اختلاف ڈال دے، اور ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر اپنا وہ عذاب نازل فرما جس کو تُو مجرموں سے معاف نہیں فرماتا۔ [4]

————————————-

۝۳ ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝﴾

« اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ، وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنَسْتَهْدِيْكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَتُوْبُ اِلَيْكَ، وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ، وَنُثْنِیْ عَلَيْكَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَنَشْكُرُكَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَّفْجُرُكَ اَللّٰهُمَّ اِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ، وَاِلَيْكَ نَسْعٰى وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَكَ، وَنَخْشٰى عَذَابَكَ ، اِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ».[5]

اے اللہ! ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے ہی بخشش کے طلبگار ہیں، تجھ سے ہی ہدایت مانگتے ہیں اور تجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور تیری ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں (گناہوں پر نادم ہو کر تیری طرف رجوع کرتے ہیں) اور تیری ہی ذات پر بھروسا کرتے ہیں اور تمام نعمتوں پر تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے شکرگزار ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے، اور جو تیرا نافرمان  ہو اس سے ہم بے تعلق ہوتے اور اسے چھوڑتے ہیں، اے اللہ، ہم   تیری ہی بندگی کرتے ہیں، اور خالص تیرے لئے ہی نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی ہم دوڑتے ہیں اور جلدی کرتے ہیں،ہم  تیری رحمت کے امیدوار  ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، یقیناً تیرا سخت عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔

————————————-

 ۝۴ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ، لَا اُحْصِیْ ثَنَآءً عَلَيْكَ اَنْتَ كَمَآ اَثْنَيْتَ عَلٰى نَفْسِكَ».[6]

اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو ودرگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف پوری طرح کر ہی نہیں سکتا ، تُو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے۔

————————————-

۝۵« اَللّٰهُمَّ رَبَّ جِبْرِيْلَ وَمِيكَائِيْلَ وَاِسْرَافِيْلَ وَ مُحَمَّدٍ (ﷺ) اَعُوْذُ بِكَ مِنَ النَّارِ».[7]

اے اللہ! جبرائیلؑ، میکائیل ؑ،اسرافیل ؑ اور سیدنامحمدکے رب!  میں تجھ سے عذابِ دوزخ سے پناہ کا طالب ہوں۔

————————————-

۝۶ «اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَضِلَّ اَوْ اُضَلَّ، اَوْ اَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ، اَوْ اَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ، اَوْ اَجْهَلَ اَوْ يُجْهَلَ عَلَیَّ».[8]

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا  ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا کوئی مجھے گمراہ کرے، میں کہیں ڈگمگا جاؤں  یا کسی کو ڈگمگا دوں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی دوسرا مجھ پر ظلم کرے، یا جہالت برتوں یا میرے ساتھ جہالت برتی جائے۔

————————————-

۝۷ «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ بَصَرِیْ نُورًا، وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَّعَنْ يَّمِينِیْ نُوْرًا، وَّعَنْ شِمَالِیْ نُوْرًا، وَّمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا، وَّ مِنْ اَمَامِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُورًا، وَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، اَللّٰهُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا، وَّ فِیْ عَصَبِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ لَحْمِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ دَمِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ شَعْرِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا، وَّفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا، وَّاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا، وَّاجْعَلْنِیْ نُوْرًا».[9]

اے اللہ ! نور کر دے میرے دل میں، اور نور کر دے میری بینائی میں، اور نور کردے میری شنوائی میں، اور نور کر دے میری داہنی طرف اور نور کر دے میرے بائیں طرف، اور نور کر دے میرے پیچھے، اور نور کر دے میرے سامنے، اور نور کردے میرے اوپر اور نور کردے میرے نیچے،  اے اللہ! مجھے نور عنایت فرما، اور میرے لیے نور کر دے، اور نور کردےمیرے پٹھوں میں اور نور کر دے میرے گوشت میں، اور نور کر دے میرے خون میں، اور نور کر دے میرے بالوں میں، اور نور کر دے میری جلد میں، اور نور کر دے میری زبان میں، دے، اور نور کر دے میری جان میں، اور مجھے نورِ عظیم دے، اور مجھے سراپا نور ہی بنادے۔

————————————-

۝۸ «اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَسَهِّلْ لَّنَا اَبْوَابَ رِزْقِكَ».[10]

اے اللہ! ہم پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور اپنے رزق کے دروازے ہمارے لئے آسان کر دے ۔

————————————-

۝۹« اَللّٰهُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ».[11]

اے اللہ! مجھے شیطانِ مردودسے محفوظ رکھ ۔

————————————-

۝۱۰ «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ، لَا يَهْدِیْ لِاَحْسَنِهَآ اِلَّا اَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّیْ سَيِّئَهَا اِلَّا اَنْتَ».

