شروع اللہ کے نام سےجو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے سزاوار ہیں جس نے ہمیں ایمان کا بلاوا دیا، اور ہمیں قرآن کے ذریعہ ہدایت دی اور ہماری دعاؤں کو از راہِ فضل و احسان قبول فرمایا۔
اور رحمت و سلامتی نازل ہو سچے مذہب کی جانب سب کو بلانے والے سردارِ کائناتﷺ پر اور آپﷺ کے پیغام کی جانب دعوت دینے والے اور آپﷺ کی شریعت کے پیروکاروں کے نگران: آپ کے اہلِ خانہ ؓو صحابہؓ و تابعینؒ و اعوان و انصار پر۔
امّا بعد:بندہ علی بن سلطان محمد قاری ؒعرض پرداز ہے کہ جب بعض سالکینِ طریقت کو میں نے دیکھا کہ وہ معتبر مشائخ کے اوراد اور علمائے کرام کے وظائف بڑے شوق و ذوق کے ساتھ پڑھتے ہیں حتیٰ کہ بعض تو ’دعائےسیفی‘ اور ’اربعین اسمی‘ کا بھی ورد رکھتے ہیں، ادھر بعض عوام کو دیکھا کہ وہ دُعائے قدح جیسی دعا پڑھا کرتے ہیں اور اس کی ایسی اسناد بیان کرتے ہیں جس کے موضوع اور مجروح ہونے میں ذرا بھی شبہ نہیں ہے، تو میرے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ جو دعائیں حدیث کی مشہور اور معتبر کتابوں میں مذکور ہیں وہ میں ایک جگہ جمع کر دوں جیسے امام نوویؒ کی کتاب ’الاذکار‘، امام جزریؒ کی ’حصن حصین‘، امام سیوطیؒ کی ’الکلم الطیب‘، ’الجامعین‘ اور ’الدر‘ اور امام سخاوی ؒ کی ’القول البدیع‘،اور ان دعاؤں کی ترتیب یہ رکھوں کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی دعائیں لکھوں اور سب سے آخر میں نبی کریمﷺ پر درود شریف کے کلمات رکھوں۔
اپنے حق میں بھی دُعائے خیر کا امیدوار ہوں کیوں کہ کارِ خیر کا محرک بھی اس کے کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ میری اس سعی کو قبول فرمائے، میرا ارادہ نیک رکھے، دُعا و ثنا کے اس مجموعہ کو لوگوں کی زبانوں پر ہمیشہ جاری رکھے اور باطل پرستوں اور بے دینوں کی تحریف سے اس کو دور رکھے۔
اور اس کا نام ”الْحِزْبُ الأَعْظَمُ وَالْوِرْدُ الْأَفْخَمُ“ میں نے اس لیے تجویز کیا ہے کہ ان دعاؤں کی نسبت آنحضرتﷺ کی طرف ہے۔ لہذا آپ(یہ دعائیں پڑھتے وقت)ان کے الفاظ کا خوب خیال رکھیں، ان کے معانی پر پورا غور کریں اور ان کے مضامین پر عمل پیرا ہوں۔ کیونکہ یہ مجموعہ اُن تمام دعاؤں پر مشتمل ہے جو آپ کو نجات دینے والی ہیں اور مہلکات سے بچانے والی ہیں؛ کیوں کہ آنحضرتﷺ نے کوئی عمدہ عادت اور نیک خصلت ایسی باقی نہ چھوڑی جس کی آپﷺ نے دعا نہ مانگی ہو، اور کوئی برا کام اور بری خصلت ایسی نہ چھوڑی جس سے آپ نے اللہ کی پناہ و حفاظت نہ چاہی ہو۔
اگرچہ آپﷺکی یہ دونوں طرح کی دعائیں بغرضِ تعلیم و تربیت اور بغرضِ تکمیل و اتمام، مجملاً بھی تھیں اور مفصلاً بھی۔ اللہ تعالیٰ آپﷺ کے مجد و شرف اور اعزاز و اکرام کو اور زیادہ بڑھائے۔ پس اس کو آنحضرتﷺ کی پیروی کا صحیح طریقہ اور صوفیائے کرام کے مقامات کا خلاصہ سمجھنا چاہیے۔ لہٰذا اگر آپ اِس مجموعہ کو روزانہ پڑھ لیا کریں تو کیا ہی کہنا، ورنہ ہر جمعہ کو، نہیں تو مہینے میں ایک بار، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر سال میں ایک بار، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عمر بھر میں اگر ایک بار بھی میسر آجائے تو غنیمت ہے۔
اور اگر عرفات کے میدان میں آپ کو اس کے پڑھنے کا موقع مل جائے تو اس میں یہ کلمات اور اضافہ فرمالیں:
- لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ (100بار)
- سورۃ اخلاص(100بار)
- سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَ كْبَرُ (100بار)
- استغفار(100بار)، اور
- درود شریف(100بار)
اس کے علاوہ دُعاؤں کے کلمات اور اپنی آہ و زاری کے درمیان تلبیہ کے الفاظ بھی پڑھتے رہیں تاکہ دُعائیں قبول ہوں۔