اے اللہ! مجھے اچھے اعمال و اخلاق کی طرف ہدایت کر، اچھے اعمال و اخلاق کی طرف تیرے بغیر کوئی بھی ہدایت نہیں کرتا، اور  بُرے  اخلاق مجھ سے دور کردے کیونکہ تیرے سوا کوئی برے اعمال و اخلاق کودور  نہیں کر سکتا ۔

————————————-

۝۱۱ «اَللّٰهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِیْ وَبَيْنَ خَطَايَایَ كَمَا بَاعَدْتَّ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ .اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَایَ بِالْمَآءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّنِیْ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْاَ بْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ».[12]

اے اللہ!  مجھ میں اور میرے گناہوں کے درمیان ایسا فاصلہ کر دے جیسا کہ مشرق و مغرب میں تُو نے فاصلہ رکھا ہے۔اورمیرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے، اور میرے دل سے گناہوں کو اسی طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے سے میل صاف کیا جاتا ہے۔

————————————-

۝۱۲ «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْأَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْأَ  الْاَرْضِ، وَمِلْأَ  مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْأَ  مَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍۢ بَعْدُ ، اَهْلَ الثَّنَآءِ (وَالْکَبْرِیَاءِ) وَالْمَجْدِ اَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا رَآدَّ لِمَا قَضَيْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ».[13]

اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، آسمانوں اور زمین کے برابر، ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کے برابر، اور اس کے بعد جس چیز کو تو چاہے اُس کے برابر۔ تعریف، بزرگی اور شرف کا مستحق تُو ہی ہے۔ بندے نے جو کچھ کہا، اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں ،اُس میں سب سے زیادہ حق بات یہی ہے کہ جو نعمت تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جسے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور جس کا تو فیصلہ فرما دے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں، اور کسی صاحبِ دولت و وجاہت کو اُس کی دولت و وجاہت تیرے مقابلے میں کچھ نفع نہیں دے سکتی ۔

————————————-

۝۱۳« اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْۢبِیْ كُلَّهٗ: دِقَّهٗ وَجِلَّهٗ، وَاَوَّلَهٗ وَاٰخِرَهٗ، وَعَلَانِيَتَهٗ وَسِرَّهٗ».[14]

اے اللہ! میرے تمام گناہ بخش دے: چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے والے بھی اور بعد کے بھی (اگلے اور پچھلے)، ظاہر بھی اور پوشیدہ بھی۔

————————————-

۝۱۴« رَبِّ اَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا اَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، اَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا».[15]

اے اللہ! تُو میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے (برائیوں سے) پاک کر دے، تُو ہی بہترین پاک کرنے والا ہے، تُو ہی اس کا مالک اور سر پرست ہے۔

————————————-

۝۱۵« اَللّٰهُمَّ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا كَثِيْرًا، وَّلَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ، فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِیْ، اِنَّكَ اَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيْمُ».[16]

اے اللہ! بے شک میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے، اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی معاف نہیں کر سکتا؛ پس تُو اپنی خاص بارگاہ سے میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما؛ بے شک تُو ہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

————————————-

۝۱۶« اَللّٰهُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا يَّسِيْرًا».[17]

اے اللہ! مجھ سے آسان حساب لینا۔

————————————-

 ۝۱۷ «اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهٖ: مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهٖ: مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَاَلَكَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُوْنَ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عِبَادُكَ الصَّالِحُونَ»[18]    

﴿رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ .

﴿رَبَّنَا اِنَّنَا اٰمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّآتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ . رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ۝﴾

اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں: وہ بھلائی بھی جو مجھے معلوم ہے اور وہ بھی جو مجھے معلوم نہیں؛ اور میں ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں: وہ شر بھی جو مجھے معلوم ہے اور وہ بھی جو مجھے معلوم نہیں۔

اے اللہ! میں تجھ سے اُس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے نیک بندوں نے کیا، اور میں اُس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس سے تیرے نیک بندوں نے تیری پناہ مانگی۔

اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی کامیابی عطا فرمااور آخرت میں بھی ، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لے آئے؛ پس ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری برائیوں کو ہم سے دور فرما، اور ہمارا خاتمہ (اپنے) نیک لوگوں کے ساتھ کر۔

خدا وند! جو وعدے تُو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کےدن ہمیں رسوا نہ کرنا ، بے شک تُو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔

————————————-

۝۱۸« اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالمَمَاتِ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ».[19]

اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجّال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور گناہ اور قرض کے وبال (مالی بوجھ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

————————————

۝۱۹« اَللّٰهُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَ تِكَ».[20]

اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور عمدہ طریقے سے اپنی عبادت کرنے (حسنِ عبادت) میں میری مدد فرما ۔

————————————-

۝۲۰« اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَیْءٍ، اَنَا شَهَيْدٌ اَنَّكَ اَنْتَ الرَّبُّ، وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ. اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَیْءٍ، اَنَا شَهيدٌ اَنَّ مُحمَّدًا(ﷺ) عَبْدُكَ ورَسُوْلُكَ. اَللّٰهُمَّ رَبَّنا ورَبَّ كُلِّ شَیْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، اِجْعَلْنِیْ مُخْلِصًا لَّكَ وَاَهْلِیْ فِیْ كُلِّ سَاعَةٍ فِیْ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ، يَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ، اِسْمَعْ واسْتَجِبْ، اَللهُ اَكْبَرُالْاَكْبَرُ،اَللهُ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، اَللهُ اَكْبَرُ الْاَ  كْبَرُ، حَسْبِیَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ، اَللهُ اَكْبَرُ الْاَ  كْبَرُ».[21]

اے اللہ! اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک تُو ہی اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔

اے اللہ! اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔

اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں  (اور ان میں کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہے، ماسوائے تقویٰ کے)۔

اے اللہ! اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے اہل و عیال کو دنیا و آخرت کی ہر گھڑی میں اپنا مخلص بنا دے۔ اے جلال و بزرگی اور عزت والے! ہماری دعا سن لے اور قبول فرما۔ اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے۔ میرے لیے اللہ کافی ہے، اور وہی بہترین کارساز ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا (اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے)۔

————————————-

۝۲۱ «اَللّٰهُمَّ اَصْلِحْ لِیْ دِيْنِیَ الَّذِیْ هُوَ عِصْمَةُ اَمْرِیْ، وَاَصْلِحْ لِیْ دُنْيَایَ الَّتِیْ فِيهَا مَعَاشِیْ، وَاَصْلِحْ لِیْ اٰخِرَتِیَ الَّتِیْ فِيْهَا مَعَادِیْ، وَاَحْيِنِیْ مَا كَانَتِ الْحَيٰوةُ خَيْرًا لِّیْ، وَتَوَفَّنِیْ اِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِّیْ. وَاجْعَلِ الْحَيٰوةَ زِيَادَةً لِّیْ فِی كُلِّ خَيْرٍ، وَّاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِّیْ مِنْ كُلِّ شَرٍّ».[22]

اے اللہ!     میرے لیے میرے دین کو درست کر دے جو میرےتمام معاملات کی حفاظت کا ذریعہ ہے،میری دنیا کو سنوار دے جس میں میری زندگی کا سامان  (معاش)ہے،میری آخرت کو بہتر بنا دے جس کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے، اور(میری)   زندگی کو میرے حق میں ہر قسم کی خیر و بھلائی میں اضافہ کا باعث بنا اور(میری )موت کو میرے حق میں ہر قسم کے شر سے راحت کا باعث بنا۔

————————————-

۝۲۲« اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا، وَّعِلْمًا نَّافِعًا، وَّعَمَلًا مُّتَقَبَّلًا».[23]

اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ روزی، نفع بخش علم، اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۔

————————————-

۝۲۳« اَللّٰهُمَّ اَشْبَعْتَ وَاَرْوَيْتَ فَهَنِّئْنَا، وَرَزَقْتَنَا فَاَكْثَرْتَ وَاَطَبْتَ فَزِدْنَا».[24]

اے اللہ! تُو نے ہمیں شکم سیر فرمایا اور سیراب کیا، پس اسے ہمارے لیے خوش گوار، بابرکت اور نفع بخش بنا۔ تُو نے ہمیں رزق عطا فرمایا، کثرت سے عطا فرمایا اور پاکیزہ و عمدہ عطا فرمایا، پس ہمیں (اپنی نعمتیں اور برکات) مزید عطا فرما۔

————————————-

۝۲۴« اَللّٰهُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ، وَبَارِكْ لِیْ فِيْهِ، وَاخْلُفْ  عَلَيَّ   كُلَّ غَائِبَةٍ  لِّیْ بِخَيْرٍ».[25]

اے اللہ! جو رزق تو نے مجھے عطا فرمایا ہے، اس پر مجھے قناعت نصیب فرما، اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور میری جو چیزیں میرے سامنے نہیں، خیر کے ساتھ میرے پیچھے ان کی حفاظت فرما (اور میرے اہل و عیال اور مال کا نگران بن جا)۔

————————————-

۝۲۵« رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَكْرَم».[26]

اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما؛ بے شک تُو ہی سب سے غلبے والا اور بزرگی والا ہے۔

————————————-

۝۲۶« اَللّٰهُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ، وَيَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَسَاوِسِ الصَّدْرِ، وَشَتَاتِ الْاَمْرِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِی اللَّيْلِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِی النَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ مَا تَهُبُّ بِهِ الرِّيَاح».[27]

اے اللہ! میرے سینے کو کشادہ فرما، میرے کام کو میرے لیے آسان فرما، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں دل کے وسوسوں سے، معاملات کی پراگندگی (و پریشانی) سے اور قبر کے فتنے سے۔
اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اُس آفت کے شر سے جو رات میں داخل ہوتی ہے،اور ہر اُس آفت  کے شر سے جو دن میں داخل ہوتی ہے، اور ہر اُس شر سے جو ہوائیں اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں (جیسےدرختوں کا ٹوٹنا، تیز ہواؤں سے دیگر نقصان ہونا)۔

————————————-

۝۲۷ «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِیْ بِالْهُدٰى، وَنَقِّنِیْ بِالتَّقْوٰى، وَاغْفِرْلِیْ فِی الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى».[28]

اے اللہ! مجھے ہدایت کے نور کے ساتھ راہِ راست پر چلا، تقویٰ کے ذریعے میرے ظاہر و باطن کو پاکیزہ فرما، اور دنیا وآخرت  میں میری بخشش فرما۔

————————————-

۝۲۸« اَللّٰهُمَّ (اِنِّیْ) اَسْأَلُكَ عِلْمًا نَّافِعًا، وَّرِزْقًا وَّاسِعًا، وَشِفَآءً مِّنْ كُلِّ دَاءٍ».[29]

اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم، کشادہ روزی، اور ہر بیماری سے مکمل شفا کا سوال کرتا ہوں۔

————————————-

۝۲۹ «اَللّٰهُمَّ اَنْتَ عَضُدِیْ وَنَصِيْرِیْ، بِكَ اَحُوْلُ، وَبِكَ اَصُوْلُ، وَبِكَ اُقَاتِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِكَ».[30]

اے اللہ! تو ہی میرا سہارا اور میرا مددگار ہے؛ تیری ہی مدد سے میں تدبیر و حرکت کرتا ہوں، تیری ہی مدد سے آگے بڑھتا  (اور دشمن پر حملہ کرتا)ہوں، اور تیری ہی مدد سے (اس سے جنگ اور)مقابلہ کرتا ہوں؛ اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف تیری ہی مدد سے ہے۔

————————————-

۝۳۰« اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهٗ، لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَّ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِیَ لِمَنْ اَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَّ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ.  اَللّٰهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْۢ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ. اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ النَّعِيْمَ الْمُقِيْمَ الَّذِیْ لَا يَحُولُ وَلَا يَزُوْلُ.  اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُكَ الْاَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اَللّٰهُمَّ (اِنِّیْ) عَآ ئِذٌ ۢبِكَ مِنْ شَرِّ مَا اَعْطَيْتَنَا وَ(مِنْ) شَرِّ مَا مَنَعْتَنَا.  اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ اِلَيْنَا الْاِيْمَانَ، وَزَيِّنْهُ فِیْ قُلُوْبِنَا، وَكَرِّهْ اِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِيْنَ. اَللّٰهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ، وَاَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِيْنَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِيْنَ، اَللّٰهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِيْنَ يُكَذِّبُوْنَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ اِلٰهَ الْحَقِّ، اٰمِيْن».  [31]

اے اللہ! تمام حمد اور تعریف  تیرے ہی لیے ہے۔ جسے تو کشادگی و وسعت عطا فرما دے اس پر کوئی تنگی کرنے والا نہیں، اور جس پر تو تنگی کرے اسے پھر کشادگی کوئی دے نہیں سکتا۔ جسے تو گمراہ چھوڑ دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور جسے تو ہدایت نصیب فرمادے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ جسے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا، اور جسے تو عطا فرما دے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جسے تو دور کر دے اسے کوئی قریب نہیں کر سکتا، اور جسے تو قریب فرما دے اسے کوئی دور نہیں کر سکتا۔

اے اللہ! ہم پر اپنی برکتوں، رحمت، فضل اور رزق کے دروازے کھول دے۔  اے اللہ! میں تجھ سے ایسی دائمی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو کبھی نہ واپس لی جائے اور نہ کبھی زائل ہو۔ اے اللہ! میں خوف کے دن (روزِ قیامت) امن کا طالب ہوں۔ اے اللہ! جو کچھ تو نے ہمیں دیا ہے میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور جو تو نے ہم سے روک لیا ہے اس کے شر سے(بھی) تیری پناہ چاہتا ہوں۔اے اللہ! ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنا دے، اور اسے ہمارے دلوں کی زینت بنا دے؛ اور کفر، نافرمانی اور گناہ کو ہمارے لیے ناپسندیدہ بنا دے؛ اور ہمیں راہِ راست پر چلنے والوں میں شامل فرما۔اے اللہ! ہمیں اسلام کی حالت میں وفات دے، اور ہمیں صالحین کے ساتھ ملا دے، اس حال میں کہ ہم نہ رسوا ہوں اور نہ کسی فتنے میں مبتلا کیے جائیں۔

اے اللہ! ان منکرینِ حق کے مقابلے میں اپنی نصرت نازل فرما جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے سے روکتے ہیں؛ اور ان پر اپنی گرفت اور عذاب نازل فرما، اے معبودِ برحق! آمین۔

————————————-

۝۳۱ «اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْاَحْزَابِ اِهْزِمْهُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ».[32]

اے اللہ! اے کتاب نازل فرمانے والے، اے بادلوں کو چلانے والے، اے (دشمن کے)لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے، اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

————————————-

۝۳۲ «اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَجْعَلُكَ فِیْ نُحُوْرِهِمْ، وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ».[33]

اے اللہ! ہم آپ ہی کو اُن کے مقابلے میں (اپنی) ڈھال بناتے ہیں، اور اُن کے شرور  اور مکرسے آپ ہی کی پناہ چاہتے ہیں۔

————————————-

۝۳۳« اَللّٰهُمَّ رَحْمَتَكَ اَرْجُوْ فَلَا تَكِلْنِیْ اِلٰى نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَّاَصْلِحْ لِیْ شَأِْنِیْ كُلَّهٗ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ».[34]

اے اللہ! میں تیری رحمت ہی کا امیدوار ہوں؛ پس مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ فرما، اور میرے (دین و دنیا کے)تمام معاملات درست فرما دے؛ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

————————————-

۝۳۴« يَا حَیُّ  يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ».[35]

یَاحَیُّ یَاقَیُّومُ ! ( اے ہمیشہ سے زندہ ذات! اے ہر چیز کو قائم رکھنے والی ذات!) میں تجھ سے تیری ہی رحمت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں۔

————————————-

۝۳۵« اَللّٰهُمَّ اِنِّی عَبْدُكَ، (وَ) ابْنُ عَبْدِكَ، (وَ) ابْنُ اَمَتِكَ؛ نَاصِيَتِیْ بِيَدِكَ، مَاضٍ فِیَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُكَ، اَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهٖ نَفْسَكَ، اَوْ اَنْزَلْتَهٗ فِی كِتَابِكَ، اَوْ عَلَّمْتَهٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِكَ، اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِهٖ فِیْ عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ رَبِيْعَ قَلْبِیْ، وَنُوْرَ بَصَرِیْ، وَجَلَآءَ حُزْنِیْ، وَذَهَابَ هَمِّیْ».[36]

اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے اور تیری بندی کا بیٹا ہوں ، میں  ہمہ تن تیرے قبضے میں ہوں ، تیرا حکم میرے بارے میں نافذ ہونے والا ہے ، میرے متعلق تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے ، میں تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے ، جو تو نے اپنے لئے رکھا (اور اسے اپنی ذاتِ پاک کے لیے مخصوص کیا) ، یا تو نے اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ، یا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ، یا تو نے اپنے پاس غیب کے خزانے میں ہی اسے رہنے دیا ، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میری آنکھ کا نور، میرے فکر و غم کا علاج  اور میری تشویش کے دور ہونے کا سبب بنا دے۔

————————————-

۝۳۶« اَللّٰهُمَّ لَا سَهْلَ اِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا، وَاَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ سَهْلًا اِذَا شِئْتَ».[37]

اے اللہ! کوئی چیز آسان نہیں ہے، مگر جس کو تو آسان کر دے اور تو جب چاہتا ہے مشکل چیز کو بھی آسان کر دیتا ہے۔

————————————-

۝۳۷« لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ الْحَلِيْمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ؛ اَسْأَلُكَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَآئِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْۢبِ وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ اِثْمٍ، لَّا تَدَعْ لِیْ ذَنْۢبًا اِلَّا غَفَرْتَهٗ، وَلَا هَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَهٗ، (وَلَا كَرْبًا اِلَّا نَفَّسْتَهٗ وَلَا ضُرًّا اِلَّا كَشَفْتَهٗ) وَلَا حَاجَةً هِیَ لَكَ رِضًی اِلَّا قَضَيْتَهَا يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ».[38]

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بردبار اور کریم ہے۔ اللہ پاک ہے، جو عرشِ عظیم کا رب ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

اے اللہ!  میں تجھ سے ان چیزوں  (اعمال و خصال) کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں۔ میرے لیے کوئی گناہ نہ چھوڑ مگر یہ کہ تو اسے معاف فرما دے، کوئی فکر و غم نہ چھوڑ مگر یہ کہ اسے دور فرما دے، کوئی سختی نہ چھوڑ مگر یہ کہ اسے آسان فرما دے، کوئی تکلیف نہ چھوڑ مگر یہ کہ اسے رفع فرما دے، اور میری کوئی ایسی حاجت نہ چھوڑ جس میں تیری رضا ہو مگر یہ کہ اسے پورا فرما دے، اے مہربانوں کے مہرباں! (ہم پر مہربانی فرما)۔


[1] سنن ابوداؤد(1425)، والترمذي، الوتر، حديث:464، والنسائي، قيام الليل، حديث:1746، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1178، وأحمد:1 /199، قوله: "ولا يعز من عاديت” أخرجه البيهقي:2 /209، والطبراني في الكبير:3 /73، حديث:2701، وابوداؤد: الوتر، حديث: 1425

[2] سیدنا حسن بن علیؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہنے مجھے چند کلمات ایسے سکھائے ہیں جنہیں میں وتروں میں (دعائے قنوت کے طور پر) پڑھتا ہوں۔

[3] جامع الکبیر، للسیوطی، 1566/2

[4] دعائے قنوت نازلہ،  جب مسلمان کسی مصیبت کا شکار ہوں مثلاً دشمن کا خوف ہو خشک سالی ہو کوئی وباء پھیل جائےتو اس دعائےقنوت کو فجر کی فرض نماز کی دوسری رکعت میں رکوع سے اٹھ کر بہ آواز بلند پڑھے۔

[5] مصنف ابن ابي شيبه (6893)

[6] صحيح مسلم (222-486)، سنن أبو داؤد (1427)، سنن نسائي (137) و(1748)، سنن ابن ماجه (3841) (1179)، صحيح ابن حبان  (1929)، مستدرک حاکم (1150)، الدعوات الكبير (437)، الدعاء للطبراني (751).

[7] تحفة الأبرار بنكت الأذكار للنووي، جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد (2124)

[8] سنن ابی داؤد(5094)

[9] صحیح بخاری (6313)، صحيح مسلم (181-763 و187-763 و191-763)، سنن ابو داؤد (1353)، سنن نسائي (112)،مستدرک حاکم(6340 {3/535}).

[10] مستخرج أبي عوانة 1236 1/245 بلفظه، كذا فب شرح سنن ابو داؤد لابن رسلان ٣/‏٢٩٥، عن أبي حميد الساعدي . واخرجه ابن ماجه (772) وأبو عوانة (1234) 1/245، ومصنف ابن أبي شيبہ(3432)، وعبد الرزاق (1665) عن أبي حميد الساعدي، کچھ مصادر میں  «اَللَّهُمُّ افْتَحْ لنا» کی جگہ «اَللَّهُمُّ افْتَحْ لِيْ» بھی آیا ہے اورمصنف عبد الرزاق (1666)میں «وَسَهِّلْ عَلَيَّ» کی جگہ «يَسِّرْ لِيْ» آیا ہیے۔

[11] سنن ابن ماجه (773) بلفظه، كذا في الدعاء للطبراني (427)، النسائي في الكبرى (9918 {6/27})، اس میں «اعْصِمْنِي» کی جگہ  «بَاعِدْنِي» ہے ،مستدرک حاکم(747 {1/208}) صحيح ابن حبان (2050) «اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ».

[12] صحيح بخاری(6375)، مسند أحمد (25727)، الدعوات الكبير (250)

[13] صحیح مسلم (477)

[14] صحیح مسلم (483)، سنن أبو داود (878)

[15] سنن نسائي(5460)

[16] صحیح بخاری (834)، صحیح مسلم (2705)۔ یہ دعا حضرت ابو بکرؓ کو رسول اللہﷺ  نے نماز میں پڑھنے کے لیے سکھائی۔

[17]مشکوٰۃ المصابیح (5562): عائشہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ کو ان کی کسی نماز میں یہ دعا (اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا) ”اے اللہ! میرا آسان حساب لینا۔“ کرتے ہوئے سنا تو میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اس سے مراد یہ ہے کہ) (اللہ تعالیٰ) اس کے نامہ اعمال پر نظر ڈال کر اس سے درگزر فرمائے گا، کیونکہ عائشہؓ! اس روز جس کے حساب کی جانچ پڑتال کی گئی تو وہ مارا گیا۔

[18] سنن ابن ماجہ (3846)

[19] صحيح مسلم (1333)، صحیح بخاری (798)، سنن ابو داؤد (880)

[20] سنن ابو داؤد (1522)، سنن نسائي (1303): معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے  فرمایا : اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا۔

[21] سنن ابو داؤد (1508)

[22] صحيح مسلم (71-2720). عن أبي هريرة ۔

[23] المعجم الصغير للطبراني (735)، المعجم الكبير للطبراني (685)، وعمل اليوم لابن السني (110)، ومسند ابو يعلىٰ الموصلي  (6894). عن أم سلمةؓ .

[24] مصنف ابن ابي شيبه (26108)، حضرت سعید بن جبیرؒ سے موقوفاً منقول ہے کہ وہ کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کلمات کہتے تھے۔

[25] الادب المفرد  (681)

[26] ابن حجر عسقلانی ؒ، التلخیص الحبير، (3/879) ، صفاومروہ  کے درمیان پڑھی جانے والی دعا

[27] وقوفِ عرفہ کی دعاؤں میں سے ایک،مصنف ابن ابی شیبہ،  سنن ترمذی (3520)

[28] مصنف ابن ابی شیبہ(14704)، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی وقوفِ عرفہ میں بعدِاز عصر دعا کا حصہ

[29] مستدرک حاکم (1782)، زم زم پینے کے وقت کی دعا

[30] سنن ابوداؤد (2632)، رسول اللہ جب غزوہ کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔

[31] الادب المفرد  (699)، غزوۂ احد کے موقع پر دعا

[32] صحیح بخاری(2933)

[33] سنن ابوداؤد (1537)

[34] سنن ابوداؤد (5090)

[35] السنن الكبرى للنسائي (10405)،مستدرک حاکم(2000 {1/545})، المعجم الصغير (444)

[36] مسند احمد (3712)، ابن حبان (972)

سیدنا عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب بھی کسی کو کوئی فکر و غم اور رنج و ملال لاحق ہو اور وہ یہ دعا پڑھے۔۔۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، ہر سننے والے کو یاد کر لینے چاہئیں۔(سلسله احاديثِ صحيحه: 3043)

[37] (سلسله احاديثِ صحيحه: 2886)،  ابن حبان (2427)، ابن السني (351)

[38] صلاۃ الحاجۃ، سنن ابن ماجہ(1384)، سنن ترمذی (479)رسول اللہنےفرمایا: جس کو اللہ سے یا مخلوق میں سے کسی سے کوئی حاجت درپیش ہو، اسے چاہیے کہ وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور نبی اکرم پر صلاۃ (درود) و سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے۔